سو سنار کی ایک بجاڑ کی


آج کل ہی پہ کیا موقوف لکھنے والے ہر موضوع پہ لکھتے چلے آرہے ہیں۔ اگرچہ اب اکثریت مطالعہ کی بجائے یو ٹیوب پر سمعی و بصری طور پر زیادہ محظوظ ہوتی ہے۔ مگر مطالعہ کی اہمیت پھر بھی اپنی جگہ مسّلم ہے جس میں سیاسی موضوعات پر تحریریں زیادہ پڑھی جا رہی ہیں۔ اگر واقعی پڑھی جا رہی ہوں۔ سیاست کا اصل مطلب تو میرے خیال میں کسی ملک کے نظام کو احسن طریقے سے چلانا ہے۔ مگر درحقیقت اب سیاست کا مطلب مسائل کی نشاندہی ان کا مخالف پارٹی پہ الزام اور اسے بار بار دھرا کر اس سے مخالف پارٹی کو زچ کرنا اور مسلے کا حل نہیں بلکہ اسے قائم رکھنا ہے۔ یا پھر ذاتیات پہ انگشت نمائی اکثر کا مشغلہ یا سیاست ہے۔ کم از کم ہمارے ملک میں تو میری دانست میں یہی کچھ ہو رہا ہے۔ لہذا اس موضوع پر لکھنے والے ماشاء اللہ بہت ہیں۔

میری اس تحریر میں ایسا کچھ نہیں۔ فقط تفنن طبع کے لیے کچھ کم کچھ زیادہ واقعات جن سے سب کا ہی واسطہ پڑتا ہے۔ اگر کوئی انہیں نوٹ کرتا رہے۔ تو ان کے ذکر سے دوبارہ یا کبھی کبھار محظوظ ہوا جا سکتا ہے۔ اس تحریر سے ایک ہی نتیجہ اخذ کیا سکتا ہے کہ جب کوئی کسی رنگ میں بھی آپ کو زِچ کرے۔ تو اس کا کوئی نہ کوئی حل ضرور تلاش کرنا چاہیے۔

آپ سوچتے ہوں گے کہ یہ کیا مقولہ غلط لکھ دیا ہے۔ مقولے میں تو سو سنار کی ایک لوہار کی ہی ہے مگر واقعہ کچھ ایسا ہے جو اس ناچیز کے متعلق ہے اور میں لوہار نہیں بجاڑ ہوں جو گجروں کی ایک گوت ہے۔ اگرچہ پاکستان سے میں کچھ بھی سیکھ کر نہیں آیا تھا اس کچھ بھی کا مطلب کوئی کام یا پروفیشن کہہ لیں پاکستان سے تب بھی میں نے یہ بہرحال سیکھ لیا تھا کہ یہاں کہیں کسی بھی شعبہ میں میری دال گلنے والی نہیں ہے۔ جبکہ اب تو اچھے بھلے پڑھے لکھے بھی ملک سے نکل بھاگنے کے متمنی ہیں۔ یہاں جرمنی میں اللہ تعالیٰ نے مجھے پڑھنے کا موقع فراہم کر دیا اور میں نے یہاں چار سال میں مشین پروگرامنگ کا کورس مکمل کر لیا جس پہ میں تیس سال تک مختلف دھاتوں کے مشینوں کے پرزہ جات کی پروگرامنگ کرنے اور بنانے کا کام کرتا رہا ہوں۔ ایک عزیز کو جب اپنے کام کی نوعیت سمجھائی تو کہنے لگے کہ سیدھا یہ کہو کہ لوہارا کام سیکھا ہے تو گویا ان معنوں میں مذکورہ واقعہ کے بعد ہی سہی لوہار بھی بن گیا۔

میں جب شروع میں جرمنی میں آیا تو ایک ریسٹورنٹ میں کام ملا جو اٹلی کے سچ مچ ہی پیشہ ور سناروں کا تھا۔ وہ اکثر اپنے آباء و اجداد کا بڑے فخر سے ذکر کیا کرتے۔ کہ وہ کیسے کیسے زیورات بنایا کرتے تھے۔ ریسٹورنٹ کی مالک سنیورا لوچیا کا بیٹا سلویو مجھ سے تھوڑا ہی بڑا تھا مگر شوقیہ باکسر اور جوڈو بھی جانتا تھا۔ جلد ہی دوسروں کی طرح مجھ سے بھی فری ہو گیا جب دروازے سے اندر آتا تو آتے ہی سب کو سلاماً ایک ایک ہلکا پھلکا مکا جڑ دیتا اور پھر بون جہورنو یعنی صبح بخیر کہتا۔ مذاق ہی مذاق میں ہم سب ملازموں کے کندھوں پہ نیل بنے ہوئے تھے۔ وہ اکثر اچانک ہی آ کر مکا جڑ دیتا اور پھر سب کے درد سے اف اف کرنے پہ ہنس ہنس کر محظوظ ہوتا۔ میری ایک اور کمزوری جو اس کے ہاتھ لگی۔ وہ میرا کِتسلیگ ہونا تھا۔ اردو میں مجھے یاد نہیں آ رہا کہ جسے گدگدی بہت ہوتی ہو اسے کیا کہتے ہیں۔ ڈوئچ میں اسے کِتسلِگ کہتے ہیں۔ یہ میری بچپن کی کمزوری ہے جس کا اکثر اب بھی میرے کزن یاد کروا کر ہنستے اور محظوظ ہوتے ہیں ایک ماموں زاد جو مجھ سے کئی سال چھوٹا تب دس سال کا تھا ایک بار مجھے سوتے میں پاؤں میں گدگدی کی جسارت کی کہ اب بھائی سویا ہوا ہے اسے پاؤں کے تلوے پہ گدگدی کی سوجھی اور پھر جب میں جاگا تو وہ میری چارپائی سے دو گز دور پڑا رو رہا تھا کہ بھائی نے مجھے ٹھڈا مارا ہے تو سلویو جب بھی آتا چپکے سے پیچھے سے پسلی میں گدگدی کرتا اور پھر میرے اچھلنے سے بہت قہقہہ لگا کر ہنستا محظوظ ہوتا اور کہتا

مدونا کہ کو رینتے آویرے کوئستو رگاسو۔ کہ اس لڑکے میں تو بہت کرنٹ ہے۔ اسے تو نیا شغل ہی مل گیا۔ جس سے میں سخت نالاں اور منع کرنے پہ بھی وہ ہنسے چلا جاتا۔ ایک دن میں اوون میں دیکھ رہا تھا کہ پیزے بن گئے ہیں یا ابھی کچھ کسر باقی ہے اوون کا شیشہ تو بہت دھندلا تھا مگر تھوڑے غور سے بندہ اپنی پشت پہ ہونے والی نقل و حرکت بھی دیکھ سکتا تھا۔ میں نے ایک دن دیکھا کہ سلویو پشت سے چپکے سے آ رہا ہے میں سمجھ گیا کہ یہ بھینسا کیا ارادہ رکھتا ہے۔ میرے دوسرے دوست اسے بھینسا ہی کہتے تھے کہ وہ قد میں نہیں مگر جسامت میں ہم سب سے چوڑا تھا میں نے دل ہی دل میں سوچ لیا کہ بچُو! آج تو تجھے ایسا سبق سکھاؤں گا کہ تو پھر کبھی گدگدی کرنے کی جرات نہیں کرے گا۔ جوں ہی اس نے مجھے ٹچ کیا اور میں حسب سابق مگر دانستہ بھی پورے زور سے اچھلا اور دایاں ہاتھ میں نے پورا کھول کر پیچھے کو گھمایا۔ سلویو پہلوان الجثہ تھا اٹالینوں کی طرح چھوٹے قد کا نہیں تھا۔ میرا الٹا ہاتھ سیدھا اس کے پیٹ پہ لگا۔ اور ایسی دھپ کی آواز جو صرف فلموں میں ہی سنی جاتی ہے۔ گو کہ غصیلی ہوتی ہے۔ اس کے منہ سے ایسی کراہ نما آواز نکلی جیسے بھینسا ڈکراتا ہے کہ مجھے افسوس ہوا کہ اس کو کچھ زیادہ ہی چوٹ آئی ہے۔ مگر اس کا شاید یہی حل تھا۔ میرا شاید زندگی کا وہ پہلا اور آخری کراٹے کا بھر پور وار تھا۔ جس کا مجھے بھی اس دن پتہ چلا کہ جب وار ہدف پہ ٹھیک بیٹھے تو کیسا محسوس ہوتا ہے وہ وہیں پہ پیٹ پکڑ کر بیٹھ گیا۔ اور دس پندرہ منٹ تک اٹھ نہیں پایا اور میں نے فوراً ظاہر ہے کہ معذرت کی۔

اسے یہ اندازہ نہیں تھا کہ آج اس شغل کا گمبھیر خمیازہ اس کا منتظر ہے۔ وہ اس کی آخری کوشش تھی پھر تو مکا بھی مار کر سلام کرنا جیسے بھول ہی گیا مجھ سے گز بھر دور دور سے گزرتا تھا۔ میں نے دل میں سوچا کہ سنار تو یہ پہلے ہی ہے اور پتہ نہیں مگر سو بار تو مار چکا ہو گا۔ لو حضرت آج حساب برابر ہوا۔ سو سنار کی ایک لوہار کی۔ بلکہ اس سے پہلے اپنے جوڈو کے زعم میں میری انگلیوں میں انگلیاں ڈال کر زور آزمائی کا تجربہ بھی کر چکا تھا۔ مجھے تو لگا کہ کسی نرم و نازک ہاتھ کی نرم نرم انگلیاں ہیں۔ دوسرے دن دروازے کے باہر برف کی ڈلیاں انگلیوں میں لیے کھڑا تھا۔ مجھے یاد بھی نہیں تھا کہ کل اس نے کیا حرکت کی تھی کہنے لگا یہ کل جو تو نے میری انگلیاں دبا دی تھیں۔ میں نے کہا کہ یہ محنت کرنے والے ہاتھ ہیں۔

گدگدی سے مجھے ایک اور لطیفہ یاد آ گیا کہ بچوں کے ساتھ ایک جرمن بچی ہمارے ہاں دعوت پہ آئی اور کشمش کا پوچھا کہ اسے تمھاری زبان میں کیا کہتے ہیں تو بچوں کے بتانے پر کہ اسے کشمش کہتے ہیں۔ تو بڑی حیرانی سے کہنے لگی کہ۔ کیا؟ آپ لوگ روزین کو کُسلمش کہتے ہیں اسے کشمش کی بجائے کسلمش کی سمجھ آئی۔ جس کا جرمن میں ترجمہ۔ مجھے گدگدی کرو۔ ہے۔ ہر زبان میں ہی کچھ الفاظ جو اکثر زبانوں میں بھلے مختلف مطالب کے ساتھ مستعمل ہی سہی مگر موجود ہیں۔

Facebook Comments HS