اسلامک ٹچ


ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا کہ ہمارے ایک سیاستدان نے دوسرے سیاستدان کے کان میں یہ تاریخی مشورہ دیا تھا ”خان صاحب تھوڑا اسلامک ٹچ بھی دے دیں“ ۔ یہ ایک چھوٹا سا جملہ اپنے اندر ہماری ساری قومی منافقت، دھوکہ بازی، اور کھوکھلی جذباتیت کو سموئے ہوئے ہے۔ یہ الفاظ اپنے اندر ان پچھلی آٹھ دہائیوں کی تاریخ سمیٹے ہوئے ہیں جن میں اس ملک کے رہنے والوں کو منظم طریقے سے اس پست ذہنی معیار تک پہنچا دیا گیا ہے۔

اس سب کی ابتدا اس وقت ہوئی جب یہ بتایا گیا کہ بس مذہب کے نام پر ایک الگ ملک بننے کی دیر ہے جب سب محمود و ایاز ایک معیار پر آ جائیں گے۔ طاقت میں آتے ہی اس ملک کی اشرافیہ نے اسی مذہبی جذباتیت کو استعمال کرتے ہوئے نہ صرف اپنی جاگیریں بحال رکھیں بلکہ اس کو عوام کے مزید استحصال کے لئے کبھی جہاد کشمیر، کبھی اسلامی نظام اور کبھی خلافت کے کھوکھلے اور بے بنیاد نعروں پر استعمال کیا۔ سکولوں کے نصاب اور میڈیا میں بھی زور و شور سے اس کو اتنا استعمال کیا گیا کہ اب یہ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن گیا ہے۔ اب اس چیز سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کسی کا پیشہ کیا ہے، ایک دکاندار ہو یا ایک وزیر، ایک سکول جانے والا طالب علم ہو یا پھر فلسفہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری والا کوئی فرد، سب نے صبح و شام صرف ہر چیز کو مذہبی رنگ ہی دینا ہے۔

اب جو اس معاشرے میں ہر طرف دھوکہ بازی، نالائقیت، جہالت اور دوسروں کے حقوق پہ سر عام ڈاکے نظر آتے ہیں اس میں ایک بڑا حصہ اسی حد سے زیادہ مذہبیت کا ملتا ہے۔ ہر جگہ سے ملاوٹ والی چیزیں ملیں گی لیکن دکاندار گاہک کو دو تین آیات، احادیث یا بزرگوں کی کرامتیں ضرور سنا کے چھوڑے گا۔ زیادہ تر ملازمتوں کے انٹرویو میں یہ پوچھنے کی بجائے کہ آپ کیا ویلیو ایڈ (value add) کر سکتے ہیں؟ کے بجائے وضو، غسل کے فرائض اور دعائے قنوت کا اردو ترجمہ پوچھا جاتا ہے۔ سرکاری دفتروں میں جائز کام کے لئے بھی رشوت دینی ایک معمول کا کام ہے کیونکہ اس کے بغیر کام ہو گا ہی نہیں۔ کسی بھی ظلم پہ یا کسی کا حصہ مارنے پہ کسی کو کوئی ندامت نہیں ہوتی کیونکہ کچھ خاص تعداد میں نوافل اور ذکر سے یہ سب کرنے والوں کو ان سب گناہوں کی معافی مل جاتی ہے۔

اس حبس اور گھٹن بھری صورتحال سے نکلنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ سب سے پہلے ان سب برائیوں کو تسلیم کیا جائے، بجائے اپنے اس قرون وسطیٰ  والے معاشرے پر فخر کرنے کے۔ مسائل کی نشاندہی اور ان کو تسلیم کرنا ان کے حل کی طرف پہلا قدم ہوتا ہے لیکن ایسا کرنا کوئی آسان چیز نہیں ہوتا۔ اس کے لئے ہمیں اپنے سے مختلف نقطہ نظر رکھنے والوں کو پڑھنا، سننا اور پھر ان کی باتوں پر سوچنا ہو گا کہ کیسے مذہبی چورن کے بجائے معاشرے اپنی اصل قابلیت، انصاف اور محنت کے بل بوتے پر ترقی کی طرف گامزن ہو سکتے ہیں۔ اس سوچ کا صرف اسی صورت اچھا نتیجہ برآمد ہو سکتا ہے اگر یہ سوچ ”اسلامک ٹچ“ نہ دے کر سوچی جائے۔

Facebook Comments HS