چمپینز ٹرافی اور پاکستان کی تیاریاں
پاکستان میں 29 سال بعد آئی سی سی ایونٹ کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ 1996 کے ورلڈ کپ کے بعد پہلی بار پاکستان آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی کرنے جا رہا ہے۔ تمام تیاریاں مکمل، ٹیموں کی آمد شروع ہو چکی ہے۔ 19 فروری کو کراچی میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان افتتاحی میچ سے ایونٹ کا آغاز ہو گا۔
8 ٹیمیں ٹورنامنٹ میں حصہ لے رہی ہیں۔ ٹیموں کو دو گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ بھارت، پاکستان، نیوزی لینڈ اور بنگلہ دیش ایک گروپ میں شامل ہیں۔ جبکہ دوسرا گروپ آسٹریلیا، انگلینڈ، ساؤتھ افریقہ اور افغانستان پر مشتمل ہے۔ لیکن بھارت نے اپنی ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے پاکستان آ کر کھیلنے سے انکار کر دیا ہے۔ جس کے باعث ہائبرڈ ماڈل کے تحت ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ بھارت اپنے میچز متحدہ عرب امارات میں کھیلے گا۔
ٹورنامنٹ کی تیاریوں کا آغاز تقریباً 6 ماہ قبل کر دیا گیا تھا۔ شائقین کرکٹ کی جانب سے گرؤانڈ میں فراہم کردا سہولیات کے حوالے سے شکوہ کیا جاتا رہا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ نے قذافی اسٹیڈیم، نیشنل اسٹیڈیم کراچی اور پنڈی اسٹیڈیم کی رینوویشن کے کام کا آغاز کیا۔ یہاں پر سب سے اہم کام جو پاکستان کرکٹ بورڈ نے کیا ہے وہ قذافی اسٹیڈیم لاہور کی دوبارہ تعمیر نو ہے۔ انتہائی قلیل مدت میں عالمی سطح کا اسٹیڈیم تعمیر کرنے کا کریڈٹ بہرحال محسن نقوی کو جاتا ہے۔ جس کا افتتاح 7 فروری کو پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے رنگا رنگ تقریب میں کیا۔ نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں پلیئرز اور میڈیا کے لیے نئی عمارت تعمیر کی گئی ہے۔ جس کے اندر بھی عالمی سطح کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کرسیوں پر دوبارہ رنگ کر کے ان کو نیا بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ گراؤنڈ میں لگی جالیوں کو ہٹا کر جنگلے لگائے گئے ہیں تاکہ تماشائیوں کو بہتر انداز میں میچ نظر آ سکے۔
اسٹیڈیمز کی تعمیر خوش آئند ہے۔ لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ چمپینز ٹرافی کے بعد دیگر اسٹیڈیم کو اپ گریڈ کرنا چاہیے۔ جیسے فیصل آباد اسٹیڈیم، گوادر اسٹیڈیم تاکہ دیگر شہروں کے اندر بھی عالمی کرکٹ کی نمائندگی ہو سکے۔
اختتام اسی خواہش پر کرتا ہوں کہ پاکستان کرکٹ ٹیم چمپینز ٹرافی کے اندر عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی اور اپنے ٹائٹل کا دفاع کرے گی۔

