ٹرمپ انڈیا اور پاکستان خریدنے کی آفر کر دے تو؟
مجھے اندازہ ہے کچھ دوست میرے اس بلاگ کا عنوان پڑھتے ہی خفا ہو گئے ہوں گے، کچھ سیخ پا ہوں گے، کچھ ناک بھوں چڑھا رہے ہوں گے۔ ٹینشن نہ لیں، ڈونلڈ ٹرمپ اپنا یار ہے۔ ہم اُسے صدارت میں لائے ہی اس لیے ہیں کہ وہ امریکہ کا بیڑا غرق کرے۔ اگر اپنے ملک کا بیڑا غرق نہ کر سکا تو دنیا کے کئی ممالک کی معیشت کا تو بیڑا غرق تو کر ہی دے گا، پکی بات ہے۔ اب جنوبی ایشیا کی لیڈرشپ کو کیا سمجھائیں کہ بھیّا! ابھی بھی وقت ہے ہوش کے ناخن لو۔
فرض کریں ڈونلڈ ٹرمپ کہتا ہے کہ کشمیر کا خطّہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک مستقل تنازعہ بنا ہوا ہے جو کبھی مستقبل میں ایٹمی جنگ کا سبب بنا سکتا ہے۔ اگر ایٹمی جنگ ہوئی تو انڈیا کی ایک ارب چالیس کروڑ اور پاکستان کی پچیس کروڑ آبادی بلبلے بن کر ہوا میں تحلیل ہو جائے گی لہذا جنوبی ایشیا میں اس جنگ کے خطرے کو ٹالے رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ انڈیا، پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، مالدیپ اور بھوٹان وغیرہ خود کو امریکہ کا حصّہ ڈیکلیئر کر دیں (ویسے حقیقت میں دیکھا جائے تو غیر رسمی حصّہ تو اب بھی ہیں۔ کشکول اُٹھا کر امریکہ اور اُس کے لے پالک اداروں آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے سامنے کھڑے کہہ رہے ہوتے ہیں ”پیار نال نہ سہی”۔
ٓآپ پھر ناراض ہو گئے کہ کیا بہکی بہکی باتیں لکھ رہا ہے۔ کیا کروں؟ بارہ فروری 2025 کی رات کے چار بج چکے ہیں اور مجھے نیند نہیں آ رہی۔ کمپیوٹر آن کیا اور لکھنے بیٹھ گیا۔ دددددگیارہ فروری کی رات کو عشاء کی اذانوں کے کچھ وقت بعد سو گیا تھا۔ پھر رات کو دو بجے سے پہلے آنکھ کھلی۔ پھل کھانے کو دل کیا اور ریفریجریٹر سے سندھ ورائٹی کے دو امرود نکال کر کھا لیے۔ شاید ان امرودوں کی وجہ سے دماغ تھوڑا بہک گیا ہے۔ تجربہ سے ثابت ہوا کہ آدھی رات کے بعد امرود کبھی بھی نہیں کھانا چاہیے ورنہ دل اسٹیٹس کو کے خلاف بغاوت کرنے لگا جاتا ہے۔
اچھا، فرض کریں ڈونلڈ ٹرمپ آپ کو آفر کرتا ہے کہ آپ چاہیں تو اپنا ملک انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش چھوڑ کر امریکہ شفٹ ہو جائیں تو آپ کا ردعمل کیا ہو گا؟ بڑھکیں نہ ماریں کہ ہم ایسے محب وطن اور ویسے محب وطن۔ ذرا اپنے دل سے پوچھ کر جواب دیں وہ کیا کہتا ہے؟ کیا وردی والے، کیا بغیر وردی والے، کیا ایلیٹ کلاس اور کیا غریب کلاس۔ سب کے دل کی ہے آواز ”چلو چلو امریکہ چلو، چلو چلو امریکہ چلو“ ۔
بہاول پور ریلوے اسٹیشن کے قریب رہائش پذیر میرا ایک دوست ڈونلڈ ٹرمپ کو پی ایچ ڈی یعنی ”پِھریا ہویا دماغ“ کہتا ہے جیسے میرا یار چوہدری کہتا ہے ”خان کے دماغ میں ضِد برانڈ سریا ہے۔ کیوں جیل میں پڑا اپنی زندگی برباد کر رہا ہے؟ ساتھ اپنے کارکنوں کو بھی عذاب میں ڈالے بیٹھا ہے۔ خالی شہرت وُہرت سے کون سا اس نے وزیرِ اعظم بن جانا ہے جب تک“ گولف والے بڑے بھائی جان ”گرین سگنل نہ دیں؟“ ۔
آپ نے ریکھا اور نصیرالدین شاہ کی آرٹ فلم ”اجازت“ دیکھی ہے؟ ہاں ہاں وہی وہی جس کا گانا ہے ”میرا کچھ سامان تمہارے پاس پڑا ہے، وہ لوٹا دو“ ۔ ایسے ہی اگر ڈونلڈ ٹرمپ کہتا ہے ”میرے ملک کی ملٹی نیشنل کمپنیوں اور آئی ٹی ٹائیکونز کا مستقبل پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش پہ مشتمل دنیا کی سب سے بڑی کنزیومر مارکیٹ میں پڑا ہے وہ میری ہی شرطوں پہ مجھے منافع سمیت لوٹا دو“ تو پھر؟
اکبر شیخ اکبر جنوبی ایشیا کے تمام ممالک کو خبردار کرتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی پالیسیوں سے ایک بار آپ کی معیشت کو جھنجھوڑے گا جیسے لال سہانرا میں لوگ بیری کے درخت پہ چڑھ کر شاخوں کو زور زور سے جھنجھوڑتے ہیں تو پینڈو بیر نیچے گرتے ہیں۔
جنوبی ایشیا کے پالیسی میکرز اور تھنک ٹینکس اس ”ٹرمپ پنے“ سے نمٹنے کے لیے ابھی سے کوئی پیش بندی کر سکتے ہیں تو کر لیں ورنہ ہم ”عظیم گلوکار“ چاہت فتح علی خان کو بولیں گے کہ وہ لوگوں کو گلوکاری سکھانے کے ساتھ ساتھ ”ٹرمپالوجی“ کا بھی کوئی حل پیش کر دیں۔ بس خیال رہے کہ جیسے متھیرا کی کمر پہ ہاتھ رکھا تھا ویسے ہی ڈونلڈ ٹرمپ کی کمر پہ ہاتھ نہیں رکھ دینا ورنہ جو نتیجہ نکلے گا اُستاد جی اُس کے ذمہ دار خود ہوں گے۔


