ہمدردی یا ہم گدازی
دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کر و بیاں
دردِ دل انسان میں ہمدردی اور گداز پیدا کرتا ہے۔ یہ دنیا اسی لیے قائم ہے کہ یہاں دوسروں کے ساتھ محبت کرنے اور ان کا خیال رکھنے والے لوگ موجود ہیں۔ ایک فلاحی ادارے سے منسلک ہونے کی وجہ سے مجھے ایسے بہت سے افراد سے بالمشافہ ملنے کا موقع ملتا ہے جو انسانی ہمدردی کی جیتی جاگتی مثال ہوتے ہیں۔
ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک بظاہر بہت ماڈرن اور متمول خاتون سے ملاقات کے بعد آپ پر کھلتا ہے کہ وہ تو ایک درویش روح ہیں جو کسی کی تکلیف دیکھ کر برداشت ہی نہیں کر پاتیں اور ان کے آنسو چھلک جاتے ہیں۔ اسی طرح ایک چھابڑی لگا کر چپل بیچنے والا بعض اوقات سونے سے زیادہ قیمتی اور سمندر سے بھی بڑے دل کا مالک ہو سکتا ہے۔
زندگی کے ماہ و سال میں یہ بخوبی عیاں ہو گیا کہ ہمدردی کی کوئی طے شدہ شکل و ہیئت نہیں۔ دردِ دل کا کسی مذہب، فرقے، معاشی سٹیٹس یا صنف سے بھی تعلق نہیں۔ ہمدرد دل تو حسب توفیق ملتا ہے اور یہ توفیق صرف خالق کی طرف سے عطا ہوتی ہے۔
محبت کے لیے کچھ خاص دل مخصوص ہوتے ہیں
یہ وہ نغمہ ہے جو ہر ساز پر گایا نہیں جاتا
آج میں ایک طرف تو ان تمام لوگوں کو تہہ دل سے شکریہ کہنا چاہتی ہوں جو دنیا میں کہیں بھی اپنے ساتھی انسانوں اور دیگر جانداروں کی زندگی میں آسانیاں تقسیم کرنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ دوسری طرف میں نفسیات کے ایک طالبعلم کے طور پر ہمدردی کی دو صورتوں کے بارے میں بات کرنا چاہتی ہوں۔
ہمدردی کا مطلب ہے کسی کی تکلیف یا ضرورت کو دیکھ کر دکھ محسوس کرنا جو شاید آپ کو اس شخص کی مدد کے لیے اکسائے۔ لیکن اس طرح کی ہمدردی میں ترس اور رحم کے جذبات کے حاوی ہونے کے قوی امکانات ہوتے ہیں۔ ہمدردی کی دوسری شکل ایمپتھی یا ہم گدازی ہے جس میں آپ اس شخص کی جگہ کھڑے ہو کر اس کے احساسات کا ادراک کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ دنیا کو اس کے سیاق و سباق کے حوالے سے دیکھتے ہیں۔ اس طرح کی ہمدردی آپ کو مدد سے زیادہ اس بات پر ابھارتی ہے کہ اس دنیا کو سب کے لیے ایک اچھی جگہ بنایا جائے۔
میں اس کی مثال اس طرح دینا چاہوں گی کہ آپ وھیل چئیر پر ایک بچے کو دیکھتے ہیں اور آپ کو اس کے لیے رحم یا ترس جیسے جذبات محسوس ہوتے ہیں۔ آپ کوشش کرتے ہیں کہ بڑھ کر اس کی وھیل چئیر کو چلانے میں اس کی مدد کریں یا اس کی کسی طرح مالی مدد کر سکیں۔ اگر آپ ایمپتھی اختیار کریں اور اس کے گردونواح کو اس کی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کریں تو شاید آپ کو وہ تمام جگہیں نظر آ سکیں جہاں وہ اپنی وھیل چئیر پر بیٹھ کر نہیں جا سکتا۔ اس صورتحال میں آپ پھر یہ کوشش کریں گے کہ تمام جگہوں کو ریمپ یا کسی اور تبدیلی کی مدد سے ایسا بنا دیا جائے کہ وہ بچہ اپنے گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ ہر جگہ بغیر رکاوٹ کے جا سکے۔
ہمارے معاشرے کو بلاشبہ ہمدردی کی بہت ضرورت ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کے دکھ، مسائل اور مشکلات کا ادراک کرنے اور ہاتھ بڑھا کر ایک دوسرے کا سہارا بننے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ لیکن اگر ہم نے اپنے معاشرے میں پائیدار مثبت تبدیلیاں لانی ہیں تو پھر ہمیں اپنی دنیا کو ایسے ترتیب دینا ہے کہ ہر انسان اس میں امن، سکون، سہولت اور اعتماد سے رہ سکے۔
میں خصوصی افراد کے ساتھ کام کرتی ہوں۔ اگر ان کے حوالے سے بات کروں تو بصارت سے محروم ایک بچے کو ترس یا رحم سے زیادہ ایسی تعلیمی سہولیات اور ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے کہ وہ بھی اپنے ہم عمر بچوں کی طرح تعلیم حاصل کر سکے۔ ایک وھیل چئیر والے بچے کو ایسا راستہ چاہیے جو سب استعمال کر سکیں بشمول اس کے۔ ایک خصوصی فرد کو بالکل اچھا نہیں لگتا کہ اس کو گھور کر دیکھا جائے یا بیچارہ کہا جائے۔ اسے تو اس بات کی توقع ہے کہ اس کو ایک فرد کے طور پر عزت اور قبولیت دے کر اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع فراہم کیا جائے۔ اس کو اگر مدد درکار ہے تو اتنی کہ وہ ماحول میں اعتماد اور ضروری آلات کی مدد سے ایک اچھی زندگی گزار سکے۔
تبدیلی ہمیشہ اپنے آپ سے شروع ہوتی ہے۔ آج خود سے عہد کریں کہ صرف ترس کھا کر نہیں بلکہ اس دنیا کو زیادہ شمولیاتی اور خوبصورت بنانے اور دوسروں کو خود کفیل بنانے کی نیت سے مدد اور سہارے کا ہاتھ بڑھانا ہے۔ ایسی تبدیلی دیرپا بھی ہو گی اور زیادہ موثر بھی۔
میرے سینے میں نہیں تو تیرے سینے میں سہی
ہو کہیں بھی آگ، لیکن آگ جلنی چاہیے
صرف ہنگامہ کھڑا کرنا مرا مقصد نہیں
میری کوشش ہے کہ صورت بدلنی چاہیے

