بھوک کا نوحہ


بھوک کے اپنے ضابطے ہیں جو کسی اور ضابطے کو خاطر میں نہیں لاتے ہیں، خوراک انسان کی پہلی ضرورت ہے جو انسانی بقاء کا ضامن ہے، ابتداء افرینش سے اب تک خوراک انسان کی پہلی تلاش رہی ہے، جیسے جیسے انسانی آبادی زمین کی وسعتوں میں پھیلتی گئی ہے، خوراک تلاش کرنے کے بے شمار ذرائع بھی دریافت ہوتی رہی ہیں اور یہ دریافت بھی انسان ہی نے کیے ہیں۔

انسانوں کی بڑھتی آبادیوں نے مل جل کر رہنے کا فن سیکھ لیا اور اس جڑت سے معاشرے تشکیل پائے، معاشروں کے اجتماعی نظم کو چلانے اور سنبھالنے کے لیے ضابطے طے ہونے لگے اور ان ضابطوں پر عملدرآمد نے حکمرانی کے تصور کو جنم دیا، اس سے ریاستوں کی تشکیل ہوئی جن کی پہلی ذمہ داری اپنی رعایا کے لیے روزگار اور خوراک کا بندوبست کرنا تھا۔

اس وقت ہم اپنے سماج اور اس کے روزگار کی بات کریں گے، بلوچستان میں روزگار کا معاملہ % 80 سرحدی تجارت سے جڑا ہوا ہے، یہاں، بارڈر چلے گا تو چولہا جلے گا، ہی بھوک مٹانے کا تصور ہے، چمن بارڈر، تفتان بارڈر، ماشکیل بارڈر اور مکران بارڈر سے بلوچستان کے لاکھوں لوگوں کا چولہا وابستہ ہے، صرف چولہا نہیں بلکہ ان کی زندگی کی ہر سانس کی ڈور بارڈر کی لکیروں سے بندھی ہوئی ہے، بارڈر کو بند کرنا، محدود کرنا، بلاجواز پابندیاں لگانا ایسا ہی ہے جیسے لاکھوں لوگوں کے حلق میں ہاتھ ڈال کر ان کی سانس کھینچ لینا ہے۔

چمن بارڈر پر بندشیں لگیں، پابندیاں سینگ نکال کر کھڑی رہیں، رکاوٹوں نے کاروباری لوگوں سے لے کر عام لغڑیوں کے پاؤں میں زنجیریں کس دیں تو ہزاروں لوگ کئی مہینوں تک اپنا خالی شکم لے کر دھرنے پر بیٹھ گئے، ان کی آنکھوں میں بے بسی تھی، چہروں پر جھریاں تھیں، ہونٹ سوکھے ہوئے تھے اور دامن پر اہل و عیال کے خشک آنسؤوں کے دھبے تھے، ایک ناگہانی خوف تھا کہ روز محنت کرتے تھے روز کھاتے تھے، بارڈر پر بندش رہی تو پیٹ کمر کو جاکر لگے گا، اور معصوم بچوں کے رخساروں پر سوکھی ہڈیاں ہی رہ جائیں گی۔

دھرنا ہوا، شور ہوا، احتجاج ہوا، سیاسی جماعتوں نے ان کی فریادوں کو بلند و بالا محلات کے اس پار پہنچایا کہ لوگ بھوکے ہیں ان کی فریاد سنی جائے، بارڈر پر آزادانہ کاروبار کرنے دیا جائے لیکن آج تک گل محمد نہ جنبد ہی رہا۔ چمن جو کاروباری شہر تھا اب اس کی رونقیں ماند پڑ رہی ہیں، وہاں آہستہ آہستہ بھوک کا آسیب ہو گا اور یہ آسیب عام آسیب نہیں ہے یہ کھانے کو بہت کچھ مانگتا ہے، محلات کی خیر ہو۔

مکران میں دہائیوں سے بارڈر روزگار کا اہم ترین ذریعہ تھا اور ہے، لوگ آتے جاتے تھے، کچھ یہاں سے لے جاتے وہاں بیچتے اور کچھ وہاں سے لاتے یہاں بیچتے تھے، دونوں اطراف رہنے والوں کو قدرے سستی اشیاء مل جاتی تھیں، سکھ تھا، خوشیاں تھیں، میل ملاپ تھا، رشتہ داریاں تھیں، آنا تھا، جانا تھا، لوگ بارڈر کے کاروبار سے خوراک سے لے کر تعلیم تک، صحت سے لے کر دیگر ضروریات تک سب پوری کرلیتے تھے، مگر اب نہیں ہے۔ اب سینکڑوں رکاوٹوں کو سلامی دے کر پہنچنا ہوتا ہے اور سینکڑوں بندشوں سے رینگ کر واپس آنا ہوتا ہے۔

بھوکے کے لیے ہر لقمہ قانونی ہوتا ہے، قانون انسان کے لیے بنتے ہیں، انسان قانون کے لیے نہیں ہیں، ان قوانین پر نظرثانی و ثالث ہو جو لوگوں سے لقمے چھین لیتے ہیں۔

ریاستوں کے مفادات و مسائل ہوتے ہیں، ضرور ہوتے ہیں، لیکن ریاستوں کے عوام بھی تو ہوتے ہیں، قانون بنتے وقت اور بناتے وقت ان لاکھوں عوام کے گزر بسر کا بھی تو خیال رکھا جائے۔

بلوچستان میں سیاسی جماعتیں دیوار سے لگادی گئی ہیں، بلکہ اب انہیں دیوار میں چننے کی منصوبہ سازی بھی پیش نظر ہے، وہ سیاسی جماعتیں جن کا طوطی بولتا تھا اب ان کا کوا بھی نہیں بولتا ہے، سناٹا ہے، خوفناک سناٹا ہے، عوام میں جڑیں رکھنے والی سیاسی جماعتوں کو چاروں شانے چت کر دیا گیا ہے انہیں اب تو خود کے وجود البقاء کا مسئلہ درپیش ہے، ان کی حالت یہ ہو گئی ہے کہ احتجاج کے لیے آواز نکالیں تو آواز حلق میں پھنستی ہے، باہر نہیں آتی ہے اس آواز کو اب کون سنے، عوامی طاقت رکھنے والی جماعتوں کو اس حالت تک پہنچا کر جوکروں کو مسندیں عطاء کرنا نیک شگون نہیں ہے، کبھی ضرورت پڑے گی تو یہ ڈھونڈنے سے بھی نہ ملیں گے اور چار سو جوکروں کے ساتھ ماتم کا سماں رہے گا۔

بلوچستان میں جمعیت وہ پارلیمانی جماعت ہے جو گوادر سے چمن تک کمٹڈ ورکرز کی ایک بڑی کھیپ رکھتی ہے، یہ کھیپ ہمیشہ ایک آواز کی منتظر ہوتی ہے، وہاں قیادت کی صدا لگی یہاں یہ اپنی ٹوٹی چپلوں کے ساتھ دوڑ پڑے، یہ کھیپ کسی کو ایک آنکھ بھی نہیں بھاتی ہے، جمعیت کے پر کاٹنے کے منصوبے بھی مکمل کر دیے گئے ہیں، انہیں پارلیمانی سیاست کی راہداریوں سے دیس نکالا جانے کا فرمان لکھا جا چکا ہے، گزشتہ الیکشن میں ریہرسل بھی کر دیا گیا ہے، جمعیت جیسی جماعتیں پارلیمان میں نہ ہوں، اور کسی اور ڈگر پر چل پڑیں، تو ٹوٹی ہو چپلوں کے گرد سے جو طوفان اٹھے گا، یہ رکنے کا نہیں ہو گا، یہ سمجھنے کے لیے بصارت سے زیادہ بصیرت کی ضرورت ہے، جو کسی دکان سے نہیں ملنے کا، یہ اندر کی چیز ہے اور اندر مکمل اندھیر نگری ہو تو بصیرت نے دفن ہی ہونا ہے۔

جمعیت علماء اسلام بلوچستان نے بے روزگاری اور بارڈر بندش کے خلاف عوامی تحریک کا آغاز چمن سے کر دیا ہے، یہ قافلہ گوادر تک جائے گا۔

سیاسی جماعتوں کو بند گلی میں نہ دھکیلا جائے، ان کی آواز خلق کی آواز ہے، انہیں سنا جائے جس دن انہوں نے عوام سے ہاتھ اٹھا دیے اور عوام کو بتا دیا کہ ہم ناکام ہوچکے ہیں اب آپ اگے آ جائیں تو وہ بھونچال کا موسم ہو گا۔

کیا ہم سب کسی بھونچال کے انتظار میں ہیں!

Facebook Comments HS