ذہانت، کامیابی اور حقیقی خوشی۔ کرسٹوفر لینگن ایک پراسرار شخصیت
آئنسٹائن اور جے اوپن ہائمر سے زیادہ ذہین لیکن جسے ایک عام انسان بننا پسند ہو،
کیا زندگی میں کامیابی کا مطلب صرف دولت اور شہرت ہے؟ کیا ذہانت کا اعلیٰ درجہ انسان کو خودبخود خوشحال بنا دیتا ہے؟ بقول اکبر الہ آبادی کے
ہم کیا کہیں احباب کیا کار نمایاں کر گئے
بی اے ہوئے نوکر ہوئے پنشن ملی پھر مر گئے
اگر کوئی آئنسٹائن سے زیادہ ذہین ہو تو کیسا ہو گا، میں اسی کے لئے انٹرنیٹ پر سرچ کر رہا تھا کہ مجھے ایسا ایک انسان مل گیا، جس کی ذہانت آئنسٹائن سے زیادہ تھی۔ گنیز بک آف ریکارڈز کے ہائی آئی کیو سیکشن میں ایرک ہارٹ کے تخلّص سے ان کا نام بھی درج ہے۔ اس کے علاوہ سال 2008 میں صحافی میلکم گلیڈویل کی شائع ہونے والی کتاب ”آؤٹلیئرز: دی سٹوری آف سکسس“ جس میں ان کی ذہانت کا موازنہ جے رابرٹ اوپن ہائمر سے کیا گیا جو ایٹم بم کے موجد کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ اس بات پر سوال اٹھائے کہ کرسٹوفر لینگن کامیاب کیوں نا ہوئے؟ جیسے آنئنسٹائن اور ہائمر کامیاب ہوئے۔
لیکن دنیا کو دیکھنے، جانچنے اور سمجھنے کا نظریہ قدرِ مختلف ہے۔ اس عظیم شخص کو ہم کرسٹوفر لینگن کے نام سے جانتے ہیں کہ جس نے غیر معمولی ذہانت رکھنے کے باوجود زندگی کی اصل حقیقت کو پہچانا اور ایک سادہ مگر مطمئن زندگی گزارنے کا انتخاب کیا۔
25 مارچ سن 1952 کو سان فرانسسکو میں پیدا ہونے والے کرسٹوفر لینگن جن کا بچپن یتیمی، غربت اور گھریلو پریشانیوں جیسی مشکلات سے عبارت ہے ان کی زندگی سوتیلے باپ کی بدسلوکی والدہ کی 4 بار شادیاں، سوتیلے بھائیوں کی وجہ سے مزید بدحال بھی رہی۔ لیکن جیسا کہ عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ ذہین بچے جن کی کامیابیوں کے لئے والدین کثیر سرمایہ صرف کرتے ہیں یا انہیں لوگ اتنا سراہتے ہیں کہ ان کی خود اعتمادی آسمان چھونے لگتی اور مستقبل میں وہ بہترین کام بھی کرتے ہیں۔ لیکن یہاں ایسا نہیں کرسٹوفر لینگن کی اپنے اساتذہ سے بحث رہتی تھی کہ ان کے اسکول کا کورس چیلنجنگ نہیں ہے انہیں اس سے زیادہ بہتر مواد چاہیے جسے کا مطالعہ انہیں ذہنی طور پر مطمئن کر سکے۔ جب اساتذہ ان کی مدد نا کر سکے تو انہیں خود ہی آگے بڑھنا پڑا اور پھر انہوں نے خود ہی سیکھنے کا فیصلہ کیا اور ریاضی، فزکس، فلسفہ، لاطینی اور یونانی زبانوں میں مہارت حاصل کر لی جو آج بھی ہمارے لئے حیران کن ہے۔
زندگی کے کٹھن راستے اور ناکامیاں
کرسٹوفر لینگن کو مکمل اسکالرشپ کے ساتھ ریڈ کالج میں داخلہ ملا، مگر مالی مسائل کی وجہ سے انہیں اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنی پڑی۔ اس کے بعد انہوں نے مونٹانا اسٹیٹ یونیورسٹی میں داخلہ لیا، مگر یہاں بھی تعلیمی نظام سے مطمئن نہ ہو سکے اور یہ محسوس کیا کہ وہ اپنے پروفیسرز سے زیادہ جانتے ہیں۔ نتیجتاً، وہ تعلیم مکمل کیے بغیر یونیورسٹی چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔
تعلیم ادھوری رہنے کے بعد ، کرسٹوفر لینگن کو کئی معمولی نوکریاں کرنی پڑیں۔ وہ کبھی تعمیراتی مزدور، کبھی جنگل میں فائر فائٹر، تو کبھی شراب خانے کے باؤنسر بنے۔ ایک ایسا شخص جو ذہانت کے سب سے اونچے درجے پر فائز تھا، اس نے عام مزدوروں کی طرح زندگی گزاری۔
1999 میں، کرسٹوفر لینگن اور دیگر اشخاص نے 164 یا اس سے اوپر کے آئی کیو والوں کے لیے میگا فاؤنڈیشن کے نام سے ایک فلاحی کارپوریشن بنائی وہ میگا سوسائٹی کے ساتھ اس کے نام، میگا سوسائٹی ایسٹ کے استعمال پر قانونی چارہ جوئی سے بھی گزرے، اور اس کے ایک جریدے کی اشاعت بھی ہوئی جسے NOESIS بھی کہا جاتا ہے۔
کرسٹوفر لینگن کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ غیر معمولی ذہانت اور اعلیٰ تعلیم کامیابی کی ضمانت نہیں۔ وہ دنیا کے ذہین ترین افراد میں شمار ہوتے ہیں، مگر ان کے پاس کوئی بڑی ڈگری نہیں۔ انہیں بڑی کمپنیوں میں نوکری نہیں ملی، اور وہ ارب پتی بھی نہیں بنے۔ مگر کیا وہ ناکام ہیں؟ نہیں، بلکہ انہوں نے کامیابی کی ایک الگ تعریف وضع کی۔
کائنات کا علمی نظریاتی ماڈل
کرسٹوفر لینگن نے ایک مفروضہ تیار کیا ہے جسے وہ ”Cognitive۔ Theoretic Model of Universe“ (CTMU) کے نام سے موسوم کرتا ہے اس نظریہ پر انہوں ایک کتاب بھی شائع کی جس پر 2020 میں نظر ثانی کی گئی۔ یہ ماڈل حقیقت اور ذہن کے درمیانی تعلق کی وضاحت پر مبنی ہے۔ اور اسی جملے میں کائنات کی موجودگی کا ادراک ہوتا ہے۔ جس میں انہوں نے نظریہ پیش کیا کہ ”ہر چیز حقیقی نظریہ رکھتی ہے“ ۔ ”، جان آرچیبالڈ وہیلر کی“ Participatory Universe ”اور اسٹیفن ہاکنگ کے“ Imaginary Time ”تھیوری آف کاسمولوجی کے نظریے کو یکجا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ CTMU کے ساتھ وہ“ خدا، روح اور بعد کی زندگی کے وجود کو ثابت کر سکتا ہے۔ ”
2008 میں، وہ گیم شو 1 بمقابلہ 100 میں شریک ہوئے اور $ 250,000 ڈالر کا انعام جیتا۔ انہوں نے حاصل ہونے والی رقم کو مسوری میں گھوڑوں کا فارم خریدنے کے لیے استعمال کیا، جہاں وہ اب اپنی بیوی جینا (née LoSasso) کے ساتھ رہتا ہے، جو ایک کلینیکل نیورو سائیکالوجسٹ ہے۔
کرسٹوفر لینگن نے 9 / 11 حملوں کو ایک اندرونی سازش قرار دیا، جس پر انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کی، جس کی وجہ سے بعض حلقوں میں انہیں دائیں بازو کے نظریات کا حامی سمجھا گیا۔ یہ الزام بھی ہے کہ ان کے نظریات متنازعہ ہیں اور ان کی تھیوریوں کو سازشی بھی کہا گیا جن کی وجہ سے علمی اور عوامی سطح پر ان پر شدید بحث ہوتی رہی ہے۔
کرسٹوفر لینگن نے دنیا کی حقیقت کو پہچانا اور جانا کہ صرف دولت اور شہرت ہی سب کچھ نہیں۔ انہوں نے زندگی کو سادہ مگر آرام دہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ آج وہ ایک گھوڑوں کے فارم پر اپنی بیوی کے ساتھ ایک مطمئن زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی ذہانت کو دنیاوی کامیابی کے بجائے علم اور حقیقت کی تلاش میں صرف کیا۔
کرسٹوفر لینگن کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ کامیابی کا مطلب صرف بڑا بینک بیلنس، شہرت یا بڑی ڈگریاں نہیں۔ اصل کامیابی وہ ہے جہاں ہم ذہنی سکون کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں۔ دولت اور عزت کے پیچھے بھاگنے والے اکثر خوشی اور سکون کو کھو بیٹھتے ہیں، مگر جو لوگ اپنی زندگی میں توازن پیدا کر لیتے ہیں، وہی حقیقی کامیاب ہوتے ہیں۔
کرسٹوفر لینگن کا واضح پیغام
”پیسہ اور کامیابی سب کچھ نہیں، بلکہ ہمیں اپنی زندگی کو خوشی، سکون اور محبت سے بھرپور بنانا چاہیے۔ سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ ہم ایک صحت مند، خوشحال اور مطمئن زندگی گزاریں، جہاں ہمارے ساتھ ہمارے پیارے ہوں۔“
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ دنیاوی کامیابی کے پیچھے اندھا دھند بھاگنے کے بجائے اپنی زندگی کے حقیقی مقصد کو سمجھنا ضروری ہے۔ ذہانت ایک طاقتور ہتھیار ہے، مگر اس کا درست استعمال ہی انسان کو سکون اور خوشی کی طرف لے جاتا ہے۔ اور غلط استعمال ہمارے لئے وبالِ جان بھی بن سکتا ہے جیسا کہ ان کا موازنہ رابرٹ جے ہائمر کی ذہانت سے کیا گیا جن کی وجہ سے پوری دنیا نیوکلیئر دوڑ میں شامل ہو گئی جاپان میں ہزاروں لوگ جان سے گئے، روس اور امریکہ نے خلاء میں دھماکے کیے جس سے پوری دنیا کا موسم مزید گرم ہو گیا اور اب بھی اس کے اثرات کافی جگہ ہیں۔ اب ذہانت سے فائدہ کم اور نقصان بے تحاشا ہوا ہے۔ لیکن کرسٹوفر لینگن نے ایسا کچھ نہیں کیا بلکہ اپنی ذہانت کو زندگی کے اصل مقاصد جاننے میں لگایا۔
کیا آپ بھی زندگی میں حقیقی خوشی اور سکون کی تلاش میں ہیں؟ یاد رکھیں، دولت اور کامیابی کے پیچھے بھاگنے کے بجائے اپنے پیاروں کے ساتھ ایک مطمئن اور پرامن زندگی گزارنے کی کوشش کریں۔ یہی اصل کامیابی ہے۔



