”پوٹھوہار : خطہ دِل رُبا“
انسان شعور اور نطق کی بنیاد پر اشرف المخلوقات کے لقب کا حق دار ٹھہرا اگر اس میں یہ صفات موجود نہ ہوتیں تو حیوان اور اس میں کوئی خاص فرق نہ ہوتا لیکن خالق ِ کائنات کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ انسانی سرشت میں ان اجزا ءکا شامل ہونا اس کے لیے فخر کا باعث بنا اور اس ارض و سما ء میں وہ خداوند دو جہان کا نائب اور مقرب ٹھہرا۔ اپنے مقصد کی تلاش میں سرگرداں انسان نے زمین پر اپنی موجودگی کا اظہار مختلف انداز میں کیا۔
کسی نے جہان ِ رنگ و بو میں اپنے جادوئی قلم سے رنگ بخشا اور جملے موزوں ہوتے ہوتے شعر تخلیق ہوا۔ کسی کے اندر شعر تخلیق کرنے کی صلاحیت نہیں تھی تو اس نے نثر میں اپنے جذبات او ر احساسات کا اظہار کیا اور کوئی تحقیق و جستجو کے بحر ِ بے کراں میں غوطہ زن ہوا اور انسانیت کے فلاح و بہبود کے لیے نت نئی تخلیقات اور ایجادات کے نئے در وا کیے۔ غرض ہر کہ آمد عمارت نو ساخت کے مترادف اس کائنات کی ترقی و پیشرفت کے لیے اپنا حصہ ڈالا۔
علم کی اس جستجو نے انسان کو خوب سے خوب تر کی تلاش میں محو کر دیا اور اس نے کتاب کے ذریعے اپنا ما فی الضمیر دیگر انسانوں کو منتقل کرنا شروع کر دیا۔ آج دنیا کے جس ملک میں بھی چلے جائیں اور کچھ ملے یا نہ ملے مگر آپ کو کتاب ضرور مل جائے گی۔ اس کی مدد سے اس ملک کے سماجی، مذہبی، معاشرتی، سیاسی اور ثقافتی حالات و واقعات کے بارے میں اچھی خاصی معلومات مل جاتی ہیں۔ یہ ایک ایسا ذریعہ اظہار ہے جس نے ایک خطے کے انسانوں کو دوسرے خطے کے انسانوں کے قریب کر دیا ہے۔
کتاب انسان کی بہترین دوست ہے اور کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں انسان چاہ کر بھی پڑھے بنا نہیں رہ سکتا۔ وہ ہر دم انسان کو اپنی طرف راغب اور متوجہ کرتی رہتی ہیں کہ آؤ اور مجھے پڑھو۔ کتاب اگر ایک ہی موضوع پر لکھی گئی ہو تو کچھ صفحات پڑھنے کے بعد طبیعت بوجھل ہونے لگتی ہے اور کچھ نیا اور منفرد پڑھنے کا دل کرتا ہے۔ لیکن جس کتاب کی طرف آج میں اپنے قارئین کی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہے وہ اس لحاظ سے منفرد اور دلچسپ ہے کہ اس میں انسانی زندگی سے جڑے ہوئے اہم واقعات کے بارے میں خاطر خواہ معلومات دی گئیں ہیں۔ جی ہاں! حال ہی میں بُک کارنر، جہلم، پاکستان سے شائع ہونے والی اس کتاب کا موضوع ہے۔ ”پوٹھوہار، خطہ دل ربا“ ۔ کتاب کے مصنف ملک کے مایہ ناز ادیب، کالم نگار اور استاد جناب ڈاکٹر شاہد صدیقی ہیں۔ زندگی کے مختلف ادوار میں لکھے جانے والے وسیع المطالعہ اور معلومات پر مبنی ان کالموں کی تعداد 64 ہے۔
شاہد صدیقی کا تعلق خطہ پوٹھوہار کے تاریخی شہرت کے حامل شہر راولپنڈی سے ہے۔ اُنھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم اسی شہر کے مشہور و معروف تعلیمی اداروں سے حاصل کی۔ گورڈن کالج سے ایم اے انگریزی کے امتحان پہلے درجے میں پاس کیا اور پھر کچھ عرصہ اسی کالج میں درس و تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ رہے۔ برٹش کونسل کے سکالر شپ پر برطانیہ کی یونیورسٹی آف مانچسٹر سے ایم ایڈ TESOL کیا اور انگریزی لسانیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری یونیورسٹی آف ٹورونٹو سے مکمل کی لیکن پھر بھی علم کی پیاس نہ بجھی اور اس شوق میں انھوں نے آکسفرڈ یونیورسٹی سے پوسٹ ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی حاصل کی۔
علم ایک ایسا سمندر ہے جس کی کوئی حد نہیں انسان جتنا زیادہ علم حاصل کرتا ہے شوق جنوں اور جستجو بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔ علم کا حصول جہاں انسان کے اندر ایک واضح تبدیلی کا موجب بنتا ہے وہیں وہ اسے اس بات پر مجبور بھی کرتا ہے کہ وہ حاصل شدہ علم کے خزانے سے دیگر کو بھی مستفید کرے۔ اسی مقصد کو پورا کرنے کے لیے شاہد صدیقی نے جہانِ علم کی گرد چھاننے کے بعد درس و تدریس کے شعبے کو اپنے لیے منتخب کیا اور ملک کی نامور دانش گاہوں میں اپنے فن کا بھرپور اظہار کیا۔
جس کی واضح مثال ان کی قلم میں وہ طاقت ہے جو آج اُردو زبان سے روشناس ہونے والے ہر انسان کو اس بات کی ترغیب دیتی ہے کہ وہ اُن کی کتابوں کا مطالعہ کرے اور اپنے اندر کے انسان کو باشعور بنائے۔ شاہد صدیقی کئی دہائیوں سے قومی اخبارات ”ڈان“ اور ”دی نیوز“ میں اداراتی صفحات پر لکھتے چلے آ رہے ہیں اور آج کل وہ ”روزنامہ دُنیا“ میں باقاعدگی سے کالم لکھ کر اپنے علم اور فن سے انسانیت کو مستفید کر رہے ہیں۔ اُن کی تحریروں کو پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ اُن کے پاس موضوعات کی کمی نہیں ہے لیکن چونکہ اخبار کا دائرہ محدود ہے پھر بھی انھوں نے اقساط میں اپنے کئی طویل کالم لکھ کر موضوع کو کوزے میں بند کرنے کی کوشش کی ہے۔
زیر نظر کتاب سے پہلے ڈاکٹر صاحب کے کالموں کے دو مجموعے شائع ہو چکے ہیں اور ایوان ادب کے نمائندہ ادیبوں اور حلقوں سے داد و تحسین حاصل کر چکے ہیں۔ کالموں کے اس مجموعے کی خاص بات یہ ہے کہ یہ خاص طور پر خطہ پوٹھوہار کے تناظر میں لکھے گئے ہیں اور اس میں اس خطے کے سیاسی، سماجی، تاریخی، ادبی، ثقافتی اور مذہبی پس منظر کو بیان کیا گیا ہے۔ پوٹھوہار ان کا جنم بھومی ہے جس سے انھیں عشق ہے اور یہی عشق انھیں اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ وہ قلم اٹھائیں اور اس خطے کی علمی و ادبی اہمیت اور تاریخ سے لوگوں کو روشناس کروائیں۔
اپنے اس مقصد میں وہ کامیاب و کامران ہوئے اور ادب کی دنیا میں ایک ایسی تاریخ رقم کر دی ہے جو آنے والے کالم نگاروں کے لیے ایک سنگ میل ہے جس پر چل کر وہ اپنے علاقے کی تاریخی اہمیت کے بارے میں لکھ کر اسے لوگوں کے سامنے لا سکتے ہیں۔ مصنف نے موضوعات کے حوالے سے کتاب کو سات حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ان میں ”پوٹھوہار کی آغوش میں“ ، راولپنڈی : پوٹھوہار کا جھو مر ”، راولپنڈی کے تعلیمی ادارے“ ، ”گورڈن کالج کی قوسِ قزح میں“ ، ”پوٹھوہار کی کہکشاں کے بچھڑے ستارے“ ، ”پوٹھوہار کے نیلم و مرجان“ اور ”پوٹھوہار اور تاریخ کے خزانے“ شامل ہیں۔
کتاب کے موضوعات کو دیکھ اور پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ شاہد صدیقی کو اپنے خطے اور جنم بھومی سے انتہا کا عشق ہے۔ انھیں اپنے وطن کی ہر چیز سے محبت ہے اور اسی مناسبت سے وہ اس کے متعلق ہر بات کی کھوج لگانا چاہتے ہیں۔ ہر پہلو پر بات کرتے ہیں، ہر کردار کو یاد کرتے ہیں، اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے تاریخ کے اوراق کھنگالتے ہیں۔ قدیم بازار، گلیاں، محلے، درس گاہیں، قلعے، مساجد، مزارات اور کھنڈرات وغیرہ دیکھنے جاتے ہیں۔
بیٹھے بٹھائے انھیں وہ گلیاں یاد آ جاتی ہیں جن میں ان کا خوبصورت بچپن گزرا، جن درس گاہوں میں انھوں نے تعلیم حاصل کی، جن اساتذہ نے انھوں نے کسب فیض حاصل کیا اور جن اداروں میں انھوں نے نوکری کی۔ انھیں وہ سب آج بھی اسی طرح یاد ہے جیسے کسی فلم کا کوئی سین چل رہا ہو۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ کبھی اپنے ماضی سے دور گئے ہی نہیں، ہمیشہ انھی یادوں کے سہارے اپنی زندگی گزاری ہے۔ انھوں نے زندگی میں بہت ترقی کی، جو خواب دیکھا اسے پورا کیا لیکن اپنے اصل سے دور ہٹنے کی انھیں کبھی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔
شاید یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اپنی جنم بھومی کی سر زمین میں چھپے ہوئے لازوال کرداروں کو عام آدمی کے سامنے لانے کی ٹھانی۔ ان کے اسلوب کے بارے میں بات کی جائے تو یہ سہل ممتنع کے اعلی درجے پر فائز ہوتا ہے۔ اس میں سلاست، روانی، پرکاری اور شگفتگی پائی جاتی ہے۔ بہت کم ہی ایسا دیکھا گیا ہے کہ کسی مشکل اور ثقیل لفظ کا استعمال کیا گیا ہو۔ اگر کہیں کسی اصطلاح کا استعمال ضروری ہوتو وہ ایسے سادہ الفاظ میں اسے بیان کرتے ہیں جسے بآسانی سمجھا جا سکتا ہے۔
میری رائے میں یہ خواص کے لیے نہیں بلکہ عام آدمی کے لیے لکھے گئے کالم ہیں کیونکہ ان کا واحد اور عظیم مقصد ہی یہ تھا کہ اپنی ہزار ہا سال تاریخی حیثیت رکھنے والی سرزمین کو اپنے لوگوں سے متعارف کرواؤں۔ موضوع کے ساتھ انصاف تب ہی ہو سکتا ہے جب اس کے ہر پہلو پر لکھا جائے اور اس کے بارے میں ہر وہ معلومات فراہم کی جائے جس کی عدم موجودگی کی وجہ سے قاری کے اندر تشنگی باقی رہے۔ راولپنڈی کے کوچہ و بازار، قدیم بستیوں، حویلیوں، محلات، قدیم قلعوں، درس گاہوں سے ہوتے ہوئے وہ قدیم ٹیکسلا کی بدھ یونیورسٹی، کٹاس راج مندر، سلطان سارنگ، سردار شیر باز خان عباسی، قلعہ روہتاس، قلعہ روات، اٹک اکبری قلعہ اور کھیوڑہ نمک کے بارے میں تاریخی، سیاسی، ثقافتی حقائق بیان کرتے ہیں۔ جب وہ پوٹھوہار کے کسی گاؤں سے گزرتے ہیں تو انھیں میاں محمد بخش کی آواز ضرور سنائی دیتی ہے وہی میاں محمد بخش جن کی لکھی ہوئی سیف الملوک آج بھی اسی خطہ کے ہر مرد و زن کی زبان پر عام ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ گاؤں کے چوپالوں میں اب بھی اکثر اوقات سیف الملوک کی ان اشعار کی گونج سنائی دیتی ہے۔
سدا نہ باغیں بلبل بولے، سدا نہ باغ بہاراں
سدا نہ ما پے، حُسن جوانی، سدا نہ صحبت یاراں
تصوف کے میدان کے بادشاہ بابا فضل کلیامی، اُردو زبان کے پہلے شاعر شاہ مراد، ملک پاکستان کی مقدس سر زمین کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جان نچھاور کرنے والے سنگھوری کے کیپٹن سرور شہید، شاعر باقی صدیقی، اُردو زبان و ادب کے نامور ادیب فتح محمد ملک، مشہور افسانہ نگار رشید امجد، شاہد حمید، اور ہندوستانی فلمی دنیا کے نامور ستارے اور ہیروز بل راج ساہنی، مدن موہن، گلزار، سنیل دت، مینا کماری، شلیندر اور آنند بخشی وغیرہ کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتے ہیں۔
یہ ایسے کردار ہیں جنھوں نے زندگی کے مختلف میدانوں میں اپنے فن و ہنر کے جوہر دکھائے لیکن مصنف جس طرف قاری کی توجہ دلانا چاہتے ہیں وہ ان کرداروں کا تعلق ہے جو خطہ پوٹھوہار سے ہے۔ زندگی کے گورکھ دھندے کو سلجھاتے سلجھاتے یہ لوگ اپنے وطن سے دور ہو گئے لیکن پھر بھی انھیں اپنی جنم بھومی کی یاد ہر دم ستاتی ہے اور وہ اپنی جائے پیدائش کو دیکھنے کی تمنا دل میں لیے ہوئے کسی مسیحا کی تلاش میں ہیں جو انھیں وہاں لے جائے۔ فلمی دنیا کے مشہور و معروف گیت نگار گلزار کی کہانی دیکھ لیجیے کہ وہ کیسے اپنے ملک دینہ کے لیے پریشان ہیں۔ دینہ کے کھیت کھلیان، درخت، پھول، گلیاں انھیں آج بھی اپنی طرف بلاتی ہیں۔ اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ
نظر میں رہتے ہو جب جب نظر نہیں آتے
یہ سُر تمھیں بلاتے ہیں جب تم اِدھر نہیں آتے ہو
جب وہ تقسیم ہندوستان کے کافی عرصے بعد اپنے دینہ کو دیکھنے کے بعد واپس جا رہے ہوتے ہیں تو ان کی زبان سے بے اختیار یہ الفاظ نکلتے ہیں :
تمھیں میں لے گیا تھا سرحدوں کے پار دینہ میں
تمھیں وہ گھر دکھایا تھا جہاں پیدا ہوا تھا میں
جہاں چھت پر لگا سریوں کا جنگلا دھوپ سے دن بھر
میرے آنگن میں شطرنجی بناتا تھا مٹاتا تھا
دکھائی تھیں تمھیں وہ کھیتیاں سرسوں کی دینے میں
کہ جس کے پیلے پیلے پھول تم کو خواب میں کچے کھلائے تھے
مگر یہ صرف خوابوں میں ہی ممکن ہے
شاہد صدیقی اپنے خطہ پوٹھوہار کی تاریخ کو داستان کی صورت بیان کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس خطے نے زمانے کے کئی نشیب و فراز دیکھے، کیسے بیرونی حملہ آوروں نے اسے لوٹا اور اس کے رہنے والوں پر ظلم و ستم ڈھائے، لیکن اس سرزمین کے باسیوں نے اپنی آزادی اور خود داری پر کبھی بھی حرف نہ آنے دیا اور سلطان شہاب الدین غوری، شیر شاہ سوری اور دیگر تاریخ کے نامور سپہ سالاروں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے۔ اپنی جانیں اپنی مٹی پر قربان کر دیں لیکن سر نہیں جھکایا۔ ان سر فروشوں میں سلطان سارنگ کا کردار اپنے اندر ایک طلسماتی رنگ و آہنگ رکھتا ہے۔
بنیادی طور پر یہ کتاب شاہد صدیقی کے کالموں کا مجموعہ ہے۔ اس کی دیگر خوبیوں کے علاوہ اگر اسے کالم نگاری کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کی انفرادیت روزمرہ کے اخبارات میں عمومی موضوعات پر لکھے گئے کالموں سے یکسر جدا ہے۔ ان کالموں کے مجموعے کو پڑھ کر انسان کے اندر ایک نئی روح اور ولولہ جاگتا ہے اور وہ حیران ہو جاتا ہے کہ خطہ پوٹھوہار کتنا مردم خیز خطہ ہے۔ جس نے اتنے خوبصورت انسان پیدا کیے جنھوں نے زندگی کے ہر میدان میں اپنے علم و فن و ہنر کے جھنڈے گاڑے لیکن وہ تاریخ کے دھندلکے میں کہیں کھو سے گئے تھے۔ شاہد صدیقی نے اپنی مٹی کا قرض اتار دیا اور اپنے خطے کی علمی، ادبی، سیاسی، ثقافتی، مذہبی اور معاشرتی تاریخ کوایک نئے انداز اور اسلوب میں بیان کیا جس سے اس علاقے کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔


