15 فروری مرزا اسد اللہ خاں غالب کا یوم وفات


muhammad salim gujranwala

آج اردو اور فارسی کے عظیم شاعر، نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا نوشہ اسداللہ خان غالب نظام بہادر جنگ کا یوم وفات ہے۔ آپ 27 دسمبر 1797 ء کو کالا محل، آگرہ ریاست بھرت پور میں پیدا ہوئے۔ آبا کا پیشہ سپاہ گری تھا۔ 19 ویں صدی بلا شبہ مرزا اسداللہ خان غالب کی شاعری کی ہے۔ عہد شاعری کے اعتبار سے اٹھارہویں صدی میر تقی میر کی تھی اور بیسویں صدی اقبال کی تھی۔

غالب کے والد کا نام مرزا عبد اللہ بیگ خان اور ان کی والدہ کا نام عزت النساء تھا وہ تیموری اور سمر قندی نسل کے مغل تھے۔

1810 میں غالب کی شادی ان کی چچا زاد امراؤ بیگم سے ہوئی۔ ان کے ہاں پے درپے سات بچے پیدا ہوئے لیکن کوئی بھی پندرہ ماہ سے زیادہ زندہ نہ رہ سکا۔

غالب اور ان کے اہل خانہ کے لیے انگریز حکومت نے دس ہزار روپے کی پینشن منظور کی تھی جو بعد ازاں کم کر کے پانچ ہزار کر دی گئی۔ غدر دہلی کے دوران غالب کی پینشن بند کر دی گئی جس کو جاری کروانے کے لیے غالب نے بہت جتن کئیے اور کلکتے تک سفر بھی کیا۔

غالب کی زندگی اور ان کی شاعری پر اس وقت کے حالات و واقعات نے بہت اثر ڈالا۔ ان کے خطوط اور دیگر حالات زندگی سے ان کے ابتر معاشی حالات اور زندگی کی دوسری مشکلات کا بخوبی علم ہوتا ہے۔ کئی خطوط میں انہوں نے اپنے مکان کی شکستہ حالی کا بھی ذکر کیا ہے۔

سات بچوں کی اوائل زندگی میں وفات نے بھی ان کی زندگی اور شاعری پر بہت اثر ڈالا۔

مرزا غالب کو ناشتے میں باداموں کی سردائی بہت مرغوب تھی۔ بکرے، مرغ اور بٹیر کا گوشت بھی ان کی مرغوب غذا تھا۔ پھلوں میں آم ان کا پسندیدہ پھل تھا۔ آم کے متعلق ان سے منسوب بہت سے واقعات مشہور ہیں۔ آموں کے موسم میں وہ دہلی سے باہر جانا پسند نہیں کرتے تھے۔

غالب کی زندگی اور شاعری پر بہت سی فلمیں اور ڈرامے تخلیق کیے گئے ہیں۔ ان کی کتب شاعری کی بہت سی شرحیں بھی لکھی گئی ہیں۔ ان کی غزلیات کو بہت سے مشہور گلوکاروں نے خوب گایا ہے۔

ابن مریم ہوا کرے کوئی، نگہت اکبر نے گائی
تسکین کو ہم نہ روئیں اگر ذوق نظر ملے، عارفہ صدیقی نے
آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے، عارفہ صدیقی نے
جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں، ناہید اختر نے
وہ آ کے خواب میں تسکین اضطراب تو دے، استاد برکت علی خان نے گائی۔
مشہور پی ٹی وی پیش کار فرخ بشیر نے کلام غالب کو نگہت اکبر اور عارفہ صدیقی کی آوازوں میں بہت خوب گوایا۔

غالب کی شاعری کے ساتھ ساتھ ان کے لکھے ہوئے خطوط بھی اردو ادب کا ایک قیمتی اور کلاسیکی اثاثہ ہیں۔ خطوط غالب مرزا کے حالات و واقعات اور اس زمانے کی تاریخ کے گواہ ہیں جن کا اندازِ بیان بہت موثر اور دلنشین ہے جو آج تک کوئی نہ لکھ سکا۔ غالب کے خطوط کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ خط میں باتیں کرتے نظر آتے ہیں اور واقعات ایسے پیش کرتے ہیں کہ سارا منظر آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے ہے۔ وہ خط کے مضمون میں کہیں نہ کہیں سے رنگ ظرافت بھی نکال لیتے ہیں جو خط کو زود ہضم بنا دیتا ہے۔

اسد اللہ خان غالب نے پوری زندگی میں آقائے دو جہاں ﷺ کی مدحت میں ایک فارسی نعت لکھی اور قلم توڑ دیا۔
غالب ثنائے خواجہ بہ یزداں گزاشتیم
کاں ذات پاک مرتبہ دان محمد است

مرزا غالب کے چند اشعار
مجال ترک محبت تو ایک بار نہ ہوئی
خیال ترک محبت تو بار بار آیا
تھی خبر گرم کہ غالب کے اڑیں گے پرزے
دیکھنے ہم بھی گئے تھے پھر تماشا نہ ہوا
نہ لڑنا ناصح سے غالب، کیا ہو اگر اس نے شدت کی
ہمارا بھی تو آخر زور چلتا ہے گریباں پر
باد نسیم آج بہت مشک بار ہے
شاید ہوا کے رخ پہ کھلی زلف یار ہے۔
زندگی اتنی بھی غنیمت نہیں جس کے لیے
عہد کم ظرف کی ہر بات گوارا کر لیں

1968 میں مرزا غالب کی طبیعت خراب ہونا شروع ہوئی۔ حکمائے دہلی نے دماغی فالج کی تشخیص کی اور آج کے دن 15 فروری 1869 کو اردو اور فارسی زبان کے اس عظیم شاعر نے گلی قاسم جان دہلی میں زندگی کی آخری سانسیں پوری کیں۔ اگلے برس 4 فروری 1870 کو ان کی اہلیہ امراؤ بیگم کا بھی انتقال ہو گیا۔

Facebook Comments HS