پاک افغان تعلقات، معاشی مسائل اور قبائلی علاقہ جات
افغان امور ایک پیچیدہ موضوع رہا ہے اور ہے بھی اس پر اکثر یک طرفہ اور متعصبانہ رائے قائم کی جاتی رہی ہے درحقیقت ریاستیں اپنے اپنے مفادات کے لیے عوامی خواہشات اور حقائ سے پردہ پوشی بھی کرتی ہیں۔
میں خود چونکہ محسود ڈسٹرکٹ جنوبی وزیرستان کے قبائلی علاقے سے تعلق رکھتا ہوں اور افغان مہاجرین کے ساتھ کراچی میں ایک ہی محلے میں کئی برس ساتھ رہنے کی وجہ سے ان کی مشکلات اور مسائل کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقعہ ملا اس لئے جس طرح سے میں نے ان تمام سیاسی، تاریخی اور جغرافیائی مسائل کو سمجھا ویسے ہی تحریر کر دیا۔
موجودہ آزاد کشمیر انھی قبائلیوں کی وجہ آزاد ہوا ہے لیکن مجھے نہیں معلوم آزاد کشمیر کی حکومت سے آج تک قبائلیوں کو کوئی فائدہ ملا ہو (معاشی، تعلیمی یا کوئی سہولت) لیکن سیاسی اور جغرافیائی وجوہات کی بنیاد پر ڈیورنڈ لائن کھنچ دی گئی، اسی طرح روسی یلغار کے پسپا ہونے کے بعد وسطی ایشیائی ریاستوں کو بھی افغانوں کے خون کی قربانی کے سبب آزادی ملی مگر بدلے میں وہاں سے کیا ملا؟ یہ سوال میرے اکثر افغان دوست اٹھاتے ہیں اور یہ کہانی شاید آپ کو ان میں سے کسی بھی ملک کی سوشل اسٹڈیز میں نہیں ملے گی۔
نئی اکلوتی سپر پاور امریکہ بھی اپنے سب ناٹو و نان ناٹو اتحادیوں کے ساتھ ان دہشت گردوں سے نمٹنے میدان میں اتری جو خود ان کی پیداوار تھے اور کسی زمانے میں آزادی کے ہیروز تھے۔ کہانی وہیں پرانی تھی بس دشمن اور نظریات کا فرق تھا ”کہ امریکہ اور جدید دنیا کو طالبان کے سیاسی و مذہبی نظریات سے خطرہ تھا“ ، اٹھارہ انیس برس کی اس جنگ کے بعد بالآخر واپسی کا فیصلہ ہوا۔
2018 کے بعد پاکستان میں بدلتی ہوئی سیاسی ہلچل، افغانستان سے امریکی انخلا کی کوششوں اور پاکستان کے اندرونی سیکورٹی کو درپیش چیلنجز کو نا اہل قیادت کے ساتھ ہمیشہ کی طرح غلط اندازوں سے نپٹنے کی کوشش کی گئی جس کے اثرات آج پاکستان اور افغانستان کے عوام کی دگرگوں معاشی صورتحال کو دیکھ کر ہوتا ہے۔
پاکستان ایک نئی ریاست ہے بلکہ اسے ہندوستان افغانستان بلوچستان کے بیچ سے نکال کر تراشہ گیا، اس طرح کے ممالک اکثر سیکورٹی اسٹیٹس ہوتی ہیں جن کی ضرورت کسی خاص مقاصد کا حصول ہوتا ہے باقی اسٹیٹ اپنے سرکاری وجود کی ترجمانی اور تشریح خود کرتی ہے چاہے وہ کسی کو قبول یہ نامنظور ہو۔
ماضی قریب میں بنگال کی سبق آموز داستان کے بعد بھی آج بلوچستان، پشتون قبائلی آپریشن اور تتر بتر سیاسی مشنری اور ناقص معاشی پالیسیاں کا تسلسل عوام کا مسلسل صبر آزما رہا ہے۔
آتے ہیں پہلے مسئلے کی طرف پاک افغان تعلقات یہ پہلا مسئلہ پہلے ہی دن شروع ہو گیا تھا جب پاکستان کا وجود دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا بنیادی وجہ ڈیورنڈ لائن کا معاہدہ تھا جو افغان حکومت اور برطانیہ کے بیچ تھا اس لیے اس جگہ کو کسی اور فریق کے حوالے کرنے پر اختلافات تو پیدا ہونے تھے اور گریٹ گیم کی بنیادی ضرورت بفر اسٹیٹ تھی اس مسئلے کا حل اتنا سادہ نہیں جتنا پاکستانی اور افغان اذہان سوچتے ہیں۔
دوسرا بنیادی مسئلہ معاشی پالیسی ہے اگر تمام اختلافات کہ باوجود ڈیورنڈ لائن پر تجارتی تعلیمی اور انسانی صحت کے معاملے پر آمد و رفت کو چھوٹ ہوتی تو کم سے کم معاشی پہیہ چلتا رہتا اور عوام ایک دوسرے کہ قریب رہتے، مگر ہماری سرکار نے سیاسی اور علاقائی اختلاف کی وجہ سے جس طرح افغان مہاجرین کو تنگ کر کے نکالا تاکہ افغان حکومت پر دباؤ ڈالا جائے اس سے وہ افغان شہری بھی واپس چلے گئے اور باقی ماندہ بھی چلے جائیں گے جن کے رشتے دار یورپ اور امریکہ سے ایک خطیر رقم رمینٹنس کے ذریعے پاکستان کو منتقل کرتے تھے اور ہیں۔ افغان عوام کی پر وقار واپسی سب کے مفاد میں ہے مگر اس طرح سے نہیں ہونی چاہیے کہ جاتے جاتے دونوں ملکوں کے عوام اس کی قیمت ادا کرتے رہیں ایک دوسرے سے نفرت کی صورت میں، دونوں ملک اور اس خطے کے باسی مذہبی اور تاریخی رشتوں سے جڑے ہوئے ہیں اس لیے اس تعلق کو اس طرح سے پامال نہیں کیا جانا چاہیے۔
ایک اندازے کے مطابق پاکستان اپنی مصنوعات سے سو ارب تک کی افغانستان کو ایکسپورٹ کر سکتا ہے اور افغانستان بھی تیس سے پچاس ارب کی مصنوعات پاکستان کو ایکسپورٹ کر سکتا ہے اور دو طرفہ تجارتی حجم ایک اندازے کے مطابق پانچ کھرب تک پہنچ سکتا ہے جس کی بنیادی وجہ ہندوستان سے لے کر وسطی ایشیا کا روٹ ہے، لیکن معاشی سرگرمیوں کو کمزور کیا گیا اور پچھلے سال کے اعداد و شمار کے مطابق ٹرانزٹ ٹریڈ میں ٪ 59 فیصد کمی دیکھی گئی اور دو طرفہ تجارت میں 12 فیصد کمی ہوئی ( 2023۔ 24 ) ۔
آج عرض یہ کرنا تھا کہ پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنے کے لئے کم از کم بارڈر کو نہیں بند کرنا چاہیے تھا اس کی شروعات پاکستان کی طرف یا افغانستان کی طرف سے ہوئیں ہوں مجھے صحیح اندازہ تو نہیں مگر شکایات پاکستان سے کی جاتی رہیں ہیں کہ سرکار کا جب جی چاہا افغان بارڈر بند کر دیا گیا اس سے افغانستان کے تاجروں کا ٹھیک ٹھاک نقصان ہوا اور ان تاجروں کا اعتماد پاکستانی حکومت پر سے مکمل اٹھ گیا جس کے نتیجے میں انھوں نے متبادل راستے ڈھونڈنے شروع کر دیے اور اب ان کی تجارتی سرگرمیاں چین سے ڈائریکٹ اور ہندوستان سے بذریعہ ایران راہدری ہو رہی ہیں۔ سی پیک اور واخان کوریڈور اور ایم ایل ون کو پاکستان اچھے طریقے سے کیش کر سکتا تھا اور اس سے خطے کہ تمام ملکوں کو زبردست فائدہ ہوتا بقول علامہ اقبال افغانستان ایشیا کا دل ہے اور واقعی وسطی ایشیا تک رسائی افغانستان کے بغیر ناممکن ہے۔
تیسرا اہم مسئلہ قبائلی آپریشن یعنی آزاد قبائلی علاقہ جات (ان کو آزاد اس لئے کہا جاتا تھا کہ یہ بظاہر برٹش انڈیا کے نقشے میں ڈیورنڈ لائن کے معاہدے کی وجہ سے آ گئے مگر یہاں برٹش راج کی نہیں چلتی تھی یہاں کے افغان قبائل نے اپنی آزادی برقرار رکھی ہوئی تھی اس لئے ان کا الحاق آزاد قبائل کی شناخت پر ہوا اور پاکستانی حکومت کو بھی ان کے اپنے قبائلی قوانین کی مطابق رہنے پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔
9/ 11 کی تباہ کاریوں میں سب سے زیادہ نقصان قبائلی علاقے کا ہوا اور آج تک وہاں آباد کاری اور امن امان کا مسئلہ ہے، پشتون پروفائلنگ بطور دہشت گرد کی گئی ڈھیر سارے جعلی انکاؤنٹر ہوئے قبائلیوں کی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔
جنوبی وزیرستان سب سے زیادہ متاثر ہوا اور حالت یہ ہے کہ آج تک اکثریت لوگوں کو ان کے تباہ شدہ گھروں کا معاوضہ بھی نہیں ملا جو بے گناہ لوگ معذور ہوئے یا اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، یتیم۔ بیوائیں ان کی تعداد یقیناً ہوشربا ہوگی اور ان متاثرین کو کوئی مالی مدد بھی نہیں ملی۔ مجھے نہیں پتا کہ آج سے پچیس تیس سال بعد جب ان واقعات کی منظم تفصیلات شائع یا معلوم ہوں گی اس وقت لوگ کیسا ردعمل دیں گے۔
چونکہ پاکستان پر یہ الزام اور اعتراض نہ صرف پڑوسیوں کی طرف سے لگتا رہا ہے بلکہ خود حکومتی زعما بھی کئی موقعوں پر برملا اعتراف کر چکے ہیں کہ افغانستان میں پاکستانی مداخلت رہی ہے، تو پھر جب پڑوسیوں کے داخلی مسائل میں غیر ضروری دخل اندازی ہوگی تو پھر پڑوسی بھی اینٹ کا جواب پتھر سے ہی دیں گے اس لئے آج ڈیورنڈ لائن کے دونوں طرف حالات درست نہیں ہیں۔
ایک طرف دونوں ملکوں کی طرف سے سفارتی تعلقات میں شدید سرد مہری دیکھنے میں آ رہی ہے تو دوسری طرف چند ماہ میں پاکستان کی طرف سے دو بار سرحد پار فضائی حملے ہوئے اور مبینہ طور پر ٹی ٹی پی کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا مگر اسی طرح دوسری طرف سے داعش پر حملے کا جواز اور ڈیورنڈ لائن پر زمینی تنازعے بیان کیے گئے، اس طرح خطے کی صورتحال سے بہت دوسرے ممالک اپنا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
اسی لئے ان حالات میں پاکستان میں رہنے والے پشتون اور بلوچوں کو ان کے جائز حقوق سے محروم رکھنا اور ان کے مطالبات کو اہمیت نہ دینا اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم بھی ایک سنگین صورتحال بنا رہی ہے۔
ڈیورنڈ لائن کے مسئلے پر ہر نئی کابل انتظامیہ کے ساتھ ہمیشہ جلد بازی دکھائی جاتی رہی حالانکہ اس موضوع کو کچھ عرصے کہ لئے فریز کر کے آگے بڑھا جاسکتا تھا اور اس مسئلے کا حل افغانستان یا پاکستان کی پشتون قوم یا ان کے حکمران کسی پریشر اور دباؤ کے ذریعے نہیں کر سکتے جو بھی کرے گا اس کو کوئی مانے گا نہیں، اس طرح سے جیسے اسلام آباد میں یا کابل میں لوگ سوچتے ہیں۔
اس مسئلے پر دونوں طرف کے پشتون اتنا نقصان اٹھا چکے ہیں کہ اب وہ پیچھے بھی نہیں ہٹیں گے، اس لئے آگے بڑھ کر تجارت کے ذریعے دونوں ملک قریب آ جائیں تو کم از کم عوامی دوری تو کم ہوگی، اب بھی دیر نہیں ہوئی ہے پاکستان کو آگے بڑھ کر پہل کرنی ہوگی جس سے معاشی پہیہ جلے گا۔ یہ سیاسی مسئلے تو چلتے رہیں گے۔
ٹی ٹی پی یا دیگر مسائل پر اگر ہم افغانستان کو دھمکا کر یا ان سے لڑ کر کچھ حاصل کر سکتے ہیں تو یہ ہماری سرکار کی غلطی ہوگی افغانستان تباہی دیکھ چکا ہے وہ بھگت لیں گے کیا ہماری کمزور معیشت اور اخلاقی کردار یہ سب برداشت کر لے گا؟ ناراض لوگوں کی ناراضگی ایسے ختم نہیں ہوگی اس کے لیے وہ تمام عوامل ختم کرنے ہوں گے جو ناراضگی کا سبب بنے اور کسی نئے عمرانی معاہدے سے رجوع کرنا پڑے گا۔


