ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات!
ٹرمپ کے پچھلا دور اقتدار خاصا ہنگامہ خیز تھا۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ سے چپقلش کے بعد لگتا نہیں تھا وہ موصوف دوبارہ کبھی امریکہ کے صدر بن سکیں گے۔ لیکن بہرحال وہ اب امریکہ کے صدر بن چکے ہیں۔ اپنی افتاد طبع کے باعث ان سے توقع یہی ہے کہ وہ اپنا یہ والا دور پچھلے دور سے زیادہ ہیجان خیز بنائیں گے۔ طاقت کا غلط استعمال کیا جائے گا اور کوئی روک نہیں سکے گا۔
اقتدار سنبھالنے کے بعد ٹرمپ نے جو اعلانات کیے ان میں سے غزہ کے حوالے سے بیان خاصا چونکا دینے والا ہے لیکن شاید غیر متوقع نہیں۔ ہر امریکی صدر اسرائیلی مفادات کا تحفظ کرنا اپنا اولین فریضہ سمجھتا آیا ہے۔ ٹرمپ نے چند قدم آگے بڑھ کر اسرائیل کی ”درد سری“ کو مستقل طور پر ختم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے اور غزہ کو امریکی بلکہ دوسرے لفظوں میں اسرائیلی تحویل میں دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ ٹرمپ کے منصوبے کے مطابق غزہ کی عوام کو دوسرے ممالک میں بسایا جائے گا۔
یہ منصوبہ پیش کرتے وقت غزہ کی عوام کی رائے تک لینا گوارا نہ کی گئی۔ کیسا گھناؤنا منصوبہ ہے کہ ایک غاصب صہیونی گروہ کو خوش کرنے کے لیے اس شہر کے اصل باشندوں کو ان کے شہر سے دربدر کر دیا جائے گا! ٹرمپ کے اس منصوبے کی مخالفت میں مسلم ممالک سے منحنی سے صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔ مسلم ممالک اس منصوبے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ خود کو مسلم دنیا کا اکلوتا لیڈر قرار دینے والا اور امریکی مفادات کی دل و جان سے حفاظت کرنے والا عرب ملک بھی اس منصوبے کی ”شدید“ مخالفت کر رہا ہے۔ یہ ”اکلوتا لیڈر“ ان ممالک میں سے ہے جو دفاع تک کے لیے امریکہ کا محتاج ہے۔ یہ کتنی دیر تک ٹرمپ کے منصوبے کی مخالفت کرسکے گا؟ ”بے بس و لاچار“ مسلم ممالک کی مخالفت کس حد تک کارگر ہوگی؟ اس کا جواب ایک پرائمری کا طالب علم بھی دے سکتا ہے۔ یہ محض ٹوٹی پھوٹی صدائیں ہیں جو ہوا میں تحلیل ہوجاتی ہیں اور سنی بھی نہیں جاتیں۔ اگر سنی بھی جائیں تو پرواہ نہیں کی جاتی۔ ہونا وہی ہے جو ٹرمپ نے اور امریکہ کی گردن پر سوار صہیونیوں نے چاہنا ہے۔ ہمیں حسب عادت سر خم تسلیم کرنا ہو گا۔ انکار کی نہ جرات ہے اور نہ گنجائش۔ ہم ہر میدان میں ان کے محتاج ہیں۔ صدیوں سے غفلت میں پڑے رہنے کی سزا ہم بھگتتے آرہے ہیں۔ اس بار بھی بھگتنی پڑے گی۔
ہم اپنے بچوں کو یہود و نصاریٰ کے گٹھ جوڑ کے بارے کہانیاں سناتے جوان کرتے ہیں لیکن ہم انہیں اپنی حماقتوں کے بارے کچھ نہیں بتاتے۔ اپنی بربادی کے ہم خود زیادہ ذمہ دار ہیں۔ مغرب نشاۃ ثانیہ کے بعد ایسا سنبھلا کہ اس نے اپنی سمتیں درست کر لیں۔ اس نے اپنی ترجیحات متعین کر لیں اور ان کے حصول کے لیے سرپٹ دوڑنا شروع کر دیا۔ تعلیم کے اہداف مقرر کیے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا۔ سوچنا شروع کیا۔
اپنے لوگوں کو زبانیں دیں۔ سیاست کے میدان میں عوام کا داخلہ یقینی بنایا۔ لوگوں کو اپنے حقوق کے لیے لڑنا سکھایا۔ جمہوریت کے قوانین واضح کیے۔ اپنی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے قوانین بنائے۔ اپنے لوگوں پر سب سے بڑا احسان سائنس و ٹیکنالوجی کے دروازے کھول کر کیا۔ دوسری طرف ہم نے کیا کیا؟ بدقسمتی سے ہم پر نشاۃ ثانیہ کا دور کبھی آیا ہی نہیں۔ ہمیں اقتدار کی خاطر لڑتے رہنے والے حکمران ملتے رہے۔ کئی خاندان برسر اقتدار آتے رہے۔
سب کا منشا اپنے اقتدار کو قیامت تک یقینی بنانا ہوتا تھا۔ عوام کی اہمیت ان حکمرانوں کے نزدیک ایک پرکاہ کے برابر بھی کبھی نہیں رہی۔ تعلیم کو بالخصوص سائنس و ٹیکنالوجی کو یکسر نظر انداز کیے رکھا گیا۔ بلکہ سائنسی مضامین کی تدریس کبھی شروع ہی نہیں کی گئی۔ آج بھی ہر مسلمان ملک میں ایسے حکمران مسلط ہیں جو اکثر غیر جمہوری ہیں۔ مقصد آج بھی اقتدار کی حفاظت ہے۔ اور اقتدار کی حفاظت کے لیے مغرب کی غیر مشروط اطاعت کرنا ہے۔
سائنسی حوالے سے ہمارے پاس چند نام ہیں جو ہم اپنی تدریسی کتابوں میں پڑھاتے ہیں اور فخر سے کہتے ہیں کہ ہم نے مغرب کو سکھایا۔ سوال یہ ہے کہ مغرب کو تو سکھایا لیکن خود کیوں اپنے اسلاف سے نہیں سیکھا؟ ہمیں جن گھوڑوں کو تیار رکھنے کا کہا گیا تھا وہ آج کے دور میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے سوا اور کچھ نہیں۔ لیکن اس میدان میں ہماری کارکردگی شرمناک ہے۔ سالانہ کتنے سائنسدان ہم تیار کرتے ہیں؟ کتنی ایجادات ہمارے نام سے منسوب ہیں؟
کتنے ستاروں پر ہم کمند ڈال چکے ہیں؟ صدیوں پرانے ناموں کے علاوہ کوئی اور نام ہمارے پاس ہے؟ کوئی ایسا سائنسی شعبہ ہے جہاں ہمارے نام کے جھنڈے لہرا رہے ہیں؟ مسلمان ملکوں میں کوئی ایسی یونیورسٹی ہے جو مغرب کی یونیورسٹیوں کے پائے کی ہو؟ ہم ابابیلوں کے انتظار میں بیٹھے ہیں یا دعا کے ذریعے دشمنوں کی توپوں میں کیڑے ڈالنا چاہتے ہیں۔ صہیونی اور ان کے محافظ دولت کے بل بوتے پر نہیں بلکہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے بل بوتے پر ہمیں روند رہے ہیں۔
ان کے ڈرون آتے ہیں، ہم ہٹ کرتے ہیں اور لاشوں کے انبار لگا کر بحفاظت واپس چلے جاتے ہیں۔ اسماعیل ہنیہ کی شہادت ہو یا پیجرز کے ذریعے لبنان میں ان گنت لوگوں کی شہادت، یہ سب ٹیکنالوجی کے بل بوتے پر ہوا ہے۔ ہمارے پاس مقابلے کے لیے کیا ہے؟ کیا ہم ٹیکنالوجی کے میدان میں ان کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں کر سکتے اور کرنا چاہتے بھی نہیں۔ دیکھیے گا کہ ٹرمپ غزہ چھین لے گا اور ہم کچھ بھی نہیں کرسکیں گے۔ کیونکہ ہم ذہنی طور پر شکست خوردہ ہیں۔ ہم زیادہ سے زیادہ بد دعا دے سکتے ہیں لیکن مقابلہ کرنے کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنی کمی کوتاہی کو دور نہیں کر سکتے کیونکہ بددعا دینا آسان ہے۔ ہم جرم ضعیفی میں مبتلا ہے جس کی سزا مرگ مفاجات کے سوا کچھ نہیں۔ آج غزہ خالی کیا جائے گا تو کل نجانے کس کی باری آئے گی!

