صحافتی اظہار کو ڈستا ہوا ”پیکا“ قانون
جب سماج غیر سنجیدہ اور غیر منطقی بنیاد پر تعمیر ہونے لگیں تو اس سماج کی آخری منزل غیر سیاسی اور غیر جمہوری سماجی سوچ پر مرتکز ہو کر بے ابتری اور غیر منصفانہ سماج کی بربادی پر اپنا اختتام کرتی ہے، ہمارے سماج میں اکثر غیر جمہوری رویوں کا ذکر بہت فراخدلی کے ساتھ کیا جاتا ہے اور ملک کے سیاسی فیصلے جب آمرانہ انداز سے ہونے لگتے ہیں تو جمہوریت کو تاراج کرنے کا واویلا دیکھنے کو ملتا ہے، کسی حد تک جمہوری تقاضوں کی مانگ اور جمہوری سیاسی عمل کی خواہش یقیناً آمرانہ سوچ کے مقابل ایک خوش آئند اور ترقی پسند سوچ ہے جس کی کمزور سے کمزور شکل بھی آمرانہ طرز فکر سے بہت بہتر ہے اور یہ سوچ ایک جمہوری سماج کے قیام کے لئے نیک شگون بھی ہے، مگر کیا ہم جمہوریت کی تفہیم اپنے خیالات کی بنیاد پر تعمیر کر رہے ہیں یا کریں گے یا جمہوری رویوں کی اصل روح اور عمل میں اسے دیکھیں گے۔
یہ ایک ایسا سوال ہے جو صدیوں سے مختلف اشکال میں حل کیے جانے کی کوشش میں اب تک مکمل طور سے کامیاب نہیں ہو پایا ہے، جمہوریت کی تفہیم کے سلسلے میں اس گمبھیر صورتحال کو سمجھنے اور اس میں نظر آنے والی کمزوریوں کی لا تعداد وجوہات بیان کی جا سکتی ہیں مگر سر دست پاکستان کے موجودہ سیاسی انتشار میں جمہوریت کے متعلق واضح طور پر تین وجوہات ابھر کر ہمارے سامنے ہیں، پہلی جمہوریت کی تفہیم سے لا علمی دوسری مکمل جمہوری و عملی انسانی رویہ اور تیسری کہ کیا دنیا میں کہیں بھی جمہوریت ریاستی امور میں کوئی حیثیت رکھتی ہے؟
سب سے پہلے ہمیں اس ابہام سے نکلنا ہو گا کہ دنیا میں سرمایہ دارانہ معیشت کے ہوتے ہوئے مکمل جمہوری و انسانی حقوق ایک عام فرد کو مل سکتے ہیں؟ یا کہ یہ جمہوری حقوق جدید ترین ترقی یافتہ ممالک میں عوام کو میسر ہیں یا مکمل طور سے دنیا کی کوئی ریاست ”جمہوری تقاضوں“ پر کھڑی ہو کر اپنے عوام کو کیا مکمل جمہوری آزادی دیے ہوئے ہے؟
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہر دور کے انسان نے جبر اور استبداد کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی مضبوط منڈلیاں قائم کر کے ہی کچھ حقوق حاصل کیے ہیں جن کو بہت خوبصورتی سے سرمایہ دارانہ جبر نے جمہوریت کے کپڑے پہنا کر دوسری جانب سے ریاستی قوانین کے ذریعے عوام کے حقوق صلب کرنے کے طریقے ڈھونڈ لئے ہیں، جس میں دھوکہ دہی کے لئے پارلیمان میں انہی افراد کے ذریعے قانون منظور کرا لئے جاتے ہیں جو ریاست کے قبضے کو مضبوط کرنے کا سبب ہوتے ہیں، پھر ان قوانین کی آڑ میں قومی وحدت اور ملک کی آزادانہ حیثیت کا راگ الاپ کر غیر سیاسی افراد سے پروپیگنڈے کے ذریعے ریاستی طاقت کے ساتھ بیانیہ گھڑا جاتا ہے اور پارلیمان کو عوام کے ترجمان کے طور پر لا کر ریاستی طاقت ہر وہ کام کر لیتی ہے جس سے عام فرد کے جمہوری حقوق بہت خوبصورتی سے دبا لئے جاتے ہیں، یہ کام پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک میں بہت فراخدلی کے ساتھ ہر حکمران جماعت کرتی ہے اور پھر وہی حکمران جماعت جب اپوزیشن میں تبدیل کر دی جاتی ہے تو وہ اپنے غیر جمہوری اقدامات اور پاس کردہ بل بھول کر عوام کے انسانی اور جمہوری حقوق کا راگ الاپتی ہے۔
اسی درمیان حکمرانی کے دوران رہنے والی جماعت اپنے حامی پیدا کر لیتی ہے جو بعد میں اقتدار کے چھن جانے کے بعد اپوزیشن کے جمہوری اور انسانی حقوق کے راگ کا الاپ کر کے عوام کو آزادانہ اور جمہوری سوچ کے ساتھ غور و فکر سے دور کر دیتے ہیں اور یوں ملک میں ”انتشاری گروہ“ بادی النظر میں طاقتور ریاستی گروہ کے ہاتھ مزید مضبوط کر رہا ہوتا ہے، جس کا خطرناک پہلو یہ سامنے آتا ہے کہ ریاست کا طاقتور گروہ آنے والے حکمران ٹولے کو اقتدار میں نہ رہنے کا خوف دلا کر ہر وہ اقدام کر لیتا ہے جس کی اس طاقتور گروہ کو ضرورت ہوتی ہے اور پھر حکمران جماعتیں اور اپوزیشن کی بلند بانگ دینے میں عوام کی جمہوری اور سیاسی آزادی صلب ہو کر سماج کو غیر منطقی سیاسی گروپ میں تقسیم کر دیتے ہیں جبکہ ریاست کا مخفی طاقتور گروہ سکھ کی بانسری بجاتا رہتا ہے، یہی کچھ ہمارے سماج کے ساتھ 70 دہائیوں سے ہو رہا ہے۔
آج اگر پی ٹی آئی کو ”پیکا کا قانون کالا“ نظر آ رہا ہے تو کل پی ٹی آئی کی جانب سے جب باجوہ ہائبرڈ نظام کے اشاروں پر پاکستان میڈیا اتھارٹی کا غیر جمہوری قانون لایا گیا تھا تو مسلم لیگ نون اور پی پی کو یہ قدم کالا اور غیر جمہوری لگ رہا تھا جبکہ اس وقت بھی صحافتی تنظیموں کا احتجاج صحافتی آزادی کے ماضی کے قانون پر تھا اور ملک کے صحافی یک زبان ہو کر پی ٹی آئی کے اس غیر جمہوری قانون کو روک سکے تھے، سوال یہ ہے کہ کیا ہماری صحافتی تنظیمیں ایوان کے اس گورکھ دھندے اور مذکورہ بے تکے بیانیے کی بحث سے باہر نکل کر اپنی تنظیموں میں جمہوری یکسوئی اور یکجہتی کا نظام لا پائے ہیں یا ابھی تک صحافتی تنظیمیں مذکورہ غیر جمہوری سیاسی جماعتوں اور این۔ جی او ٹک سول سوسائٹی کی مدد یا حمایت کے طالب ہیں؟
شاید یہ سوال تلخ اور وقت کے لحاظ سے نامناسب لگے مگر کیا یہ حقیقت نہیں کہ ہماری صحافتی اقدار اور صحافتی وقار صرف اس وجہ سے ریزہ ریزہ ہوا کہ ہم نے زمانے کی تبدیلیوں کے لحاظ سے اپنی تنظیموں۔ میں نئی سوچ اور فکر کے نئے زاویئے یا نکتہ نظر کو جگہ نہ دی بلکہ تنظیم کو مضبوط و یکجا رکھنے کے دکھوں اور قربانیاں دینے کے عمل سے اجتناب برتا اور گروہی مفادات کی ایک ایسی دوڑ میں پڑ گئے جس کے نتیجے میں صحافتی محنت کش دوستوں کی ممبر سازی صرف اپنے گروہ کے مفاد میں ووٹر بنانے پر صرف کی گئی۔
ہم کل کے صحافتی تناظر پر غور کریں تو صحافیوں کی مرکزی تنظیم (پی ایف یو جے) میں مختلف رائے کے باوجود یکجہتی اور قربانیوں کی ایسی مثالیں موجود ہیں جو فرد یا گروہ کے مفادات سے بالا تر تھیں، یہی صحافتی یکجہتی کی وہ درخشاں تاریخ ہے جس سے ملک کا بڑے سے بڑا آمر اور جمہوری آمر صحافتی تنظیم (پی ایف یو جے) کی جمہوری جدوجہد اور تنظیم کے یکجہتی کے اصول سے خوف زدہ رہ کر صحافت کی مذکورہ تنظیم کی حیثیت کے پیش نظر ریاستی فیصلے قانون اور ریاستی امور میں تنظیم سے مشاورت پر مجبور ہوا کرتی تھی، کیا اب بھی ریاست کے طاقتور گروہ کے نزدیک صحافتی تنظیم کی ماضی ایسی مضبوط صورتحال ہے۔
جواب اس کا نفی میں ملے گا جبکہ ہر گروہ مضبوط صحافتی تنظیم کا راگ ضرور الاپے گا مگر گروہی اور ریاستی آلہ کار ہونے کی بنا پر تنظیم کے تمام جمہوری اور تنظیمی اصول کو بالائے طاق رکھ رہا گا، گو یہ افسوسناک عمل ضرور ہے مگر ایسا بھی نہیں کہ صحافیوں کی نظریاتی تنظیم (پی ایف یو جے) کے آدرش اور اصول گروہی مفادات کو ختم نہ کر سکیں، صرف ضرورت تنظیم کے لئے جمہوری رویے اور جمہوری فکر پیدا کرنے کی ہے، یقین جانیئے صحافتی ٹریڈ یونین کی منڈلیاں بھی سجیں گی اور جمہوری و مضبوط صحافتی تنظیم جدید تقاضوں کی صحافتی بیروزگاری، حق انجمن سازی اور یگانگت کی آواز بھی بنے گی، ضرورت یہ ہے کہ قیادت کی سطح پر جمہوری رویے اور برداشت کا کلچر دوبارہ سے صحافتی تنظیم کا یک نکاتی ایجنڈا ہو، وگرنہ ریاستی جبر احتجاج کی سمت بھی تبدیل کردے گا اور طاغوت اپنی پوری مکاری سے صحافتی برادری میں مزید تقسیم بھی کرتا رہے گا۔
صحافتی ٹریڈ یونین کو منظم کرنے کے عمل میں یہ نکتہ قابل غور رہے کہ دنیا کا موجودہ عہد تمام ریاستوں کے وسائل کی لوٹ مار کے سرمایہ دارانہ طرز فکر پر چلایا جا رہا ہے، جس میں انسانی حقوق کی پامالی اور جمہوری قدروں کے تقدس کو پامال کرنے کے تمام لوازمات کو ملک کی سلامتی و بقا کے نام۔ پر جبری قانون کی شکل میں ڈھال کر مزدور حقوق اور ان کی جمہوری آزادی سمیت اظہار رائے کے حق کو صلب کرنا سرمایہ دارانہ لوٹ کھسوٹ کے نظام کی ضرورت و غایت ہے کیو۔
نکہ عوام و صحافت کے اظہار رائے کے حق کو دبائے بنا سرمایہ دارانہ معیشت اپنا حجم یا ریاستی بے حسی کے مقاصد نہیں حاصل کر سکتی، لہذا ایسی ریاستوں کے لئے ازحد ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ اظہار کی آزادی کا گلہ گھونٹ کر عوام کے شہری اور جمہوری حقوق کو پامال کریں اور سرمایہ دارانہ لوٹ کھسوٹ جاری رکھیں جس میں ”خبر“ ایسے اہم ذریعے کو عوام سے دور رکھنے کی حکمت عملی بہت اہم ہے، عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی اس اہم وجہ یا طرز فکر کو سمجھے بغیر ٹریڈ یونین کی تنظیم کاری ٹریڈ یونین کے بنیادی و نظریاتی تقاضوں کو جانے بنا نہیں کی جا سکتی۔
وقت اور حالات کے اس اہم موڑ پر ہمیں سمجھنا ہو گا کہ موجودہ دور سرمایہ دارانہ ریاستوں کے غیر جمہوری رویوں اور قانون سازی کی وجہ سے ریاستوں کی شکستگی کا دور ہے، سرمایہ دار دنیا عوام کے جمہوری و انسانی حقوق نہ دینے کی دوڑ میں عوام سے سب سے پہلے ”اظہار کا حق“ چھیننے کے مرحلے میں جدید ٹیکنالوجی کے تحت ڈجیٹل میڈیا کے آزادانہ اور غیر شائستہ اظہار اور ڈالر مافیا میڈیا سے دراصل صحافت کی ان جمہوری حقیقتوں کو ڈسنا چاہتی ہے جن سے صحافت کے شائستہ رویے عوام میں اظہار کی آزادی و شعور کی جدوجہد کو صیقل کر سکیں، لہذا اس اہم مرحلے پر صحافتی تنظیموں کو منظم ہونے کے جدید تقاضے اپنی صفوں میں جمہوری فکر کے ذریعے ڈالنے ہوں وگرنہ نہ اظہار رہے گا اور نہ اس کی آزادی کی جدوجہد، پھر ہم صرف پاکستان کی درخشاں نظریاتی صحافتی تاریخ کے گم گشتہ صفحات ہی کھنگالتے رہیں گے۔


