کیا محبت بھی پاک یا ناپاک ہوتی ہے؟


محبت کیا ہوتی ہے؟
کیا اس کی پیمائش کا کوئی پیمانہ ہوتا ہے؟
یہ کیسے پتا چلے کہ سامنے والا کس قدر ٹوٹ کر پیار کرتا ہے؟

اس طرح کئی سارے پہلو یا سوالات ذہن کی سلیٹ پر ابھرتے ہیں، سوال یہ ہے کہ جب تک ہم محبت کو ڈیفائن کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتے تو اس بات کا تعین کرنا کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ

”فلاں محبت پاک ہے اور فلاں ناپاک“ ؟

انسانی جذبات اپنی نوعیت میں تو خوبصورت ہوتے ہیں، ہاں معاشرے کے ”کیدو“ دو پیار کرنے والوں کے بیچ آ کر اس جذبے کے تقدس کو پامال کرنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں یا مورل پولیسنگ کرنے والے لٹھ لے کر پیچھے پڑ جاتے ہیں، سوال یہ ہے کہ یہ پارسان سماج محبت کے جذبے کو کچلنے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں؟

یہ تو فطرت ایک حسین سا جذبہ ہوتا ہے اور خوبصورتی اس کا جزوِ لاینفک ہے اور جو چیز یا چہرہ من کو بھاتا ہے تو انسان اٹریکشن سی محسوس کرنے لگتے ہیں، من میں پیدا ہونے والی کشش، لگن، رغبت، رجحان یا پھوٹنے والی اس خوبصورت سی لہر یا جذبے کو پیار کہتے ہیں، انسانی دل میں جنم لینے والے اس خوبصورت سے جذبے میں آگے کتنے پڑاؤ آتے ہیں کون جانے؟

ہاں کشش اور ہوس کے بیچ فرق بہرحال ضرور ہونا چاہیے، کشش تندرست ذہن کی علامت ہوتی ہے اور ہوس بیمار ذہنیت کی، المیہ یہ ہے کہ گھٹن زدہ سماج میں بیمار ذہنیت کا چلن زیادہ ہوتا ہے اسی وجہ سے محبت ایسا پیارا اور فطری جذبہ اپنے معنی کھونے لگتا ہے۔

اب رہا یہ سوال کہ یہ جذبہ خودرو ہوتا ہے یا زبردستی طاری کیا جاسکتا ہے؟

ظاہر ہے یہ خودرو قسم کا جذبہ ہوتا ہے، جو چیز بھی انسان کو بھلی لگتی ہے اس کی طرف کھچاؤ فطرتی عمل ہوتا ہے اور جو چیز من کو نہیں بھاتی بھلے انسان ہو یا چیز اس کی طرف رغبت ناممکن ہوتی ہے۔

اب من میں چلنے والی یہ اتھل پتھل جو کہ خودرو ہوتی ہے کو کسی ضابطے کا پابند بنایا جاسکتا ہے؟
کیا اس جذبے کو کسی کوڈ آف کنڈکٹ کے تابع فرمان بنایا جاسکتا ہے؟

اگر یہ سوال اتنا سادہ و سہل ہوتا تو اتنی رومانوی کہانیاں جنم نہ لیتیں، اگر محبت و پیار کا کوئی مذہب ہوتا تو اسلامک ریپبلک میں ویلنٹائن کے تہوار پر مختلف جگہوں پر سرخ پھولوں کے سٹال نہ لگے ہوتے، جماعت اسلامی والے جو نجانے کب کے یوم حیا منا رہے ہیں اس محبت بھرے دن کے آگے کب کے بند باندھ چکے ہوتے، سعودی عرب اور دیگر مذہبی ممالک اس گندے تہوار کو اپنے ممالک میں پنپنے ہی نا دیتے۔

محبت بھلا ضابطوں یا شرائط کی پابند کہاں ہوتی ہے، انسانی جذبوں کو پاک و ناپاک کے خانوں میں بانٹا نہیں جاسکتا۔

ریت رواج، رہن سہن اور طور طریقے تو مختلف ہوسکتے ہیں محبت کا جذبہ مختلف نہیں ہو سکتا ۔

Facebook Comments HS