چنن پیر کا میلہ امن کا میلہ


حضرت چنن پیر ؒ چولستان اور روہی کے بے تاج بادشاہ ہیں

میرا تعلق ریاست بہاولپور کے دارالحکومت صادق گڑھ پیلس ڈیرہ نواب صاحب سے ہے جو چولستان اور روہی کا گیٹ وے ہے۔ بچپن میں ہمارے علاقہ کی سب سے بڑی تفریح اور تہوار چنن پیر کا میلہ تھا۔ چنن پیر کے زائرین دور دراز سے مسلسل سات جمعرات وہاں جاتے ہوئے پہلا قیام یہاں پر کرتے اور پیدل، سائیکلوں، اونٹوں، اونٹ گاڑیوں اور گھوڑے تانگوں کا یہ بڑا پڑاؤ بذات خود ایک پر رونق میلے میں بدل جاتا تھا شتر بانوں کے قافلے اپنی منزل سے چل کر رات کے ملگجے اندھیروں یا نیم صبح یہاں پہنچتے تو ڈاچیوں کی گھنٹیاں اور گھوڑوں کی ٹاپیں عقیدت مندوں کی آمد کا اعلان کرتیں۔ دیہاتی مرد و خواتین رنگ برنگ لباس اور زیورات میں ملبوس یہاں پہلا پڑاؤ ڈالتے تھے یہ ٹولیاں باقاعدہ ڈھول تاشے کی تھاپ پر رقص کرتے یہاں سے گزرتے اور ہم دور تک ان کے نعروں کی آوازیں سنتے تھے۔ ہم لوگ پورے سال اس میلے کا انتظار اور تیاری کرتے تھے۔ کیونکہ اس میلے میں موٹر سائیکل، تانگوں، اونٹوں کی دوڑ بھی شامل ہوتی اور ساتھ ساتھ اونٹوں کا رقص، اونٹوں کی لڑائی اور دوڑ کے ساتھ ساتھ کبڈی، کشتی، اور مقامی کھیلوں کے مظاہرے بھی دیکھنے سے تعلق رکھتے۔

میلے کی روایتی تفریح اور خریدو فروخت کے ساتھ ساتھ چولستانی زیور، لباس، صحرائی زندگی سے وابستہ ہر سامان کی دستیابی بھی اس میلے کا ایک حسن ہے۔ یہ میلہ پانچویں جمعرات کو اپنے عروج پر پہنچ جاتا ہے۔ میلہ اب بھی ہوتا ہے مگر وہ رونق سڑکیں بننے اور تیز رفتار سواریوں کے آ جانے سے بہت کچھ بدل چکا ہے۔ اب صحرا کے ساتھ ساتھ آباد زمینیں اور سرسبز فصلیں لہلاتی نظر آتی ہیں۔ ڈیرہ نواب صاحب سے چنن پیر تک پہلے کھتڑی بنگلہ اور پھر مٹھڑا بنگلہ قیام ہوتا یہ سارا روہی چولستان کہلاتا تھا راستے میں ایک بڑا ڈاہر یعنی پلین میدانی سرزمین آتی تھی یہاں دوڑیں ہوتی تھیں۔ سب سے مشہور تانگہ دوڑ ہوتی تھی۔ جس پر بہت بڑی بڑی شرطیں لگتی تھیں۔ یہ سماں اب چولستان جیپ ریلی میں نظر آتا ہے۔ چنن پیر کے میلے پر ہر بوڑھا، جوان، عورت اور بچہ بلا خوف و خطر شریک ہوتا تھا۔ اس سے طویل، پرامن تہوار اور میلہ مجھے کہیں نظر نہ آیا۔

چنن پیر کے مزار پر لق و دق صحرا کے چاروں جانب سے تا حد نظر آنے والے قافلوں کا نظارہ آج بھی اتنا خوبصورت اور دیدہ زیب ہوتا ہے کہ انسان کو ریگستان کا یہ حسن اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ یہ قافلے رات کو جب الاؤ جلاتے ہیں تو روہی جگمگا اُٹھتی ہے اور ہر جمعرات کو روشنیوں کا ایک شہر آباد ہو جاتا ہے اور پورا علاقہ مقامی موسیقی کے سحر میں ڈوب جاتا ہے شہنائی اور بانسری کی خوبصورت دھنیں اور ڈھول کی تھاپ پر سرائیکی جھومر کی کشش آپ کو مسحور کر دیتی ہے۔ جانور قربان کیے جاتے ہیں کھانے پکائے اور تقسیم کیے جاتے ہیں۔ اب رفتہ رفتہ ریگستان آباد ہوتے جا رہے ہیں۔ پکی سڑکوں کے جال بچھ چکے ہیں۔ مگر میلہ اب بھی جاری ہے تانگوں، اونٹوں، کی جگہ اب جیپ کاروں نے لے لی ہے۔ جس کی وجہ سے سفر کی خوبصورتی اب وہ نہیں رہی۔ یہ واحد تہوار ہے جہاں مسلمانوں کے ساتھ ہندو بھی مزار پر حاضری دیتے اور منت مانتے اور منت اتارنے آتے ہیں۔ سابق ریاست بہاولپور میں سینکڑوں بزرگان دین اشاعت اسلام کی تبلیغ اور روحانی اصلاح کے لیے تشریف لائے ان بزرگان کی بدولت بہاولپور دین کا گہوارہ بن گیا۔ یہاں کے ماحول میں دین اور مذہب سے دلی اور جذباتی وابستگی ان ہی کی مرہون منت ہے۔

ان بزرگوں میں سے ایک حضرت چنن پیر جیسلمیر کے بادشاہ کی اولاد تھے جن کے سالانہ عرس پر یہ میلہ سجتا ہے۔ حضرت چنن پیر سے لوگوں کی عقیدت اور محبت ہر سال انہیں یہاں کھنچ لاتی ہے۔ میلوں لمبے چوڑے چولستان میں انسانوں کا سمندر جنگل میں منگل کا منظر پیش کرتا ہے یوں تو چنن پیر کے بارے میں کئی روایات اور قصے مشہور ہیں لیکن بچپن میں مجھے ایک بزرگ نے بتایا اور پھر میں نے پڑھا بھی کہ جب مشہور بزرگ حضرت جلال الدین سرخ پوش یہاں سے گزرے تو یہاں کے بے اولاد بادشاہ سادھارن نے آپ سے اولاد کے لیے دعا کی درخواست کی جس پر آپ کی دعا سے بادشاہ کے ہاں شہزادہ پیدا ہوا جو اتنا خوبصورت تھا کہ لوگ اسے چاند سے تشبیہ دے کر چنن پکارنے لگے۔

جب بولنے کی عمر کو پہنچا تو کلمہ پڑھنے لگا جس پر رعایا میں مشہور ہوا کہ بادشاہ کا بیٹا مسلمان ہے۔ تو بادشاہ نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا لیکن ملکہ نے جان بخشی کے لیے منت کی جو اس شرط پر قبول ہوئی کہ اب چنن کو محل کی بجائے صحرا میں رہنا پڑے گا۔ اس طرح روتی بلکتی ملکہ کے بیٹے کو صحرا میں تنہا چھوڑ دیا گیا۔ جہاں لوگوں نے دیکھا کہ ایک ہرنی چنن کو دودھ پلا رہی ہے۔ یہ خبر ملکہ تک پہنچی تو وہ بھی محل چھوڑ کر صحرا میں آ گئی۔ جس پر بادشاہ نے دونوں کے قتل کا حکم دیا مگر جب شاہی سپاہی اس ٹیلے پر پہنچے تو چنن وہاں سے غائب ہوچکے تھے۔ ایک روایت ہے کہ آپ وہاں سے اوچ شریف تشریف لے گئے اور سلسلہ بخاریہ کے عظیم پیشوا مخدوم حضرت جہانیاں جہاں گشت ؒ کے دست بیعت ہوئے اور پھر واپس وہیں لوٹ آئے اور رشد و ہدایت کا سلسلہ شروع کر دیا اور بہت بڑے عالم دین و مبلغ اسلام ثابت ہوئے اور چولستان کے ایک بڑے حلقے کو مرید بنا کر مسلمان کیا۔

یہ بھی روایت ہے کہ چنن پیر کا مزار ریت کے اسی ٹیلے پر واقع ہے جب بھی اس پر عمارت قائم کرنے کی کوشش ہوئی ناکام ہوئی البتہ مزار سے کچھ فاصلے پر مسجد تعمیر ہو چکی ہے۔ مزار کے احاطے میں ایک درخت ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ چنن ؒکی والدہ یہاں دفن ہیں۔ زائرین اپنی منت یا حاجت بیان کر کے اس درخت سے کپڑے کی کترنیں باندھ دیتے ہیں۔ اولاد، شادی اور غموں کے مداوے کی اگر منت پوری ہو جائے تو وہ کترن خود بخود کھل جاتی ہے اور پھر عرس پر یہ لوگ منت اتارنے اور نیاز چڑھانے آتے ہیں۔ چولستان کے لوگ اس مزار کو روحانیت کا مرکز سمجھتے ہیں۔ ہندو ہوں یا مسلمان چنن پیر کے سب ہی معتقد ہیں سب ایک دوسرے کے تبرکات لیتے اور کھاتے ہیں۔ خاص طور پر ہندو مینگوال برادری یہاں بڑی تعداد میں حاضری دیتی ہے۔

کہتے ہیں کہ لوگ دنیا حاصل کرنے شہروں کی طرف لپکتے ہیں لیکن سکون قلب نہیں ملتا۔ جبکہ اللہ والوں کی ادا ہی نرالی ہے جہاں بیٹھ جائیں رونقیں اسی طرف چل پڑتی ہیں۔ کیونکہ یہ سکون بانٹتے ہیں صحرا کی اس ریت میں کوئی تو کشش ہے کہ لاکھوں لوگ دور دور سے یہاں کھنچے چلے آتے ہیں اور سب غم بھلا کر ڈھول کی تاپ پر جھومر ڈالتے ہیں۔ اگر سرائیکی ثقافت اور روہی کا رنگ دیکھنا ہو تو یہاں نظر آئے گا۔ چنن پیر کا میلہ آج بھی ہمارے علاقے میں اکلوتی خوشی ہے جسے جاری رہنا چاہیے۔ کیونکہ حضرت چنن پیر چولستان اور روہی میں امن و سلامتی کی علامت اور علاقے کی شناخت ہیں اس لیے انہیں روہی کا داتا گنج بخشؒ بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پچھلے 700 سال سے روہی اور چولستان پر حضرت چنن پیر ؒکی بے تاج بادشاہت قائم ہے۔ اور وہ یہاں کے علاقے کے لوگوں کے دلوں پر حکومت کرتے ہیں۔

میلے کی پانچویں جمعرات کو بہاولپور میں مقامی تعطیل ہوتی ہے۔ دن بدن لوگوں کی شرکت بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ زائرین کے لیے حکومتی سطح پر خصوصی انتظامات کیے جائیں۔ اور چولستانی کلچر اور ثقافت کو محفوظ بنانے کے لیے ایک ادارہ بنایا جائے۔ ٍدریائے ہاکڑہ اور ستلج تو ختم ہوچکے مگر ان دریاؤں کا ورثہ اور ثقافت ابھی موجود ہے۔ جو اس میلے میں جا بجا نظر آتی ہے ورثہ و ثقافت ہمارے اسلاف کی عظمت اور یہاں کی تہذیب ہماری دھرتی کا فخر ہے اور چنن پیر کا یہ میلہ سالہا سال سے لوگوں کو روحانی سکون، تفریح کے ساتھ چولستان کے ورثے، ثقافت اور تہذیب کی حفاظت بھی بڑے ہی احسن طریقے سے کرتا چلا آ رہا ہے۔ بے شک محبت اور امن بانٹنے والے انسان ہی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ آج انہیں بزرگوں کا فیض ہے کہ بہاولپور کی دھرتی امن و سلامتی کا گہوارہ دکھائی دیتی ہے۔

Facebook Comments HS