سندھ میں مذہب اور سیاست کے بدلتے منظر نامے : حصہ اول
تاریخ کے تناظر میں جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سندھ میں حکمرانوں کی تبدیلی کے ساتھ شہریوں کے عقائد اور مذہب بھی تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ سندھ میں آباد مختلف قبائل ویدک سمیت دیگر عقائد جن میں قدرت کے مظاہر سے جڑے اعتقادات جیسے سورج، پانی، آگ وغیرہ کو اپنا خدا ماننے والی آبادیوں پر مشتمل ریاست رہی ہے۔
268 صدی قبل مسیح میں برصغیر پر موریا شہنشاہ اشوک کے دور حکمرانی کے دوران جس میں آج کا پاکستان بشمول سندھ شامل ہے بدھ مت عقائد اختیار کرنے کی بنیاد رکھی گئی۔ بدھ مت کو شہنشاہ اشوک نے 261 صدی قبل مسیح میں کالنگا (موجودہ اڑیسہ) انڈیا کی جنگ فتح کرنے کے بعد اختیار کیا۔ اس جنگ کے دوران تشدد اور بہت بھاری جانی نقصان کے گہرے اثر نے شہنشاہ اشوک کو تشدد سے اجتناب کی جانب راغب کیا۔ شہنشاہ اشوک کی اس عدم تشدد اور پر امن بقائے باہمی کی ذہنی و قلبی تبدیلی کے زیر اثر بدھ مت عقیدہ کو اختیار کر کے اپنے دور حکمرانی 268 تا 232 قبل مسیح میں انڈیا کے طول و ارض میں پھیلا دیا۔ شہنشاہ اشوک کی سندھ تک پھیلی حکمرانی کے گہرے اثرات سندھ پر بھی مرتب ہوئے اور سندھ کے شہری اپنے حکمران کے اختیار کیے عقیدے بدھ مت کو اختیار کرنے لگے یہاں تک کہ سندھ کی اکثریت بدھ عقیدہ ماننے والوں کی سرزمین بن گئی۔
سندھ کے بدھ مت عقائد پر کاربند رہنے کا سلسلہ سندھ کے بدھ حکمران سہاسی دوم کی 632 عیسوی میں موت تک جاری رہا، سہاسی دوم سندھ کا بے اولاد بادشاہ تھا جس نے اپنے دور حکمرانی میں اونچی ذات کے چچ نامی برہمن ہندو کو اہم مشاورتی فرائض سونپ رکھے تھے، بادشاہ سہاسی دوم کی موت کے بعد اس کی بیوہ نے چچ سے شادی اور سندھ کی حکومت سنبھالنے کی درخواست کی جسے چچ نے قبول کیا، اپنی بہترین انتظامی صلاحیتوں اور ریاست کے ساتھ وفاداری کے لیے مشہور چچ کو ریاست سندھ کے معاملات چلانے اور اپنی حکمرانی کے قیام میں کوئی خاص دشواری پیش نہیں آئی۔
چچ ہندو عقائد پر کاربند پختہ برہمن تھا، چچ کے عنان حکومت سنبھالنے کے بعد حسب سابق سندھ سے بدھ مت عقائد کے اثرات زائل ہونا شروع ہو گئے، رفتہ رفتہ بدھ عقائد رکھنے والے ہندو مت اختیار کرنے لگے، راسخ العقیدہ بدھ افراد سندھ سے نقل مکانی کرنے لگے، بدھ عبادت گاہیں بند ہونے لگیں، مندر بننے لگے اور سندھ کی آبادی بدھ مت سے ہندو آبادی میں تبدیل ہونے لگی، 632 عیسوی میں سندھ کی حکمرانی سنبھالنے کے 80 برس میں سندھ میں بسنے والی بدھ آبادی اقلیت میں تبدیل ہو گئی، ہندو مت کے پھیلاؤ کا یہ سلسلہ 712 عیسوی میں مسلمان سپہ سالار محمد بن قاسم کے سندھ فتح کرنے تک جاری رہ کر تھم گیا۔
712 عیسوی میں اسلام کی سندھ آمد کے بعد ہندو مت پر کاربند آبادی نے ہندو مت چھوڑ کر اسلام قبول کرنا شروع کیا اور رفتہ رفتہ دور حاضر تک سندھ میں ہندو مختصر اقلیت اور مسلم آبادی بھاری اکثریت اختیار کر گئی، ہندو مت سے پہلے سندھ میں آباد بدھ مت کے نام لیوا تقریباً مٹ گئے، نادرا کے ریکارڈ کے مطابق بمشکل ایک درجن افراد بدھ مت ماننے والے رہ گئے ہیں جبکہ بدھ عبادت گاہیں یا اسٹوپا ڈھونڈنے سے وہ بھی آثار کی صورت ملتی ہیں۔ اس طرح ماضی میں سندھ بدھ مت کے گہرے اور سب سے طویل اثر و نفوذ میں رہنے والی ریاست رہی ہے جس کے بعد ایک مختصر عرصے کے لیے ہندو مت اور اس کے بعد طویل ترین مسلم دور حکمرانی تا حال جاری ہے۔
محمد بن قاسم کی فتح سندھ کے بعد ہندو عقائد کے پیروکاروں کا حلقہ اسلام میں داخل ہونے کا سلسلہ شروع ہوا جس نے رفتہ رفتہ بڑھ کر ہندو آبادی کو اقلیت میں تبدیل کر دیا لیکن مسلمانوں کے بڑی عددی اکثریت حاصل کر جانے کے باوجود مجموعی طور پر تعلیم اور کاروباری معاملات میں ہندو سندھ پر چھائے رہے، یہ صورتحال ماضی میں سندھ پر حکمرانوں کے تبدیل ہو جانے پر ریاست کے تمام امور پر حکمران کے عقائد اختیار کرنے والے افراد کا کنٹرول سنبھالے رکھنے کے برعکس رہا۔ ریاست سندھ پر مسلمان حکمرانی کے باوجود تعلیم اور معیشت پر ہندو آبادی کی مکمل اور مضبوط گرفت تھی، برصغیر پر انگریز حکومت کے خاتمے تک ہندو کاروباری اور انتظامی امور پر چھائے ہوئے تھے، ہندووں کا کاروبار برصغیر اور اس سے آگے کی بیرونی دنیا تک پھیلا ہوا تھا، تجارتی لین دین اور غیر رسمی بینکاری پر بھی ہندو برادری کی مضبوط گرفت تھی، سود پر رقم کی فراہمی ہندووں کے کاروبار کا اہم جزو تھا، سود پر قرض کے عوض فصل گروی رکھنا اور عدم ادائیگی کی صورت میں فصل کی اصل قیمت سے کم لگا کر فصل قبضے میں لے کر اونچے دام مارکیٹ میں فروخت معمول تھا۔ ریاست پر مسلمان حکمرانی کے باوجود تعلیم اور کاروبار میں مسلمان بہت پیچھے تھے۔ سندھ کی ہندو اور مسلمان آبادی کے بیچ اس معاشی ناہمواری نے ایک پختہ لکیر کھینچ رکھی تھی، یہ معاشی ناہمواری مذہبی تفریق میں شدت پیدا کرتی رہی جو دونوں مذاہب کے پیروکاروں میں تصادم کی صورت میں ظاہر ہوتا رہا، اس ٹکراؤ کے نتیجے میں ہونے والے چند فسادات پر نظر ڈالتے ہیں۔
سندھ میں ہندو اور مسلمان انگریز حکومت کے قیام سے کہیں پہلے سے ایک دوسرے کے خلاف صف آرا تھے، 1831۔ 32 کے نصرپور میں ایک کم عمر ہندو بچے نے اپنے استاد کی سزا سے بچنے کے لیے بھاگ کر نصرپور کی ایک مسجد میں پناہ لے لی، مسلمانوں نے اس بچے کو اپنی پناہ میں قرار دیا، اس بچے کا پیچھا کرتے مشتعل ہندو افراد کے حوالے کرنے سے انکار پر جھگڑا ہندو مسلم فساد کی شکل اختیار کر گیا جس کے سلجھنے تک عوامی املاک کا بڑا حصہ تہس نہس ہو چکا تھا۔
ہندو آبادی کے خلاف توہین مذہب اور توہین رسالت کے الزامات، ہندو اکابرین کے اغوا اور انہیں بزور مسلمان کرنے حتیٰ کہ زبردستی ختنے کرنے کے واقعات بھی معمول رہے، ایک واقع میں سندھ کے حاکم میر مراد علی تالپور کی مداخلت سے ایک اغوا شدہ دولت مند ہندو رہنما ہوت چند کو جو بوقت ضرورت تالپر حکمران کو قرض کی صورت مالی معاونت بھی فراہم کرتے تھے ختنے سے بچا لیا گیا، دوران اغوا سیٹھ ہوت چند کو بھوکا پیاسا رکھنے کے ساتھ تضحیک آمیز رویہ اختیار رکھا گیا۔ سندھ میں زبردستی مذہب تبدیل کروانے اور اغوا کے بعد ختنے اور ہندو لڑکیوں کو جبری مسلمان کر کے مسلم لڑکوں سے شادی کی روایت اب تک قائم ہے۔
1872 میں جبری مسلمان کرنے پر سکھر میں فسادات پھوٹے، پھر 1884 میں ایک فساد سیہون میں ہوا، 1891 میں ٹھٹہ کے ایک مندر میں موسیقی کی آواز پر ہونے والا فساد اور 1893 میں محرم کے دوران سکھر میں بد امنی سندھی سماج کے مذہبی بنیاد پر ایک دوسرے کے خلاف تواتر سے صف آراء رہنے کی چند مثالیں ہیں۔ اس محاذ آرائی نے چند برس بعد سندھ کی مسلمان اکثریت کے رہنماؤں نے ہندو اقلیت کی معاشی برتری سے مکمل طور پر آزادی کے حصول کے لیے بڑے پیمانے پر باقاعدہ تحریک شروع کر دی۔
سندھ پر اثر و رسوخ منوانے کے لیے ہندو اور مسلمان دونوں انتہاء پسندی کے پر تشدد واقعات میں ملوث رہے، ہندو برادری اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے مسلمان شہریوں کے معاشی استحصال کے ساتھ پر تشدد کارروایوں میں بھی مشغول رہی، سندھ کی بنیاد پرست ہندو جماعتوں شدھ آریا سماج اور ہندو سبھا کی انتہا پسندی ہندو مسلم فساد کو ہوا دینے کا موجب بنیں، یہ ہندو جماعتیں ہندو سے مسلمان ہو جانے والوں پر کڑی نظر رکھتی تھیں، مارچ 1928 میں ڈوکری لاڑکانہ کی ایک ہندو عورت نے اسلام قبول کر کے ایک مسلمان سے شادی کر لی جس کے مسلمان شوہر سے کئی بچے پیدا ہو چکے تھے، شدھ آریا سماج اور ہندو سبھا نے ایک کارروائی میں اس عورت کو اغوا کر کے دوبارہ ہندو بنانے کی کوشش کی، یہ کوشش مسلمان آبادی کو اشتعال دلانے کا باعث بنی اور لاڑکانہ فساد کی زد میں آ گیا، اس فساد میں درجنوں افراد زخمی ہوئے، لاڑکانہ کی انتظامیہ ہندو اثر رسوخ کی وجہ سے احتجاج کرنے والے مسلمانوں سے سختی برتتی رہی، اغوا کی گئی عورت کو پولیس نے بازیاب تو کیا لیکن شدھ آریا سماج کے دباؤ پر اس کے شوہر اور بچوں کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا، مقامی مسلمان اکابرین سر شاہنواز بھٹو اور نواب لاہوری نے فساد روکنے میں کسی مدد سے انکار کر دیا جب کہ انگریز کی انتظامیہ نے ہندو انتہا پسند شدھ سماج اور ہندو سبھا کے دباؤ پر بڑی تعداد میں احتجاج کرنے والے مسلمان گرفتار کر لیے، صرف ایوب کھوڑو مسلمانوں کی مدد کے لیے آگے بڑھے اور گرفتار شدگان کو بمشکل آزاد کروایا۔
تحریک آزادی کے نامور رہنما سائیں عبداللہ ہارون، سائیں جی ایم سید اور سائیں ایوب کھوڑو، خصوصاً سائیں جی ایم سید جو پاکستان بننے کے بعد سندھی قوم پرستی کی علامت بنے، تقسیم ہند سے برسوں پہلے 1937 سے مسلم لیگی پلیٹ فارم سے علیحدہ مسلم ریاست کے حصول اور ہندو مخالف ایجنڈے پر ڈٹ چکے تھے، ہندو مسلم تفریق پیدا کرنے میں کامیابی نے ہندو مسلم اتحاد کی علامت سائیں اللہ بخش سومرو کی سندھ اتحاد پارٹی کے بخیئے ادھیڑ ڈالے، ہندو برادری کو متنبیٰ کرنے کا ایک واقعہ صورتحال سمجھنے میں معاون ہو سکتا ہے۔ مغل شہنشاہ اکبر کے دور میں تعمیر کی گئی ایک عمارت جسے ”منزل گاہ“ کے نام سے جانا جاتا ہے انگریز حکومت نے اپنی تحویل میں لے رکھی تھی، اس عمارت میں موجود ایک بند مسجد بھی تھی جس میں نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں تھی، ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اس مسجد کی تحویل مسلمانوں کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا جسے انگریز حکومت نے مسترد کر دیا۔
اس مطالبے کو معاشی طور پر مضبوط اقلیتی ہندو برادری نے اپنے لیے چیلنج سمجھا، معاملہ اتنا بڑھا کہ سائیں جی ایم سید کی قیادت میں اس عمارت پر قبضہ کر لیا، مسلم لیگ کے صدر اور مرکزی مسلم لیگ کے مضبوط رکن سائیں عبداللہ ہارون نے صورت حال دیکھتے ہوئے سکھر کو اپنا کیمپ آفس بنا لیا، ان کی معیت میں سائیں جی ایم سید اور سائیں ایوب کھوڑو نے اس معاملے کو باقاعدہ ہندووں اور مسلمانوں کے درمیان موجود خلیج کو وسیع اور تقسیم کی دیوار کو مضبوط کرنے کا ذریعہ بنا لیا۔ شہید اللہ بخش سومرو صاحب نے ہندو مسلم اتحاد کے لیے ہر ممکن کوشش کی لیکن کامیاب نا ہو سکے۔ اللہ بخش سومرو مارچ 1938 میں سندھ کے وزیر اعلیٰ بن چکے تھے مسلم رہنماؤں کے ہندو مخالف احتجاج سے فساد پھوٹ پڑنے کے خدشے کو محسوس کرتے ہوئے سائیں اللہ بخش سومرو نے عبداللہ ہارون صاحب کو سکھر بدر کرنے کا حکم دیا۔ تعمیل کے نتیجے میں سائیں جی ایم سید نے مسلم قیادت سنبھال لی اور احتجاجاً باقاعدہ بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے۔
معاملات کو مزید بگڑنے سے روکنے کی خاطر انگریز حکومت کو مسجد مسلمانوں کی تحویل میں دینا پڑی۔ مذہبی بنیاد پر تقسیم کی یہ کوشش اگلے 10 برسوں میں پاکستان کے قیام اور سندھ کی پاکستان میں شمولیت کی صورت میں ظاہر ہوئی۔ ہندو مسلم اتحاد کے حامی اور سندھ کے دو بار وزیر اعلیٰ سائیں اللہ بخش سومرو اسی انتہاء پسندی کے دوران 14 مئی 1943 کو ایک قاتلانہ حملے میں شہید کر دیے گئے اور یوں ہندو مسلم اتحاد کی مضبوط آواز بند ہو گئی۔
23 مارچ 1940 کی قرارداد لاہور کی روشنی میں سائیں جی ایم سید 3 مارچ 1943 کو سندھ اسمبلی سے آزادی کے حق میں قرارداد منظور کروا کر سندھ کو برطانوی استعمار سے آزادی کے حصول کے لیے برصغیر کی پہلی اسمبلی کا اعزاز اپنے نام درج کروا چکے تھے۔


