کنوارے کا ویلنٹائن


سند باد جہازی بھی بننا پڑے گا کبھی سوچا نہیں تھا۔ پہلے پہل تو سمندر سے کبھی بنی نہیں موا ہماری لانچ کو ڈبونے کے چکر میں ہی رہا۔ دیکھو تو کیسی ہری ہری کائی پھیل رہی ہے جیسے سڑی ہوئی ٹونا فش کا جوہڑ ہو۔ بھائی لوگ بولے ہیں لانچ سمندر کو چیرتی ہوئی جاتی ہے۔ جال ڈالتے جاؤ، کھانا اور موتی بٹورتے جاؤ۔ لیکن یہ موا تو مردہ ہے۔ بھوکے میں نہ تن کی آگ بجھائے نہ گلے کو تراوت بخشے۔ مچھیرے بھوجن سے آگے کی نہیں سوچتے

لیکن میری نگاہ میں ایک کھوج ہے۔ سنسان ٹاپو جن کی جوکھم بھری یاترا کے پار مجھے کچھ ایسا ملے گا کہ اٹلانٹا کی رانی نے سپنے میں بھی نہیں دیکھا ہو گا۔ کہتے ہیں کہ وہ دو ہیں، سرمے کی طرح ملائم بھربھری زمین میں ایستادہ، سونے کے فانوسوں میں قرینے سے رکھے ہوئے ’پوم پوم‘ جن کی کھوج میں زمانے سرگراں ہیں لیکن کسی کو اُن کے درشن نہیں ہوئے۔

جو چھونے والے ہاتھوں کو زمان و مکان کی الجھنوں سے پار فلکیاتی بصیرت سے نوازتے ہیں۔ جو جنم کی کٹھورتا کو نروان میں بدلتے اور شانتی سے ہم کنار کرتے ہیں۔ جب میں ماہی گیری کی ٹریننگ لیتا تھا میرے استاد اُسکے ذکر سے ڈرتے تھے۔ میرے ابا، بڑے دادا ہر اتھلی کھاڑی میں لنگر ڈالتے رہے۔ پر سنسان ٹاپو کی جھلک بھی دکھائی نہیں دی۔ منش بھوگ کیوں اٹھاتا ہے۔ سماج کے سیٹھ اُس کی مچھلی کی قیمت ہی نہیں لگاتے۔ اُدھار پر مال اٹھاتے ہیں۔ باقی سالا لانچ مستری بٹور لیتے ہیں۔ یہ سمندر بھی بہت حرامی ہے۔ جانے کب سے مجھے پریشان کرتا تھا میں بھی قسم اٹھایا ہُوں اس کے باس زدہ پلید پانی میں کچرا ہی ڈالوں گا۔ جلے ہوئے ماس کی آماج گاہ، شہر کی گندگی کو سینے میں پالتا ہے اور ہم جیسوں کو آنکھیں دکھاتا ہے۔ جال میں اُسکی گندگی اُمڈ اُمڈ کر آتی ہے۔ شہر میں بابو لوگ اُس کی مچھلی بھون بھون کر کھاتے ہیں۔

ماچھی کو کیا لگے، پیر لجپال کا نام لے کر پہلے بھی بیڑا چلاتے تھے اب بھی وہ بلائے گی تو جائیں گے پر اب وہ صورت خضر اپنے جل کی خبر نہیں لیتا سنسان ٹاپو سے وہ مینار نور دور سے ٹم ٹماتا ہے۔ بولیں تو اپنی اور اشارے کرتا ہے کہ آؤ اور میرے معجزے کو نہارو۔ جس کی جستجو میں وارفتگی ہے بوڑھے ماچھی کی خام خیالی ہے یا ’پوم پوم‘ کے اثر میں سٹھیا گیا ہے میواتی لوگ جعلی ’پوم پوم‘ کا کاروبار کرتے ہیں۔ نرے بے کیف و بے اثر نہ رنگ نہ وہ خوشبو۔ ان میں تو اتنی خوبی بھی نہیں کہ سلیقے سے لٹکتے رہیں۔ ریت کی تھیلی ان سے اچھا ٹکورتی ہے۔ اصلی پوم پوم تو بادشاہوں کو بھاتا ہے۔ نفیس، گداز اور کمیت میں عین سنگ مر مر سا چمکیلا اور ٹکاؤ۔

پر کیا کریں سنسان ٹاپو کی سنگینی احوال دل میں لالچ سے امنگیں جگاتی۔ پوہ کی سرد راتوں میں موئے شہری نگینے دان کرتے ہیں۔ پھولوں کی ڈالی یا سیر بھر ماس سے ویلنٹائن مانتے ہیں۔ ماچھی کی تو واحد پسند تیراکی ہی ہے۔ کبھی ڈیلٹا سے جان بچاتے لانچ کی موٹر کو ہنٹر مارتے جل کے سینے میں ارتعاش بکھیرتے رہتے ہیں۔ راہ کی صعوبتیں جب من موجی جھاگ سے پینڈا کھوٹا کرتی ہیں تب ماچھی بوڑھے بابا کی ادھُوری اچھا کو کھانس کھانس تھوکتا ہے۔ اٹلانٹا کی دیوی بھی اس سمے اُسے اپنی مدھر سر سے بے دھیان نہیں کر سکتی۔ یہی وہ گھڑی ہے جب لجپال سارے پردے اٹھا دیتے ہیں۔ اور جل کی رانی کا گھر دکھائی دیتا ہے۔ اللہ الدین کو بھی وہیں امبر میں جھولتا سونے کا ہاتھ ملا تھا۔ پانیوں کو چھو جائے تو خالص گہنے اور قسمت کی نیا پار۔ یہی اصلی پوم پوم کی نشانی ہے۔

دیکھتے کیا ہو، قیامت کی گھڑی ہے سرد پانیوں میں نظر کے سامنے وہ رہا ماہ مبین۔ ہانپتا کانپتا ماچھی جزیرے کے ساحل پر آن گرا۔ اسے سانس کی ہوش بھی نہیں سنسان ٹاپو کے گندے پانی اسے اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ پر وہ پورے زور سے ارض مقدس پر پاؤں ٹکا دیتا ہے۔ ایک زوردار چیخ، جیسے اجل اپنی ننگی تلوار سے وار کر رہی ہو۔ وہ بھاگ رہا ہے اور مندر کے زینے پر دوڑ رہا ہے۔ شفاف روشنی اس کے سامنے، خدائی پیکر اجلا اور دل فریب وہ جا کر ین اور یانگ کے دونوں پتھر دبوچ لیتا ہے۔ کائنات نور سے بھر جاتی ہے۔ ایک لمبی کن اور چائمز کی ٹن ٹن۔ آج استاد کی جوتیوں کو سلام جس نے نقشہ پڑھنا سکھایا اور ماچھی کو اٹلانٹا کی کہانی کی سیکھ دی۔ وہ گلنار سے کشمیری انار اُس کی موت کا سبب بن گئے۔ چشم فلک نے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ ایک ماچھی نیم عریاں جزیرے کے قدیم مندر پر پتھر کی سل سے بغلگیر نیم عریاں مرا پڑا ہے۔ پوم پوم اندر ہی اندر مسکرا رہے ہیں۔

Facebook Comments HS