مقبول بٹ: وہ شخص جس نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا


کشمیر کی تاریخ کے چند ناموں میں مقبول بٹ ایک ایسا نام ہے، جس سے یہاں کے نوجوانوں میں ایک تازہ جذبہ، اور عقیدت پیدا ہوتی ہے۔ یہ ایک غیر متزلزل یقین کا آدمی تھا۔ جو کشمیریوں کی جدوجہد کی ایک لازوال علامت بن گیا، ایک انقلابی جس کا نظریہ وقت اور سیاسی تبدیلیوں سے بالاتر ہے۔ 11 فروری 1984 کو دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی پر لٹکائے گئے مقبول بھٹ کی وراثت کشمیر کے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہے اور حق خود ارادیت کی وکالت کرنے والوں کے لیے ایک آواز بنی ہوئی ہے۔

مقبول بٹ 1938 میں وادی کشمیر کے کپواڑہ ضلع کے گاؤں تریہگام میں پیدا ہوئے، مقبول بٹ کشمیر کے بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے کا مشاہدہ کرتے ہوئے پلے بڑھے۔ جیسا کہ خطہ تقسیم کے آفٹر شاکس اور کشمیر پر پاک بھارت تنازعات سے دوچار ہوا، بٹ نے خود کو ایک آزاد وطن کے خیال کی طرف راغب پایا، جو غیر ملکی کنٹرول سے آزاد ہو۔

پاکستان میں طالب علم کی حیثیت سے ان کی سرگرمی نے نظریاتی شکل اختیار کرنا شروع کی۔ وہ بائیں بازو کے نظریات اور نوآبادیاتی مخالف تحریکوں سے متاثر تھے، جس کی وجہ سے انہوں نے جموں اور کشمیر میں مختلف تنظیموں کی بنیاد رکھی۔ جن کا مقصد ایک آزاد اور خودمختار کشمیر کا قیام تھا، جو خطے پر ہندوستانی اور پاکستانی دونوں کے دعووں کو مسترد کرتی تھی۔

بٹ کی سرگرمیوں نے جلد ہی اسے حکام کے ساتھ تصادم کے راستے پر ڈال دیا۔ 1966 میں انہیں ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں مسلح مزاحمت میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ تاہم، ایک جرات مندانہ فرار میں، وہ اور اس کے ساتھیوں نے سری نگر کی سینٹرل جیل سے سرنگیں نکال کر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا راستہ بنایا۔

پاکستان میں بھی، بٹ نے خود کو حکام سے متصادم پایا۔ ان کے آزاد کشمیر کے خواب کو اسلام آباد نے اچھی طرح سے قبول نہیں کیا، جو اسے شک کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔ آزادی کے حامی کشمیری دھڑوں اور خطے میں پاکستان کے اسٹریٹجک مفادات کے درمیان نظریاتی رسہ کشی کو اجاگر کرتے ہوئے انہیں پاکستان میں متعدد بار قید کیا گیا۔ اور تشدد کا نشانہ بیا گیا۔

1976 میں بٹ کو ہندوستانی حکام نے ایک بار پھر پکڑ لیا اور ایک قتل میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر موت کی سزا سنائی گئی۔ اس کی قسمت پر مہر اس وقت لگ گئی جب، 1984 میں، ایک ہندوستانی سفارت کار، رویندر مہاترے کو برطانیہ کے شہر برمنگھم میں، مبینہ طور پر کشمیری قوم پرست گروپ نے قتل کر دیا۔ جوابی کارروائی میں، بھارت نے بٹ کی پھانسی پر تیزی سے عمل درآمد کرایا، یہاں تک کہ قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس کے مقدمے کے معاملے میں انصاف پسندی پر سوال اٹھایا۔

پھانسی کے بعد انہیں تہاڑ جیل کے احاطے میں دفن کیا گیا تھا، اور آج تک کشمیری قوم پرستوں کے لیے جذباتی اور سیاسی اہمیت کے معاملے کے طور پر ان کے جسد خاکی کے مطالبات برقرار ہیں۔

بہت سے لوگوں کے لیے، مقبول بٹ صرف ایک تاریخی شخصیت سے زیادہ ہیں۔ وہ ایک شہید تھا جن کا آزاد کشمیر کا خواب ادھورا رہ گیا۔ اس کا نظریہ کشمیریوں کی نسلوں کو متاثر کرتا رہتا ہے جو اس کی پھانسی کو اپنے اوپر ہونے والے جبر کی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے سالانہ یوم وفات، جسے ”یوم مقبول“ کے طور پر منایا جاتا ہے، ان کی قربانی اور کشمیری سوال کی غیر حل شدہ نوعیت کی یاد دہانی کے طور پر کام کرتا ہے۔

تاہم، ان کی میراث غیر متنازعہ نہیں ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مسلح مزاحمت نے کشمیر کے مصائب میں اضافہ ہی کیا ہے، اور بٹ کی جدوجہد کے طریقوں نے تقسیم کو مزید گہرا کیا ہے۔ اس کے باوجود، خود ارادیت میں ان کے اٹل یقین اور طاقت کے ڈھانچے کے ساتھ سمجھوتہ کرنے سے انکار نے انہیں ایک انقلابی کے طور پر تاریخ میں جگہ دی ہے، جس نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا تھا۔

مقبول بٹ کی کہانی صرف ایک شخص کی طاقتور ریاستوں کے خلاف بغاوت کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ شناخت، خود مختاری اور وقار کے لیے لوگوں کی جدوجہد کے بارے میں ہے۔ چاہے کوئی اسے ہیرو کے طور پر دیکھے یا ایک متنازعہ شخصیت، ان کی زندگی اور موت کشمیر پر گفتگو کو تشکیل دیتی رہتی ہے۔ ان کی قربانی مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کی عجلت پر زور دیتی ہے۔ جس کی جڑیں بات چیت، انصاف اور کشمیری عوام کی امنگوں سے وابستہ ہیں۔

کشمیر کی تاریخ مین شاید ہی کوئی لیڈر عوام کے اندر اس قدر مقبول و محبوب ٹھہرا ہو، جتنا مقبول بٹ ہے۔ سیاسی محاذ پر طویل جدوجہد میں شیخ عبداللہ کی جدوجہد کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا شمار بلا خوف تردید کشمیر کے مقبول ترین رہنماؤں میں کیا جا سکتا ہے۔ حالاں کہ شیخ عبداللہ نے جدوجہد کے لیے پرامن جمہوری طریقہ اختیار کیا تھا۔ لیکن ان کی جدوجہد بھی بالآخر اہل حکم کے ساتھ تصادم پر منتج ہوئی۔ پرامن جمہوری جدوجہد کے باوجود ان کو قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں یہاں تک کے ان کو دنیا کے ان بڑے رہنماؤں میں شمار کیا گیا جنہیں دنیا کے طویل ترین سیاسی قیدیوں میں شمار ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو شیخ عبداللہ اور مقبول بٹ ایک ہی منزل کی طرف رواں دواں تھے، صرف سفر کا طریقہ مختلف تھا۔ دونوں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کی، اور حکمران طبقات سے تصادم کی وجہ سے سزاوار ٹھہرے۔

دونوں کا بائیں بازو کی طرف کافی جھکاؤ تھا۔ شیخ عبداللہ ایک ایسی تحریک کی رہنمائی کرتے تھے، جو کشمیر کی تاریخ کی مقبول ترین عوامی تحریک تھی۔ ان کی جماعت کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کی اس جماعت کا منشور جن لوگوں نے لکھا تھا وہ مارکسسٹ لیننسٹ لوگ تھے۔ دونوں رہنما کشمیر کو ایک کثیر الثقافتی اور کثیر المذہبی ریاست تسلیم کرتے ہوئے اس ریاست میں مذہبی رواداری کے پرچارک تھے۔ مقبول بٹ نے اپنی سیاسی زندگی کا باقاعدہ آغاز محاذ رائے شماری سے کیا تھا۔ محاذ رائے شماری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ جماعت شیخ عبداللہ جب بھارتی جیل میں تھے تو انہوں نے یہ جماعت اپنے معتمد خاص افضل بیگ کے ذریعے بنوائی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مقبول بٹ کی موت کے وارنٹ پر دستخط شیخ عبداللہ کے بیٹے فاروق عبداللہ نے کیے تھے، جب وہ ریاست کے وزیر اعلیٰ تھے۔ حالاں کہ فاروق عبداللہ اس کی کئی بار تردید کر چکے ہیں۔ حالاں کہ کشمیر کی سیاست میں جس طرح کی سیاسی فضا رہی ہے، اور جس حد تک اعتماد کا فقدان پیدا کر دیا گیا ہے اس میں اس طرح کے عمل کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بے شک یہ ستم ظریفی کی بات ہے۔

بہر کیف یہاں بات ہو رہی تھی دونوں رہنماؤں کی جدوجہد، اور جدوجہد کے لیے منتخب شدہ راستے کی تو دونوں نے ان راستوں کا انتخاب کشمیر کے معروضی اور موضوعی حالات کے تناظر میں کیا۔ پچاس کی دہائی میں برصغیر کی سیاست ایک نیا رخ اختیار کر چکی تھی۔ دنیا دو عالمی بلاکوں میں تقسیم ہو چکی تھی۔ بھارت دنیا کی اس صف بندی میں سویت یونین اور غیر جانب دار تحریک کے بلاک میں شامل ہو چکا تھا۔ دوسری طرف پاکستان مغربی سرمایہ داری بلاک میں شمولیت کا خواہش مند تھا۔ جو اس وقت مسلح جدوجہد کا طریقہ بائیں بازوں کی جدوجہد کا ایک پسندیدہ طریقہ سمجھا تھا۔ اس تناظر میں دونوں رہنماؤں کا راستہ بائیں بازو کا راستہ ہی سمجھا جاتا تھا۔

Facebook Comments HS