جذباتی بلیک میلنگ


جذباتی لوگ چتر چلاکی سے عاری ہوتے ہیں بلکہ یوں کہیے کہ سادہ مزاج لوگ ہوتے ہیں دل سے سوچتے ہیں اور دماغ کو کہتے ہیں میاں مداخلت مت کرو کیونکہ دماغ کہتا ہے عقل سے کام لے، محبت اور پیار کرنے والے لوگ ہوتے ہیں، دل احساسِ لطیف سے معمور ہوتا ہے پسیج جاتا ہے۔ یوں سادہ مزاج لوگ لٹتے رہتے ہیں، عقل والے لوٹتے ہیں جذبات کی دکانداری کرتے ہیں منڈی لگاتے ہیں ایسی ایسی دور کی کوڑیاں لاتے ہیں کہ محبت کرنے والے اپنے دل کے سامنے شرمندہ سے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ شاید ہم ہی ظالم ہیں مجرم ہیں اپنے آپ کو کٹہرے میں لا کھڑا کرتے ہیں اور مزید لٹتے ہیں چاتر لوگ ان کی سادگی کو کمزوری سمجھتے ہیں اور جذباتی استحصال کرتے ہیں۔

عقل عیار ہے سو بھیس بنا لیتی ہے
عشق بے چارہ نہ ملا ہے نہ زاہد نہ حکیم

دکاندار کسی بھی چیز کا ہو اس کا متمع نظر اپنا منافع ہوتا ہے، محنت کا منافع ہونا بھی چاہیے، چاہیے یہ دکانداری مکان کی ہو یا زمین کی ہو، صحت کی ہو یا تعلیم کی ہو احساسِ لطیف کا قیدی، ذہنی عیاش، روحوں کا سوداگر، حسن پرست پریت کے ساگر میں غوطہ زن عیاری کے جال میں پھنس جاتا ہے لٹ جاتا ہے۔ انہی کتاب میلوں کو ہی لیجیے کتاب سے محبت کرنے والوں کا جذباتی استحصال یہیں سے شروع ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے کتاب کو چاہنے والا اپنے آپ کو ملعون و مطعون سمجھتا ہے کہ میں بہت برا آدمی ہوں، میں کیا کر رہا ہوں، میری وجہ سے کتابوں کی توہین ہو رہی ہے، کتاب اپنے مقام سے گر رہی ہے، کتاب کہیں ناپید نا ہو جائے، جیسے کتابوں سے عشق کی آخری صدی۔

بھائی اگر معلوم تاریخ سے اب تک کتاب نہیں ختم ہوئی اس کا قاری اس سے نہیں اکتایا تو آئندہ بھی ایسا کچھ نہیں ہونے والا شانت رہیئے، ایک اور بڑا نعرہ جس سے پریتیوں کو بلیک میل کیا جاتا ہے فلاں کتاب میلے میں لاکھوں کے برگر بکے اور بس چند ہزار کی کتابیں بکیں۔ بھائی کیا کریں کتاب میلے میں کتاب جس پر بڑی ڈسکاؤنٹ لگائی گئی ہوتی ہے وہ اپنی اصل قیمت سے بھی زیادہ پر بیچی جا رہی ہوتی ہے حالانکہ وہی کتاب عام حالات میں اس خاص کتاب فروش سے لینے جائیں یا پھر اردو بازار اور صدر پنڈی ادھر لاہور میں جامعہ پنجاب اور انار کلی کے گرد و نواح میں فٹ پاتھ پر لگی کتابیں اور ہر نوع کی دستیاب کتاب اس میلے سے کہیں کم داموں مہیا ہے یہاں صداقت تجربے کی محتاج ہے۔

پرانی کتابوں کے گھر، اولڈ بک ہاؤس کا مطلب یہاں سے آپ کو پرانی کتابیں مل جائیں گی جس کا مطلب یہ ہے کہ نئی کتاب دکان سے مہنگی ملے گی اور پرانی کتاب لے کر اس سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ پرانی کا مطلب کہ آدھے سے بھی کم نرخ، جیسے سکول کے ایام میں کامیابی پر چھوٹی جماعت کے طلباء کو بڑی جماعت والے نصاب کی کتابیں ہم لوگ ایک دوسرے کو نصف سے کم پر دے دیا کرتے تھے، بعض اوقات مفت بھی، کتابوں کی حفاظت سال بھر کی جاتی کہ کہیں کوئی ورق نا پھٹے نا سیاہی کا داغ لگے تاکہ بہتر طور پر مزید استعمال میں آ جائے۔

مگر کتاب میلے میں الٹا حساب دیکھا پرانی کتابیں اصل سے اور نئی کتاب سے بھی مہنگی، جیسے نادر اور نایاب کلاسک مصنوعات کے بیوپاری نوادرات کو بیش بہا قیمت دے کر گھر میں سجاتے ہیں تاکہ ان کی شان و شوکت دوچند ہو اور انہیں آرٹ لور سمجھا جائے۔ ہاں وہاں بر گر ہی بکیں گے کتابیں نہیں بلکہ اس عمل سے کتابوں سے محبت کرنے والے غریب لوگوں کو کتاب سے باغی کرنے کا بڑا خوبصورت عمل ہے تاکہ یہ بات سچ ثابت ہو سکے کہ کتابوں سے محبت کی آخری صدی ہاتھوں سے سرک رہی ہے۔

اس سب کے باوجود مجھ جیسے ان کتاب میلوں سے ہزاروں کی کتابیں خرید لاتے ہیں اور پھر سوچنے بیٹھ جاتے ہیں مہینے کے باقی ایام کیسے گزاریں وہ جس کا قرض لوٹانا تھا اس کا کیا کیجئے، مگر مجال ہے کہ ہم جیسے اپنی حرکتوں سے باز آ جائیں ایک اور کتاب میلہ سر پر کھڑا ہوتا ہے۔ اچھا واقعہ یوں ہے کہ کتاب فروشوں کو بھی اس میں مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا جیسے وہ کتاب فروش جو کراچی سے لاہور آیا ہے اس کے آنے جانے کھانے پینے، کتابوں کی ترسیل وغیرہ کے اخراجات اور پھر اس نے اپنے بچوں کے لیے بھی کچھ نا کچھ تو لے کر جانا ہے اگر وہ یوں نا کرے تو کیا کرے مطلب یہ کہ کتاب اپنی اصل سے بھی اوپر جائے گی اور اس کے جانے کی بات بھی سمجھ آتی ہے۔ یہی کتاب میلے مقامی کتاب فروشوں سے سجائے جائیں تو شاید کچھ سادہ لوح لٹنے سے بچ جائیں کچھ کتاب کی محبت میں چند صدیوں کا اضافہ ہو جائے، کراچی والے کراچی کے لوگوں کو کتاب بیچیں اور لاہور والے لاہوریوں کو اور دیگر شہروں کے لوگ اپنے اپنے یہاں یہ میلے سجائیں، خیر میلہ تو چلنے پھرنے اور بدیسیوں کی دکانداری سے ہی مشروط ہے۔

میلہ جو ہوا اور پھر میلہ ملنے ملانے کا نام ہے کچھ بچھڑے مل جاتے ہیں اور کچھ بچھڑ جاتے ہیں۔ اور دل والے اسی بات پر نازاں ہوتے ہیں کہ چلو میل ملاقات کا بہانہ ہی سہی اور اسی بہانے چند کتابوں سے اور محبت سہی پھر وہی عطار کا لونڈہ اور بیمار۔ ایک اور بات وہ یہ کہ آپ نے ملاحظہ کیا ہو گا وہاں کتاب میلوں پر کثیر تعداد میں کمرشل کتابیں ہوتی ہیں، شاذ و نادر کوئی غیر کمرشل کتاب وہاں سے دستیاب ہو۔ کمرشل سے مراد وہ کتابیں جو عمومی طور بکتی ہیں بعض دکانداروں نے تو یہ فخریہ لکھا ہوتا ہے یہ کتاب دنیا بھر میں سب سے زیادہ بکنے والی ہے تاکہ آپ بھی اسے خرید کر اپنی شیلف میں سجائیں اور داد وصول کریں واہ کیا کتابوں کا شوق ہے بڑی عمدہ کتابیں رکھی ہوئی ہیں۔ ایک جملہ اور بھی آپ کو سننے کو ملے گا جب آپ کہیں کہ یہ کتاب اتنی کیوں مہنگی آپ دے رہے ہیں، اس لیے کہ یہ بین ہے ہمارے یہاں اس پر پابندی ہے۔ یہ تو ہمیں علم ہی ہے کہ شجرِ ممنوعہ آدم کے لیے بے پناہ کشش رکھتا ہے، چاہے اس کے لیے کتنی بھیانک سزا اٹھانی پڑے۔

Facebook Comments HS