نظریات کو سمجھیں، پھر فیصلہ کریں


 

ہم ایک ایسے روایتی معاشرے کا حصہ ہیں جہاں کسی نئے خیال یا نظریے کو جگہ بنانے کے لیے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اکثر اوقات یہ مخالفت کسی حقیقی فکری اختلاف کی بنیاد پر نہیں بلکہ محض ناسمجھی اور غیر ضروری خوف کے نتیجے میں کی جاتی ہے۔ ایسے کئی فلسفے اور نظریات جو انسانی بھلائی کے لیے کارآمد ہو سکتے تھے، معاشرتی مزاحمت کے باعث متروک اور مکروہ قرار دیے گئے۔ کچھ مخصوص مفادات رکھنے والے طبقات کے لیے یہ ضروری تھا کہ عوام کو ان خیالات سے دور رکھا جائے، لہذا ان کے خلاف نفرت کو عام کر دیا گیا۔ نتیجتاً، بیشتر لوگ ان نظریات کو پڑھے اور سمجھے بغیر رد کرنے لگے اور ان کے پیروکاروں کو بیک وقت دشمن اور کمتر سمجھنے لگے۔

مثال کے طور پر، ڈارون ازم اور ارتقائی نظریہ (تھیوری آف ایوالوشن) کو لیجیے۔ ہمیں بارہا یہ سننے کو ملا کہ ”ڈارون نے کہا تھا کہ انسان بندر سے بنا ہے“ ۔ حالانکہ یہ دعویٰ خود ڈارون نے کبھی نہیں کیا۔ اس کی کتاب The Origin of Species کا خلاصہ یہ ہے کہ زمین پر زندگی ہمیشہ سے اسی موجودہ شکل میں نہیں تھی بلکہ وقت کے ساتھ مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے ارتقا پذیر ہوئی۔ فوسلز کے سائنسی مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آج کے جاندار ماضی میں کسی اور شکل میں موجود تھے۔ اگر آج کوئی ایسا فوسل دریافت ہو جائے جو کروڑوں سال پہلے بھی اپنی موجودہ ہیئت میں موجود تھا، تو یہ نظریہ چیلنج ہو سکتا ہے، لیکن اب تک ایسا نہیں ہوا۔

المیہ یہ ہے کہ ہم نے کبھی خود ڈارون کو نہیں پڑھا، بلکہ دوسروں کی زبانی سنی سنائی باتوں کو ہی حتمی سچ مان لیا۔ ہمارے نصاب میں بھی ارتقا جیسے اہم سائنسی موضوعات کو اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے کیونکہ اساتذہ یا تو خود اسے نہیں سمجھتے یا پھر اسے ”غیر اسلامی“ قرار دے کر پڑھانے سے کتراتے ہیں۔ یہی وہ پہلے سے طے شدہ خیالات اور آراء ہیں جو ہمارے فکری جمود کی بنیادی وجہ بنے ہوئے ہیں۔ ہم تحقیق اور مطالعے کے بجائے دوسروں کے نظریات کے پیچھے آنکھیں بند کر کے چلنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی نظریے کو محض سنی سنائی باتوں پر رد یا قبول نہ کریں بلکہ پہلے اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔ اگر کسی فلسفے یا آئیڈیے سے آپ متفق نہیں، تب بھی کم از کم اس کے بنیادی نکات کو سمجھنا ضروری ہے۔

میرے اردگرد بہت سے لوگ ہیں جو مختلف سماجی اور سیاسی نظریات پر شدید تنقید کرتے ہیں، لیکن جب ان سے پوچھا جائے کہ وہ نظریہ اصل میں کیا ہے، تو ان کے جوابات عموماً غلط فہمیوں پر مبنی ہوتے ہیں۔ کوئی آپ کو مجبور نہیں کر رہا کہ آپ اپنے خیالات ترک کر کے کسی مخصوص نظریے کو اپنائیں، لیکن کم از کم آپ کو اس کا درست مفہوم تو معلوم ہو۔

سوشلسٹ نظریات، کمیون ازم، لبرل ازم، سیکولرازم اور فیمن ازم۔ یہ سب وہ تصورات اور فلسفے ہیں جنہیں ہمارے معاشرے میں ایک مخصوص منفی رنگ دے دیا گیا ہے۔ ان نظریات کی حمایت کرنے والوں کو اکثر شدید تنقید اور گالیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میں ذاتی طور پر ان میں سے کئی خیالات سے متفق نہیں، مگر میں نے انہیں محض جذباتی بنیادوں پر رد نہیں کیا۔ میں نے ان کا مطالعہ کیا، ان کے حامیوں سے مکالمہ کیا، اور ان کے بنیادی اصولوں، اہم نکتوں کو سمجھنے کے بعد منطقی طور پر اپنا موقف بنایا۔

اگر آپ کسی خاص نظریے یا فلسفے کو رد کرنے جا رہے ہیں، تو خود سے ایک بنیادی سوال ضرور کریں، کیا میں نے واقعی اس نظریے کی اصل تعریف پڑھی ہے؟ کیا میں اس کے بنیادی مقاصد اور محرکات سے واقف ہوں؟ اگر جواب ہاں میں ہے، تو آپ کا رد بجا ہے۔ اور اگر نہیں، تو پہلے اس پر تحقیق کریں، کم از کم اس کی لغوی تعریف اور بنیادی نکات تو سمجھیں، پھر اپنی رائے بنائیں۔ قبول کرنا یا رد کرنا، دونوں ہی آپ کے اختیار میں ہیں مگر فیصلہ کرنے سے پہلے جاننا ضروری ہے۔

(ازم کسی نظریے یا فکر کو کہتے ہیں جسے لوگوں کا ایک مخصوص گروہ فالو کرتا ہو)

Facebook Comments HS