صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 34 : احساسِ محرومی
” کسی بات کی فکر نہ کرو بلکہ ہر بات میں دعا اور منت کے ساتھ شکرگزاری کے ساتھ اپنی درخواستیں خدا کے سامنے پیش کرو، اور خدا کی سلامتی جو سمجھ سے باہر ہے، وہ تمہارے دلوں اور خیالات کی مسیح یسوع میں حفاظت کرے گی۔“ فلپیوں 4 : 6۔ 7
اگلے اتوار کو حسب معمول انکل شاہد، آنٹی اور بچوں کے ساتھ سینٹ فلپس چرچ روانہ ہو گئے۔ ان کے گھر سے چرچ کا آدھا گھنٹہ پیدل کا راستہ تھا۔ مریم دانی ایل کا انتظار کرنے کے لیے گھر میں ہی رہ گئی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ دانی ایل بڑی سختی سے وقت کی پابندی کرتا ہے لہٰذا اس کے کان دروازے کے باہر اسکوٹر کی آواز سننے کے منتظر تھے۔ اس نے گھڑی دیکھی تو وہ پانچ منٹ لیٹ ہو چکا تھا۔ اس نے سوچا کہ دیر سویر تو ہو ہی جاتی ہے مگر اس کی نظریں مستقل گھڑی کی سوئی کا تعاقب کرتی رہیں اور جب مزید دس منٹ گزر گئے تو اچانک اسے دانی ایل کا آخری جملہ یاد آ گیا جو اس نے پچھلی اتوار کو اسے خدا حافظ کہتے ہوئے کہا تھا، ”مریم، بہتر ہو گا کہ ہم کچھ دن ایک دوسرے سے نہ ملیں تاکہ ہم دونوں کے زخموں کو بھرنے کا موقع مل جائے۔“ یہ جملہ اسے دل پر ہتھوڑے کی طرح لگا۔
”اِس کا مطلب ہے کہ دانی ایل اب نہیں آئے گا،“ یہ خیال آتے ہی اس کے گلے میں ایک گولا سا پھنس گیا۔ اس کا دل چاہا کہ دھاڑیں مار مار کر رونا شروع کردے۔ وہ تیز تیز قدموں سے آنگن میں ٹہلنے لگی۔ وہ محسوس کر رہی تھی جیسے کسی گہری کھائی میں گر پڑی ہو، جہاں ہر طرف سناٹا تھا، اور اس میں بار بار ایک ہلکی سی گونج سنائی دے رہی تھی، ”اب وہ نہیں آئے گا، اب وہ نہیں آئے گا۔“ اس کے اندر ایک طوفان برپا تھا، مگر وہ خاموش تھی۔ گلے میں پھنسے ہوئے اس گولے کی شدت نے جیسے اس کی سانسوں کو جکڑ لیا تھا، اور وہ دل کی گہرائی سے ایک چیخ مار کر اس کرب کو باہر نکال پھینکنا چاہتی تھی۔ سخت اعصابی تناؤ کی وجہ سے اس پر گھبراہٹ کا حملہ ہوا اور اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔ اس نے دروازے کے قریب ایک طاق میں رکھے ہوئے تالے کو اٹھایا جس کی ایک چابی اس کے پرس میں رہتی تھی، اور باقی دو چابیاں انکل شاہد اور آنٹی کے پاس تھیں۔ اس نے اپنا پرس اٹھایا اور دروازے میں تالا ڈال کر باہر سڑک پر نکل آئی۔ برابر سے کئی رکشے گزرے مگر کوئی خالی نہیں تھا۔ آخر ایک خالی رکشا اس کے سامنے سے ٹیوٹ ٹیوٹ کرتا ہوا اس کی طرف بڑھا۔ اس نے ہاتھ دے کر اسے روک لیا اور کینٹونمنٹ چرچ چلنے کے لیے کہا۔ اس نے محسوس کیا کہ اس کے اعصابی تناؤ میں اب کچھ کمی آ گئی تھی اور وہ اپنے جذبات کا جائزہ لینے کے قابل ہو گئی تھی۔ اس نے سوچا کہ اگر اس نے یوحنا عارف سے شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا تو اسے دانی ایل کا تعاقب کرنا بند کر دینا چاہیے مگر وہ اسے چھوڑ بھی نہیں سکتی تھی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ آخر وہ شادی شدہ ہونے کے باوجود دانی ایل سے افلاطونی رشتہ قائم کیوں نہیں کر سکتی تھی جو صرف دوستی کی حد تک ہوتا۔ اس کی مثال اس بچے کی تھی جو سارے کھلونے سمیٹ کر اپنی گود میں بھر لیتا ہے اور دوسرے بچے کو کسی کھلونے کو ہاتھ نہیں لگانے دیتا۔
مریم راستے بھر اسی ادھیڑ بُن میں لگی رہی یہاں تک کہ رکشا چرچ کے دروازے پر پہنچ کر رک گیا۔ وہ پیسے دے کر تیزی سے اتری کیوں کہ وہ کافی لیٹ ہو چکی تھی۔ اس نے آہستگی سے دروازہ کھول کر اندر جھانکا اور نزدیک ترین خالی نشست پر بیٹھ گئی۔ سروس آخری مراحل میں تھی اور پادری پال اختتامی دعا مانگ رہے تھے۔ تقریر کے دوران ان کی آواز میں بڑی گھن گرج ہوتی تھی مگر دعا کے دوران ان کے عجز اور رقّت سے کم زور دل کے لوگ اپنے آنسو نہیں روک سکتے تھے۔ مریم نے ہاتھ باندھ کر سر جھکایا اور آنکھیں بند کر کے توجہ پادری پال کی دعا پر مرکوز کرنے کی کوشش کی:
”اے ابدی خدا، جو اپنی بے پایاں رحمت میں ہمیں اپنی محبت، فضل اور رہنمائی سے نوازتا ہے۔ ہم تیرے حضور آتے ہیں، اپنے دلوں کو عاجزی اور شکرگزاری کے ساتھ جھکاتے ہیں۔ اے خدا، تو ہی ہماری روشنی، ہمارا راہ نما، اور ہماری قوت ہے۔ آج کی عبادت کے بعد ، جب ہم تیرے کلام کو لے کر دنیا میں جائیں تو ہمارے دلوں کو اپنی سچائی اور محبت کے ساتھ بھر دے، تاکہ ہم تیرے جلال کے لیے جئیں۔
”اے رب، ہم تیرے شکرگزار ہیں کہ تُو نے ہمیں آج اپنے کلام اور اپنی برکتوں سے تقویت بخشی۔ ہم تیرے پیار اور فضل کے لیے تیرا شکر ادا کرتے ہیں، جو ہمیشہ ہمارے ساتھ رہتا ہے۔ ہم تیری قدرت کے کاموں کی تعریف کرتے ہیں، اور مانگتے ہیں کہ تو ہمیں اپنی رضا میں رکھے۔
”اے خداوند خدا، اگر کسی طرح سے ہم نے تیرے حکموں کی خلاف ورزی کی ہے، تو ہم تیرے حضور آ کر معافی مانگتے ہیں۔ ہمیں اپنے فضل سے معاف کر دے، اور اپنے روح القدس کے وسیلے سے ہماری زندگیوں کو تبدیل کر دے، تاکہ ہم تیرے راستے پر چلیں اور تیرے جلال کے لیے جئیں۔
”باپ، بیٹے اور روح القدس کی برکت آپ کے ساتھ رہے، آمین۔“
دعا کے اختتام پر پادری پال نے الوداعی پیغام دیتے ہوئے کہا، ”میری دعا ہے کہ خداوند آپ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور ہر قدم پر آپ کی رہنمائی کرے۔ خدا آپ کو خوش رکھے اور آپ کی روح کو سکون عطا فرمائے۔ الوداع اور خدا حافظ۔“
دعا کے دوران حاضرین کے سر جھکے ہوئے تھے مگر مریم کی نظریں ایک نشست سے دوسری نشست تک اس امید پر ان کا جائزہ لے رہی تھیں کہ شاید ان میں کہیں دانی ایل موجود ہو۔ جب اس نے تمام نشستوں پر نظر دوڑا لی تو دوبارہ وہی سلسلہ شروع کر دیا مگر دوسری بار بھی اسے مایوسی ہوئی۔ حالانکہ پادری پال کے علاوہ تمام حاضرین پر رقت طاری تھی مگر مریم نے دعا کا ایک لفظ بھی نہیں سنا۔ اس کے دماغ میں ایک ہی سوال چکرا رہا تھا، ”دانی ایل کہاں ہے؟“
خدا خدا کر کے پادری پال نے حاضرین کو الوداع کہا اور لوگ اٹھ کر ایک دوسرے سے ملنے لگے۔ پادری پال دروازے پر آ کر کھڑے ہو گئے تاکہ وہ نکلنے والوں کی خیریت پوچھیں اور انہیں خدا حافظ کہیں۔ مریم اٹھ کر سب سے پچھلی نشست پر جا بیٹھی۔ اس کا موڈ کسی سے ملنے کا نہیں تھا اور وہ بے چینی سے ہال خالی ہونے کا انتظار کر رہی تھی۔ آخر کار جب آخری فیملی نے پادری پال کو خدا حافظ کہا تو وہ دروازہ بھیڑ کر ہال کی پشت پر اپنے دفتر کی طرف آئے اور ان کی نظر مریم پر پڑی جو ان سے ملنے کے لیے کھڑی ہو رہی تھی۔
”ارے بیٹی، تم اِدھر اکیلی بیٹھی کیا کر رہی ہو؟“ انہوں نے رک کر پوچھا۔
” فادر، میں آپ ہی کا انتظار کر رہی تھی،“ مریم نے جواب دیا۔
” آؤ، آفس میں بیٹھ کر باتیں کریں گے۔“
مریم پادری پال کے پیچھے چل دی۔ دفتر میں اپنی کرسی پر بیٹھتے ہوئے انہوں نے سامنے کی کرسی کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے مریم کو بیٹھنے کے لیے کہا۔
” کہو، تم آج اکیلی کیسے آئی ہو۔ دانی ایل کہاں ہے؟“ انہوں نے پوچھا۔
” فادر، میں آپ سے یہی پوچھنے آئی تھی کہ دانی ایل کہاں ہے۔“
” نہیں، میں بھی اتنا ہی جانتا ہوں جتنا تم جانتی ہو۔“
” فادر، آپ کو معلوم ہے کہ دانی ایل نے مجھے شادی کی پیش کش کی تھی؟“
” ہاں، اور مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ تم نے اس کی پیش کش قبول نہیں کی۔“
” مگر مجھے اس سے بے حد محبت ہے۔“
” تو پھر تم نے اس کی پیش کش رد کیوں کردی؟“ پادری پال نے اپنا چشمہ اتار کر رومال سے صاف کرتے ہوئے کہا، ”میں تو انتظار کر رہا تھا کہ تم کب میرے سامنے کھڑے ہو کر ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزارنے کے عہد و پیماں کر و گے۔ “
” فادر، کیا آپ ایک مرد اور عورت کے درمیان افلاطونی محبت پر یقین رکھتے ہیں؟“
” بالکل، میں سمجھتا ہوں کہ ایک مرد اور عورت کے درمیان دوستی ہو سکتی ہے۔ “
” بائبل کیا کہتی ہے؟“
” بائبل میں ممانعت نہیں بشرطیکہ دونوں اپنے درمیان خدا کو رکھیں۔ “
”تو پھر دانی ایل میری دوستی کو قبول کیوں نہیں کرتا؟“
” دانی ایل کے ساتھ تم افلاطونی رشتہ قائم نہیں کر سکتیں،“ پادری پال نے کچھ سوچ کر جواب دیا۔
” مگر کیوں؟“ مریم نے روہانسی آواز میں پوچھا۔
” اس لیے کہ دانی ایل تمہیں بیوی کے روپ میں دیکھتا ہے۔“
” آپ کو معلوم ہے کہ میں نے اپنے بچپن کے ایک دوست کی پیش کش کو قبول کر لیا ہے۔“
” نہیں، یہ مجھے معلوم نہیں تھا،“ پادری پال نے دوبارہ اپنا چشمہ پہنتے ہوئے کہا۔
”مگر میں دانی ایل کو بھی نہیں چھوڑ سکتی۔“
”اگر تم دانی ایل سے شادی نہیں کر رہیں تو میرا مشورہ یہ ہو گا کہ تم ابھی دانی ایل کو چھوڑ دو اور اپنے نئے رشتے پر دھیان دو۔ جب دانی ایل کی بھی کہیں شادی ہو جائے گی اور تمہاری طرف سے اس کا جذباتی دباؤ ختم ہو جائے گا تو پھر اس کے ساتھ تمہاری دوستی ہو سکے گی۔“
” مگر فادر، میں دانی ایل کی اداسی نہیں دیکھ سکتی۔“
” زخم پر ٹنکچر آیوڈین لگائیں تو جلن تو ہوتی ہی ہے مگر برداشت کرنی پڑتی ہے۔“
مریم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس نے اپنے سامنے میز پر رکھی پنسل کو اٹھایا اور سر جھکائے بیٹھی اسے ہلکے ہلکے میز پر مارتی رہی۔ پادری پال نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا اور ایک گہرا سانس لے کر ایک جانب رکھی ہوئی کتاب اٹھا لی۔

