بنگلہ دیش میں کچھ دن قسط 2
تحریر: ڈاکٹر شیرشاہ سید، ترجمہ: گوہر تاج
ہفتہ سات دسمبر 2024 ء
ہفتہ کی صبح کا آغاز صبح ساڑھے پانچ بجے غازی نذر السلام کے حلقے میں اس کے ساتھ ہوا۔ ہم ایک چھوٹی موٹر بوٹ پر اس جزیرے کو دیکھنے گئے تھے جو اچانک غائب ہو جاتا ہے اور 65000 لوگوں کو مرکزی زمین پر آنا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر نذرل نے کہا کہ انہوں نے پچاس اور ساٹھ کی دہائی کے عمر کے کئی بوڑھے مردوں کو دیکھا کہ جن کی پندرہ سے بیس سال کی عمروں کی نئی نویلی کمسن بیویاں تھیں۔ انہیں پتہ چلا کہ غیر شادی شدہ نوجوان لڑکیوں کے والدین اپنا سب کچھ کھو چکے ہیں اور نئے سرے سے زندگی کی شروعات کر رہے ہیں۔ اس وقت انہیں اپنی بیٹیوں کی حفاظت کے چیلنج کا سامنا ہے۔ اس کا آسان حل یہی سمجھا گیا کہ ان کی شادی ایسے شخص سے کر دی جائے جو انہیں بیوی بنا کے اپنا سکے تاکہ ان کو سپورٹ ہو سکے۔ یہ لڑکیوں کی زندگیوں پر موسمیاتی تبدیلیوں کا اثر ہے۔
بہت چھوٹی ماؤں میں زچگی کی موت کی شرح بہت زیادہ ہے اور وہ بری جنسی چوٹوں کا شکار ہیں۔ جب ہم نے مدفن چھوٹے جزیرے کے مقام کا دورہ کیا تو صبح کا موسم تکلیف دہ ہو گیا۔
ہم دریائے مالم چا سے نکلے جو سمندر کے کونے رائی منگول پر ختم ہوتا ہے، جہاں سے یہ جزیرہ شدید موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے غائب ہو جاتا ہے۔
ہم صبح 8 بجے بی ایچ یو میں رکے اور ایک لیڈی ہیلتھ ورکر پروین سے ملاقات کی، جنہوں نے تازہ لذیذ امرودوں اور بہت بڑے شریفوں سے ہماری خاطر کی۔ اس تواضع کے بعد ہمیں یتیم بچوں کے ساتھ ناشتہ کرنے کے لیے مدرسے جانا تھا جہاں ہمیں مدرسہ کے انچارج اور مسجد کے امام سے ملنا تھا۔ وہ ہمارے منتظر تھے۔ فجر کی نماز کے فوراً بعد ہمارا ناشتہ لگا دیا گیا۔ جو لال ساگ، پنجرے کی قید سے آزاد مرغی کے ابلے انڈوں اور سلاد کے ساتھ بہت لذیذ کھچڑی پہ مشتمل تھا۔
مدرسے میں تیئس بچے تھے جو تعلیم حاصل کر کے حافظ بنے۔ وہ سب لوگ ہم سے گرمجوشی سے ملے اور بہت خوشی سے اپنی سرگرمیاں بتائیں۔
اس مدرسے کے انچارج مولانا جہانگیر صاحب ہیں جو ان بچوں کو پڑھاتے ہیں۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ کسی بھی طالب علم کو نہیں مارتے ہیں۔ میں نے ان سے بچوں کو پڑھائے جانے والے نصاب کی بابت پوچھا۔ ہمیں بتایا گیا کہ نصاب میں ریاضی شامل نہیں۔
ہم سے طویل بحث کے بعد امام اور مسجد کے صدر اس بات پر متفق ہو گئے کہ ان بچوں کے نصاب میں سائنس اور ریاضی کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔
ان بچوں کے پاس رہائش کے لیے ایک کمرہ ہے، جہاں وہ پڑھتے اور کھانا کھاتے ہیں۔ مسجد میں نماز ادا کی جاتی ہے۔ بچوں کو دیکھ کر بظاہر تو ایسا لگا کہ وہ اچھے ماحول میں رہ رہے ہیں لیکن پھر بھی میری خواہش تھی کہ وہ کسی ایسے اسکول میں جائیں جس میں مناسب کلاس، کھیل کا میدان، آڈیٹوریم اور تربیت یافتہ فیکلٹی ہو۔ لیکن اپنے دل میں جانتا تھا کہ ایسا نہیں ہو گا کیونکہ انتظامیہ اسی طرز تعلیم پہ یقین رکھتی ہے جس میں تبدیلی ممکن نہیں۔
آرگنائزنگ کمیٹی نے ہمیں مسجد کے سامنے الوداع کہا۔ اب ہم نے اپنے سفر کو جاری رکھا۔ ہماری اگلی منزل ایک ہسپتال تھی جہاں مجھے پوسٹ گریجویٹ تربیتی طلباء کے لیے محفوظ ہسٹریکٹومی پر ایک چھوٹی سی ورک شاپ کرنا تھی۔
عورتوں کا میڈیکل کالج :
بالآخر ہم پلہارت جیسور میں قائم عدین سکینہ ویمن میڈیکل کالج اور ہسپتال پہنچے۔ یہ ایک بہت بڑا کمپلیکس ہے جس کی معاونت اور تعمیر بنگلہ دیش کے ایک بہت ہی امیر بزنس مین نے کی ہے۔ وہ دو گرلز میڈیکل کالج اور دو کو ایجوکیشنل میڈیکل کالج کے مالک ہیں۔
میڈیکل کالج میں داخل ہونے کے لیے سب سے پہلے آپ کو اپنے جوتے اتارنے پڑتے ہیں۔ تمام عملہ اور طلباء کے پیر جوتوں سے عاری تھے، پوری عمارت ائر کنڈیشنڈ ہے۔ اسپتال کے مالک چاہتے ہیں کہ آنے والوں کے جوتوں کی مٹی اندر نہ آئے۔
یہ کالج بنگلہ دیش میں سب سے سستا میڈیکل کالج ہے۔ جہاں طلباء نہ صرف بنگلہ دیش بلکہ دوسرے ممالک کے مختلف علاقوں سے تعلیم کی غرض سے آئے ہوئے ہیں۔ جس کے لیے انہیں ایم بی بی ایس کے پانچ سالہ کورس کے لیے 20 لاکھ ٹکہ ایڈوانس اور دس ہزار ٹکہ ماہانہ ادا کرنا ہوتے ہیں۔ میں سری نگر کے دو فائنل ائر کے طالب علموں سے ملا، ایک کا تعلق بھگوان پور سے اور دو لڑکیاں راجھستان کی تھیں۔
او بی جی وائی (OBGY) میں میڈیکل کے طلباء اور پوسٹ گریجویٹ ٹرینیز کے ساتھ بہت دلچسپ گفتگو ہوئی۔ میں نے ایک محفوظ ہسٹریکٹومی ورکشاپ کا انعقاد کیا اور پروگرام کے مطابق دو سرجریاں انجام دیں۔
شام کے وقت ہم جیسور سے ڈھاکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ ڈرائیور بہت اچھا تھا اور اسے اس شہر ڈھاکہ پہنچنے میں چار گھنٹے لگے۔ وہ شہر کہ جہاں عوام نے اپنے ملک کی آزادی کے لیے جانیں قربان کیں۔
تمام دن کی تھکن کے بعد میں سو گیا تاکہ اگلے دن اتوار کی صبح 6 بجے بیدار ہو کے تیار ہو سکوں۔
اتوار 8 دسمبر 2024 ء
بنگلہ دیش میں جمعہ اور ہفتہ کو چھٹیاں ہوتی ہیں۔ اتوار ہفتے کا پہلا کام کا دن ہے۔ ڈاکٹر نظام الملک نے مجھے میری قیام گاہ سے صبح چھ بجکر پینتالیس منٹ پہ لیا۔ سڑکوں پر ہجوم تھا۔ ہر کوئی جلدی میں نظر آتا تھا۔ ہم یونیورسٹی پہنچے اور ہسپتال کی ”دیدی کینٹین“ میں ان طلبا کے ساتھ ناشتہ کیا جن کے ساتھ میں ڈھاکہ شہر سے ستر کلومیٹر دور فیلڈ ٹرپ پر جا رہا تھا۔
ناشتہ زبردست تھا، آلو کی بھجیا، انڈے سے بنی دو قسم کی ڈشیں، گرما گرم چپاتی اور میٹھا سموسہ سب کچھ ہی بہت لذیذ تھا۔
ناشتہ کے بعد ہمیں سفر اور اس کے مقصد کے بارے میں بتایا گیا۔ ہم پرائمری ہیلتھ کیئر سینٹر اور فیملی پلاننگ ادارے کی خدمات دیکھنے جا رہے تھے۔
پہلے ہم خاندانی منصوبہ بندی کے مشورے کے مرکز پہنچے جہاں کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے اپنی ٹیم کے ساتھ ہمارا پرجوش استقبال کیا۔ ہمیں ایک سیمینار روم میں لے جایا گیا۔ ڈپٹی ڈائریکٹر نے FP سروسز، LSCS کی شرح میں اضافہ اور معمولی اور بڑی سرجری سے وابستہ بیماریوں کے بارے میں مختصر سی گفتگو کی۔
انہوں نے مجھ سے پاکستان کے حالات کے بارے میں بھی سوالات کیے۔ عمارت میں داخل ہوتے وقت اینٹرنس پہ میں نے مختلف زبانوں میں ماں کو پکارے جانے والے الفاظ کا پوسٹر دیکھا۔ جس نے مجھے بہت متاثر کیا۔
ہماری گرمجوشی سے کی جانے والی گفتگو ایل ایس سی ایس یعنی لوئر سیکشن سیزیرین سیکشن کے کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد کے بارے میں تھی۔ میں نے اپنے میزبان ماہرین کو بتایا کہ اپنے ہسپتال میں ہم کوشش کرتے ہیں کہ اسے سیزرین سیکشن نہ کہا جائے۔ اس کے بجائے ہم اسے Abnormal Abdominal Delivery کہتے ہیں۔
اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اس کی شرح پیدائش کے بعد کی پیچیدگیوں اور یہاں تک کہ زچگی کی اموات سے بھی وابستہ ہے۔
ہم سب اس بات سے اس بات سے متفق تھے کہ خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات کے ساتھ ہمیں بانجھ پن کے علاج کے لیے بھی بنیادی خدمات فراہم کرنی چاہئیں۔ بانجھ آبادی کی ایک بڑی تعداد ہے جنہیں ہم پیشگی علاج کے بارے میں مشورہ دیتے ہیں۔
گفتگو کے بعد مختلف پھلوں سے ہماری تواضع کی گئی۔ پھر ہم نے اپنا اگلا سفر چھوٹے دیہی علاقوں کے بنیادی ہیلتھ یونٹ سے شروع کیا۔ نکلنے سے پہلے بحث کا ایک موضوع انسانی وسائل کی کمیابی سے متعلق تھا۔ قابل ڈاکٹرز، قابل صحت کارکنان اور طبی عملے دیہی علاقوں میں جا کر کام کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اس کا جواب بہت آسان ہے۔ وہ سعودی عرب میں کام کرنے کے لیے تیار ہیں کیونکہ وہاں انہیں اچھی تنخواہ ملتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر حکومت لوگوں میں دلچسپی رکھتی ہے تو وہ انہیں مناسب معاوضہ دے تاکہ وہ ملک نہیں چھوڑیں۔
جس مرکز میں ہم گئے وہ ایک صدی پرانا مرکز ہے جسے بنیادی صحت مہیا کرنے والے کارکن چلاتے ہیں۔ جہاں کا عملہ لوگوں کو قبل از پیدائش کی دیکھ بھال، خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات اور الٹراسونک معائنہ فراہم کرتا ہے۔ ہم نے ایک پراعتماد لڑکی سے گفتگو کی اور اس سلسلے میں درپیش دشواریوں کے متعلق سوالات پوچھے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یونیسف اور دیگر ایجنسیاں غریب لوگوں کی دیکھ بھال کرنے کے لیے ہمارے جیسے ممالک کے پاس ہی کیوں آتی ہیں؟ اس کی وجہ بہت سادہ ہے کہ ہماری سیاسی قیادت کے پاس عوام کے لیے اور خاص طور پر غریب خواتین اور نظر انداز ہوئی بچیوں کے لیے وقت نہیں ہے۔ غریب قوم مفت برے اور ہنگامی دیکھ بھال فراہم کرنے والوں کی مدد کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ ملک کے اشرافیہ اور طاقتور لوگوں کی کرپٹ مافیا انہیں مجرمانہ حد تک نظر انداز کرتی ہے۔ ایسے کرپٹ نظام کو جاری نہیں رہنا چاہیے۔
ہمارے جیسے ممالک میں غریبوں اور ضرورت مندوں کی صحت کی دیکھ بھال کی فراہمی ایک چیلنج ہے جو سیاسی رہنماؤں کے عزائم کے بغیر ممکن نہیں۔ ایک سیاسی عزم جو ماؤزے تنگ نے کر دکھایا، جنہوں نے ننگے پاؤں (bare foot) ڈاکٹروں کی ایک فوج تشکیل دی، جس نے عوام کو احتیاطی صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے میں ایک اہم رول ادا کیا۔ تیس سال کے بعد یہ ننگے پاؤں ڈاکٹر مختلف قسم کے طریقہ کار کے ساتھ نظام میں جذب ہو گئے۔ اس قسم کے اقدامات ایسے رہنما ہی اٹھا سکتے ہیں جو فوج کے بجائے عوام سے آتے ہیں۔
(جاری ہے )

