ادارہ فکر جدید میں بین الاقوامی مہمانوں کی آمد
ڈاکٹر عبد الباسط ظفر جرمنی اور ایلینا ڈینی صاحبہ اٹلی سے تعلیمی دورے پر پاکستان تشریف لائے۔ اس موقع پہ ادارہ فکر جدید نے دونوں مہمانوں کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام کیا تھا۔ بین الاقوامی مہمانوں کا ادارہ فکر جدید میں، پرتپاک استقبال کیا گیا۔ ڈاکٹر باسط ظفر اور ایلینا ڈینی صاحبہ کا استقبال چیئرمین ادارہ فکر جدید صاحبزادہ محمد امانت رسول اور ان کی اہلیہ نورین امانت صاحبہ نے کیا۔ مہمانوں کا استقبال کرنے والوں میں جناب شعیب رضا، حافظ شوکت علی، محترم احمد بلال، مولانا بشارت علی، ڈاکٹر قیصر محمود، ڈاکٹر یاسر اور شارق رسول شامل تھے۔ سب سے پہلے دونوں مہمانوں کو ادارے کا دورہ کروایا گیا۔ اس کے بعد ادارے کی تمام ٹیم اور وہاں موجود افراد نے مہمانوں کو اپنا تعارف کروایا اور ان کے ساتھ گفت و شنید ہوئی۔ دونوں مہمانوں نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے اپنے علمی سفر پر روشنی ڈالی۔
ڈینی صاحبہ نے اپنے بین المذاہب ہم آہنگی کے مشن کے حوالے سے تفصیلی طور پر بتایا کہ کیسے انھوں نے اس شعبے میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا اور اس حوالے سے انھیں کیا چیلنجز درپیش آئے اور کس طرح ان سے نبرد آزماء ہوئیں۔ ڈاکٹر باسط ظفر صاحب نے اپنے سفر کو دلچسپ انداز میں انسانی شعور کی ترقی کے ساتھ تشبیہ دی کہ جس میں پہلے مادہ، پھر شعور اور پھر مابعد الطبیعات آتی ہے۔ مہمانوں کے ساتھ گفت و شنید ہونے کے بعد ان کے لئے پُرتکلف کھانے کا اہتمام کیا گیا جس میں ادارے کی ٹیم اور مدعو کیے گئے افراد بھی شامل تھے۔ کھانے کی میز پہ مہمانوں کے ساتھ دلچسپ موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ میڈم ایلینا ڈینی پاکستان کے حوالے سے بہت تجسس رکھتی ہیں، یہ تجسس اُن کے سوالات سے عیاں تھا۔ انھوں نے تمام میزبانوں کے ساتھ گفتگو کی اور معاشرے میں بڑھتا عدم برداشت اور اس میں بہتری کے لئے کیے جانے والے معاشرتی اقدامات کے حوالے سے جاننا چاہا۔ ڈاکٹر باسط ظفر نے کھانے کی تعریف کی اور اپنے مزاج کے عین مطابق پایا۔ دعوت 9 فروری بروز اتوار تھی۔
منگل کے روز ادارہ فکر جدید کے زیر انتظام پاکستان بھر کے طلباء کے لئے ماہانہ منعقد کیے جانے والا تدبر کیمپ تھا جس میں عمومی طور پر مختلف مہمان اسپیکر تشریف لاتے ہیں لیکن اس مرتبہ تدبر کیمپ ہمارے بین الاقوامی مہمان تدبر کیمپ کے مہمان سپیکر تھے۔ یہ طلباء و طالبات کے لئے ایک اچھا موقع تھا کہ انہوں نے دونوں معزز مہمانوں کے علم و تجربہ سے استفادہ کیا 11 فروری کا منعقد کردہ تدبر کیمپ کا آغاز صبح 10 بجے ہوا۔ تدبر کیمپ کے سیشنز میں ڈاکٹر باسط ظفر اور ایلینا ڈینی صاحبہ مشترکہ طور پر شریک ہوئے۔ پہلے سیشن کے آغاز میں سب نے اپنا تعارف کروایا۔ اس کے بعد طلباء و طالبات کو ایک مختصر سی سرگرمی کروائی گئی جس میں تمام شرکاء کرام کو الگ الگ تصاویر دی گئیں جن پہ مختلف ممالک کی مختلف تاریخی عمارات چسپاں تھیں۔ اس کے بعد طلباء و طالبات سے ان کی تصویر کے متعلق ان کی رائے مانگی گئی۔ یہ ایک طرح کی برین سٹورمنگ سرگرمی تھی۔ طلباء و طالبات نے مختلف آراء دیتے ہوئے مذہب اور ریاست کے مشترکہ کردار اور اس کے امکانات پہ سوالات کیے، انہیں اپنے خیالات کے اظہار کا بھرپور موقع دیا گیا اور مہمان اسپیکرز نے بھی بچوں کو تسلی بخش جوابات دیے۔ اس کے بعد 15 منٹ کا وقفہ لیا گیا۔
وقفہ کے بعد ڈاکٹر باسط ظفر نے تقابلِ ادیان میں موجود رجحانات پر روشنی ڈالی۔ اس دوران انھوں نے طلباء و طالبات کو چند کتابوں سے روشناس بھی کروایا جس میں Christmas in Quran نمایاں ہے۔ دوسرا سیشن ایلینا ڈینی صاحبہ کا تھا جس میں انھوں نے بین المذاہب ہم آہنگی کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اور اس میں کارفرما اہم اصولوں پہ روشنی ڈالی۔ اس حوالے سے بھی بات کی گئی کہ آیا مختلف مذاہب سے منسلک افراد کے درمیان امن ممکن ہے؟ مزید برآں اس مقصد کے حصول میں چرچ اور اکادمیک کردار کی اہمیت پر بھی بات کی گئی۔ میڈم ڈینی نے تمام شرکاء کو سیشن میں لا تعلق نہیں ہونے دیا اور تمام نوجوانوں کو اپنی گفتگو کے دوران شریک رکھا۔ انھوں نے نوجوانوں کو معاشرے کی فلاح میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لئے مختلف طریقوں سے روشناس کروایا جن کے ذریعے وہ اپنی زندگی کے مختلف شعبوں میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ مجموعی طور پر مس ڈینی کی مکمل توجہ بچوں کی فکری تربیت کے جدید اسلوب پر مرکوز رہی جس کے ذریعے وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ جن میں گفتگو، مثبت سوچ اور انسانی رشتوں یا تعلقات کا بہترین فہم ہے۔ دوسرے سیشن کے اختتام پر کھانے کا وقفہ ہوا۔
وقفے کے بعد ایک اور سرگرمی کروائی گئی جس میں طلباء کو چار گروہوں میں تقسیم کیا گیا۔ ہر ایک گروہ میں چار افراد تھے۔ چاروں کو اپنی زندگی کی کوئی بھی کہانی سنانی تھی جس کو مد نظر رکھتے ہوئے باقی تین افراد کو اس کہانی میں سے جذباتیت، حقیقت اور سبق اخذ کرنا تھا۔ اس سرگرمی کے بعد سب نے تفصیلی طور پر گروہ کی صورت میں اپنی کہانیاں سنانی تھیں اور ان پر تبصرہ کرنا تھا لیکن اس سے پہلے شرکاء کے ساتھ مراقبہ سیشن کیا گیا جس کی انسٹرکٹر ڈاکٹر فرحین قریشی تھیں۔ مراقبے کا دورانیہ 20 منٹ تھا۔ جس کے بعد اپنی کہانیوں پر تبصرہ کرنے والی سرگرمی شروع ہوئی۔ سب نے پُر جوش انداز میں اپنی زندگی سے متعلق کہانیاں سنائیں اور ان پر طلباء طالبات کی جانب سے بہترین تبصرہ کیا گیا اور یہ ہمارے دونوں مہمانوں کے لئے باعث مسرت تھا کہ طالب علم گفتگو کے آداب سے کس حد تک روشناس ہیں اور وہ بولنے کے ساتھ ساتھ سننے کو بھی فوقیت دیتے ہیں۔ اس سرگرمی کے بعد صاحبزادہ محمد امانت رسول صاحب چیئرمین ادارہ فکر جدید نے اختتامی الفاظ ادا کیے جس میں انھوں نے مہمانان گرامی کا شکریہ ادا کیا کہ وہ ادارہ فکر جدید تشریف لائے اور تدبر کیمپ کا حصہ بنے اور نوجوانوں کی بہترین راہنمائی فرمائی۔ امانت صاحب نے اپنی ٹیم کا بھی شکریہ ادا کیا جن کی ان تھک محنت سے ادارہ اپنے علمی و فکری اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہا ہے۔ ادارے کے اہداف کے حوالے سے مختصر بتایا کہ اس کا مقصد نوجوانوں کو جدید فکر سے روشناس کرانا اور ان کے مطابق ان کی تربیت کرنا ہے تاکہ وہ اپنی منزل کا تعین کر سکیں۔ اختتامی کلمات کے بعد مہمانوں اور شرکاء کے ہمراہ گروپ تصویر لی گئی، تدبر کیمپ کے اختتام پہ میڈم ڈینی نے طلباء و طالبات کی حوصلہ افزائی کے لئے ان میں سرٹیفیکیٹس بھی تقسیم کیے۔


