آئی فیل (I Feel)


آئیے دوستو! آج میں آپ کو پاکستان کے ایسے روشن چہروں سے ملواتی ہوں، جو ہمارے ہی نہیں بلکہ حکومت کے حصے کے کام بھی اپنی مدد آپ کے تحت خوش اسلوبی سے کر رہے ہیں۔ جنہیں دیکھ کر بہار کے موسم کی سی تازگی محسوس ہوتی ہے۔ جن کی شاخوں پر ہری بھری کونپلوں اور چمکتی ہوئی امیدوں کے نئے پھول کھلتے ہیں۔ جن کی خوشبو نئی زندگی، نئی سوچ، اور نئے راستے متعین کرتی ہے۔ یہ قصہ ہے آئی فیل I Feel کا، جو اب وی فیل We Feel کا قافلہ سالار بن چکا ہے۔

2007 میں مہرین (جو فاسٹ یونیورسٹی کی گریجویٹ تھیں ) نے اپنی کچھ دوستوں اور ایف الیون کی کمیونٹی کے ساتھ مل کر سوچا کہ اگر پاکستان کے لیے کچھ کرنا ہے تو لوگوں کی سوچ کو بدلنا ہو گا۔ انہیں تعلیم دینی ہو گی۔ ان کی زندگیاں صرف اور صرف سوچ سے بدلی جا سکتیں ہیں۔

ایف الیون کی کچی بستی میں مقیم مائیں اپنی بچیوں کو گھروں میں چھوڑ کر دوسروں کے گھروں میں محنت مزدوری کرتی تھیں۔ یا پھر اُن بچیوں کو بھی ساتھ لے جاتی تھیں اور اُن سے بھی مزدوری کرواتی تھیں۔ مہرین اور اُس کی دوستوں نے اِن ماؤں کو قائل کیا کہ وہ انہیں سکول بھیجیں اور پڑھائیں۔ تاکہ اُن کی زندگیوں میں بہتری آئے۔ سو سب ساتھیوں نے مل کر (جس میں مہرین کی والدہ ڈاکٹر طیبہ جو ایف سیون کالج کی پرنسپل تھیں ) ایف الیون کے ایک سرکاری سکول کی پرنسپل سلمی حسین سے چند خالی کمرے لیے اور آئی فیل کی بنیاد رکھدی۔

آج مجھے یہ سب لکھتے ہوئے ریلوے اسٹیشن پر گھومتی ہوئی وہ بچی یاد آ گئی جس کا ذکر میں نے اپنے سفاری ٹرین والے مضمون میں کیا تھا۔ اس کی ماں لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھی اور وہ ریلوے اسٹیشن پر آوارہ پھر کر لوگوں سے پیسے مانگتی تھی۔ اف اُس بچی کے ساتھ کیا کیا نہیں ہو سکتا؟ وہ کن کن ہاتھوں میں جا سکتی ہے۔ میں سوچ کر ہی کانپ گئی اور مہرین کی اس کوشش کی دل ہی دل میں داد دیتے ہوئے میری آنکھیں بھیگ گئیں۔

درد دل رکھنے والی مہرین اور اُس کی دوستوں نے مل کر اپنے محدود ذاتی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ان بچوں کے لئے نہ صرف کلاس روم کی سہولیات مہیا کیں بلکہ اُن بچوں کے لیے کھانے پینے، یونیفارم اور کتابوں وغیرہ کا بھی اہتمام کیا۔ انہوں نے اس سرکاری سکول کے سلیبس کو لے کر ہی ان بچوں کی تعلیم کا آغاز کیا۔
محنت، لگن، دلچسپی، ہمدردی، اللہ پر بھروسا، وطن سے محبت کا جذبہ، اور اسلام کی ترویج کا بھلا اس سے بہتر طریقہ اور کیا ہو سکتا تھا۔

میں سوچ رہی ہوں۔ ایسا کوئی بھی کام سوچتے ہوئے میرے جیسے گنہگار کے دل میں یقیناً یہ خیالات گردش کرتے۔

یہ کام ہمارا نہیں، اور نہ ہی ہمارے بس میں ہے۔
یہ تو حکومت کا فرض ہے، ہمارا اس سے کیا تعلق؟
ہم اپنی ذمہ داریاں نبھا چکے۔ ہماری عمر اور صحت اجازت نہیں دیتی کہ ہم نیا کام شروع کریں۔
ہمارے مرنے کے بعد یہ ذمہ داری کون سنبھالے گا؟ وغیرہ وغیرہ

مگر آئی فیل کے رضاکاروں کا یقین کتنا پختہ ہو گا کہ وہ ثابت قدمی سے اپنے مقصد کی تکمیل میں لگی رہیں۔ اور اپنی تمام تر جمع پونجی اس کار خیر پر خرچ کرتی رہیں۔

کل پندرہ فروری، جب ایک روز پہلے کافی لوگ ویلنٹائن ڈے منا چکے تھے، مہرین اور ان کی تمام رضاکار ساتھیوں کی محبت کا یہ رنگ ڈھنگ اور نرالا پن میری آنکھوں کو نمی دے گیا۔

آج H۔ 9 سیکٹر کے بوائز کالج کے وسیع لان میں آئی فیل کی سترہ 17 برانچوں کا مشترکہ سالانہ سپورٹس ڈے تھا، جس میں آئی فیل کے تقریباً دو ہزار بچے شرکت کر رہے تھے۔ میں ان بچوں میں گھل مل گئی۔ صاف ستھرے یونیفارم میں پُر اعتماد بچوں کے چہروں پر خوشی کا ہر رنگ رقصاں تھا۔

بتیس 32 لڑکیوں اور چند کمروں سے شروع ہونے والے اس سکول کی اب سترہ 17 برانچیں مختلف علاقوں (I۔ 8، I۔ 9، I۔ 10، G۔ 6، G۔ 8، G۔ 14، F۔ 12۔ E۔ 9۔ D۔ 12، ترنول۔ میرا اکو۔ ایف 12 ڈلا۔ گورا مست ) کے علاوہ بھی کچھ جگہوں پر برانچیں ہیں۔

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

اور پھر یہ خاص بات بھی ملاحظہ فرمائیے۔ کہ جن بچیوں نے یہاں سے تعلیم مکمل کی اب وہ بچیاں اس سکول میں تعلیم دے رہی ہیں۔ اور کچھ بچیاں جنہوں نے سلائی سیکھی وہ ان بچوں کے یونیفارم سی رہی ہیں۔ یعنی تقریباً اٹھارہ سال کے عرصے میں یہ ادارہ مکمل طور پر خود کفیل ہو چکا ہے۔

اس سکول میں غریبوں کے ان بچوں کے لئے کھانا، کتابیں، سٹیشنری، اور یونیفارم مفت مہیا کیا جاتا ہے۔ اب تک تو اخراجات ان ماں بیٹی، اور ان کے رشتہ داروں، عزیزوں، دوستوں اور ساتھیوں کے لئے قابل برداشت تھے۔ مگر مہنگائی اور بڑھتی ہوئی برانچز کی وجہ سے معاشی مشکلات بھی بڑھتی جا رہی ہیں۔

میں تو یہ سوچ کر ہی کانپ جاتی ہوں کہ کہیں آگہی کا یہ سفر وسائل کی کمی اور مسائل کی زیادتی سے تعطل کا شکار نہ ہو جائے۔ اللہ ہمیں بھی توفیق دے کہ آئی فیل IFeel کو وی فیل We Feel میں بدلنے کے لیے اُن کا ہاتھ بٹائیں اور جتنا ممکن ہو سکے اُن بچوں کی مدد کریں، تا کہ جو چراغ مہرین اُس کی دوستوں اور ساتھیوں نے اپنے خون جگر سے جلایا ہے، اُس کی لو ٹمٹمانے نہ پائے۔

Facebook Comments HS