"سفر نامہ ”تھائی لینڈ کے سنگ


اُردو ادب میں سفر نامہ نگاری کی روایت بہت قدیم ہے۔ اُردو سے پہلے عربی و فارسی ادب میں کئی ایک بہترین سفر نامے لکھے جا چکے ہیں۔ اُردو ادب میں یہ صنف فارسی ہی کی بدولت در آئی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے سفرنامہ نگاروں نے اس صنف ادب کو عروج کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ ویسے تو ہر انسان سفر کے تجربات سے گزرتا ہے اور وہ اپنے مشاہدات اور احساسات کو اگر صفحہ قرطاس پر اتار نہیں سکتا تو کم از کم دوستوں کو سفر کی روداد سنانے کی تمنا ضرور دل میں لیے پھرتا ہے۔ تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ کچھ سفرنامے تحریری ہوتے ہیں اور کچھ بیانیہ۔ بیانیہ سفرنامے کی روداد سنانے کا تصور ہماری دیہی زندگی میں آج بھی رائج ہے۔ سفر نامے کو بیانیہ نثری صنف بھی کہا جاتا ہے۔ دوران سفر سیاح جن تجربات سے گزرتا ہے، جو کچھ دیکھتا اور محسوس کرتا ہے اسے حتی الوسع ضبط تحریر میں لانے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔ کچھ سفر نامے بہت طویل ہوتے ہیں اور کچھ بہت ہی مختصر۔ سفرنامہ نگار اپنی سفری روداد میں اس ملک یا خطے کا جغرافیائی محل وقوع، تاریخی مقامات، سیر و سیاحت کے مقامات، تہذیب و تمدن، رسم و رواج، سیاسی، سماجی اور معاشی حالات کے ساتھ ساتھ زبان و ادب پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔ جس سے ایک طرف ادبی فن پاروں میں اضافہ ہوتا ہے تو دوسری طرف قاری کے پاس اس ملک کے بارے میں ضروری معلومات بھی بہم پہنچ جاتی ہیں۔

جدید دور میں اُردو سفرنامہ نگاری کی روایت میں ایک خوبصورت اضافہ ڈاکٹر الطاف حسین یوسفزئی کی صورت میں نظر آتا ہے۔ وہ درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں اور تحقیق و تنقید ہی ان کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ انھوں نے اپنے آپ کو درس و تدریس تک محدود نہیں رکھا بلکہ اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کے لیے تصنیف و تالیف کی طرف بھی بھر پور توجہ دی ہے۔ زیر نظر سفر نامہ ”تھائی لینڈ کے سنگ“ ڈاکٹر الطاف کا پہلا سفر نامہ ہے جس میں انھوں نے تھائی لینڈ کے سفر کا آنکھوں دیکھا حال لکھا۔ حالانکہ یہ ایک سرکاری تربیتی کورس تھا اور اس گروپ میں مختلف ممالک کے تقریباً تیس اساتذہ شامل تھے جس کا مقصد اساتذہ کی تعلیمی و فنی قابلیت کو بڑھانا تھا لیکن انھوں نے اپنے اس سفر کو محض تفریح اور سیر و سیاحت تک ہی محدود نہ رکھا بلکہ سفر کے بعد ایک عدد کتاب کا مسودہ بھی ساتھ لے آئے۔ سفرنامے کا آغاز مختار مسعود کی تحریر سے ہوتا ہے۔ سفر شروع ہوتے ہی سفرنامہ نگار اپنے دل و دماغ میں اس ملک کے بارے میں سوچنے لگتا ہے اور خود سے کچھ بنیادی سوال پوچھتا ہے کہ وہ اس ملک کے بارے میں کیا جانتا ہے۔ اس سفر سے پہلے ان کی معلومات تھائی لینڈ کے بارے میں ایک عام آدمی سے زیادہ نہیں تھیں اگر وہ کچھ جانتے بھی تھے تو یہ تین الفاظ۔ بنکاک، بدھ مت اور بارش۔ سفرنامہ نگار آغاز ہی سے اپنے قاری کو تجسس اور ورطہ حیرت میں ڈال دیتا ہے اور قاری یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اتنی کم معلومات کی بنا پر سفرنامہ نگار کیسے ایک انجان ملک میں اپنے روز و شب بسر کرے گا۔ لیکن انجام اس سے بالکل برعکس ہوتا ہے سفرنامہ نگار حیرانی و تجسس کے کئی بند در دھیرے دھیرے وا کیے جاتا ہے اور قاری یہ محسوس کرتا ہے کہ جیسے وہ تھائی لینڈ کی سڑکوں پر گھوم پھر رہا ہو۔ یہ صرف تین الفاظ ہی نہیں بلکہ تھائی لینڈ کا ایک بہترین عکس ہیں۔ اس سفر نامے کی بدولت انھوں نے تھائی تہذیب و تمدن سے اپنے ملک کے لوگوں کونہ صرف روشناس کروایا بلکہ دونوں ملکوں کے باسیوں کے خصائص اور نقائص بھی بیان کر ڈالے۔ سفرنامہ نگار نے پاکستان اور دیگر ممالک سے آنے والے لوگوں کا بھی ذکر کیا ہے اور اپنے مشاہدات قلم بند کیے ہیں۔

بنکاک پہنچے تو دیکھا وہی ترقی یافتہ شہروں والا ماحول، بلند و بالا عمارتیں، فلک بوس مینار، کشادہ سڑکیں، انجنوں کا شور، بھانت بھانت کے لوگ اور قسم قسم کی زبانیں، زندگی اپنی پوری رعنائی کے ساتھ جلوہ گر تھی۔ گاڑیوں کے ہجوم کے باوجود ہارن کی آواز کہیں سنائی نہ دیتی تھی۔ ایمبیسڈر ہوٹل میں ان کی رہائش کا بندوبست کیا گیا تھا۔ شعبہ علمی و تربیتی ترویجی، ایشین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی صدر نیرومن کے ذمے اس تربیتی کورس کا انتظام و انصرام تھا اور ان ہی کی وساطت سے سفر نامہ نگار تھائی تہذیب سے آشنا ہوئے۔ وہ جہاں بھی جاتے نیرومن سے اس جگہ کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے کی کوشش کرتے۔ مس نیرومن انتہائی سادہ لباس میں ملبوس ہوتی تھیں اور تئیس دنوں میں انھوں نے صرف تین شرٹس تبدیل کیں جبکہ دوسری جانب کورس میں شامل خواتین ایک دن میں تین دفعہ بھی لباس تبدیل کرتی تھیں۔ سفر نامہ نگار پاکستانی اور تھائی خواتین کا موازنہ کرنے لگ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بعض ایسی عورتیں بھی ہیں جو اس تکلف سے آزاد ہیں جو دکھنے اور بکنے کے جنجال سے دور ہیں جن کی زندگیوں کے کچھ اعلٰی مقاصد ہوتے ہیں۔ انسانی معاشرے کی اصلاح کے مقاصد سے معمور روز و شب گزارنے والی خواتین کا اندروں اتنا روشن اور شخصیت اتنی جاذب نظر ہوتی ہے کہ اُن کو ظاہری خود نمائی کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔

سفرنامہ نگار بتاتے ہیں کہ تھائی لینڈ مشرق بعید میں واقع ایک ملک ہے اور اس کی پچانوے فی صد آبادی بدھ مت کی پیروکار ہے۔ بنکاک کا شمار دنیا کے چند اہم شہروں میں ہوتا ہے جہاں دنیا کی ہر آسائش و نعمت دستیاب ہے اور یہ شہر دنیا بھر کے سیاحوں کی آماجگاہ تصور کی جاتی ہے۔ بدھ مت ان کا قومی مذہب ہے۔ تھائی لینڈ میں بادشاہی نظام حکومت رائج ہے اور اس وقت نوویں راما کا دور ہے اور بادشاہ کے زیر سایہ ایک پارلیمنٹ بھی کام کر رہی ہے لیکن آج کل معطل ہے۔ فوج حکومتی اور انتظامی امور چلا رہی ہے۔ تھائی بادشاہ نے ”سفیشنٹ اکانومی“ کا اقتصادی نظریہ دیا اور زرعی زمین اور پانی کی آمدن کی تقسیم کا بھی ایک طریقہ کار وضح کیا گیا ہے جس سے تھائی لینڈ کی اقتصادی حالت بہت بہتر ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ بھی سفر نامہ نگار نے بادشاہ کی ازدواجی زندگی، شوق و ذوق، بادشاہی نظام ِ عدل و انصاف کے حوالے سے بھی معلومات فراہم کی ہیں۔ سفرنامہ نگار نے جب بنکاک سے چنگ مائی کے سفر کے دوران خواتین کو کھیتوں میں کاشتکاری کرتے ہوئے دیکھا تو حیران ہوئے کہ یہاں بھی خواتین ملک کی معاشی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں اور پھر ان کے تصور میں اپنے ملک پاکستان کے وہ علاقے گردش کرنے لگتے ہیں جہاں خواتین دن بھر کھیتوں اور فیکٹریوں میں کام کرتی ہیں اور اپنے خاندان کی واحد کفیل ہوتی ہیں۔

سفرنامہ نگار بنکاک میں دہائیوں سے رہنے والے مسلمانوں کا ذکر کرتے ہیں جو اب تھائی معاشرت کا ایک اہم حصہ ہیں اور سماجی اور سیاسی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ ان کی کچھ ایسے افراد سے بھی ملاقات ہوئی جن کے آبا و اجداد سوات، صوابی اور بٹگرام سے روزگار کی تلاش میں تھائی لینڈ گئے اور وہیں کے ہو کر رہ گئے۔ اب ان کی نسلیں وہاں آباد ہیں۔ ایک عربی شیخ کا قصہ جو دھوکے سے ان سے کچھ رقم اڑا لیتا ہے بہت ہی دلچسپ پیرائیہ میں بیان کیا گیا ہے۔ تھائی لینڈ کی معیشت کا دار و مدار سیر سیاحت سے حاصل ہونے والی آمدنی پر ہے اور شاید اسی لیے آنے والے سیاحوں کے لیے بہترین ہوٹل، سڑکیں، مارکیٹیں، فیملی پارک اور سیر و تفریح کے مقامات بنائے گئے ہیں۔ سفرنامہ نگار نے اپنے سفر نامے میں تھائی معاشرے کا ایک خوبصورت عکس پیش کیا ہے انھوں نے جو مشاہدہ کیا اسے جوں کا توں لکھ دیا۔ اس معاشرے کے عیوب کو چھپانے کی کوشش کہیں بھی نظر نہیں آتی اور خوبیوں کو لکھنے کا مقصد شاید یہی تھا کہ پڑھنے والے اس سے مستفید ہو سکیں۔

Facebook Comments HS