پیکا ایکٹ میں ترامیم 1۔


اپوزیشن اور صحافتی تنظیموں کے ملک گیر احتجاج کے باوجود متنازعہ ”پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ ترمیمی بل 2025 ء“ کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد صدر مملکت آصف علی زرداری نے فوری طور پر توثیق کر دی ہے جس کے بعد بل نے قانون کی شکل اختیار کر لی ہے پی ٹی آئی کے دور حکومت میں اس قانون کی گرفت مضبوط کرنے کے لئے آرڈننس کے ذریعے ترامیم کی گئیں تو عدالت سے رجوع کرنے والوں میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی پیش پیش تھیں جب کہ آج پیپلز پارٹی کی حمایت سے قائم مسلم لیگ (ن) کی مخلوط حکومت نے اس قانون کو ”ڈریکولن“ قانون کی شکل دینے میں نہ صرف پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) بلکہ پوری پارلیمنٹ ایک صفحہ پر نظر آتی ہے بظاہر پی ٹی آئی کی قیادت نے اس خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ یہ قانون ایک سیاسی جماعت (پی ٹی آئی) کو نشانہ بنانے کے لئے بنایا گیا ہے لیکن سینیٹ میں مجلس قائمہ برائے داخلہ جس کے چیئرمین پی ٹی آئی کے سینیٹر ہیں نے بل کی منظوری میں ”سہولت کار“ کا کردار ادا کیا ہے بل کو موخر کرنے کی بجائے چند منٹوں میں منظور کر کے سینیٹ بھجوا دیا جمعیت علما اسلام نے بھی اس بل کو مسترد کر دیا ہے پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی درخواست پر مولانا فضل الرحمٰن نے اس بل پر دستخط نہ کرنے کے لئے ان سے رابطہ قائم کیا لیکن صدر نے مولانا کی درخواست کو قابل در خور اعتنا نہ سمجھا اور بل پر دستخط کر کے اسے قانون کا درجہ دے دیا جمعیت علما اسلام کے قانونی دماغ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے اس بات پر زور دیا ہے پیکا ایکٹ کی شق 29 میں ترمیم کی جائے جس میں کہا گیا ہے اس قانون کے تحت ہونے والے اقدامات کسی عدالت یا ایجنسی کے سامنے چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

بظاہر ”پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 ء (پیکا)“ الیکٹرانک میڈیا پر ہونے والے جرائم کی روک تھام کے لئے معرض وجود میں آیا تھا لیکن سوشل میڈیا پر بڑھتی ”دہشت گردی“ نے حکومت نے اس قانون کو مزید سخت بنانے کا فیصلہ کر لیا قانون میں ترمیم الیکٹرانک کرائمز پر قابو میں ناکامی حکومت کا اعتراف ہے۔ 2016 میں یہ قانون منظور کیا گیا تھا تو اس وقت بھی صحافتی تنظیموں اور الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ افراد نے احتجاج کیا لیکن حکومت نے صحافتی تنظیموں کے شور شرابا کو قابل درخور اعتنا نہ سمجھا بات اعلیٰ عدلیہ تک جا پہنچی لیکن یہ قانون ختم ہوا اور نہ ہی صحافتی تنظیموں کے مطالبے پر ترامیم کی گئیں لیکن اب الیکٹرانک صحافت پر ایک نئی افتاد آن پڑی ہے حکومت نے سوشل میڈیا پر ہونے والی ”بدمعاشی اور غنڈہ گردی“ کے سامنے جہاں اپنی بے بسی کا اعتراف کیا ہے وہاں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کی آڑ میں آزادی صحافت کا گلہ گھوٹنے کے لئے قانون میں مزید ترامیم کر دی ہیں یہ قانون شروع دن سے ہی متنازعہ رہا ہے فروری 2022 کو وفاقی کابینہ نے الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام کے قانون 2016 ء میں آرڈننس کے ذریعے ترامیم کی منظوری دی جس میں عدلیہ، فوج اور دیگر سرکاری اداروں پر تنقید کرنے والوں کے لئے پانچ سال قید کی سزا تجویز کی گئی اس قانون کی گرفت میں سوشل میڈیا پر دوسرے لوگوں کی عزت اچھالنے والے لو گوں کو بھی لا یا گیا 23 فروری 2022 کو عدلیہ نے حکومت کو پیکا آرڈننس کی دفعہ 20 کے تحت گرفتاریوں سے روک دیا تھا 8 اپریل 2022 ء کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیکا آرڈننس کو کالعدم قرار دے دیا اس قانون کی دفعہ 20 ہتک عزت کے تحت شکایت کے اندراج سے متعلق تھی آرڈننس سے قبل یہ جرم قابل ضمانت تھا تاہم آرڈننس کے ذریعے اسے ناقابل ضمانت بنا دیا گیا تھا بلکہ اسے فوجداری قوانین کے زمرے میں ڈال دیا گیا جس کی سزا پانچ سال قید ہو سکتی ہے

اب تک پیکا قانون میں سات بار تبدیلی کی گئی ہے ہر حکومت اپنی ضروریات و مجبوریوں کو پیش نظر رکھ کر اس قانون میں تبدیلیاں لائی ہے لیکن تا حال اسے سوشل میڈیا پر ہونے والی ”دہشت گردی“ پر قابو نہیں پایا جا سکا حکومت سوشل میڈیا پر ہونے والی ”دہشت گردی“ سے عاجز تھی ہی اس نے ان ترامیم کے ذریعے الیکٹرانک میڈیا کو بھی کنٹرول کرنے کی شعوری کوشش کی ہے جس کی وجہ سے صحافتی تنظیموں کی طرف سے شدید رد عمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ مجھے یاد ہے عمران خان کے دور حکومت میں سابق چیف جسٹس گلزار احمد خان کے خلاف قابل اعتراض زبان استعمال کرنے والوں اور اس وقت کی ”خاتون اول“ کے بارے میں بے بنیاد خبریں وائرل کرنے پر اس قانون کی ضرورت محسوس کی گئی یہ قانون محض چند شخصیات کے وقار کے تحفظ کے لئے بنایا گیا عمران خان کی حکومت میں اس قانون میں ترامیم کا مقصد چند شخصیات کی کردار کشی کرنے والوں پر آہنی ہاتھ ڈالنا تھا اب بھی اس قانون میں مزید ترامیم کا مقصد ان ہی مقاصد کا حصول ہے۔

پیکا ایکٹ میں شہباز شریف حکومت نے راتوں رات ترامیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے بل میں کم و بیش 50 شقوں میں ترامیم کی گئیں اور اس بل کو پیش کرنے سے دو تین گھنٹے قبل ہنگامی طور پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے سٹیک ہولڈرز، صحافتی تنظیموں اور ڈیجٹل میڈیا کو اعتماد میں لینے کی ناکام کوشش کی انہوں نے پیکا ایکٹ میں مزید ترامیم کا بل موخر کرنے کی بجائے عجلت میں قومی اسمبلی سے بل منظور کرا لیا بعد ازاں سینیٹ میں اتنی مہربانی کی گئی کہ بل غور کے لئے سینیٹ کی مجلس قائمہ برائے داخلہ کے سپرد کر دیا گیا جس نے بھی اس بل کو سینیٹ کو بھجوانے میں عجلت سے کام لیا وہاں بھی بل کی منظوری میں کوئی دیر نہ لگائی گئی ترامیم کے بعد صحافیوں کو ”فیک نیوز“ کا الزام عائد کر کے 3 سال قید اور 20 لاکھ روپے جرمانہ کیا جاسکتا ہے اگر جرم ثابت نہ ہو گرفتار ہونے والے صحافی کو اذیت اٹھانا پڑے گی اس کا کوئی ذمہ دار نہیں ریگولیٹری اتھارٹی کے ارکان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو سکتی انہیں پیکا ایکٹ میں تحفظ دیا گیا ہے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کا موقف ہے ”یہ قانون صحافیوں کے خلاف استعمال نہیں ہو گا“ لیکن نئے قانون کے نفاذ کے بعد حکومت کے خلاف کسی خبر پر تجزیہ کرنے والوں کو بھی گرفت میں لایا جا سکے گا پیکا ایکٹ میں فوری ترمیم کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ حکومت سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور یو ٹیوبرز کو ریگولیٹ کرنا چاہتی ہے لیکن پیکا ایکٹ میں ترامیم کرتے وقت الیکٹرانک میڈیا پر بھی ہاتھ ڈالنے کی شقیں شامل کرلی گئی ہیں صحافتی تنظیموں کو اعتماد میں نہ لینے سے ملک بھر میں ایجی ٹیشن کا ماحول پیدا ہو گیا ہے پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں حکومت کے خیال میں ایسا کانٹینٹ جو نظریہ پاکستان کے خلاف ہو، جو عام لوگوں کو قانون ہاتھ میں لینے کے لئے اشتعال دلائے یا عوام، افراد، گروہوں، کمیونٹیز، سرکاری ملازمین، اور اداروں کو خوف میں مبتلا کرے وہ مواد غیر قانونی ہے اس کا فیصلہ کرنے کا اختیار ریگولیٹری اتھارٹی کے سرکاری ارکان کو دے دیا گیا ہے اس میں صحافتی تنظیموں کو موثر نمائندگی دینے کی ضرورت ہے۔ عوام یا ایک سیکشن کو حکومتی یا پرائیویٹ پراپرٹیز کو نقصان پہنچانے کے لئے اشتعال دلانا، قانونی تجارت یا شہری زندگی میں خلل ڈالنا بھی اس زمرے میں آتا ہے نفرت انگیز، توہین آمیز، فرقہ واریت ابھارنے اور فحاشی پر مبنی کانٹینٹ کی اجازت بھی نہیں دی جائے گی پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان، عدلیہ، مسلح افواج سے متعلق شکوک شبہات پیدا کرنا بھی اس نئے قانون میں قابل گرفت ہے چیئرمین سینٹ و سپیکر قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلی کی طرف سے حذف کیے گئے الفاظ ٹیلی کاسٹ نہیں کیے جا سکیں گے قبل ازیں اگر کوئی میڈیا ہاؤس حذف کیے گئے الفاظ ٹیلی کاسٹ کر دیتا تو اگلے روز اس کی وضاحت کر دی جاتی تو معاملہ ختم ہو جاتا لیکن اب ایسی غلطی کو جرم قرار دے دیا گیا ہے۔
(جاری ہے )

Facebook Comments HS