پاکستان میں تعلیمی نصاب: چیلنجز اور امکانات

پاکستان میں تعلیمی نظام کئی دہائیوں سے ایک ہی نصاب کے نفاذ کی کوشش کر رہا ہے، لیکن اس کے باوجود تعلیمی معیار، ثقافتی تنوع، اور وسائل کی کمی جیسے مسائل نے اس کے موثر نفاذ میں رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔ پاکستان کے تمام اسکولوں میں بنیادی طور پر دو (یا تین) نصاب رائج ہیں : ایک قومی نصاب (National Curriculum) اور دوسرا مدرسہ نصاب۔ مدرسہ نصاب کے تحت پڑھنے والے طلباء کی ڈگریاں جب سرکاری نوکری یا مزید تعلیم کے لیے پیش کی جاتی ہیں، تو ان کی مساوات (Equivalence) کا تعین کیا جاتا ہے۔ مساوات دراصل یہ تصدیق ہے کہ دی گئی تعلیم قومی نصاب کے کم از کم معیار پر پوری اترتی ہے، جیسے میٹرک یا انٹر کی سطح پر۔ اسی طرح او اور اے لیول کی ڈگریوں کے لیے بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ او اور اے لیول کے لیے پڑھائی جانے والی کتابوں کو قومی نصاب کے تحت تسلیم کیا جاتا ہے۔
نصاب بنانے کا عمل ایک منظم اور جامع طریقہ کار پر مبنی ہوتا ہے۔ سب سے پہلے Competencies اور Standards طے کیے جاتے ہیں، جو طلباء کی تعلیم کے حتمی مقاصد (Terminal Attainment Targets) کی شکل میں ہوتے ہیں۔ پھر Benchmarks مقرر کیے جاتے ہیں، جو Competencies اور Standards پر مبنی ہوتے ہیں۔ آخر میں، طلباء کے تعلیمی مقاصد (Student Learning Outcomes۔ SLOs) گریڈ وائز تیار کیے جاتے ہیں۔
ٹیکسٹ بکس کا کردار بنیادی طور پر مواد اور متن فراہم کرنا ہوتا ہے، جس کے ذریعے طلباء Benchmarks اور Competencies حاصل کرتے ہیں۔ کتاب کا مواد، اس کی ترتیب، اور وضاحت کا طریقہ طلباء کی تعلیم پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ مثال کے طور پر، سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ (STBB) کی کتابیں بعض اوقات ان مقاصد کو پورا نہیں کر پاتیں، کیونکہ ان کا متن بے مزہ اور پیشکش معمولی ہوتی ہے۔ دوسری طرف، کسی پرائیویٹ اشاعتی ادارے کی کتاب، جو عام طور پر مہنگی اور رنگین پیشکش کے ساتھ ہوتی ہے، زیادہ پرکشش اور سمجھنے میں آسان ہو سکتی ہے۔ عوام میں عام رائے یہ ہوتی ہے کہ ”مثال کے طور پر آکسفورڈ کا نصاب STBB کے نصاب سے بہتر ہے۔“ بنیادی طور پر یہ دونوں کتابیں ایک ہی قومی نصاب پر مبنی ہوتی ہیں۔ فرق صرف متن اور اس کی پیشکش میں ہوتا ہے۔
تو پھر ماضی میں پیش کیا گیا ایک نصاب کیوں نہیں؟
پاکستان میں ایک نصاب پر اعتراض کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں، جن میں تعلیمی معیار میں فرق، علاقائی اور ثقافتی تنوع کی نظر اندازی، نظریاتی اور مذہبی اختلافات، سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں کا مقابلہ، وسائل اور عملدرآمد کی کمی، اور عالمی سطح پر مقابلے کی تیاری کی کمی شامل ہیں۔ مختلف تعلیمی ادارے، جیسے سرکاری، پرائیویٹ، اور مدرسہ نظام، ایک ہی نصاب کے مختلف معیار اپناتے ہیں۔ سرکاری اسکولوں میں وسائل کی کمی، ناقص استادوں کی تربیت، اور کم معیار کی ٹیکسٹ بکس کی وجہ سے نصاب مطلوبہ تعلیمی معیار پر پورا نہیں اترتا۔ دوسری طرف، پاکستان میں مختلف علاقائی، ثقافتی، اور لسانی تنوع ہے، جو تعلیمی نصاب میں مناسب جگہ نہیں پاتا۔ مثال کے طور پر، سندھ، بلوچستان، اور کے پی کے کے طلباء کو یہ احساس ہوتا ہے کہ نصاب میں ان کی مقامی تاریخ اور ثقافت کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ جبکہ، مدرسہ نصاب اور جدید تعلیمی نصاب کے درمیان بنیادی فرق مذہبی اور نظریاتی نقطہ نظر پر ہے۔ مدرسوں میں علوم دینیہ پر زور دیا جاتا ہے، جبکہ جدید تعلیمی ادارے سائنس، ٹیکنالوجی، اور جدید علوم کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ، پرائیویٹ اسکولوں میں مہنگی اور اعلیٰ معیار کی کتابیں استعمال ہوتی ہیں، جبکہ سرکاری اسکولوں میں ٹیکسٹ بکس کم معیار کی ہوتی ہیں۔ یہ فرق نصاب پر تنقید کا باعث بنتا ہے۔
ایک نصاب کو تمام اسکولوں میں لاگو کرنے کے لیے درکار وسائل کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی تربیت، جدید تدریس کے آلات، اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی نصاب کے مقصد کو مکمل ہونے سے روکتی ہے۔ والدین اکثر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ایک نصاب طلباء کو عالمی سطح پر مقابلے کے لیے تیار نہیں کرتا۔ خاص طور پر او اور اے لیول کے طلباء کے مقابلے میں، ایک نصاب کے تحت پڑھنے والے طلباء کم تیاری کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ مجموعی طور پر، پاکستان میں ایک نصاب پر اعتراض کے اہم اسباب تعلیمی معیار میں فرق، وسائل کی کمی، علاقائی اور ثقافتی تنوع کی نظر اندازی، نظریاتی اختلافات، اور عالمی سطح پر مقابلے کی تیاری کی کمی ہیں۔ اسی موجودہ نصاب کے معیار کو بہتر بناتے ہوئے اسے موثر طور پر لاگو کرنے کے لیے وسائل، اساتذہ کی تربیت، اور مختلف علاقائی ضروریات کو مدنظر رکھا جائے تو کہیں بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
