ذرا عمر رفتہ کو آواز دینا
ایک عرصہ ہوا کہ میں نے ٹی وی اور ڈرامے دیکھنے چھوڑ رکھے ہیں۔ لہٰذا ڈراموں یا اداکاروں کی شادیوں وغیرہ سے نہ مجھے دل چسپی ہوتی ہے اور نہ ہی کچھ آگاہی، لیکن کل میری بہو افشین میرے پاس ماورا اور امیر گیلانی کی شادی کی ویڈیو اور تصویریں لے کر آئی۔ مجھے تھوڑی سی حیرانی ہوئی اور پوچھا کہ مجھے کیوں دکھا رہی ہیں۔ انہوں نے دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ افتخار گیلانی کا پوتا ہے۔ مجھے کچھ دیر تک سمجھ نہ آئی پھر دوبارہ اس نے بتایا یہ ہمارے کوہاٹ کے افتخار گیلانی کا پوتا ہے۔ بس یہ کہنا تھا کہ یادوں کے کئی باب کھل گئے۔
امیر گیلانی کے پردادا کا نام امیر حسین گیلانی تھا جو کہ میرے نانا عبدالرشید جنہیں میں ڈیڈی کہتی تھی، ان کے گہرے دوست تھے۔ امیر حسین گیلانی اور ان کے بھائی نذیر حسین گیلانی کوہاٹ کے بہت معزز، روایت پسند صاحب ثروت گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ویسے تو ڈیڈی کی دونوں بھائیوں سے دوستی تھی لیکن امیر حسین گیلانی سے ان کی گاڑھی چھنتی تھی اور وہ ڈیڈی کے مشورے اور باتوں کو بہت اہمیت دیتے تھے۔
جنگل خیل کے قریب ان کے برف کے کارخانے تھے۔ اس وقت فریج اور کولر وغیرہ تو تھے ہی نہیں تو لوگ برف کے لیے قطار بنا کر کھڑے ہوتے اور اکثر برف توڑنے والے سونمبے سے سر پھٹول بھی ہو جاتی، جب کہ ہمارے گھر صبح صبح صادقو برف خانے سے برف کے بڑے بڑے بلاک لے کر آ جاتا، جسے ہم پٹ سن کی بنی بوریوں میں لپیٹ کے رکھ لیتے، کچھ آئس باکس میں ڈال دیتے تھے۔ ڈیڈی بلا ناغہ کلب جایا کرتے جہاں ان کی اور امیر حسین کی اپنے دوسرے دوستوں کے ساتھ خوب گپ شپ لگی رہتی۔ لیجیے ایک اور حسین یاد ذہن کے پردے پر ابھر کر سامنے آ گئی۔
کوہاٹ کے پنج پیر کے چشمے اپنے صاف شفاف یخ بستہ پانی کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں (ان چشموں کے بارے میں پھر کبھی تفصیل سے لکھوں گی) فی الحال بتانا یہ مقصود ہے کہ ان چشموں کے قریب امیر حسین گیلانی کا سمر ہاؤس تھا۔ جب کبھی گھر میں پنڈی یا پشاور سے مہمان آتے تو انہیں باقی جگہوں کی سیر کے ساتھ سمر ہاؤس بھی لے کر جایا جاتا تھا۔ مجھے خواب کی طرح یاد ہے کہ سمر ہاؤس کے تہہ خانے کی سیڑھیاں اتر کر ایک بڑا سا کمرہ تھا، پھر مزید چند سیڑھیاں اترتے تو پنج پیر کے یہ صاف شفاف چشمے چاندی کی سی چمک لئے رواں دواں ہوتے۔ آب رواں کی ایسی خنکی کہ سردی کا احساس ہونے لگتا۔ اس سمر ہاؤس کی سندرتا، نیم تاریکی، خنکی اور آبِ رواں کی دل ربائی آج کئی عشروں بعد بھی میری نظروں میں، میری یادداشت کی سکرین پر جگ مگا رہی ہے۔
افتخار حسین گیلانی میرے ماموں امان اللہ جنہیں میں انکل کہتی تھی، کے ہم عمر اور اچھے دوست تھے۔ انکل اور ان کے دوست کنگ گیٹ کے باہر ایک ریستوران میں اکثر شام کی چائے دوستوں کے ساتھ پیتے تھے۔ کبھی کبھی انکل مجھے بھی اپنے ساتھ لے جاتے، ایسے میں افتخار حسین میرے ساتھ خصوصی شفقت کا برتاؤ کرتے تو ان کے دوست انہیں چھیڑتے کہ یہ نصرت کی ہم نام ہے۔ اسی لیے آپ یہ نام خوشی خوشی پکارتے ہیں۔
اس زمانے میں گاڑیاں صرف بہت ہی امیر کبیر، خان خوانین معدودے چند لوگوں کے پاس ہوتی تھیں۔ لہٰذا ڈیڈی نے کہیں جانا ہوتا تو افتخار گاڑی لے کر آتے اور ڈیڈی کو لے کر جاتے۔ یہاں تک کہ انکل جب لندن سدھارے تو افتخار حسین گیلانی ہمیں اپنی موٹر میں پشاور ائرپورٹ لے کر گئے تھے اور واپس لے کر آئے تھے۔
یہ میرے بچپن کی بات ہے لیکن مجھے بہت اچھی طرح یاد ہے کہ افتخار حسین گیلانی اپنی کلاس فیلو نصرت سے شادی کرنا چاہتے تھے، لیکن ان کے والد امیر حسین گیلانی اپنے خاندانی رتبے اور وقار کے پیش نظر اداکارہ مسرت نذیر کی بہن نصرت کو اپنی بہو بنانے کے لیے کسی صورت تیار نہ تھے۔ یہ وہ وقت تھا کہ جب مسرت نذیر بہت مشہور اداکارہ تھیں اور اپنے عروج کے وقت فلموں کو خیرباد کہہ کے امریکہ چلی گئی تھیں۔ شنید ہے کہ اس کے بعد فلم ساز ان کے گھر کے چکر لگانے لگے کیونکہ نصرت بھی بہت پرکشش اور خوب صورت تھیں لیکن انہوں نے فلم سازوں کی کوئی پیشکش قبول نہیں کی کیونکہ ان کے رشتے کی بات چل رہی تھی۔ کافی عرصہ افتخار اپنے والد کو منانے کی کوشش کرتے رہے، بالآخر وہ ڈیڈی کے پاس آئے کہ آپ میری مدد کریں۔ میرے والد کو سمجھائیں، وہ آپ کی بات مانتے ہیں۔ لہٰذا ڈیڈی نے اپنے دوست کو سمجھایا کہ بہتر ہے کہ آپ ان کی شادی اپنے ہاتھ سے بخوشی کر دیں ایسا نہ ہو کہ وہ خود کوئی قدم اٹھا لے تو پھر آپ کے لیے یہ بات زیادہ تکلیف دہ ہوگی۔
ان کے والد امیر حسین گیلانی کا موقف یہ تھا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہمارے خاندان کی شہر میں کیا عزت اور وقار ہے، اگر یہ شادی ہو گئی تو لوگ کیا کہیں گے۔ خیر ڈیڈی نے اپنے دوست کو منا ہی لیا اور افتخار مسرت نذیر کی بہن نصرت سے رشتۂ ازدواج میں بندھ گئے۔ چونکہ افتخار میرے ماموں کے اور ان کے والد ڈیڈی کے گہرے دوست تھے تو میری خالہ جنہیں میں دیدی کہتی تھی، وہ شادی میں بھی شریک ہوئیں اور اکثر ان کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ وہ نصرت کے اخلاق اور اس کے حسن کا تذکرہ اور تعریف کیا کرتی تھیں۔
سن 70 کے الیکشن میں افتخار الیکشن کے لیے کھڑے ہوئے تو انکل نے ان کی انتخابی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ پولنگ والے دن میں اور میری دوست شاہینہ، ہم نے پہلی دفعہ پولنگ ایجنٹ کی ذمہ داری نبھائی۔ حالانکہ اس وقت میں دسویں جماعت میں تھی۔ یہ سردیوں کے دن تھے۔ صبح سویرے سے لے کر شام تک ہم نے تھکا دینے والے یہ فرائض سر انجام دیے۔ اس کے بعد کے الیکشنز میں بھی انکل نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ بعد کے الیکشنز میں میری شادی ہو گئی تھی اس لئے میں نے کوئی حصہ نہیں لیا تھا۔
پھر جب میں بحیثیت کونسلر، چک شہزاد میں ایک تربیتی کورس کے لئے اسلام آباد گئی ہوئی تھی، تو ان دنوں افتخار حسین گیلانی وزیر تھے۔ میں نے انہیں فون کیا اور ان سے ملنے گئی۔ وہ بڑے تپاک سے ملے، نصرت بھی اچھے طریقے سے ملیں۔
میری خود نوشت میں چاندی کے جوتوں کے بارے میں، جو کچھ میں نے لکھا ہے، اس میں بھی یہ ذکر موجود ہے کہ جب افتخار حسین گیلانی مسرت نذیر سے ملنے امریکہ جانے لگے تو انکل کو کہنے لگے کہ وہ کوئی منفرد سا تحفہ لے کر جانا چاہتے ہیں۔ انکل نے ان کے لیے چاندی کے جوتے اور تیراہ سے کام والی ستھڑیاں بنوائیں اور وہ ساتھ لے کر گئے۔ یہ چاندی کے جوتے مجھے ایسے بھائے کہ پھر اپنی شادی کے موقع پر میں نے فرمائش کی کہ میرے لیے بھی ویسے چاندی کے جوتے بنوا دیے جائیں جیسے مسرت نذیر کے لیے بنوائے گئے تھے۔
بعد کے زمانوں میں ڈیڈی فوت ہو گئے۔ امیر حسین گیلانی بھی چلے گئے۔ انکل اور افتخار حسین گیلانی کی دوستی اور گرم جوشی میں فرق آ گیا، اس وقت جب افتخار حسین گیلانی وزیر بن گئے۔ کچھ ہمارے انکل بھی بہت زود رنج تھے اور وہ وہی پرانے زمانوں کی بے تکلفی اور قربت کو یاد کرتے تھے لیکن شہر اقتدار میں رہنے والوں کے مزاج میں تبدیلی آنی لازمی ہے۔ اقتدار کی اپنی الگ مجبوریاں ہوتی ہیں۔
افتخار حسین کے بھائی امتیاز گیلانی ممتاز ماہر تعلیم کے طور پر شہرت رکھتے تھے۔ امتیاز حسین گیلانی اور ذوالفقار گیلانی انکل کی بہت عزت کرتے تھے۔ جب دیدی فوت ہوئیں افتخار گیلانی دعا کے لیے انکل کے پاس آئے تھے۔ وقت گزر جاتا ہے تین سال ہوئے انکل بھی دارالبقا کی طرف کوچ کر گئے ہیں۔ افتخار حسین گیلانی کی تصویر دیکھی تو کتنی پرانی یادوں نے اپنے حصار میں لے لیا۔ افتخار حسین گیلانی کی خوب صورتی اور وہ تمام مناظر آنکھوں کے سامنے سے کسی فلم کی طرح گزرتے چلے گئے۔ اس بچے امیر گیلانی کا نام اپنے پردادا امیر حسین گیلانی کے نام پہ رکھا گیا ہے جو کوہاٹ کے بہت امیر کبیر، باوقار اور با رعب انسان تھے۔
شادی کی تصاویر اور ویڈیوز دیکھ کر جہاں پرانی یادیں، پرانے قصے، پرانی باتیں یاد آئیں وہاں دل نے کہا کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ امیر نے ماورا سے شادی کی ہے۔ آج کے دور میں یہ بات اتنی معیوب نہیں سمجھی جاتی لیکن جب افتخار نے شادی کی تو اس وقت یہ ایک غیر معمولی واقعہ تھا۔ امیر گیلانی کی پیاری سی تصویروں اور دلہن کو دیکھ کر کئی دہائیاں پہلے کی کتنی یادوں نے اپنے حصار میں لے لیا اور اس احساس نے بھی کہ وقت کتنی تیزی سے بدلا، روایات و اقدار بدل گئیں۔ امیر گیلانی کے دادا افتخار گیلانی کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا، امیر گیلانی کو ایسی کوئی مشکل پیش نہیں آئی کہ اب اقدار اور روایات بدل گئی ہیں۔
خوش رہو بچے شاد و آباد رہیں کہ تمہاری شادی کی تصویروں نے بھولے بسرے مناظر اور یادوں کی چلمن سے کئی دل آویز یادیں تازہ کیں۔


