ڈاکٹر شبیر نواز صفوی کی سنسنی خیز سرگزشت (آخری قسط )


ڈاکا جو ناکام بنایا
” شبیر! دوسرا اور تیسرا واقعہ تو بتا دیا لیکن پہلا واقعہ کیا تھا؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔

” پہلا واقعہ 1995 میں پیش آیا۔ اس وقت میں جوان تھا۔ میرے کلینک سے پانچ قدم کے فاصلے پر میڈیکل اسٹور تھا۔ ایک دن وہاں شور کی آواز سنائی دی تو میں باہر نکلا۔ تین ڈاکو نظر آئے۔ ایک میڈیکل اسٹور لوٹ رہا ہے دوسرا خودکار اسلحہ لئے 11 لوگوں کو یرغمال بنائے باہر کھڑا ہے۔ یہ میرے مریض تھے جو میڈیکل اسٹور سے دوا لینے گئے تھے۔ تیسرا لپک کر میری طرف آیا اور قطار میں آنے کا کہا۔ میں نے انکار کیا اور کہا جو چاہیے آ کر لے لو۔

میز کی دراز کھولی اور پیسے دکھائے۔ اس نے سنی ان سنی کرتے ہوئے براہِ راست میرے سینے پر پستول رکھ کر داغ دیا۔ اتفاق دیکھو کہ گولی پھنس گئی۔ چینی پستول تھا اور گولی پاکستانی وہ بھی شاید دو نمبر! کوئی ایسا ہی چکر تھا۔ وہ دوبارہ لوڈ کرنے کے لئے پستول کو اوپر کرنے لگا تو میں نے سوچا کہ ایک دفعہ تو اللہ نے بچا لیا اب بندے کو اپنی مدد خود کرنا ہو گی۔ میں نے فوراً پوری قوت سے اپنا ہاتھ پستول پر مارا اور پستول ڈاکو کی ناک سے ٹکرایا۔ پستول بھاری تھا ناک پر لگا تو ڈاکو کا جسم ڈھیلا پڑ گیا“ ۔

حاضر دماغی

” اتنے میں، میں نے پیچھے سے اسے ہاتھ ڈال کر پکڑ لیا۔ اُس نے میری گرفت سے نکلنے کی کوشش کی لیکن نہیں نکل سکا البتہ میں نے اس کا پستول اپنے قبضے میں لے لیا۔ اور اسی پستول سے اس کے ہاتھ اوپر کروائے۔ میں نے سوچا ڈاکو لوٹنے کے بعد سب کو مار بھی سکتے ہیں تو کیوں نہ ایک ہی جان پر گزارہ کر لیا جائے! ساتھ ہی شور کیا کہ لوگو قطار سے باہر نکلو اور پکڑ لو ڈاکووں کو ۔ اور سب کے سامنے اس ہاتھ اُٹھائے ڈاکو کو لات مار کے فرش پر بٹھا کر دیوار کی طرف منہ کروا دیا جیسے ڈاکو لوگوں کو کرواتے ہیں۔

اور بلند آواز سے کہا خبردار ہلنا مت ورنہ گولی مار دوں گا! ہمت دینے والا اللہ تعالیٰ ہے اور کارساز بھی ہے۔ ڈاکو کے حواس جاتے رہے۔ اُس کی عقل ملاحظہ کریں کہ گولی پستول میں پھنسی ہوئی ہے جو اس سے نہیں چلی تو بھلا مجھ سے کیسے چلے گی؟ جو ڈاکو باہر کھڑا تھا وہ تو یہ صورتِ حال دیکھ کر موقع سے فرار ہو گیا۔ اُدھر میڈیکل اسٹور لوٹنے والا پیسے لے کر بھاگا“ ۔

” لوگ بھی کہنے لگے ارے کیا کر رہے ہیں ڈاکٹر صاحب! میں نے کہا کہ بالکل مت ڈرو یہ ڈاکو میرے قابو میں ہے اس نے حرکت کی تو اُڑا دوں گا! ڈاکو بولا کہ ڈاکٹر صاحب اس میں 6 گولیاں ہیں۔ میں نے کہا کہ چھ کی چھ ہی چلا دوں گا! جب کہ اس وقت تک میں نے پستول کبھی چلایا ہی نہیں تھا۔ لوگوں نے آس پاس سے پولیس بلوا لی۔ بڑے ایکشن کے ساتھ پولیس نے سب طرف سے گھیر لیا۔ پستول میرے ہاتھ میں موجود تھا میں نے سوچا کہیں پولیس والے مجھے ڈاکو سمجھ کر نہ مار دیں“ ۔

ایف آئی آر

” میں نے فوراً پستول میز پر رکھا۔ پھر پولیس افسر سے کہا کہ میرے آدمی ساتھ جائیں گے تا کہ ملزم بدل نہ دیا جائے۔ میں خود اپنی گاڑی میں آ رہا ہوں اور اپنی نگرانی میں ایف آئی کار کٹواؤں گا۔ ہمارے چار پکے گواہ موجود ہیں یہ بھی ہمارے ساتھ چلیں گے“ ۔

” میں نے ایسا ہی کیا! پکی ایف آئی آر کٹوائی۔ مجھے ہر جگہ اللہ کی مدد حاصل تھی۔ تھانے میں بھی کوئی ارشد نام کا انسپکٹر میرے ہی اسکول کا پڑھا ہوا نکلا۔ میرے لہجے اور اندازِ گفتگو پر کہنے لگا کہ ڈاکٹر صاحب آپ غصہ کیوں ہو رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ غصہ کیوں نہ کروں؟ سامنے پولیس کی وین کھڑی ہے اور ڈاکو ہمیں لوٹ رہے ہیں۔ ایس ایچ او نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب پریشان نہیں ہوں میں سب کو چائے پلاؤں گا۔ پھر ہنستے ہوئے کہنے لگے کہ ہمارے علاقے میں ڈاکٹر نے ڈاکو پکڑ لیا جو پولیس نہیں پکڑ سکی! ارشد نے مجھ سے کہا کہ فکر مت کریں میں ایسی ایف آئی آر کاٹوں گا کہ یہ چھوٹے گا نہیں۔ البتہ آپ کو عدالت کے چکر لگانا پڑیں گے۔ کیس کے آخر تک عدالت نے جب بلایا میں گیا ”۔

عدالت میں دھمکیاں

” عدالتوں میں آتے جاتے مجھے دھمکیاں بھی ملیں۔ جج کے سامنے اس ڈاکو کے الفاظ ہوتے کہ جب بھی چھوٹا میں ڈاکٹر کو مار دوں گا۔ اس پر میں برجستہ جواب دیتا کہ جب بھی چھُوٹو گے بچانے والا اللہ ہو گا! اور اگر تمہاری گولی سے موت لکھی ہے تو میں مر جاؤں گا اور تم ساری زندگی کے لئے جیل چلے جاؤ گے۔ میں اور ڈاکو آپس میں بات کر رہے ہیں اور جج صاحب مزے لے رہے ہیں! یہ اندرونِ سندھ کے تھے اور ایسے بہت سے کیس دیکھ رکھے ہوں گے۔

انہوں نے فیصلہ نہیں سنایا بلکہ زیرِ التوا رکھا۔ اگلی سماعت پر ایک خاتون جج بیٹھی تھیں۔ میں نے پہلے ان سے درخواست کی کہ مجھے بار بار بلوایا جاتا ہے اور میں آس پاس محفوظ بھی نہیں ہوتا اس کے باوجود یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں جتنا کلینک اور مریضوں کو چھوڑ کر آنا! ملزم پر الزام ثابت ہو چکا ہے۔ جج صاحبہ نے وہ کیس آدھا گھنٹہ پڑھا اور مجھے بلا کر کہا کہ آپ کا کیس مکمل ہے۔ ڈاکو تو خود کہتا کہ ڈاکٹر نے جو کہا صحیح کہا لیکن میں (ڈاکو) اپنی صفائی میں یہی کہوں گا کہ جب بھی موقع ملا ڈاکٹر کو مار دوں گا۔ میں نے کہا کہ مجھے اللہ پر بھروسا ہے۔ یہ پہلے نہیں مار سکا اب کیا مارے گا! وہ عدالت میں بھی ڈرامہ کرتے ہوئے بیڑیوں میں مسکراتے ہوئے یہی کہتا۔ خیر سات سال کے لئے بالآخر وہ اندر ہو گیا“ ۔

تین واقعات کے بعد اب نہیں

” وقت گزرتا گیا اور میں اُسی کلینک میں پریکٹس کرتا رہا۔ اس واقعہ کے 5 سال بعد ایک دن ایسا ہوا کہ وہ ڈاکو رہا ہو کر میرے کلینک کے پاس چکر لگا رہا تھا کہ ایک پولیس کا سپاہی میرے پاس دوڑتا ہوا آیا اور کہا کہ ڈاکٹر صاحب وہ ڈاکو رہا ہو گیا ہے ذرا محتاط رہیں! پھر تھوڑی دیر بعد کوئی اور بھاگتا ہوا آیا کہ اُس ڈاکو کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔ میں نے پوچھا تو پتا چلا کہ وہ واقعی مجھے مارنے آیا تھا لیکن قائد آباد میں سبزی والے کے قتل کے جرم میں پولیس پارٹی اس کی تلاش میں پھر رہی تھی جو اسے ساتھ لے گئی۔ جو مجھے مارنے آیا تھا خود جیل چلا گیا۔ تو 1995 میں پیش آنے والا یہ پہلا واقعہ تھا جس کے بعد 2007 میں دوسرا واقعہ ہوا۔ پھر 2013 میں تیسرا۔ اب میں بوڑھا ہو چکا ہوں اور اب ڈاکووں کا مقابلہ کرنا مشکل ہے“ ۔

ڈاکٹر شبیر کے کمالات

” آپ نے غریبوں کے علاقے میں کیوں پریکٹس کی، ہم پیشہ دوستوں کی طرح عوام کی کھال کیوں نہیں اتاری؟“ ۔ میں نے ایک مشکل سوال کیا۔

” میں شروع ہی سے فیملی فزیشن تھا۔ میری والدہ نیپا ( نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن ) کراچی میں سرکاری افسر تھیں۔ میں اپنی والدہ کی خواہش پر ڈاکٹر بنا جب کہ میری رضا شامل نہیں تھی۔ میری والدہ کی تمنا تھی کہ میں ڈاکٹر بن کر اپنے علاقے کے غریب لوگوں کی خدمت کروں۔ اسی لئے 2000 میں کُری گوٹھ ہاسپٹل کی بنیاد رکھی گئی۔ دیگر دوستوں کو ساتھ ملا کر زمین حاصل کر کے بہت بڑا اسپتال بنایا گیا۔ آج اسی اسپتال کے ساتھ ملیر یونیورسٹی شروع ہو چکی ہے۔

یونیورسٹی میں تعلیم بھی قرضِ حسنہ پر دی جائے گی۔ گائنی کا شعبہ بالکل مفت ہے۔ میں یہاں صبح سے شام تک ہی ہوتا تھا۔ شام کو میری پرائیویٹ پریکٹس ہوتی جس سے میرا پٹرول وغیرہ پورا ہو جاتا تھا۔ پیسوں کی ریل پیل کی نہ کبھی میری نہ میری بیوی بچوں کی خواہش رہی۔ بچوں کی تعلیم تک میں نے اخراجات اٹھائے اس کے بعد میری بیٹیوں نے کہا کہ ہمیں اب پیسوں کی ضرورت نہیں۔ میری والدہ کو بلڈ پریشر کی وجہ سے فالج ہو گیا تھا۔

میری برطانوی بیوی نے 19 سال اور تین مہینے میری والدہ کی بستر پر خدمت کی۔ میری زندگی کے نشیب و فراز ایک طرف، آپ صرف ڈاکووں کے واقعات ہی دیکھیں کہ مجھے اللہ نے، والدہ اور غریب مریضوں کی دعاؤں کی وجہ سے محفوظ رکھا! میری ہر مشکل میں والدہ کہتیں کہ میرے بیٹے کو کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔ اور بعینہٖ ہوا بھی یہی! آخر میں جب والدہ نہیں رہیں تو میرے سارے آسرے ختم ہو گئے“ ۔

” رہا سوال غریب مریضوں کا تو وہ آج بھی میرے دل کے قریب ہیں۔ میں اُن کے اور خاص طور پر کری اور اطراف کے گوٹھ کے لوگوں کے لئے فنڈ ریزنگ کروا رہا ہوں جو انگلینڈ سے بھی ہوتی ہے۔ وہاں میرے ہم جماعت اور دیگر نامور ماہرینِ طب اس کارِ خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں“ ۔

کہاں آرٹسٹ کہاں ڈاکٹر

” آپ کے چچا کمال ایرانی مشہور فلم اور ٹی وی اداکار تھے۔ آپ کے تو والد صاحب بھی بمبئی فلمی دنیا میں جانے والے تھے؟ کیا آپ کو فلمی دنیا میں جانے کا شوق نہیں ہوا؟“ ۔

” بیشک میرے چچا کمال ایرانی نے فلموں میں بڑے عرصے کام کیا۔ کئی ایک زبانوں میں بننے والی فلمیں کیں۔ میری خواہش اداکار بننے کی نہیں تھی البتہ آٹھویں جماعت میں میری مصوری بہت اعلیٰ ہوتی تھی۔ میرا رجحان آرٹسٹ بننے کا تھا۔ یا پھر مجھے شعر و شاعری سے دلچسپی تھی۔ یوں کہیں کہ فنونِ لطیفہ کا شوق تھا۔ اسی لئے آج بھی محفلِ موسیقی میں بہت شوق سے شرکت کرتا ہوں۔ لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں۔ گانے سمجھتا، میوزیشنوں کو پہچانتا ہوں۔

مجھے تعلیم کا شوق تو تھا لیکن سائنس سے مجھے چِڑ ہوتی۔ لوگ جب ڈاکٹر بننے کا سوچتے تھے تو میں کہتا تھا کہ میں ڈاکٹر بن کر کیا کروں گا؟ والدہ کی خواہش تھی کہ تم بڑے بیٹے ہو اور تم نے میری بات ماننی ہے۔ پھر 9 ویں جماعت میں مجھے زبردستی سائنس کے مضامین دلوائے گئے۔ میں نے والدہ کی اس خواہش کے لئے پھر تن من دھن ایک کر دیا۔ میری والدہ میرے ڈاکٹر بننے پر بہت خوش ہوئیں۔ پھر مجھے جیسے ساتھی ڈاکٹر ملے ویسے اب نہیں مل سکتے! “ ۔

مریضوں کی دعا
” کیا آپ اپنی اس جد و جہد سے مطمئن ہیں؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔

” میں نے جدوجہد کی، اب بھی کر رہا ہوں اور کرتا رہوں گا۔ اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے ہر ایک چیز مہیا کی۔ اچھے دوست ملے، اچھا نام ملا، اچھا پیشہ ملا پھر سب سے بڑھ کر اپنے مریضوں کا بے حد پیار اور دعائیں ملیں۔ میری فیس برائے نام ہوتی تھی اس پر بھی کوئی نہ دے سکے تو میں کہتا کہ پہلے دوا تو لے لو، اگلی مرتبہ دے دینا۔ یہ اگلی مرتبہ الاسٹک کی طرح لمبی سے لمبی ہو کر لچکتی تھی لیکن یہی لچک ہر نازک موڑ پر ڈھال بنی“ ۔

” کیا آپ نادار مریضوں کو دوا کے پیسے بھی دیتے تھے؟“ ۔

” جو مریض دوا کی استطاعت نہیں رکھتے تھے انہیں میں دوائیں دلواتا تھا۔ لیکن عجیب بات دیکھی کہ تقریباً سب ہی میرے پیسے ضرور لوٹاتے! غریب کی عزتِ نفس کا میں نے ہمیشہ خیال کیا۔ برطانیہ سے بیٹھ کر بھی واٹس ایپ کے ذریعے یہاں کے غریب مریضوں کی راہنمائی کرتا رہا ہوں۔ جو چاہے میں اس سے رابطے میں ہوں“ ۔

” کسی بھی شعبے میں اسپیشلسٹ بننے کا خیال کیوں نہیں آیا؟“ ۔

” اسپیشلسٹ کی مد میں، میں نے فیملی فزیشن کے طور برطانیہ سے 2008 میں ایم آر جی پی کورس کیا۔ وہ کرنے کے بعد میں بطور کنسلٹنٹ، فیملی فزیشن پریکٹس کر رہا تھا“ ۔

ڈاکو بطور انسان

” ڈاکووں نے آپ کو 25 دن قید رکھا۔ کوئی ایسا واقعہ یاد ہے کہ آپ کہیں کہ ہاں وہ بھی انسان تھے! ابھی تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ حیوان تھے“ ۔

” وہ پوچھتے کہ ڈاکٹر چائے پیے گا؟ مجھے چائے کا شوق تھا۔ میں کہتا کہ بالکل پیوں گا۔ اُس زمانے میں مجھے ناشتے کے بعد بھی ایک اور کپ چائے پینے کی عادت تھی۔ وہ کہتے کہ اسے چائے لا کر دو ۔ پھر چائے کا تھرماس بھر کر میرے قریب رکھ دیتے جب کہ پینے کا پانی نہیں ہوتا تھا۔ ڈاکووں کا سردار میرے قریب بیٹھ جاتا اور کہتا کہ میں شوگر اور بلڈ پریشر کا مریض ہوں۔ ڈاکٹر بتاؤ میں کون سی دوا لوں؟ کیا کھاؤں کیا نہ کھاؤں؟

میں اس کی راہنمائی کرتا تھا۔ ایک دن میں نے اس سے کہا کہ تم لوگ بھی انسان ہو لیکن مسلسل تین دن تم تینوں نے میرے سر پر اتنی سخت ڈیوٹی کی ہے اب اگر یہی ڈیوٹی تم کہیں باقاعدہ چوکیداری کی کر لو تو تم لوگوں کو حق حلال کے پیسے ملیں گے۔ یہ تاوان وغیرہ کے پیسے حلال تو نہیں ہوتے۔ تم مسلسل خوف تلے چھپ کے زندگی گزارتے ہو۔ پولیس اور عوام کی نظروں میں بھی چور ڈاکو ہو۔ اس پر وہ کہنے لگا کہ ڈاکٹر اب ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں! آپ کتنی ہی نصیحت کر لو لیکن ہم نہیں بدل سکتے اور یقین سے کہتے ہیں کہ ہماری موت ایک دن پولیس مقابلے میں ہو گی“ ۔

” اور ہوا بھی ایسے ہی! جب انہوں نے مجھے پیسے لے کر چھوڑا تو اس کے پانچ یا چھ مہینے بعد یہ ہی ڈاکو دوبارہ کسی کو اس علاقے سے اٹھانے آئے۔ اینٹی وائلنٹ کرائم سیل The Anti۔ Violent Crime Cell (AVCC) والے ان کے پیچھے تھے لہٰذا مقابلے میں ڈاکو مارے گئے۔ مجھے فون آیا کہ آپ کے ڈاکو ہلاک کر دیے گئے ہیں کیا شناخت کر سکتے ہیں؟ میں نے کہا

کہ قید میں زیادہ تر میری آنکھوں پر پٹی ہوتی تھی البتہ میرے بھائی نے اسے پیسے دیتے ہوئے دیکھا تھا۔ شاید وہ پہچان لے۔ تینوں ڈاکووں کی لاشیں ایدھی سردخانے میں تھیں۔ ڈاکووں کے سردار، حاجی صاحب کی لاش پہچان لی گئی۔ وہ لاش دیکھ کر مجھے اسی کے کہے الفاظ یاد آ گئے کہ آپ ہمارا 100 واں کیس ہو۔ ہم ویسے تو بہت تجربہ کار ہیں لیکن اس کے باوجود ہم کتے کی موت مریں گے! ”۔

پیدائشی مجرم
” کیا وہ ڈاکو، ڈاکا زنی میں اپنی مرضی سے آئے؟ آئے تو کیوں آئے؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔

” ہاں! یہ میں نے اُن سے پوچھا تھا کہ آپ یہ ڈاکے مارتے ہو تو کیا آپ لوگوں کی کوئی فیملی نہیں ہوتی؟ انہوں نے کہا کہ بچپن ہی سے ہماری اسلحہ کے ساتھ تربیت شروع ہوتی ہے۔ ہمارے تمام اسلحے غیر قانونی اور ہمارا علاقہ بھی غیر قانونی ہوتا ہے۔ ہم کسی بھی لکھے پڑھے یا امیر آدمی کو دیکھ نہیں سکتے۔ ہم اس کو ضرور لوٹتے ہیں۔ کسی کی اچھی گاڑی یا موٹر سائیکل دیکھتے ہیں تو ضرور چھینتے ہیں۔ ہمارے گاؤں میں کوئی بھی ترقی کر ہی نہیں سکتا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم سے ترقی دیکھی ہی نہیں جاتی! اُن کی“ جو چاہو کر لو ”کی خواہش بندوق کے زور سے پوری ہوتی تھی۔ یہ جنگل کا قانون تھا۔ اس پس منظر میں یہ لوگ اس پیشے میں آئے۔ بعد میں وہ اسلحہ انہیں کیسے سپلائی ہوتا۔ پولیس کے لوگ ملے ہوتے تھے۔ علاقے کے بڑے زمینداروں کی سرپرستی بھی میسر تھی جو اِن کو محفوظ راستہ بھی دیتے تھے۔ گویا ہر قدم پر ڈاکووں کی حوصلہ افزائی ہوتی۔ لیکن یہ بات ایک ایک ڈاکو جانتا تھا کہ بالآخر ان کا انجام عبرت ناک ہی ہو نا ہے“ ۔

” میں اُن کی وکالت نہیں کر رہا لیکن کیا کبھی وہ خوشگوار موڈ میں بھی ہوتے تھے؟“ ۔

” جب میری قید کے شروع کے دن تھے تو ہر وقت میری آنکھوں پر پٹی بندھی ہوتی۔ مجھے تو ویسے ہی بہت جلد غصہ آتا ہے جب میں نے ان پر غصہ کیا تو کسی نے میری پیٹھ پر زور سے ایک لٹھ ماری اور میں نہر میں جا گرا کیوں کہ مجھے نہر کے کنارے بٹھا رکھا تھا۔ میں ڈوبنے لگا۔ مجھے سندھی زبان میں آواز آئی کہ ڈاکٹر مرنے والا ہے۔ دوسری آواز آئی جلدی کرو ڈاکٹر نہیں بلکہ ہمارا پیسہ مر جائے گا۔ تب مجھے پکّا یقین ہو گیا کہ یہ کچھ ہی کہتے رہیں مجھے مرنے نہیں دیں گے! انہیں تاوان کے پیسے رات ساڑھے آٹھ بجے ملے اور مجھے اگلے روز چھوڑنے کے وعدے کے عین مطابق رہا کر دیا گیا۔ یہ صحیح ڈاکو تھے کہ جو کہا اس پر عمل بھی کیا“ ۔

” کسی ڈاکو نے کبھی آپ سے بدسلوکی کی معذرت چاہی؟“ ۔

” نہیں! کسی نے کوئی معذرت نہیں چاہی! وہ تو بڑے خوش تھے کہ ڈاکٹر آج تم چھوٹ جاؤ گے اور ہم بھی اپنے گھر والوں کے پاس جائیں گے۔ پیسے ملنے سے وہ سب بہت خوش تھے۔ وہ کیا معذرت کرتے انہوں نے میری رہائی کے بعد پھر سے اپنا دھندا شروع کر دیا۔ کسی شخص کا شکار کرنے آئے تھے کہ خود ہی شکار ہو گئے! “ ۔

” شبیر بہت بہت شکریہ! نشست لمبی ہو گئی۔ مجھے تمہاری ’مہم جوئی‘ کا علم تو تھا لیکن یہ تفصیل سن کر تو میں بھی حیران رہ گیا! میرے خیال سے تو میرے افریقہ کے تجربات پر تمہاری یہ کہانی بھاری رہی“ ۔ یوں ڈاکٹر سید شبیر نواز صفوی کے آغا باغ سے ہم میٹرک کے ہم جماعت واپس کراچی کے لئے روانہ ہوئے۔

Facebook Comments HS