قیدی کے خطوط:یہی جواب ہے، اس کا کوئی جواب نہیں


غالب کی پہچان شاعری ہے لیکن ان کے خطوط انھیں سمجھنے کے لیے ان کی شاعری کی ہی طرح اہم ہیں۔ ان خطوط میں خوشی، بے بسی، التجا ہے، پریشانیوں کا ذکر ہے۔ گھر کی دیواروں کی دراڑیں ہیں، قحط ہیں، سیلاب ہیں، وبائیں ہیں، بخار ہیں، رات کی تاریکیوں میں نقب لگا کر تختے، دروازے اور چوکھٹیں نکال کر لے جانے والے چور ہیں، اس چوری سے پریشان غریب غربا ہیں، مئی جون کی گرم ہوائیں ہیں، شاعری اور ادب کے تعلق سے مباحثے ہیں، مالی تنگیوں کا رونا ہے، گندم، چنے اور گھی کی آسمان چھوتی قیمتیں ہیں۔

دوستوں سے بچھڑنے کا رنج ہے، ویران بازار ہیں، گزرے ہوئے ماضی اور آنے والے مستقبل کا ذکر ہے۔ خط کو غالب نے روداد بنا ڈالا اور اردو اصناف ادب میں مکتوبات کا اہم ترین کردار مکاتب غالب کے بغیر مکمل ہی نہیں ہوتا۔

ان دنوں ”قیدی کے خطوط“ کی باز گشت ہے۔ جن میں پابندیوں اور مظلومیت کا رونا، گلے، اور دھاندلی کے الزامات ہیں، طاقت وروں تک رسائی کی خواہش ہے، فوج اور عوام میں بڑھتی خلیج کے تذکرے ہیں، من پسند عدلیہ کی تقرریاں، پیکا کا نفاذ، سیاسی عدم استحکام، ملکی معیشت کی تباہی، ریاستی اداروں کی سیاسی انجینئیرنگ، اور سیاسی انتقام میں شمولیت، 9 مئی اور 26 نومبر کی ظلم و تشدد کی دہائیاں ہیں۔

فروری 2024 ء میں عمران خان نے آئی ایم ایف کو خط لکھا تو بعض حلقوں نے اسے سیاسی غلطی جبکہ کچھ نے نئی حکمت عملی قرار دیا۔ مارچ 2024 ء میں حکومت اور آئی ایم ایف مذاکرات کے نازک موقع پر خان صاحب نے حکومت کو آئی ایم ایف سے معاہدے میں دشواری میں ڈالنے کی کوشش کی، مگر تمام تر رکاوٹوں کے باوجود ستمبر 2024 ء میں آئی ایم ایف نے 7، ارب ڈالر قرض کی منظوری دے دی۔ خان خط سے مطلوبہ مقصد حاصل نہ پائے، تاہم وہ اپنی اس حکمت عملی پر تاحال کاربند ہیں۔

اس بار انہوں نے پہلے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان کو 349 صفحات کا خط لکھا۔ چیف جسٹس نے یہ خط آئینی بینچ کمیٹی کو بھجوا دیا۔ اصل میں خان صاحب یہ تاثر دیے بغیر ریلیف چاہتے ہیں، جس سے اَنا کو ٹھیس پہنچے یا کارکنوں کو سمجھوتے کا پیغام جائے۔ جن شرائط پر ، وہ ریلیف کے خواہاں ہیں انہیں ریلیف ملنا ممکن نہیں۔

قیدی 804 کے لکھے خطوط سیاسی زبان میں کھلا خط کہلاتے ہیں۔ دھمکیوں پر مبنی خطوط اکثر منزل مقصود تک پہنچ پاتے ہیں اور نہ ایسے خطوط کا جواب آتا ہے۔ اڈیالہ جیل سے جس طرح جی ایچ کیو میں خطوط آرہے ہیں ’اس سے لگتا ہے کہ لوگوں میں پھر خط لکھنے، بھیجنے اور پڑھنے کا رجحان پیدا ہو جائے گا۔ پی ٹی آئی والے اپنے مرشد کی طرح خطوط لکھنے لگے تو محکمہ ڈاک کا ، کاروبار بحال اور ملک میں مقابلہ حسن و صحت کی طرح خطوط نویسی کے مقابلے بھی شروع ہوجائیں گے۔

عمران خان کے خطوط کو فوج کو تقسیم کی سازش اور ایک چارج شیٹ ہے جو محاذ آرائی کی چنگاری کو شعلوں میں بدلے گی۔ یہ خطوط بڑھتی ہوئی محاذ آرائی کا نیا آغاز ہے کیونکہ ادھر سے وہی جواب آیا ہے جس کی توقع تھی۔

مرا خط اس نے پڑھا پڑھ کے نامہ بر سے کہا
یہی جواب ہے اس کا کوئی جواب نہیں

دیکھیں آنے والے دنوں میں اور کتنے خطوط لکھے جاتے ہیں۔
قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں
میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں

عمران خان جنرل عاصم منیر کے نام مبینہ طور پر تین خطوط لکھ چکے ہیں کہ مجھ پر یا آپ پر کوئی الزام ہے تو اس کی جوڈیشل انکوائری کروا لیں۔ عمران خان بتانا چاہتے ہیں کہ اُن کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ اُنہیں کسی بھی سیاسی راستے سے ریلیف کی توقع نہیں۔ انہیں پاکستانی فوج اور عدلیہ سے جو شکایات ہیں ان کا اظہار ان خطوط سے ہو رہا ہے۔ خط لکھنا عمران خان کا حق ہے وہ خود کو مظلوم سمجھتے ہیں۔ لیکن ان کی جانب سے جو غلطیاں 9 مئی سے شروع ہوئیں وہ اب تک جاری ہیں۔

عمران خان اپنے خطوط سے ملک میں ایک نفسیاتی ہیجان اور فوج میں کنفیوژن پیدا کرنا چاہتے ہیں وہ خود بھی اِسی کیفیت کا شکار ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ وہ جارحانہ انداز سے ریاست کو دفاعی پوزیشن پر لے آئیں گے، لیکن ایسا اب تک ممکن نہیں ہو سکا۔

کبھی تو میری کھلے گی قسمت
کبھی تو ان سے وصال ہو گا

عمران خان سمجھتے ہیں کہ طاقت ور حلقوں تک رسائی کا راستہ سیاسی ہے نہ اس سے نتائج جلد سامنے آسکتے ہیں۔ ایکس پر شیئر خط میں عمران خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے فوج اور عوام میں بڑھتی ہوئی خلیج دور کرنے کے لیے آرمی چیف کو خطوط لکھے جس کا جواب غیر سنجیدگی سے دیا گیا۔ اصل میں وہ چاہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ ان کی طرف توجہ مرکوز کرنے پر مجبور ہو جائے۔ اس لیے وہ پے در پے خطوط لکھ رہے ہیں۔

نامہ بر تو ہی بتا تو نے تو دیکھے ہوں گے
کیسے ہوتے ہیں وہ خط جن کے جواب آتے ہیں

عمران خان کے خطوط کے نکات یہ ہیں۔ ”الیکشن میں دھاندلی، نتائج میں تبدیلی، 26 ویں آئینی ترمیم، من پسند ججز کی بھرتیاں، پیکا کا اطلاق، سیاسی عدم استحکام سے ملکی معیشت کی تباہی، ریاستی اداروں کی سیاسی انجینئیرنگ، 9 مئی اور 26 نومبر کو نہتے کارکنان پر ظلم و تشدد کی انتہا، سیاسی انتقام کی آڑ میں تین سال میں لاکھوں شہریوں کے گھروں پر چھاپے، 20 ہزار سے زائد ورکرز اور سپورٹرز کی گرفتاری۔ فوج کی آئینی حدود میں واپسی اور سیاست سے علیحدگی۔

ورنہ یہی خلیج قومی سلامتی کی اصطلاح میں فالٹ لائنز بن جائے گی۔ میری اہلیہ، ڈاکٹر یاسمین راشد، میری بہنوں سمیت سینکڑوں خواتین کی بے جا، گرفتاری، ہماری روایات کے منافی ہے اور اس کی وجہ سے عوام میں فوج کے خلاف نفرت بہت بڑھ گئی ہے جس کا بروقت سدباب فوج اور ملک دونوں کے حق میں بہتر ہے ورنہ ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔ پیکا قانون کے ذریعے سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر قدغن سے پاکستان کا جی ایس پی پلس سٹیٹس بھی خطرے میں ہے۔

انٹرنیٹ میں خلل سے ہماری آئی ٹی انڈسٹری کو اربوں ڈالرز کا نقصان اور نوجوانوں کا کیرئیر تباہ ہو رہا ہے۔ سیاسی عدم استحکام سے، سرمایہ کار اور ہنرمند افراد پاکستان چھوڑ کر اپنے سرمائے سمیت تیزی سے بیرون ملک منتقلی پر مجبور ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ قوم فوج کے پیچھے کھڑی ہو، جن نکات کی نشاندہی کی گئی ہے، 9 فیصد عوام ان کی حمایت کرے گی۔“

اب تک عمران خان کے تمام اہم کارڈ ثابت ہوئے البتہ خود احتسابی کا ایک کارڈ اب بھی ہے جو ان کی مشکلات آسان کر سکتا ہے، مگر اس طرف وہ توجہ نہیں دے رہے۔ بروقت اور درست فیصلہ نہ کر نا منزل سے دور کر دیتا ہے ’خصوصاً جب بات قائد یا رہنما کی ہو۔ ایک قائد صحیح وقت پر درست فیصلے نہ کرے، تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوتے ہیں۔ اس کے لیے جذباتی مغلوبیت نہیں حالات کے مطابق حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے اس کے لیے اپنی غلطیوں کا اعتراف اور ان کی ذمہ داری قبول کرنا ضروری ہے۔ آگے بڑھنے کا ایک ہی طریقہ، صبر کے ساتھ منصوبہ بندی ہے۔ جتنی جگہ ملے اس کے مطابق آہستہ آہستہ آگے بڑھیں۔ پاکستان کوئی مثالی جمہوری ملک نہیں، یہاں ایک ہائبرڈ سسٹم ہے۔ پاکستان میں سمجھوتے کرنے، اسٹیبلشمنٹ اور اسٹیک ہولڈرز کو جگہ دینی پڑتی ہے۔

Facebook Comments HS