پاکستان میں مینگروو منصوبے: امیدیں چیلنجز اور شفافیت کی ضرورت


Writing and Outlining

(کامران عباس کا یہ مقالہ ارتقاء انسٹیٹیوٹ آف سوشل سائنسز کے پروگرام میں پڑھا گیا)

تعارف

مینگروو جنگلات دنیا کے اہم ترین ماحولیاتی نظام میں شامل ہیں جو موسمیاتی تبدیلیوں کو کم کرنے ساحلی کمیونٹیز کو تحفظ دینے اور حیاتیاتی تنوع کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان جو بحیرہ عرب کے ساتھ طویل ساحلی پٹی رکھتا ہے ماحولیاتی انحطاط کا شکار ہے اور موسمیاتی مزاحمت بڑھانے کے لیے مختلف مینگروو بحالی منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ یہ منصوبے امید افزا ہیں لیکن ان میں شفافیت مقامی آبادی کی شمولیت اور موثر پالیسی عملدرآمد جیسے چیلنجز بھی موجود ہیں۔ اس مضمون میں ان منصوبوں کی موجودہ صورتحال ان کے موسمیاتی اثرات کاربن کریڈٹس کے کردار اور ان کی پائیداری و شفافیت سے متعلق مسائل اور تجاویز پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مینگروو جنگلات کی اہمیت

1۔ کاربن جذب کرنے اور موسمیاتی تبدیلیوں میں کمی میں کردار

مینگروو جنگلات کو موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف پہلی دفاعی لائن کہا جاتا ہے کیونکہ یہ زمینی جنگلات کے مقابلے میں چار گنا زیادہ کاربن جذب کرتے ہیں اور اسے صدیوں تک مٹی میں محفوظ رکھتے ہیں۔ یہ خصوصیت انہیں عالمی حدت کے خلاف ایک موثر ہتھیار بناتی ہے۔

2۔ قدرتی آفات سے تحفظ

پاکستان کے ساحلی علاقے سمندری طوفانوں ساحلی کٹاؤ اور سمندر کی سطح میں اضافے کا شکار ہیں۔ مینگروو جنگلات قدرتی دیوار کا کام کرتے ہوئے طوفانوں کے اثرات کم کرتے اور ساحلی آبادیوں کو محفوظ بناتے ہیں۔

3۔ حیاتیاتی تنوع اور روزگار کے مواقع

یہ جنگلات مچھلیوں جھینگوں اور کیکڑوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ فراہم کرتے ہیں اور ماہی گیری، شہد کی پیداوار اور ماحولیاتی سیاحت کے ذریعے مقامی معیشت کو سہارا دیتے ہیں۔

پاکستان میں مینگروو بحالی منصوبے

پاکستان خاص طور پر سندھ اور بلوچستان میں مینگروو کے تحفظ میں کامیابیاں حاصل کر چکا ہے اور وہ دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں گزشتہ دہائیوں میں مینگروو کا رقبہ بڑھا ہے۔

اہم بحالی منصوبے

• سندھ فاریسٹ ڈپارٹمنٹ نے 1980 کی دہائی سے انڈس ڈیلٹا میں بڑے پیمانے پر شجرکاری کی ہے۔
• مینگروو فار دی فیوچر (MFF) پاکستان میں کمیونٹی بیسڈ مینگروو تحفظ کو فروغ دیتا ہے۔
• بلین ٹری سونامی منصوبہ کے تحت ساحلی علاقوں میں مینگروو کی بڑے پیمانے پر شجرکاری کی گئی۔

• آئی یو سی این اور ڈبلیو ڈبلیو ایف جیسے عالمی ادارے مینگروو بحالی تحقیق اور پالیسی سازی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

کاربن کریڈٹس اور ان کی مستقبل میں اہمیت

پاکستان میں کاربن کریڈٹ منصوبہ

کاربن کریڈٹس ایسے سرٹیفکیٹس ہیں جو کاربن کے اخراج میں کمی کے بدلے فروخت کیے جا سکتے ہیں۔ پاکستان میں انڈس ڈیلٹا کیپیٹل (IDC) نے ڈیلٹا بلیو کاربن (DBC) منصوبہ 2015 میں شروع کیا جس کے تحت 350,000 ہیکٹر مینگروو بحال کیے جا رہے ہیں۔ 2020 تک 75,000 ہیکٹر بحال ہو چکے تھے اور اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں 3.1 ملین کاربن کریڈٹس فروخت ہوئے جن سے 40 ملین ڈالر کی آمدنی ہوئی۔

انڈونیشیا کی مثال

انڈونیشیا نے 65 بلین ڈالر کے گرین اکانومی فنڈ کا اعلان کیا جو کاربن کریڈٹس کے ذریعے مالی اعانت حاصل کر رہا ہے۔ اس نے 2023 میں IDX Carbon کے نام سے کاربن ایکسچینج متعارف کرایا جو 2025 میں بین الاقوامی سطح پر فعال ہو گیا۔ پاکستان اس ماڈل کو اپنا کر اپنی کاربن مارکیٹ کو بہتر بنا سکتا ہے۔

چیلنجز اور شفافیت کی ضرورت

پاکستان میں آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں (IPPs) کے تنازعہ میں غیر شفاف معاہدے اور زیادہ منافع کے باعث گردشی قرضہ کئی گنا بڑھ گیا۔ اگر کاربن کریڈٹ منصوبوں میں شفافیت نہ رکھی گئی تو یہ بھی ایک بڑے مالیاتی اسکینڈل میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔

شفافیت اور احتساب کے مسائل

• عوامی معلومات کی کمی: کئی منصوبوں میں فنڈنگ عملدرآمد اور اثرات سے متعلق شفاف ڈیٹا دستیاب نہیں۔
• فنڈز کا غلط استعمال: کرپشن اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے خدشات موجود ہیں۔
• ناقص مانیٹرنگ میکانزم: آزاد نگرانی کے لیے موثر ادارے موجود نہیں۔

پالیسی اور ادارہ جاتی خلا

• ماحولیاتی قوانین کا کمزور نفاذ: قوانین تو موجود ہیں لیکن ان پر عملدرآمد کمزور ہے۔
• حکومتی اداروں میں رابطے کا فقدان: حکومتی اور غیر سرکاری تنظیموں میں ہم آہنگی کی کمی ہے۔

پالیسی سفارشات

شفافیت اور احتساب کو مضبوط بنانا
• آزاد مانیٹرنگ کمیٹیاں قائم کی جائیں۔
• پراجیکٹس کی پیش رفت فنڈنگ اور اثرات کے اعداد و شمار عوام کے لیے دستیاب کیے جائیں۔
مقامی شمولیت میں اضافہ
• کمیونٹی کو فیصلوں میں شامل کیا جائے اور ان کے لیے مراعات دی جائیں۔
پالیسی اور ادارہ جاتی فریم ورک کو مضبوط بنانا
• کاربن کریڈٹ مارکیٹ کی شفافیت یقینی بنائی جائے تاکہ یہ بھی IPPs اسکینڈل جیسی صورتحال سے بچ سکے۔

پاکستان کے مینگروو منصوبے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے امید کی ایک کرن ہیں لیکن ان کی کامیابی شفافیت مقامی شرکت اور موثر پالیسی فریم ورک پر منحصر ہے۔ اگر تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر کام کریں تو پاکستان عالمی سطح پر ایک ماحولیاتی رہنما بن سکتا ہے۔

Facebook Comments HS