سندھ میں مذہب اور سیاست کے بدلتے منظر نامے : آخری حصہ
قرارداد لاہور اس وقت کے وزیر اعظم بنگال اے کے فضل حق نے پیش کی تھی جس میں واضح طور پر آزاد اور خودمختار ”ریاستوں“ کا مطالبہ کیا گیا تھا، یعنی ایک سے زائد وہ ریاستیں جن میں مسلمانوں کی اکثریت ہو ”خودمختار مسلم ریاستیں“ قرار دی جائیں۔
23 مارچ 1940 اور اگست 1947 کے درمیانی عرصے میں قائداعظم محمد علی جناح نے علیحدہ علیحدہ خود مختار مسلم ریاستوں کے بجائے ایک مسلمان ریاست پر حامی بھر کر سندھ کی علیحدہ آزاد مسلم ریاست کے حصول کے لیے سائیں جی ایم سید کے خواب کو پورا ہونے سے روک دیا۔
سائیں جی ایم سید کی سندھ کو علیحدہ اور خودمختار مسلم ریاست دیکھنے کے لیے زندگی بھر کی محنت اکارت ہوئی اور خواب بکھر گیا، جناح صاحب کے اس فیصلے میں عجلت اور انڈیا کی تمام مسلم قیادت سے صلاح مشورہ کے فقدان نے آگے چل کر بے تحاشا مسائل کو جنم دیا جس کے نتیجے میں سائیں جی ایم سید نے مسلم لیگ اور جناح صاحب سے 1946 میں مکمل طور پر اپنا تعلق منقطع کر لیا۔
پاکستان بنانے میں منصوبہ بندی کے فقدان نے لاکھوں بے گناہ جانیں نہیں نگلیں بلکہ وسائل کی تقسیم کے وقت 37 فیصد اسٹیبلشمنٹ کی دیکھ بھال کے لیے صرف 17 فیصد اثاثوں کے حصول پر اکتفا بھی کیا جس نے ایک ایسی مفلوک الحال ریاست کو جنم دیا جس پر ایک بھاری بھرکم اسٹیبلشمنٹ کا بوجھ اٹھانے کی ذمہ داری آن پڑی اور آزادی کے ابتدائی چند سالوں بعد ہی ریاست کی مکمل باگ ڈور بھی اسی اسٹیبلشمنٹ کے سپرد کرنا پڑی۔
انگریز کی تیار کردہ اسٹیبلشمنٹ سے نمٹنے میں کمزور طرز حکمرانی نے روز اول سے انگریز کی جگہ انگریز کی تیار کردہ اسٹیبلشمنٹ کی غلامی کا دور شروع کر دیا۔ سائیں جی ایم سید جیسا شاندار، بذلہ سنج، نرم خو انسان آل انڈیا مسلم لیگ اور مسلم لیگ کے آہنی لیڈر محمد علی جناح اور جناح صاحب کے ارد گرد مفاد پرست جاگیرداروں، نوابین، سرمایہ داروں اور بیوروکریسی کے اعلیٰ عہدیداروں کی بھینٹ چڑھ گیا جس نے ہندو سود خور مہاجن کے مضبوط شکنجے سے اپنے سندھی مسلمان عوام کو آزاد کروانے کے لیے ساری زندگی وقف کر دی تھی۔ سائیں جی ایم سید کی برصغیر کے مسلمانوں سے جذباتی لگاؤ کا اندازہ سال 1930 میں بہار کے فسادات میں بہاری مسلمانوں کو سندھ آ کر آباد ہونے کی دعوت دینا ایک اہم تاریخی قدم تھا جس کے نتیجے میں عبدالقدوس بہاری کے خاندان سمیت بہاریوں کا سندھ آ کر آباد ہونا بی بی سی اردو میں حسن مجتبیٰ کے لکھے مضمون میں درج ہے۔
سال 1919 میں 16 برس کی کم عمری میں خلافت تحریک کی رکنیت اختیار کرنے والے سائیں جی ایم سید کی جدوجہد آزادی بیک وقت دو استحصالی قوتوں یعنی انگریز اور سندھ کی معیشت پر مکمل گرفت رکھنے والی ہندو اقلیت سے آزادی کی جدوجہد کی داستان ہے۔ سائیں جی ایم سید کے لیے دوسری جنگ عظیم میں شدید نقصانات کے باعث برطانوی سامراج سے چھٹکارے کا حصول نسبتاً آسان جب کہ ہندو معاشی بالادستی سے چھٹکارے کی جدوجہد زیادہ کٹھن مرحلہ تھا۔
اگست 1947 میں انگریز سے آزادی کے حصول کے وقت سندھ کی 40 فیصد زرعی زمین ہندو مہاجنوں کے پاس مسلمان کاشتکار کو دیے گئے قرض کے عوض رہن کی صورت قبضے میں تھی، سود سمیت اصل رقم کی بروقت ادائیگی میں ناکامی کی صورت میں فصل قبضے میں لے لیا جانا عام تھا۔ سندھ کے دارالحکومت کراچی کی آبادی لگ بھگ تین لاکھ تھی جس کا 85 فیصد ہندو اور باقی 15 فیصد مسلمان، پارسی، کرسچن اور سکھ وغیرہ پر مشتمل تھا۔ جب کہ سندھ کے مسلمان حکمرانوں سے لے کر انگریز حکمرانوں تک مسلمان شہریوں نے حصول تعلیم پر توجہ مرکوز نہیں کی تھی۔ ایک محتاط تخمینے کے مطابق ریاست سندھ کی کل آبادی کا بمشکل 5 سے 7 فیصد شہری تعلیم سے روشناس تھے جبکہ ہندووں کی بھاری اکثریت تعلیم یافتہ تھی۔
اگست 1947 کے تقسیم کے فیصلے نے ہندو آبادی کو کم و بیش اسی انداز میں اپنی زمین چھوڑنے پر مجبور کیا جس طرح ہندوستان کی مسلم اقلیت سندھ کی جانب روانہ ہوئی، 1947 تک سندھ کے اکثریتی مسلمان سندھ میں صدیوں سے آباد ہندو اقلیت کو یہ باور کرا چکے تھے کہ سندھ کی سر زمین ہندو کی معاشی بالادستی کے لیے تنگ ہو چکی ہے، مذہب کو بنیاد بنا کر آزاد مسلم ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرنے کی یہ جدوجہد ایک دن ایک ماہ یا ایک سال نہیں بلکہ ایک طویل مدت سے بظاہر دو مذہبی عقائد میں ٹکراؤ لیکن حقیقتاً دو مذہبی عقائد کے بیچ بہت وسیع تعلیمی اور معاشی خلیج کا نتیجہ تھی، یہ ٹکراؤ سیاسی محاذ آرائی سے لے کر صحافتی دنیا تک پھیل چکا تھا۔ روزنامہ ڈان کا 13 ستمبر 1947 کا شمارہ مسلم لیگ نیشنل گارڈز کو تاک تاک کر ہندو املاک اکٹھا کرنے اور اپنی تحویل میں لینے کی ہدایات دے رہا تھا جبکہ روزنامہ ہلال پاکستان اس حد تک آگے نکل چکا تھا کہ جرائم پیشہ عناصر کو اپنے 6 اکتوبر 1947 کے روزنامے میں مخاطب کر کے تلقین کر رہا تھا کہ اپنی توانائیاں ہندو برادری کے خلاف استعمال کریں۔
قائد اعظم محمد علی جناح نے لاہور کی 30 اکتوبر 1947 کی تقریر میں ہندوستان سے آنے والوں کی آبادکاری کی ذمہ داری لینے کا باقاعدہ اعلان کیا، سندھ کی مقامی آبادی نقل مکانی کر کے آنے والوں کے ابتدائی قافلوں کو محبت سے گلے لگاتی رہی، آنے والوں کی رہائش کے مناسب انتظام، کھانے پینے کے بندوبست اور حتیٰ کے غربت اور غربت سے نچلی سطح سے تعلق رکھنے والے قافلوں کے پہننے اوڑھنے کا بندوبست اپنے ذمہ لیے رکھا، 22 مئی 1948 کو شہر کراچی ملک کا دارالحکومت اور حیدر آباد صوبہ سندھ کا دارالحکومت قرار دے دیا گیا۔
تعلیمی اور معاشی لحاظ سے مستحکم ہندو آبادی کے نقل مکانی کر جانے سے سندھ پسماندہ صوبہ تصور کیا جانے لگا لیکن کراچی کے دارالحکومت بننے اور سرکاری مشینری کے لیے ہندوستان سے آئے انسانی وسائل کی فوری دستیابی سے دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ فعال ثابت ہوا، وفاق نے مشرقی پنجاب سے پہنچنے والے دس لاکھ سے زائد افراد کسی مشورے کے بغیر سندھ روانہ کر دیے، پاکستان کا دارالحکومت کراچی اور سندھ کے دیگر علاقے نقل مکانی کر کے آنے والوں سے بس گئے، ہندو آبادی جو معاشی طور پر سندھ کی مڈل اور اپر کلاس تھی کی تعداد سے کہیں زیادہ تعداد ہندوستان سے نقل مکانی کر کے آنے والی اپر اور مڈل کلاس نے لے لی، آنے والے امیر و کبیر افراد نے کراچی کے کاروبار، صنعت، خدمات اور انتظامی شعبے میں قدم جما لیے۔
نئے دارالحکومت کراچی کی محدود گنجائش نے پہنچنے والوں کے لیے اسے ایسے شہر میں بدل دیا جو اس ہجوم کا وزن اٹھانے سے قاصر تھا، ذرائع روزگار پیدا ہو کر معدوم ہونے لگے، بلا غور و فکر نقل مکانی کے نتائج محسوس کرتے ہوئے پہنچنے والوں کی خاصی تعداد نے سندھ کے دیگر شہروں کی جانب رخ کرنا شروع کیا جہاں راجستھان سے آنے والے پہلے ہی رہائش اختیار کر چکے تھے، کراچی میں گنجائش کا خاتمہ اور سندھ کے دیگر شہروں میں ذریعہ معاش مشکل دیکھ کر خاصی تعداد نے ہندوستان واپسی شروع کر دی، اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے مہاتما گاندھی نے واپس آنے والوں کو ان کے چھوڑے ہوئے گھروں میں دوبارہ آبادکاری کی مہم شروع کر دی جو ان کے قتل تک جاری رہی۔
قتل سے قبل مہاتما گاندھی نہرو حکومت سے پاکستان سے واپس آنے والوں کو بنا کسی لیت و لعل آباد کرنے کا وعدہ لے چکے تھے، ہندوستان حکومت نے اس وعدے کی پاسداری کی کوشش کی لیکن ہندوستانی افسر شاہی نے واپس آنے والوں کے لیے حکومت سے ”پرمٹ“ کے تقریباً ناممکن حصول کو لازمی قرار دلوا کر پاکستان سے انڈیا واپس پہنچنے والے لگ بھگ تین سے چار لاکھ افراد کو اجازت سے انکار کر کے واپس پاکستان لوٹا دیا، ان افراد کی پریشانیاں دیکھ کر واپسی کے دیگر خواہشمند افراد نے واپسی کا ارادہ ترک کر کے مجبوراً نئی سرزمین میں بسنے کے راستے تلاش کرنا شروع کر دیے۔ انڈیا کے ”پرمٹ“ نظام کی نقل پاکستان نے بھی کی اور واپسی اختیار کرنے کے خواہشمند ہندووں کی واپسی روک دی جس کے باعث پاکستان اور ہندوستان سے واپس ہونے والے ”نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے“ کے مصداق شدید پریشانی سے دوچار ہوئے۔
روزنامہ جنگ کے 27 اور 29 مارچ 1948 کے اداریے قابل غور ہیں جو نقل مکانی کر کے آنے والوں کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے سبب ہندوستان واپسی اختیار کرنے کی کوشش کرنے والوں کے حوالے سے لکھے گئے، نئی ریاست کے قیام سے پہلے مناسب اقدامات کی غیر موجودگی کے باعث نقل مکانی کر کے آنے والوں کی بڑی تعداد سندھ کے شہری علاقوں میں بس گئی، رہائش کی قلت کے سبب تین کمروں کے ایک گھر میں مختلف سمت سے آئے تین علیحدہ خاندان بسائے جانے لگے۔
پاکستان پہنچنے والے قافلے چھوٹی تعداد میں سندھ کے طول و عرض میں بسائے جاتے تو مقامی معاشرے میں با آسانی ضم ہو جاتے لیکن بسنے اور بسانے والے سب عجلت کا شکار تھے۔ سندھ کے معاملات خراب کرنے میں دوسرا بڑا دخل اردو کو پورے ملک کی قومی زبان قرار دینا تھا، مشرقی پاکستان کے بنگالیوں کو 1952 میں اس فیصلے کے خلاف آواز بلند کرنا پڑی، بالآخر حکومت نے بنگالی زبان کو قومی زبان کا درجہ تسلیم کیا، جبکہ سندھی اور اردو بولنے والے شہریوں کے درمیان لسانی دیوار کھڑی کرنے کی کوشش جاری ہو گئی۔
نقل مکانی کر کے پہنچنے والے جم غفیر اور سندھی زبان کو پس پشت ڈالے رکھنے نے مل کر صوبہ سندھ میں لسانی تفرقے کی شکل اختیار کر لی، ڈکٹیٹر ایوب کے ون یونٹ تجربے نے سندھ کے تشخص کو مزید زک پہنچا کر اندر ہی اندر احساس محرومی کو پروان چڑھایا، لسانی بنیاد پر تقسیم کا فائدہ سندھ میں اقتدار پر قابض تعداد میں چھوٹے لیکن بڑی قطعہ اراضی کے بڑے زمیندار طبقہ کو ہوتا رہا جس نے ملک کی اسٹیبلشمنٹ سے ساز باز کی قیمت وصول کی اور آج تک کر رہا ہے۔ یہ طبقہ لوئر مڈل اور مڈل کلاس کو اوپر آنے اور اقتدار منتقل کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، مزید ستم ظریفی یہ ہے کہ مڈل کلاس کا ایک بہت چھوٹا طبقہ جو تعلیم یافتہ ہونے کا بھی دعویدار ہے جان بوجھ کر اپنی سمت درست کرنے کے لیے تیار نہیں۔
وسائل پر قابض اشرافیہ تین فیصد سالانہ کی رفتار سے بڑھتی آبادی کی روک تھام میں بری طرح ناکام ہے، موجودہ بے ہنگم یونٹس یا صوبوں کو چھوٹے انتظامی یونٹس میں ڈھالنے کے لیے بھی تیار نہیں، اس حکمت عملی کا تعلق اشرافیہ اور اس کے گماشتوں کے مفادات سے جڑا ہے جس کے لیے صورتحال کا بدستور جاری رہنا ہی ان کے مفاد میں ہے، مقتدر اشرافیہ مقامی حکومتوں کے قیام سے بھی خائف ہے، کیونکہ مالی وسائل ان کے ہاتھوں سے نکل کر عوام کی جانب رخ کر لیں گے، خاندانی اجارہ داریاں ختم اور عوام کے لیے نچلی سطح سے قیادت منتخب کرنا آسان ہو جائے گا۔
قیام پاکستان کے بعد مذہبی شدت پسندی میں کمی کی توقع کرنا قدرتی امر تھا لیکن اس کے برعکس اس میں بتدریج شدت پیدا ہونا قیام پاکستان کو غلط ثابت کرنے کی ایک کوشش کہی جا سکتی ہے جب کہ 1971 میں بنگلہ دیش کا قیام ایک علیحدہ سوالیہ نشان ہے جس پر تحقیق جاری رکھنے، غلطیوں کی نشاندہی اور ان کے سد باب کی ضرورت ہے۔ گزشتہ برس 17 ستمبر 2024 کو پولیس کی حفاظتی تحویل میں موجود عمرکوٹ کے ڈاکٹر شاہنواز کمبھر کی زندگی کی حفاظت کے بجائے پولیس کے اپنے ہاتھوں ہلاک کیا جانا مذہبی شدت پسندی کے رخ کو عمرکوٹ اور اس کے گردونواح کی قدرے بھاری ہندو آبادی کے لیے سخت پیغام کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے، توہین رسالت ثابت کیے بغیر قتل کے تمام محرکات کو جاننے کی ضرورت ہے نا کہ سندھ کو صوفی اسلام کی پرامن دھرتی کے مغالطے کے نیچے دبائے رکھا جائے۔
یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ وہ کوششیں جو ہندووں کو دیس نکالا دینے کے لیے کی گئیں اگر تعلیم کے میدان میں کی جاتیں، اپنی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے ہوتیں، زرعی اصلاحات سے فیوڈل نظام کے خاتمے کے لیے ہوتیں، بے ضابطہ سودی نظام کے بجائے موثر اور باضابطہ بینکاری نظام قائم کرنے کے لیے ہوتیں، ایک منصفانہ معاشرہ تخلیق کرنے کے لیے ہوتیں تو نہ ہندو اپنی زمین چھوڑنے پر مجبور ہوتے نہ ہی قیام پاکستان کے وقت منصوبہ بندی میں کوئی کمی ہوتی، جو وقت مصلحت کوشی کی نظر ہو چکا اسے عبرت کا نشان جان کر ترقی کے نئے اہداف مقرر کرنے کی ضرورت ہے، خوشحالی، محبت اور یگانگت کا دور دورہ سب ممکن ہے۔


