آج کے بچے، کل کی قوم


ہماری گلی کی صفائی کرنے والوں کو اکثر شکایت رہتی ہے ہمارے گھروں کا کچرا، کوڑا دانوں سے باہر بکھرا ہوتا ہے جس سے اُنہیں صفائی کرنے میں دِقت پیش ہے اور اُن کے وقت کا ضیاع بھی ہوتا ہے۔ ہم اِسی پریشانی کا شکار تھے کہ وہ کون ہے جو ہمارے کوڑے کو بکھیر دیتا ہے جب کہ ہم اسے سلیقے سے پلاسٹک کے بیگز میں بند کر کے باہر رکھتے ہیں۔ میرا گمان تھا کہ شاید گلی کے کتے اور بلیاں اپنی خوراک کی تلاش میں ایسا کرتے ہیں۔ لیکن آج صبح جب میں اپنے گھرکا کوڑا باہر رکھنے گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بچہ، ہمارے پڑوسیوں کے کوڑا دان سے کچھ ڈھونڈ رہا ہے۔ میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور اُس بچے کو ڈانٹ پِلا دی بلکہ اُسے اُلو کا پٹھا بھی کہا۔ لیکن دوسرے ہی لمحے جب دیکھا تو وہ کوڑا دان سے گاجر کا ٹکڑا نکال کر اپنے کندھے کے ساتھ لٹکائے ایک غلیظ تھیلے میں ڈال رہا ہے۔ میرے فرعونی لہجے اور گرجدار آواز سے وہ بچہ سہم گیا اور تیزی سے دوسری جانب بھا گنے لگا۔ مجھے فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوا اور میں نے اُس سہمے ہوئے بچے کو رکنے کے لیے کہا۔ میں گھر واپس آیا اور اپنے بٹوے سے کچھ پیسے نکال کر اُس بچے کو دے دیے، اُس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اپنی بدزبانی کے لیے معافی مانگی۔ بظاہر یہ ایک چھوٹا سا واقعہ ہے لیکن میرے دل میں ایک عجیب سی خلش باقی رہ گئی۔ اور میں اپنے ضمیر کا بوجھ اتارنے کے لیے اس تحریر کا سہارا لے رہا ہوں۔

آج اِس چھوٹے سے واقعے نے کچھ پرانی یادیں بھی تازہ کردی ہیں۔ پندرہ سال قبل گلگت میں ہمارے پیارے دوست، شاعر اور کالم نگار احسان شاہ نے گلیوں سے کوڑا کرکٹ اکٹھا کرنے والے بچوں کے حالات پر مقامی اخبار میں ایک مضمون لکھا اور شاہ صاحب کے کچھ الفاظ دل کو خون کے آنسو رلا دینے والے تھے۔ اُن کے بقول کوڑے سے زندگی تلاش کرنے والے ایسے بچے ہماری محبت اور توجہ کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں ملک کی ایک معروف یونیورسٹی کے لیے کام کرتا تھا۔ میں کل وقتی ملازمت کے ساتھ ساتھ کچھ وقت سماجی سرگرمیوں کے لیے بھی نکالتا۔ اپنی محدود آمدنی سے گھر کا کچن چلانے کے ساتھ سٹریٹ چلڈرن کے لیے ایک چائلڈ فرینڈلی سنٹر کا قیام بھی عمل میں لایا۔ لہذا میں کسی حد تک ایسے بچوں کے مسائل اور درد سے واقف ہوں۔ لیکن نا جانے آج ایسا کیا ہوا کہ میں نے اِس معصوم بچے کا دل دکھایا۔ میں اپنے کیے پر بہت نادم ہوں اور اپنے رب کے حضور معافی کا طلبگار بھی۔

خدا ہماری بستیوں پر رحم فرمائے جہاں روز ایسے کئی حادثے رونما ہوتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کے کتنے ہی بچے سکول اور مدرسہ جانے کی بجائے، بقول احسان شاہ زندگی کی تلاش میں کوڑے کے ڈھیروں کا رُخ کرتے ہیں۔ ہم بحیثیت قوم اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ ایسے بچوں کو نظر اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتے۔ نظر اُٹھا کر دیکھنا تو کجا ہم نے تو شاید کبھی اُن کے بارے سوچا تک نہیں۔ خدا ہمارے حکمرانوں کو گیا گزرا کرے اِنہیں اپنی رعایا کی کچھ پروا نہیں۔ یہ اتنے ظالم، منافق اور شقی القلب ہیں کہ اپنی جائز و ناجائز اولادوں کے سوا کسی کا سوچتے بھی نہیں۔ ایک ہمارا ملاں ہے جو ایسے مقام اور ممبر پر قابض ہے جہاں سے معاشرتی ظلم و نا انصافی کے خلاف حکم ِاذاں جاری ہونا چاہیے۔ نا جانے کیوں اُن کی زبانیں گنگ ہو گئی ہیں وہ عوامی مسائل کے علاوہ ہر مسئلے کو اپنی شعلہ بیانی کا موضوع بناتے ہیں۔ مفکرِ پاکستان نے شاید ایسے ہی رہنماؤں کو ”دو رکعت کا امام“ کہہ کر پکارا۔ اور پھر ٹی وی سکرینوں پر نمودار ہونے والے نمونوں کو ملاحظہ فرمائیے، نا جانے وہ کس گلستان کی بلبلیں ہیں۔ وہ اپنے آپ کو عوام کی آواز اور حقیقی ترجمان سمجھتے ہیں لیکن اکثر بدعنوان سیاست دانوں کے کہے کی جگالی کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔

ہم جس سماج کا حصہ ہیں وہ ایک کوڑھ زدہ معاشرہ بن چکا ہے جہاں صاحب ثروت اور طاقتور طبقوں نے اپنے لیے الگ بستیاں بسا لی ہیں۔ اُن کا رہن سہن الگ، اُن کے بچوں کے سکول مختلف، اُن کے ہسپتال الگ یہاں تک کہ انہوں نے اپنے قبرستان بھی غریبوں سے الگ کر لیے ہیں۔ ایک طرف غربت کا مارا وہ طبقہ ہے جو دو وقت کی روٹی کمانے کی فکر میں سرگرداں ہے۔ وہ ایک بھٹکے ہوئے آہو کی مانند ہیں۔ اِن میں نا شوقِ تماشا اور نا ذوقِ تقاضا باقی رہا ہے۔ وہ تبدیلی، روٹی، کپڑا اور مکان جیسے خوشنما نعروں سے بے زار نظر آتے ہیں۔ آپ تجربے کے طور پر تپتی دھوپ میں کام کرنے والے کسی مزدور سے پوچھ کر دیکھ لیں کہ اُسے کیا چاہیے۔ جمہوریت، آمریت، پارلیمانی یا صدارتی نظام، وہ شاید اِن الفاظ کے حقیقی معنوں سے بھی واقف نہ ہو۔ ہمارے مقتدر حلقوں اور فیصلہ ساز اداروں نے ہمیں کن چکروں میں الجھا کر رکھا ہوا ہے۔ ایک ایسا منحوس گھن چکر جس میں عوام کی اکثریت پِس رہی ہے۔ ایسا کب تک چلے گا؟ ہمیں کس معجزے کا انتظار ہے؟ کون ہماری داد رسی کرے گا اور کیوں کرے گا؟ جب ہمارے بچے، کتے بلیوں کی طرح کوڑے کی ڈھیروں میں زندگی تلاش کریں گے تو ہم کس قسم کی آسمانی مدد کے منتظر ہیں؟ اپنے اِس شعر کے ساتھ اپنی فریاد کو ختم کر تا ہوں کہ:

آج کے بچے، کل کی قوم
جیسے بچے، ویسی قوم

Facebook Comments HS