میجر صاحب


چیت کی آخری دن جا رہے تھے۔ بیساکھ کا مہینہ شروع ہوا ہی چاہتا تھا بیساکھ کی آمد کسانوں اور کاشت کاروں کے لیے ہمیشہ سے ہی خوشی اور مسرت کا سندیسہ لاتی رہی ہے کیوں کہ چڑھتے بیساکھ کے ساتھ ہی گندم کی کٹائی شروع ہو جایا کرتی ہے۔ اس طرح کسان کی پچھلے چھ ماہ کی محنت کا پکا ہوا پھل اس کی جھولی میں گرنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ فضل الہٰی کے لیے تو یہ دوہری خوشی کا موقع تھا کیوں کہ کئی سال سے رہن شدہ زمین کو واگزار کروانے کے بعد اب کی بار اس کی پہلی ذاتی فصل تیار ہو رہی تھی۔ انہی مسرتوں اور شادمانیوں کے موسم میں 4 اپریل 1944 ء کو قدرت نے اسے ایک عدد پوتے سے نواز کر انہیں مزید دو چند کر دیا تھا۔ اس کے بیٹے عبدالغنی کے گھر بیٹا پیدا ہوا تھا۔ جس کا نام محمد ارشاد رکھا گیا۔ ارشاد کی آمد سے پہلے ہی گھر کے حالات بہت بہتر ہو گئے تھے۔ مدتوں سے رہن شدہ زمین واگزار ہو چکی تھی۔ اس کے والد اور چچا دونوں ہی مڈل تک تعلیم حاصل کر نے کے بعد باقاعدہ اپنی اپنی ملازمتیں شروع کر چکے تھے۔ اس طرح گاؤں کے ایک غربت کے ستائے ہوئے اور پسماندہ گھرانے کے حالات میں بتدریج بہتری اور خوش حالی کا عمل دخل شروع ہو چکا تھا۔ فضل الہٰی کا خیال تھا کہ اس کا یہ نومولود پوتا ہی خوش قسمت ہے۔ جس کی آمد سے پہلے ہی گھر کے حالات سنورنا شروع ہو چکے تھے۔ اس لیے اس کی خوب آؤ بھگت جا رہی تھی۔ اس زمانے میں خوشی اور مسرت کے اظہارکے لیے چراغاں کرنے کی بجائے عزیزوں اور رشتہ داروں کو دعوت طعام میں شرکت کے لیے مدعو کیا جاتا تھا۔ فضل الہٰی نے اپنے پوتے کی پیدائش کی خوشی میں اپنے تمام قرابت داروں کے لیے ایک دعوت کا اہتمام کیا۔ دراصل یہ دعوت اس بات کا اعلان بھی تھا۔ اب کہ یہ گھرانا مشکل حالات سے باہر نکل آیا ہے۔ وقت گزرتا گیا اور اس گھرانے کے حالات روز بروز بہتر ہوتے جا رہے تھے۔ لیکن قدرت کو شاید اس خاندان کے ابھی اور بہت سے امتحانات لینا مقصود تھے۔

14 اگست 1947 ء کو قیامِ پاکستان کا اعلان ہوتے ہی یہاں ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے اور پاکستان اور ہندوستان کے درمیان دنیا کی سب سے بڑی ہجرت وقوع پذیر ہوئی۔ یہ ساڑھے تین سال کا بچہ کبھی اپنی والدہ کی گود میں سوار ہو کر کبھی پیدل چلتے ہوئے اس قافلے کا حصہ تھا جو ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان میں آ رہا تھا۔ اس کا ننھا سا ذہن اس عمل کے دوران ہونے والی قتل و غارت لوٹ مار چھینا چھپٹی اور لڑائی مار کٹائی کا پس منظر سمجھنے سے قاصر تھا۔ بہرحال آگ اور خون کا سمندر عبور کر کے یہ خاندان حاجی شیر کے قریبی گاؤں چک نمبر 333 /EB میں پناہ گزین ہوا اور زندگی کی نئے سرے سے شروعات کیں۔ ابتدائی تین چار سال بہت ہی کٹھن گزرے اس کے بعد زندگی معمول پر آنا شروع ہو گئی۔ اس کے ساتھ ہی ارشاد نے بھی یہیں پر گاؤں میں واقع ایک پرائمری سکول میں جانا شروع کر دیا۔ پرائمری پاس کرنے کے بعد نواحی گاؤں چک نمبر 331 /EB کے مڈل سکول سے آٹھویں جماعت کا امتحان پاس کر کے ایم سی ہائی سکول بورے والا میں نویں جماعت میں داخلہ لے لیا۔ ابھی اس کو یہاں آئے چند روز ہی گزرے تھے کہ اس نے دیکھا کہ ایک فوجی افسر نہم کلاس کے بچوں کو راولپنڈی میں قائم کیے گئے آرمی اپرنٹس سکول میں داخلے کے لئے تحریک دے رہا تھا۔ اس کے مطابق یہ سکول امریکی تعاون سے قائم کیا گیا تھا اور یہاں سے فارغ التحصیل طلباء فوج میں سیکنڈ لیفٹیننٹ کی حیثیت سے شمولیت اختیار کریں گے۔ ارشاد کی اپنے چچا محمد شفیع سے بڑی یاری دوستی تھی اور اس کا بیشتر وقت انہی کے ساتھ گزرتا تھا۔ جنہوں نے تقسیمِ ہند سے پہلے تین چار سال نہ صرف فوج میں ملازمت کی تھی بلکہ اس ملازمت کے دوران انہیں بہت سے دیگر ممالک میں بھی جانے کا اتفاق ہوا تھا اور وہ اکثر اس دور کی باتیں اور کہانیاں اُسے سنایا کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے اُسے بھی فوج سے دل چسپی ہو گئی تھی۔ اب اس نے دیکھا کہ اس فوجی سکول میں داخل ہو کر اس کا فوج میں جانے کا خواب حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے۔ تو وہ بھی اس فوجی سکول میں داخلہ حاصل کرنے کے خواہش مند طلباء کے ساتھ شامل ہو گیا۔ ان سب طلباء کا ٹیسٹ لیا گیا اور ٹیسٹ میں کامیاب ہونے والے طلباء کا طبی معائنہ کیا گیا اس طرح تقریباً ڈیڑھ سو بچوں میں سے صرف دو بچے کامیاب قرار پائے۔ جن میں سے ایک محمد ارشاد بھی تھے۔ وہ اپنی کامیابی پر نازاں و فرحاں دوڑا دوڑا اپنے والد کے پاس آیا جو اسی سکول کے پرائمری حصے میں ایک ٹیچر تھے۔

انہوں نے ارشاد کی کامیابی کی خبر پر کسی بھی قسم کے تاثرات کا اظہار کیے بغیر اس سے کہا کہ جاؤ جا کر اپنی کلاس میں بیٹھ جاؤ۔ ابھی تمہارے پڑھنے کے دن ہیں نہ کہ فوج میں بھرتی ہونے کے اس نے بڑی کوشش کی کہ اس کے والد مذکورہ فوجی افسران کے پاس جاکر اپنی رضا مندی کا اظہار کر کے اس کے فوجی سکول میں داخلے پر مہر ثبت کر دیں۔ لیکن وہ تو اس کی بات سننے کے بھی روادار نہ تھے۔ جب یہ بچہ اپنے والد سے مل کر واپس آ رہا تھا تو اس کی تو گویا دنیا ہی لٹ رہی تھی۔ وہ اپنی منزل کے قریب پہنچ کر بھی نا امید و ناکام ہو رہا تھا۔ اس کا ننھا ذہن اس نئی الجھن کو سلجھانے کی کوشش میں مصروف تھا کہ اچانک اس کے ذہن میں امید کی ایک کرن پھوٹی اور وہ دوڑا دوڑا اپنے تایا ابو کے پاس گیا جن کی یہاں پر ڈینٹسٹ کی دکان تھی اور انہیں سارا واقعہ سنا کر اپنے سرپرست کی حیثیت سے سات چلنے کو کہا جو فوراً ہی تیار ہو گئے۔ اس طرح اس نے داخلہ کی باقی کارروائی اپنے تایا کو ساتھ لے جا کر پوری کر لی۔ جب اس کے داخلے کی خبر اس کی والدہ تک پہنچی تو وہ سخت گھبرائی بلکہ اس نے تو یہاں تک اعلان کر دیا کہ ارشاد جس گاڑی پر سوار ہو کر راولپنڈی جائے گا وہ میرے اوپر سے گزر کر جائے گی۔ غرض کہ اس کے والد اور والدہ دونوں ہی اس کی شدید مخالفت کر رہے تھے۔ لیکن اس کے چچا اور تایا دونوں کی اندرون خانہ حمایت اُسے حاصل تھی۔ آخر کار ایک لمبی بحث و تکرار کے بعد جیت بچے کے حصے میں آئی اور وہ اپنے والدین کی اجازت سے آرمی اپرنٹس سکول راولپنڈی میں داخل ہو گیا۔

یہ فوجی سکول حکومت امریکہ کی سرپرستی اور سرمائے سے چل رہا تھا اور یہاں کا ماحول انگلش میڈیم سکول کا تھا۔ اس سکول میں داخل ہونے والے بچے بھی اکثر اچھے انگلش میڈیم سکولوں سے یہاں آئے تھے اور اسی سکول میں ایک دور دراز دیہاتی علاقے کے ٹاٹ سکول کا پڑھا ہوا یہ بچہ بھی ڈرا ڈرا اور سہما سہما سا پڑھ رہا تھا۔ اکثر بچے ایک دوسرے کے ساتھ اور اپنے استادوں کے ساتھ گٹ پٹ، گٹ پٹ انگریزی بولتے اور یہ خاموشی سے اُن کا منہ تکتا رہتا۔ ایک دن جعفر طاہر نامی اس کے ایک کلاس ٹیچر نے اس بچے کی الجھن کو محسوس کیا۔ جعفر طاہر ایک اچھے ٹیچر ہونے کے ساتھ ساتھ اُردو زبان کے ایک معروف شاعر بھی تھے۔ انہوں نے اس دیہاتی بچے کو سکول لائبریری کے انچارج مسڑ پین (Mr۔ Pain) سے ملنے کو کہا۔ سکول ٹائم کے بعد یہ بچہ لائبریری گیا اور مسٹر پین کو بتایا کہ مجھے سر جعفر طاہر نے آپ کے پاس بھیجا ہے۔ لائبریرین نے اس کی خوب آؤ بھگت کی اُسے اپنے پاس انگھیٹی کے قریب بٹھایا یہیں پر اس نے دو کپ چائے کے تیار کیے اور بسکٹوں کے ساتھ اسے نوش کرتے ہوئے دونوں ہی مختلف موضوعات پر باتیں بھی کرتے رہے۔ اس کے بعد لائبریرین نے اُسے ایک چھوٹی سے سٹوری بک دی اور ساتھ ہی چھوٹی سی انگلش سے اُردو ڈکشنری بھی دے دی۔ اُسے ڈکشنری سے الفاظ کے معانی دیکھنے کا طریقہ بتایا اور اُسے کہا کہ اس انگریزی کی کتاب کو آرام آرام سے پڑھو اور جس لفظ کا معانی سمجھ میں نہ آئے اس ڈکشنری سے دیکھ لینا۔ مسٹر پین کے ساتھ اس کی لائبریری میں ہونے والی یہ ملاقات اس کی زندگی میں ایک مثبت انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ اب لائبریری میں کہانیوں کی کتابیں تھیں اور یہ بچہ تھا۔ جیسے جیسے وہ یہ انگلش کتب پڑھتا گیا اس میں اعتماد اور حوصلہ آتا چلا گیا۔ اس کی سابقہ گھبراہٹ ہچکچاہٹ اور خوف ماضی کا ایک حصہ بن کر رہ گیا۔ اب وہ بھی باقی طلباء کی طرح ہی گٹ پٹ، گٹ پٹ کر نے لگا۔

1964 ء میں جب یہ طلباء اس سکول سے فارغ ہوئے تو اس وقت تک امریکی حکومت اس ادارے سے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ چکی تھی اور اس کے ساتھ ہی ان طلباء کا مستقبل بھی تاریک ہو چکا تھا اور یہاں کے فارغ التحصیل طلباء کو حسب منصوبہ فوج میں افسر بھرتی کرنے کی بجائے مختلف تکنیکی شعبوں میں تکنیکی ماہرین کے طور پر رکھ لیا گیا۔ ان لوگوں کی تعلیم اور تربیت فوجی افسر کے طور پر کی گئی تھی۔ اس لیے ان میں سے اکثریت نے پاک فوج کے معمول کے پراسس میں سے گزرتے ہوئے کمیشن حاصل کر لیا۔ محمد ارشاد نے بھی دو سال بعد ہی 1966 ء میں پاک آرمی میں کمیشن کا امتحان پاس کر کے کاکول اکیڈمی جائن کر لی اور مطلوبہ ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد فوج میں بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ شامل ہو گئے۔ یحییٰ خان کے مارشل لاء کے زمانے میں یہ نوجوان فوجی افسر کراچی میں تعینات تھا۔ دسمبر 1971 ء کی جنگ میں وہ شکر گڑھ کے محاذ پر اوپی کی ڈیوٹی سرانجام دے رہا تھا۔ یہ نوجوان افسر اپنے ماتحتوں اور افسروں دونوں حلقوں میں پسندیدگی کی نگاہوں سے دیکھا جاتا تھا۔ جنگ کے دوران کئی بار ایسے لمحے بھی آئے جب زمین اور آسمان سے برسنے والے گولوں کے درمیان وہ موت سے آنکھ مچولی کھیلتا ہوا نظر آتا ہے۔

ایک با ر جب وہ زمین پر لیٹا ہوا تھا اور ہوائی جہاز سے اُس کے دائیں بائیں گولیوں کی بوچھاڑ ہو رہی تھی۔ ہوائی حملے کے بعد جب اس نے اٹھ کر حالات کا جائزہ لیا تو گولیوں کے نشانات دیکھ کر یوں لگتا تھا کہ جیسے گولیوں نے اس کے جسم کے چاروں طرف ایک لکیر سی کھینچ دی ہو۔ لیکن اس کے جسم کو کسی گولی نے چھوا تک بھی نہیں تھا۔ اسی محاذ پر وہ وقت بھی آتا ہے کہ اس کے سامنے سو ڈیڑھ گز کے فاصلے پر اس کی یونٹ کا ایک جوان زخمی حالت میں پڑا ہوا ہے۔ لیکن فائرنگ اتنی شدت سے ہو رہی ہے کہ کسی کو اسے اٹھانے کا حوصلہ نہیں ہوتا۔ تو یہ نوجوان کپتان اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر کبھی رینگتے ہوئے اور کبھی دوڑتے ہوئے اس زخمی کے پاس پہنچتا ہے اور اُسے کندھے پر اٹھاتے ہوئے موت کے منہ سے چھین لاتا ہے۔ جنگ کے دنوں میں اس کی ماں جی گھر میں پریشان ہیں اور وہ اکثر کہا کرتیں تھیں کہ اگر اُس کا کوئی بچہ بچی گھر میں موجود ہوتا تو میں اس کی یہ نشانی دیکھ کر ہی اپنے دل کو ٹھنڈا کر لیا کرتی۔ اس لیے وہ فیصلہ کر لیتی ہے کہ وہ اولین فرصت میں ہی اس کی شادی کر کے اپنے فرض سے سبکدوش ہو جائے گی۔ اُن دنوں موبائل فون تو ہوا نہیں کرتے تھے اور گاؤں میں ٹیلی فون کی سہولت بھی میسر نہیں تھی۔ اس لیے جنگ بندی کے بعد اُن کی کوئی خیر خبر نہیں تھی سب خاندان والے ان کی خیریت کو لے کر بہت پریشان تھے کہ جنگ بندی کے دو دن بعد ہی وہ اچانک گاؤں میں پہنچ گیا۔ گھر کے باہر چاروں طرف چارپائیاں ہی چارپائیاں بچھی ہوئی تھیں۔ پورے گاؤں سے لوگ اس سے ملنے کے لیے آ جا رہے تھے۔ یہاں پر صرف ایک رات گزار کر وہ واپس اپنی ڈیوٹی پر پہنچ جاتا ہے۔

اب ماں جی اس کی شادی کے لیے سرگرم عمل ہو جاتی ہیں۔ بالآخر مناسب رشتہ تلاش کر کے 24 جون 1973 ء کو اُسے رشتہ ازدواج میں منسلک کر دیا جاتا ہے۔ 1976 ء میں وہ بلوچستان میں کولہو کے مقام پر اپنی یونٹ کے ساتھ مصروف کار ہے۔ اب اس کے کندھے پر چمکتا ہوا کراؤن اس کے میجر بن جانے کی نشان دہی کر رہا ہے۔ یہاں پر ایک مشق کے دوران وہ گر کر بے ہوش ہو جاتا ہے تو اسے اسی حالت میں ہیلی کاپٹر پر سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کیا جاتا ہے۔ یہ غالباً پہلا ہارٹ اٹیک تھا لیکن ڈاکٹر اپنی لاعلمی کی بدولت درست تشخیص نہ کر سکے۔ اس کے بعد دوسرا ہارٹ ایٹک انہیں 1979 ء میں نوشہرہ میں ہوا۔ پندرہ بیس دن ہسپتال میں داخل رہنے کے بعد جب وہ گھر واپس آتا ہے تو وہ فوج سے ریٹائرمنٹ لینے کا فیصلہ کر لیتا ہے کیوں کہ اس کا خیال تھا کہ ایسی حالت میں فوج جیسے فعال ادارے کے ساتھ اس کا چلنا ممکن نہیں ہے۔ اس لیے وہ ریٹائرمنٹ کے لیے درخواست دے دیتا ہے اور وہ 1980 ء میں چودہ پندرہ سالہ فوجی سروس کرنے کے بعد چھتیس سال کی عمر میں ریٹائر ہو کر اپنے گاؤں واپس لوٹ آتا ہے۔ یہاں آ کر چند ماہ وہ اپنے بچوں سمیت گاؤں میں اپنی رہائش رکھتا ہے اور اسی عرصہ میں ابا جی بورے والا میں موجود اپنے مکان کی مرمت وغیرہ کروا لیتے ہیں اور اس کے بعد میجر صاحب اپنی اہلیہ دو بچیوں اور ایک بیٹے کے ساتھ اپنی رہائش بورے والا میں منتقل کر کے اپنی ریٹائرڈ لائف کا آغاز کر دیتے ہیں۔

یہاں بورے والا رہائش رکھنے کے بعد وہ میرا تبادلہ بھی یہیں پر ہی کروا لیتے ہیں۔ اس کے بعد ہم لوگ مختلف قسم کے کاروبار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن وطن عزیز میں مروجہ کاروباری اصولوں سے عدم واقفیت اور غیر ہم آہنگی کی وجہ سے چھ سات سال کے بعد اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ کاروبار کرنا ہمارے بس کا روگ نہیں ہے۔ 1987 ء میں وہ فوجی فاؤنڈیشن جائن کر لیتے ہیں اسی سال کراچی انسٹیٹیوٹ آف کا رڈیوویسکولر ڈیزیزز میں اُن کے دل کا بائی پاس آپریشن ہوتا ہے۔ پانچ چھ سال ٹھیک گزر جاتے ہیں لیکن 1994 ء میں ایک بار پھر اسی ہسپتال سے اُن کا بائی پاس آپریشن کروایا جاتا ہے۔ ملتان میں شیر شاہ روڈ پر واقع فوجی فاؤنڈیشن کے دفتر میں وہ پراجیکٹ منیجر کی پوسٹ پر کام کرتے تھے۔ یہاں پر وہ تقریباً دس گیارہ سال تک ملازمت کرتے رہے اور اسی دوران انہوں نے ملتان میں اپنا گھر بھی بنوا لیا۔

10 جنوری 2011 ء کو رات نوبجے اُن کا ٹیلی فون آیا جسے میں نے اٹینڈ کیا۔ اگلے دن صبح میری ایک کزن کی شادی تھی اور سب لوگ یہاں پر اکٹھے ہوئے تھے میں نے ٹیلی فون اٹھاتے ہی اُن سے پوچھا کہ وہ آج بورے والا کیوں نہیں آئے۔ سب لوگ یہاں پر جمع ہیں خوب رونق لگی ہوئی ہے بس آپ کی کمی ہے۔ کہنے لگے کہ میں آج مصروف تھا بلکہ کل بھی میں اپنے دفتر سے چکر لگا کر بورے والا میں پہنچوں گا۔ میں ابھی بات کر ہی رہا تھا کہ ماں جی آ گئیں اور پوچھنے لگیں کہ کون ہے میں نے انہیں بتایا کہ میجر صاحب ہیں تو انہوں نے مجھ سے فون پکڑ لیا اور باتیں کرنا شروع کر دیں۔ مجھے آج بھی شک ہوتا ہے کہ اس دن فون انہوں نے مجھے کیا تھا میں نے انہیں اپنی بات کرنے کا موقع دیے بغیر ہی شادی کی بات شروع کر دی۔ پتہ نہیں وہ کیا بات کرنا چاہتے تھے۔ اس بات کا پچھتاوا مجھے آج بھی محسوس ہوتا ہے۔ کیوں کہ اگلے دن علی الصبح ہی انہیں دل کا دورہ پڑتا ہے اور ہسپتال میں پہنچنے سے پہلے ہی وہ اپنے خالق ِ حقیقی سے جا ملتے ہیں۔ اُن کے جسد خاکی کو بورے والا میں لاکر شہر والے قبرستان میں دفنا دیا جاتا ہے۔ آج بھی اُن کی قبر پر لگا ہوا کتبہ اُن کی شخصیت کا بڑی حد تک احاطہ کرتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ جس پر حضرت علی کا یہ قول درج ہے کہ

”دنیا میں اس طرح زندہ رہو کہ لوگ تم سے ملنے کے خواہش مند رہیں اور جب اس دنیا سے جاؤ تو وہ تمہاری جدائی پر دھاڑیں مار مار کر روئیں“ ۔

Facebook Comments HS