جب تیز ہوا کا جھکڑ جہاز ہی پلٹا جائے
ایوی ایشن پر آج کل برا وقت چل رہا ہے۔ ایک کے بعد ایک جہاز کے کریش ہونے کی خبریں آ رہی ہیں اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ ان واقعات کی نوعیت بھی عجیب ہے۔ مثال کے طور پر لینڈنگ بہترین ہو جاتی ہے لیکن آگے سیسہ پلائی دیوار آ جاتی ہے جس سے ٹکرا کر جہاز پاش پاش ہو جاتا ہے۔ پھر امریکہ جیسے ملک میں جہاں ترقی پذیر ممالک کے برعکس سیفٹی اور سیکیورٹی کے اعلیٰ معیار قائم رکھے جاتے ہیں، فضا میں ایک ہیلی کاپٹر لینڈ ہوتے ہوئے جہاز سے ٹکرا جاتا ہے اور اس کے پرخچے اڑ جاتے ہیں۔ آج صبح پہلی خبر ہی جو نظر سے گزری اس پر تو یقین ہی نہیں آیا کہ ڈیلٹا ائر لائن کا جہاز لینڈنگ کے بعد پلٹ کر الٹا ہی ہو گیا۔
امریکہ کے شہر مینیاپولس سے اڑان بھرنے والی ڈیلٹا ائر لائن کی پرواز 4819 ٹورنٹو کے پیئرسن انٹرنیشنل ائرپورٹ پر اتری تو ٹاور کے مطابق اسے رن وے پر 38 میل فی گھنٹہ ( 61 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے چلنے والی ہوا کا سامنا کرنا تھا۔ رات کو 8 انچ پڑنے والی برف کو صاف کر دیا گیا تھا اور ہوائی اڈے کے فائر چیف ٹوڈ ایٹکن کا کہنا ہے کہ رن وے بالکل صاف تھا۔ تو پھر ہوا کیا جس کی وجہ سے جہاز پلٹ کر الٹا ہو گیا؟
این ٹی ایس بی ( نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ) کے سابق ڈائریکٹر پیٹر گوئلز کا کہنا ہے کہ لینڈنگ کے وقت جب کہ جہاز کے ٹائر رن وے پر آ چکے تھے، تیز ہوا کے ایک جھکڑ نے جہاز کو ایک طرف سے اٹھا دیا جس کی وجہ سے دوسری طرف کا پر زمین سے ٹکرا کر ٹوٹ گیا۔ اس رگڑ کی وجہ سے جہاز کے پر میں موجود ایندھن کے پائپ میں آگ بھڑک اٹھی اور رفتار تیز ہونے کی وجہ سے جہاز پلٹ کر الٹا ہو گیا۔ ایک سوال یہاں اور پیدا ہوتا ہے کہ اگر جہاز کا پر نہ ٹوٹتا تو کیا جہاز پلٹنے سے بچ جاتا؟
ایف اے اے (فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن) کے سیفٹی انسپیکٹر ڈیوڈ سوسی کا کہنا ہے کہ اگر جہاز کا پر نہ ٹوٹتا تو یہ زیادہ خطرناک بات ہوتی کیوں کہ پھر جہاز کی باڈی ٹوٹ جاتی اور جانی نقصان یقینی ہو جاتا۔ ایسی صورت حال کے لیے جہاز اسی طریقے سے ڈیزائن کیے جاتے ہیں تاکہ مسافروں کی جان بچ جانے کا امکان زیادہ سے زیادہ ہو۔ انھوں نے 1987 میں ہونے والے ایسے ہی ایک کریش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت جہاز کے پر سلامت رہے لیکن پورا جہاز تباہ ہو گیا اور 28 لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ریسرچ اور ڈیزائن میں بہتری لائی گئی ہے اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
خوش قسمتی سے جہاز میں موجود 80 مسافروں کی جان عملے کی بروقت اور مستعد کارروائی کی وجہ سے بچا لی گئی۔ 18 مسافروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ایک مسافر کے مطابق ”جب جہاز رکا تو ہم سب چمگادڑوں کی طرح الٹے لٹکے ہوئے تھے۔ میں اپنی سیٹ بیلٹ کھول کر کھڑا ہونے میں کامیاب ہو گیا لیکن بہت سے لوگوں کو مدد کی ضرورت تھی اور عملہ تیزی سے ان کی مدد کر کے ان کو جہاز سے باہر نکال رہا تھا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جہاز کا عملہ صرف کھانا دینے کے لیے موجود ہوتا ہے لیکن اصل میں تو یہ ایسی صورت حال میں ہماری جان بچانے کے لیے موجود ہوتے ہیں“ ۔
سیٹ بیلٹ نے ایک بار پھر لوگوں کی جان بچا لی۔ ہمارے بہت سے دیسی مسافر اسے باندھنا ضروری نہیں سمجھتے۔ جب عملہ لینڈنگ سے پہلے اپنی جمپ سیٹ پر بیٹھنے جا رہا ہوتا ہے تو وہ یہ بات یقینی بناتا ہے کہ سب مسافروں نے سیٹ بیلٹ باندھ لی ہے۔ لیکن بہت سے لوگ عملے کے جانے کے بعد اسے کھول لیتے ہیں۔ میں اس تجربے سے گزر چکا ہوں اور اس کے نتائج بھی دیکھ چکا ہوں۔ ایسا روز نہیں ہوتا لیکن برا وقت بتا کر نہیں آتا۔
2012 میں ایک فلم ”فلائٹ“ کے نام سے آئی تھی جس میں پائلٹ کا مرکزی کردار اداکار ڈینزل واشنگٹن نے ادا کیا تھا۔ اس میں وہ جہاز کو ایک خطرناک کریش سے بچانے کے لیے اسے پلٹا کر مسافروں کی جان بچاتے نظر آتے ہیں۔ لیکن وہ فکشن کا معاملہ تھا مگر صورت حال کم و بیش یہاں بھی ویسی ہی نظر آتی ہے۔
اس کریش کی تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ ٹورنٹو ہوائی اڈے کے پانچ رن وے عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں اور شاید کچھ دن بند رہیں گے۔ 30 دن کے اندر اس معاملے کی رپورٹ پیش کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ ایسا کیوں ہوا اور آئندہ ایسے کریش سے بچاؤ کیسے ممکن ہے۔


