انہیں اف تک مت کہو

وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاھُ و َبِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَاناً ؕ اِمَّایَ۔ بۡلُغَنَّ عِنۡدَکَ الۡکِبَرَ اَحَدُھُمَاۤ اَوۡ کِلٰھُمَا فَلَا تَقُلْ لَّھُمَاۤ اُفٍّ و َّلَا تَنۡھَرۡھُمَا و َقُلْ لَّھُمَا قَوۡلاً کَرِیۡماً۔
اور فیصلہ کر دیا ہے آپ کے رب نے کہ مت عبادت کرو کسی کی سوائے اس کے اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو اگر پہنچ جائیں تمہارے پاس بڑھاپے کو ان میں سے کوئی ایک یا دونوں تو انہیں اف تک مت کہو اور نہ انہیں جھڑکو اور ان سے بات کرو نرمی کے ساتھ۔
الحمدللہ امت مسلمہ میں سے ہیں تو قرآن پاک کو پڑھنے کا شرف حاصل ہے، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ آج تک اسے مکمل طور پر سمجھنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ کئی بار ارادہ کیا کہ قرآن پاک کو ترجمہ سے پڑھنا اور سمجھنا ہے کیونکہ ہمارے ہر مسئلے کا حل اس میں ہے، پھر اندر کا شیطان ڈراتا ہے کہ سب جان کر بھی عمل نہیں کرو گے تو زیادہ گنہگار ہو جاؤ گے تو بس جتنا پڑھا اور سمجھا اسی پر چل رہے ہیں اب تک۔ اللہ پاک جلد مجھے اسے مکمل طور پر سمجھ کر پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
میں نے غالباً اس تحریر کا آغاز جس آیت سے کیا اس کا مفہوم ہے کہ ”والدین کو اف تک نا کہو“ ۔ جب بچپن میں یہ پڑھا کرتی تھی تو بڑا عجیب لگتا تھا کہ اللہ معاف کرے ایسا بھی بھلا کبھی ہو سکتا ہے کیا، اس کا ذکر بار بار کیوں کیا جاتا، بھلا کون اپنے والدین کے ساتھ ایسا کر سکتا ہے۔ تب بچے تھے وقت اور حالات نے بھی الحمدللہ ایسا برا وقت نہیں دکھایا تھا تبھی اس بات پر تعجب ہوتا ہے۔
پھر وقت کے ساتھ ساتھ ہم بڑے ہوتے گئے، زمانے کی ستم ظریفی نے وقت سے پہلے بڑا کر دیا۔ چھوٹے ہوتے بڑا شوق ہوتا ہے کہ اللہ بس ہم جلدی سے بڑے ہو جائیں، ماں باپ کو آئیڈیلائز کرتے تھے، ہم بھی بڑے ہو کر ایسے کریں گے، سکول سے کالج، کالج سے یونیورسٹی اور یونیورسٹی سے نوکری پر جانے کی چاہ، آج لگتا جیسے کسی کی آہ لگ گئی ہے۔ وہ چاہ سے ”آہ“ تک کا سفر کیسے طے ہوا پتا ہی نہیں چلا۔
خیر، بات کر رہی تھی والدین کو اف تک نا کہو، لیکن آج ہر گزرتے پل کے ساتھ کہیں ماں کا قتل، کہیں باپ کا قتل، کہیں جائیداد کی خاطر بوڑھے والدین کو گھر سے باہر نکال دینے کے واقعات اتنے عام ہو گئے ہیں کہ بس قیامت قریب آتی دکھائی دیتی ہے اور کچھ نہیں۔ نا جانے اتنی بے حسی، لالچ، حسد، کینہ، بغض اور ضمیر فروشی آ کہاں سے جاتی ہے، کیا ان سب کے سینوں میں دل نہیں؟ کیا انہیں اپنے ماں باپ کی وہ محبت شفقت، قربانیاں کچھ یاد نہیں آتیں جو ان کی پیدائش پر انہوں نے دیں۔
میں اپنے گھر کی سب سے چھوٹی بیٹی ہوں، لیکن وقت اور حالات نے ایسا بڑا کر دیا کہ بہت سے معاملات میں خاص طور پر والدین کی صحت کے معاملے پر میں ان کی بہتری کے لئے خود فیصلے کرنے پر مجبور ہوجاتی ہوں اور زیادہ تر گھر سے باہر رہنے کی وجہ سے میرے لیے یہ زیادہ پریشانی کا باعث بھی ہو جاتا ہے، جب کوئی اور ٹائم سے کوئی فیصلہ نا کرے تو، اور اسی بات پر میں اکثر لڑ بھی پڑتی ہوں، لیکن اللہ جانتا ہے کہ میں اکثر راتوں کو سو نہیں پاتی کہ میں آج اپنے والدین سے لڑی ہوں، ان سے بدزبانی کی، بدتمیزی کی بھلے وجہ ان کی صحت ہی کیوں نہ ہو۔ عمر کے جس حصے میں ہیں انہیں بیماریوں نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ میں تو ساری زندگی انہیں چلتا پھرتا بھاگتا دیکھا، دل یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ ان پر بڑھاپے جیسا وقت بھی کوئی آ سکتا ہے۔ وہ بھی تھک سکتے، بیمار ہوسکتے ہیں۔ تو آئے روز کی ان کی بیماریوں، بد پرہیزی، اور تکالیف سے جو اذیت اٹھانا پڑتی ہے وہ اب سہن نہیں ہوتی۔
میں بھی چاہتی ہوں کہ سب کی طرح میرے والدین بھی ہمیشہ صحت مند اور توانا زندگی گزاریں۔ لیکن جب وہ سب چیزوں سے واقف ہو کر بھی خود کو تکلیف دینے والے کام کرتے ہیں اور ہسپتال پہنچ جاتے ہیں تو اس وقت جس بے بسی اور قرب کا احساس ہوتا ہے اس کے الفاظ نہیں میرے پاس۔ آخر کریں تو کیا کریں انہیں جس تکلیف سے بچانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں وہ اسی کو گلے لگا لیتے ہیں۔ انہیں پتا نہیں کیوں احساس نہیں ہوتا کہ جیسے وہ اپنی اولاد کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے ہم سے بھی ان کی تکلیف اور بے بسی نہیں دیکھی جاتی۔
اس سب کیفیت میں جو میں ان سے لڑتی، ناراض ہوتی ہر نماز میں دعا کرتی ہوں کہ اللہ مجھے صبر، ہمت، اور حوصلہ عطا کر، میں بہت گنہگار ہوں میں اس طرح اپنے والدین کے آگے بول پڑتی ہوں بھلے ان کی بھلائی کے لیے ہی لیکن میں گنہگار ہو رہی ہوں مجھے معاف فرمانا۔ اور مجھے ہر حال میں پیار اور محبت سے بات کرنے کی توفیق عطا فرما۔ میں تو کئی بار اپنے والدین سے کہا کہ آپ نے مجھے گنہگار بنا دیا، میری قبر بھاری کردی ہے، کیوں نہیں سمجھتے آپ کہ یہ سب آپ کے لیے ٹھیک نہیں، اس سے پرہیز کر لیں لیکن وہ بھی ہنس کر ٹال دیتے ہیں۔ اور شاید انہیں اندازہ ہی نہیں ان کو اس حالت میں دیکھ کر ہم ذہنی اور جسمانی طور پر ٹوٹ جاتے ہیں، ہم میں کچھ بھی کرنے کی ہمت اور طاقت نہیں رہتی۔ آج جب یہ وقت خود پر آیا تو اس مفہوم کے معنی سمجھ میں آئے کہ بار بار کیوں کہا گیا کہ ”والدین کو اف مت کہو“ ۔ بہت سے لوگ شاید مجھ سے اختلاف کریں لیکن شاید وہ لوگ جن کے والدین حیات ہیں یا جو اس درد سے گزرے ہیں میری بات سے ضرور اتفاق کریں گے۔
ماں باپ مل کر اپنی سات اولادیں بھی بڑے آرام سے پال لیتے ہیں لیکن اف تک نہیں کرتے۔ زندگی کے جس بھی حصے میں ہوں اگر ان کے پاس اپنی اولاد کو کچھ دینے کے لئے ہو تو شاید اپنا دل تک نکال کے دے دیں۔ وہیں پر کچھ والدین جانے انجانے میں شاید اپنی اولاد میں بیٹا یا بیٹی کے فرق، پہلی اور لاڈلی کے چکر میں کہیں نا کہیں دوسرے بچوں کے ساتھ زیادتی بھی کر جاتے ہیں۔ لیکن تب بھی اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم ان کے آگے کھڑے ہو جائیں یا ان سے بدسلوکی شروع کر دیں۔ دوسری طرف میں نے وہ لوگ بھی دیکھے جو اکلوتی اولاد والے تھے، یا جس کے درجنوں بچے تھے کسی نے والدین کو ہاتھ کا چھالہ بنا کے رکھا تو کسی نے تیرا بھی اتنا ہی فرض کہہ کر فرائض ادا کرنے کی بجائے والدین کو بانٹ دیا۔ آج تو سنبھال لے کل میں دیکھ لوں گا۔ کسی کی بیوی کو برداشت نہیں تو کسی کے بچوں کی پرائیویسی متاثر ہوتی نظر آتی ہے۔ اور پھر اپنی اولاد کی خاطر جس کی وہ خود اولاد ہوتے ہیں انہیں در بدر کر دیتے ہیں۔ اچھے برے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں۔
لیکن موجودہ دور میں مجھے بدقسمتی سے یہ پیار محبت کا بے لوث رشتہ بہت ہی کم دکھائی دیا۔ کہیں بچے لاپروا تو کہیں والدین۔ اگر اولاد اچھی نکل آئے تو والدین تفرقات کی نظر کر دیتے ہیں بچوں کو تو کہیں اگر والدین اچھے ہوں تو اولاد ان کی قدر نہیں کرتی۔ میری سب والدین سے بس اتنی گزارش ہے بچے چاہے ایک ہو، دو ہوں یا درجنوں ہوں سب کے سب آپ کے اپنے پیدا کیے ہوئے ہیں۔ وہی ایک ہی خون سب میں کوئی پہلے تو کوئی بعد میں، جس کا جو نصیب لکھوا کے لائے وہی ہیں۔ خدا کے لئے ان کے ساتھ ایک جیسا سلوک کریں، کسی ایک کو عرش پر چڑھا کر دوسرے کو فرش پر نا پھینکیں۔ کیونکہ اولاد جب گرتی ہے تو والدین ہی سہارا دیتے ہیں لیکن اکر گرانے والے بھی اپنے ہی ہوں گے تو وہ کس کے سہارے اٹھیں گے۔ اگر سب میں ایک جیسا برتاؤ نہیں کر سکتے تو پھر پیدا ہی نا کریں اور جب کر لیے تو ان کو انسان سے جانور مت بننے دیں۔
اور ٹھیک اسی طرح وہ نافرمان اولاد جو کل کے بنے نئے رشتوں کی خاطر اپنے والدین کو زندگی کے اس حصے میں تنہا چھوڑ جاتے ہیں جب سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے ان کو آپ کی، تو ڈرو اس وقت سے مکافات عمل سے، جو آج کرو گے کل تمہاری اولاد بھی ایسا ہی کرے گی۔ جب اس کے سامنے تم اپنے والدین کو چھوڑ دو گے تو ان کے لیے یہ عمل عام ہو جائے گا کہ ہمارے والدین نے بھی یہی کیا تھا اگر ہم نے کیا تو کیا غلط کیا۔ اپنے رشتوں میں و ضعِداری، یکسانیت، پیار، محبت اور خلوص کو کبھی مرنے مت دو۔ جیسے ماں باپ نے سب رشتے جوڑ کر رکھے، اسی طرح ان کے ساتھ سب رشتوں کو جوڑ کر ایک ساتھ لے کر چلو۔ ان سے ان کے بڑھاپے کا سہارا مت چھینو، یہ وقت ان کی زندگی میں سکون کا سانس لینے کا ہے، ان سے ان کا وہ سکون مت چھینو۔
اور آخری بات میرے اپنے والدین اور ان جیسے باقی والدین کے لئے جو الحمدللہ اچھا برا سب جانتے ہیں، سمجھتے ہیں اور آج بھی زندگی کے سب بڑے اور اہم فیصلے کرتے ہیں۔ آپ سب سے گزارش ہے کہ اپنی صحت کے معاملے میں بھی اسی عقلمندی، شعور اور سمجھ کے ساتھ فیصلہ کیا کریں۔ اپنا خیال رکھا کریں اور اپنی اولاد کو کسی آزمائش میں ڈالنے سے گریز کریں۔ اللہ پاک سب کے والدین کو صحت تندرستی والی لمبی عمر عطا فرمائے، کسی کا بھی محتاج نا کرے، اور جو اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں ان سب کی بخشش فرمائے اور ان کی اولاد کو بھی ان کی بخشش کا ذریعہ بنائے۔

