نگینے


میں نے اُنہیں پہلی مرتبہ ریلوے اسٹیشن کے باہر دیکھا تھا جب وہ فٹ پاتھ پر نقلی دانتوں اور اصلی اوزاروں کا سٹال سجائے اس امید پر وہاں بیٹھے تھے کہ کوئی بھولا بھٹکا راہی جس کے دانت اور دماغ دونوں خراب ہوں وہ میرے پاس آ جائے، جہاں وہ اپنے وسیع تجربے اور پریکٹس کی بنیاد پر اُس کا ایسا علاج کریں کہ رہتی عمر تک انہیں اور خدا کو یاد کرتا رہے۔ میں اُس وقت فرسٹ ائر کا طالب علم تھا اور گاؤں سے نیا نیا شہر وارد ہوا تھا، جس کی وجہ سے میرے اندر تجسس کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر بے چین کیے رکھتا تھا۔ اُنہیں وہاں دیکھ کر میری طبیعت للچائی اور جی میں آیا کہ پاس بیٹھ کر سلسلہ جنبانی شروع کیا جائے مگر شرمیلی طبیعت آڑے آئی اور میں مسکرا کر آگے بڑھ گیا۔ یہ اُن کے ساتھ پہلی ملاقات بلکہ یوں سمجھیے شناسائی تھی جو آنکھوں آنکھوں میں ہوئی اور دل میں گھر کر گئی۔

اس کے بعد زندگی اپنے سفر پر اسی رفتار سے چلتی رہی جس میں ہمیشہ وہ آگے نکل جاتی اور میں اس ڈر سے پیچھے رہ جاتا کہ کہیں اتنا آگے نہ نکل جاؤں جہاں سے واپسی مشکل ہو جائے کیونکہ میرے پاس تو واپسی کا کرایہ بھی نہیں تھا۔ میں عموماً شام کو کالج سے نکل کر بے مقصد مختلف سڑکوں پر گھومتا، بھانت بھانت کے لذیذ کھانوں کی مہک سے دماغ کو سیراب کرتا اور دل کو ڈھارس بندھا کر واپس آ جاتا۔ ایک ایسی ہی سہانی شام تھی جب ایک چوراہے کے کنارے میں نے بہت بڑے مجمع کو دیکھا جو کسی کے گرد اکٹھا تھا۔ تجسس نے سر اٹھایا تو قدم اُسی سمت اٹھے اور جب وہاں پہنچا تو دیکھا وہی حضرت اب سامنے مختلف سفوف کی ڈبیاں سجائے طبیبِ حاذق بنے اس مایوس اور شرمندہ قوم کو مژدہ مردانگی بیچ رہے تھے۔ کچھ بد عقیدہ و بد مذہب آپس میں سرگوشیاں کر کے اُنہیں مشکوک ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے مگر بہت سے راسخ العقیدہ اُن کے نسخہ جات کو منہ مانگی قیمت پر خریدتے ہوئے وہ مسرت محسوس کر رہے تھے جو اُن کے چہروں پر عیاں تھی اور چھپائے نہ چھپتی تھی۔ یہ نسخہ جات اُن کے بقول خالص خاندانی ہیں جو سینہ بہ سینہ روایات کی طرح نسل سے نسل منتقل ہوئے ہیں، جن کے متعلق شبہ کرنا یا تحقیق کرنا گویا کفر کے مترادف ہے۔ یہ وہ نسخہ جات تھے جو اُن کے بقول برصغیر کے بادشاہ برضا و رغبت استعمال کرتے تھے اور نتیجہ کثرت اولاد سے ہوتا ہوا ریاستوں کے بٹوارے اور شکست کی صورت میں نکلتا تھا۔ یعنی برصغیر کے بادشاہی نظام کو ہر گز زوال نہ آتا اگر وہ ان خالص طبی نسخہ جات سے احتراز برتتے اور سادہ زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے۔

اب شہر میں آئے سال سے اوپر ہو چلا تھا، شہر کی ہر سڑک، گلی محلہ ازبر ہو چکا تھا۔ کالج کا ایک سال گزرا مگر ہمارا نہیں کیونکہ ہم سال کے بعد بھی فرسٹ ائر ہی میں رہے تاکہ علم راسخ ہو کر رگ رگ میں پیوست ہو جائے اور ہماری ہر سانس سے علم کے سوتے پھوٹیں۔ اسی دوسرے سال کا قصہ ہے جب ایک پرانی کتابوں کے بازار میں مرزا توانا کبیر کا دیوان خریدنے گئے اور راستے میں اُنہی حضرت سے ملاقات ہو گئی جو کچھ عرصہ قبل یونانی ادویات اور اب نگینے فروخت کر رہے تھے۔ میں ان کے پاس بیٹھ کر وہ نگینے دیکھنے میں مصروف تھا کہ ایک صاحب وہاں آئے اور حضرت والا سے تنگی رزق اور اولاد کی نافرمانی کی شکایت کی۔ حضرت نے اُن کا ہاتھ پکڑا پھر ہتھیلی پر محدب عدسہ سے کچھ یوں دیکھنا شروع ہو گئے جیسے بڑھیا دانوں میں کنکر دیکھتی ہے۔ ”بھئی یہ سب ساعت کی نحوست ہے اور پڑوسی کی جلن۔ ورنہ تمہارے جیسا ہاتھ تو اس شہر میں کیا، ملک میں کسی کا نہیں“ ۔ سائل نے سنا تو امید کی ڈھارس بندھی ”تو قبلہ آپ ہی کچھ کیجیے نا۔ میں بڑی امیدوں اور آسوں کے ساتھ آپ کے پاس آیا ہوں۔ سنا ہے آپ قسمت بدل دیتے ہیں“ ۔ حضرت نے جب یہ سنا تو کھل اٹھے۔ پھر ایک نگینہ اٹھایا اور اُسے دیتے ہوئے بولے ”یہ بہت خاص پتھر ہے۔ بہت خاص۔ یہ اماوس کی رات جب چڑیل دبدبائیل بال دھوتی ہے تو اس کے سر سے جو قطرے ٹپکتے ہیں وہ زمین پر گر کے پتھر بنتے ہیں اور یہ وہی پتھر ہے۔ کیونکہ یہ چڑیل پندرہ ہزار سال کے بعد ہی بال دھوتی ہے اور وہ بھی چلو بھر پانی میں۔ اسے لے جا اور سونے کی انگوٹھی میں جڑ کر اپنی داہنے ہاتھ کی انگلی میں پہن لے۔ اور پھر دیکھ سونا ہی سونا۔ دولت ہی دولت تیری قسمت ایسے بدلے گی کہ تو خود بھی حیران رہ جائے گا“ ۔ سائل نے ایک ہاتھ میں نگینہ لیا، دوسرے ہاتھ سے ہزار ہزار کے دو نوٹ اُن کے حوالے کیے اور پھر ایک فاتحانہ مسکراہٹ چہرے پر سجائے وہاں سے یوں چل دیے جیسے اب دھن برسے گا وہ بھی چھپر پھاڑ کر۔

مجھ سے مزید رہا نہ گیا تو اُن کے مزید قریب ہو کر گویا ہوا کہ آپ پہلے دندان ساز تھے، پھر حاذق طبیب بنے اور اب نگینہ فروش و قسمت فروش۔ یہ سب کیا ہے؟ میرے سوال کو سن کر تھوڑا دائیں بائیں دیکھا پھر آلتی پالتی سے اکڑوں حالت پر بیٹھے اور بتایا کہ دراصل وہ اُس خاندان سے ہیں جو ہر فن مولا ہے۔ یعنی نظریہ ضرورت اور بقدر سہولت جس طرح کی مارکیٹ میں ڈیمانڈ ہو اُسی کی سپلائی کا کام شروع کر دیتے ہیں۔ میری بے چین طبیعت علم کی متلاشی اور حقیقت کی رسیا نے مجبور ہو کر مجھے سوال پر اکسایا کہ ایسے بھلا کیسے ممکن ہے کہ ایک ہی شخص اتنے سارے فنون اور علوم پر دسترس رکھتا ہو۔ اس پر ایک ترچھی نگاہ سے مجھے یوں دیکھا جیسے میں اُن کا فن اور علم چوری کرنے آیا ہوں، پھر کھانسی کے ساتھ گلا صاف کرنے کے بعد فرمایا، ”لگتا ہے تمہارے اندر شک کا مادہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ تم کیا جانوں سائنس کے بخار میں مبتلا جاہل انسان کہ سینہ بہ سینہ چلنے والا علم کیا ہوتا ہے۔ یہ تو بس عطا ہے عطا۔ جسے ملتی ہے وہ میری طرح ارسطو دوراں اور حکیم لقمان بن جاتا ہے“ ، ”مگر حکیم لقمان تو کوئی حکیم نہیں تھا۔ وہ تو بس حکمت کی باتیں کرتا تھا“ ۔ اس گستاخی پر وہ تلملا اٹھے، فوراً سارے نگینے سمیٹ کر اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے اور چل دیے۔ میں نے سر راہ ہاتھ سے پکڑ کر پوچھا، ”حضرت آپ تو قسمت بدل دیتے ہیں، میری بھی قسمت بدلیے نا“ ۔ اس پر اپنا ہاتھ مجھ سے زبردستی چھڑاتے ہوئے بولے، ”تمہارے جیسے شیاطین کی قسمت بدلنے کی بجائے ہم شہر بدل لیتے ہیں“ اور پھر نظروں سے اوجھل ہو گئے۔

Facebook Comments HS