کیا جنریشن زی مذہب سے دور ہو رہی ہے؟
نسل Z، جو 1997 سے 2012 کے درمیان پیدا ہونے والی نسل ہے، پوری دنیا میں آج کے جدید دور کی سب سے زیادہ متحرک، آزاد خیال، اور سوالات کرنے والی نسل سمجھی جاتی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں مذہب ایک گہری سماجی جڑیں رکھتا ہے، اس نسل کی مذہب سے دوری ایک اہم بحث کا موضوع بن چکی ہے۔ پچھلے دنوں احمد جاوید صاحب کی ایک ویڈیو دیکھی وہ بھی ہماری نسل کو لے کر بہت پریشان دکھائی دے رہے تھے اور ساری امت مسلمہ کو فرقہ ورانہ تفریق بھول کر اس ٹاپک کو سیریس لینے کی تلقین کر رہے تھے۔ میں خود بھی اسی نسل سے تعلق رکھتا ہوں اور میں نے دیکھا ہے کے میرے زیادہ تر ہم عمر دوست مسلمان ہوتے ہوئے بھی روایتی مذہبی نظریات پر پہلے کی نسبت زیادہ سوالات اٹھا رہے ہیں اور کئی ایک مکمل طور پر مذہب سے لاتعلق نظر آتے ہیں۔ چونکہ پاکستان میں سر عام اس بات کا اقرار خطرے کا باعث بن سکتا ہے لہذا اس بات کا اقرار سرعام تو ابھی تک کوئی نہیں کرتا ممکن ہے آنے والے دس بیس سالوں میں لوگ بغیر کسی ڈر خوف سے مذہب سے علیحدگی کا اعلان کرنے لگیں اس رجحان کے پیچھے بہت سے سماجی، تعلیمی، ارتقائی اور سائنسی عوامل کارفرما ہیں جو ہماری نسل کی سوچ کو بدل رہے ہیں۔
ڈیجیٹل انقلاب اور کھلا مکالمہ
ہماری نسل وہ پہلی نسل ہے جو مکمل طور پر انٹرنیٹ کے دور میں پلی بڑھی ہے۔ پہلے کے مقابلے میں، آج ہر نوجوان کے پاس یوٹیوب، ریڈٹ، ٹک ٹاک، فیس بک، یوٹیوب، آرٹیفیشل انٹیلی جنس چیٹ جی پی ٹی وغیرہ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے معلومات کے ان گنت ذرائع موجود ہیں۔ مذہبی موضوعات پر کھلے مباحثے، الحاد پر مبنی مواد، اور سائنسی و فلسفیانہ سوالات نے بہت سے نوجوانوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ماضی میں، مذہب پر سوال اٹھانے کو بدتمیزی یا گستاخی سمجھا جاتا تھا، اور ہمارے ہاں آج بھی کسی مقدس چیز پر سوال اٹھانے والے کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی۔ لیکن آج ہماری نسل دلیل اور تحقیق کی بنیاد پر ہر چیز کو پرکھنے کی عادی ہو چکی ہے۔ کسی بھی سوال کے جواب کے لیے والدین، استادوں کی بجائے ہم لوگ گوگل اور چیٹ جی پی ٹی کا رخ کرتے ہیں۔ اگر ہمارے سوالات کے تسلی بخش جوابات نا دیے جاتے رہے، تو ممکن ہے ہماری نئی نسل اور زیادہ متبادل نظریات کی طرف مائل ہو جائے۔
مذہب اور سیاست کا گٹھ جوڑ
پاکستان میں مذہب کو اکثر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ مذہبی جماعتوں کی اقتدار کے حصول کی جدوجہد، شدت پسند رویے، اور اقلیتوں کے خلاف مذہب کے نام پر کی جانے والی زیادتیاں بہت سے نوجوانوں کو مذہب سے بدظن کر رہی ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کیسے بعض مذہبی رہنما خود ان اصولوں پر عمل نہیں کرتے جن کی تبلیغ کرتے ہیں۔ جیسے ہمارے ایک مشہور مبلغ لوگوں کو کلونجی سے ہر مرض کا شفا کا بول کر خود کینیڈا کے ہسپتال میں دل کی تکلیف کی صورت میں انجیوگرافی کروا چکے ہے اور ایسی کم از کم ہزاروں نا سہی سو سے تو زیادہ مثالیں موجود ہیں اس منافقت نے ہماری نسل کے نوجوانوں میں یہ سوچ پیدا کر دی ہے کہ مذہب محض ایک طاقت کا کھیل بن چکا ہے، جس کا اصل مقصد انسانوں کی روحانی تربیت کے بجائے سماجی کنٹرول ہے۔
مذہب کا خوف پر مبنی بیانیہ
پاکستان میں مذہبی تعلیم اکثر خوف اور سزا کے بیانیے پر مبنی ہوتی ہے۔ ہمیں ابتدا ہی سے یہ سکھایا گیا تھا کہ اگر ہم نے مذہب کے کسی اصول کی خلاف ورزی کی، تو ہم سخت سزا کے مستحق ہوں گے۔ اس خوف زدہ ماحول میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد مذہب سے جڑنے کے بجائے اس سے فرار حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ جب ایک نوجوان ہر وقت گناہ اور سزا کے خوف میں مبتلا ہو، تو وہ آہستہ آہستہ مذہب کو بوجھ سمجھنے لگتا ہے۔ اس کے برعکس، مغربی دنیا میں مذہب کو زیادہ مثبت انداز میں پیش کیا جاتا ہے، جہاں لوگوں کو اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے کسی بھی عقیدے کو اپنائیں یا نہ اپنائیں۔
گلوبلائزیشن اور جدید ثقافت کا اثر
پاکستان کی نسل Z نہ صرف مقامی ثقافت بلکہ مغربی ثقافت کے اثرات بھی لے رہی ہے۔ نیٹ فلکس، ہالی وڈ، اور مغربی فلسفیانہ نظریات نے ایک ایسی دنیا کی تصویر پیش کی ہے جہاں انسان مکمل آزادی کے ساتھ زندگی بسر کر سکتا ہے اور مذہب محض ایک ذاتی معاملہ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، پاکستانی معاشرہ سخت روایات اور مذہبی پابندیوں پر مبنی ہے، جس کی وجہ سے کئی نوجوان خود کو ایک بند دائرے میں محسوس کرتے ہیں۔ نتیجتاً، وہ مذہب کو ایک جبر کے طور پر دیکھنے لگتے ہیں اور اس سے دور ہو جاتے ہیں۔
کیا آنے والی نسلیں بھی مذہب چھوڑ دیں گی؟
اگر یہی رجحان جاری رہا تو مستقبل کی نسلیں مذہب کے روایتی تصورات سے مزید دور ہو جائیں گی۔ سوشل میڈیا اور اب آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور جدید تعلیم کا اثر وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا جائے گا، اور نئی نسلوں کے لیے مذہب پہلے جیسا لازمی عنصر نہیں رہے گا۔ تاہم، مکمل الحاد یا مذہب کا مکمل خاتمہ شاید ممکن نہ ہو، کیونکہ پاکستان کا سماجی ڈھانچہ ابھی تک مذہبی بنیادوں پر کھڑا ہے۔ اور ویسے بھی اس خطے کی تاریخ میں بھی مذاہب ایک اہم موضوع رہا ہے البتہ، مستقبل میں مذہب کی نوعیت ضرور بدل جائے گی اور یہ ارتقا کے تحت ہی ہو گا۔ وہ مذہب جو آج معاشرتی اور سیاسی زندگی پر حاوی ہے، ممکن ہے کہ آنے والی نسلوں کے لیے صرف ایک ذاتی روحانی تجربہ بن جائے۔
پاکستان میں مذہب کا مستقبل
پاکستان میں مذہب کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ معاشرہ اور مذہبی قیادت اس تبدیلی کو کیسے سنبھالتی ہے۔ اگر مذہبی علما اور تعلیمی ادارے نوجوانوں کے سوالات کو دبانے کے بجائے ان کا مدلل اور منطقی جواب دینے کی کوشش کریں، تو شاید مذہب اپنی جگہ برقرار رکھ سکے۔ لیکن اگر مذہب پر تنقید کو گستاخی سمجھا جاتا رہا اور آزادانہ سوچ کو دبایا جاتا رہا، تو آنے والی نسلیں مذہب کو مزید مسترد کرتی چلی جائیں گی۔ پاکستان میں مذہب کا ایک نیا اور غیر روایتی تصور بن سکتا ہے، جہاں لوگ رسمی عبادات اور سخت گیر نظریات کے بجائے روحانیت، اخلاقیات، اور فرد کی ذاتی آزادی کو زیادہ اہمیت دینے لگے۔
یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ پاکستان میں مذہب کا مستقبل کیا ہو گا، لیکن ایک بات واضح ہے کہ نسل Z کے بعد کی نسلوں کے لیے بھی مذہب وہ حیثیت برقرار نہیں رکھ پائے گا جو پچھلی نسلوں کے لیے رکھتا تھا۔ یہ ایک فکری انقلاب کا آغاز ہے، جہاں نوجوان اپنے عقائد کو دوبارہ جانچنے اور ایک نئی شناخت بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ممکن ہے کتابوں سے عشق والی بات کی طرح عقیدوں سے عشق کی بھی آخری صدی ہو لیکن میرے ذاتی خیال کے مطابق انسان صدیوں سے ہی قصے، کہانیوں کا دیوانہ رہا ہے جب تک انسان اس دھرتی پر ہے شاید وہ کسی نا کسی نا صورت میں قصے کہانیوں پر یقین رکھتا رہے پر وقت کے ساتھ کہانیاں بدلتی چلی جائیں۔ اور یہ بھی ممکن ہے ساقی نا رہے جام رہے اور آخر میں احمد ندیم قاسمی کا شعر
یہ ارتقا کا چلن ہے کہ ہر زمانے میں
پرانے لوگ نئے آدمی سے ڈرتے تھے


