موت کی مارکیٹنگ


آج کل صبح آنکھ کھلتے ہی ہم میں سے اکثر انسانوں کی جس چیز پر پہلے نظر پڑتی ہے وہ اپنے جاننے والے لوگوں کی سوشل میڈیا سٹوریز یا پوسٹس ہوتی ہیں جن میں زیادہ تر موت کی سختی، قبر کے عذاب، جہنم کی آگ اور مرنے کے فوراً بعد لوگ کتنا جلدی آپ کو بھلا دیں گے وغیرہ، وغیرہ لکھا ہوتا ہے۔ یہ سب صبح سویرے پڑھنے کے بعد بھلا کوئی کیسے اس زندگی میں اپنی پوری صلاحیتوں اور انرجی سے یہاں کے مسئلے حل کرنے کا یا اپنی زندگی سے بڑا کام کرنے کا سوچ سکتا ہے جس کی کوئی حیثیت ہی نہ ہو اور جس کا انجام ایک دردناک موت اور عذاب سے بھرپور آخرت ہو۔ اگر کوئی سوشل میڈیا کی ان چیزوں سے بچ بھی جائے تو باقی کسر ہمارے منبر و محراب پوری کر دیتے ہیں جن کے خطبات میں ایک بہت بڑا حصہ یا تو موت اور اس کے بعد کی زندگی پر مبنی ہوتا ہے یا پھر کسی کی موت کے بعد کسی زندہ آدمی کے خواب میں اس کے نظر آنے والے ان قصوں پر جن کا کوئی سر پیر ہی نہیں ہوتا۔ موت کی یہ تشہیر اتنی پھیلی ہوئی ہے کہ گلی محلوں اور بازاروں میں چندہ بکس کے اوپر لکھی ہوئی تحریریں بھی ہر دم موت، موت کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اس سب کا شاید یہی مطلب ہے کہ زندگی سے اس معاشرے نے اپنا منہ موڑ لیا ہے اور یہ کروڑوں لوگوں کا ایک جیتا جاگتا زندہ قبرستان بن چکا ہوا ہے۔

اس قبرستان میں کسی نے کچھ بھی بیچنا ہے تو وہ صرف موت کے نام پر ہی بیچ سکتا ہے کیونکہ زندگی کے نام پر ایک تو بیچنے کے لئے ہے کچھ بھی نہیں اور دوسرا لینے والے بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ کسی کو بھی زندگی کی کسی خوبصورتی، مصوری، رقص، شاعری اور لوگوں کی انواع و اقسام کی سوچوں اور زبانوں سے کوئی لینا دینا نہیں کیونکہ سب صرف موت کی قطار میں کھڑے ہیں اور زندگی زندہ رہتے ہوئے ہی کھو چکے ہیں۔ لوگوں نے چالیس، پچاس سال کی عمر کے بعد کچھ بھی نیا سیکھنے یا محنت کرنے سے توبہ کر لی ہوئی ہے کیونکہ ان کے بقول انہوں نے زندگی میں جو بھی کرنا تھا کر لیا ہے اور اب صرف موت کی تیاری کا وقت ہے۔ اس سب موت کے بھرپور منظرنامہ میں جو کچھ لوگ اس زندگی سے تھوڑا بہت بھی لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں ان کے لئے ہر طرف سے موت کا منظر، عذاب آخرت اور قبر کی وحشت وغیرہ کے جملے کسے جاتے ہیں تا کہ کسی نا کسی طرح سے ان زندہ لوگوں کو بھی زندہ لاشیں بنایا جا سکے۔ زندگی کو یہاں اتنا حقیر بنا دیا گیا ہے کہ جو لوگ زندگی میں انتھک محنت سے اپنی اور اپنے اردگرد لوگوں کی زندگی بہتر بنانے کی کوشش میں ہوتے ہیں ان کی تحقیر کے لئے ”دنیا کے پیچھے بھاگنے والا“ کا ٹائٹل دے دیا جاتا ہے۔

اس قبرستان کا موازنہ اگر ان معاشروں سے کریں جہاں موت کے بجائے زندگی سے پیار کیا جاتا ہے تو صاف فرق نظر آتا ہے۔ جہاں لوگ اپنی ساری کوششیں اسی دنیا کو بہتر کرنے اور اسے بھرپور طریقے سے جینے پہ لگاتے ہیں اور جہاں لوگ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی نئی چیزیں سیکھنے، دنیا گھومنے اور زندگی سے لطف اندوز ہونا نہیں چھوڑتے۔ زندگی سے اسی عشق کی بدولت آج ہر وہ معاشرہ (چاہے مشرق کا ہو یا مغرب کا ) محفوظ اور ترقی یافتہ ہے جہاں پر موت، موت کرنے کے بجائے زندگی کو ہر دم بہتر سے بہترین کرنے پر غور ہو رہا ہے۔ اسی کوشش سے کافی حد تک وہ اپنی اسی مسائل سے بھرپور دنیا کو ایک عملی جنت کا نمونہ بنا چکے ہیں اور اس میں مسلسل بہتری لا رہے جب کہ ہم ہر وقت اپنے خیالوں میں مرنے کے بعد والی جنت کے بارے میں ہی سوچ کر دل بہلا رہے ہوتے ہیں۔

ہمارے اس قبرستان کو ایک زندگی سے بھرپور نخلستان میں بدلنے کے لئے ضروری ہے کہ موت کو زندگی کا ایک چھوٹا سا حصہ سمجھا جائے نہ کہ ساری زندگی کا دار و مدار اسی پر رکھا جائے۔ ہمیں اس چیز پر سوچنے کی ضرورت ہے کہ ایک بھرپور زندگی ہی ایک اچھی موت کی ضامن ہے۔ زندگی میں اگر زندہ دلی سے لوگوں کی خدمت نہ کی، اپنی زندگی سے زیادہ دیر تک قائم رہنے والی کوئی چیز آنے والے انسانوں کے لئے نہ چھوڑی اور اگر انمٹ محنت نہ کی تو پھر ہم نے زندگی نہیں گزاری۔ جب تک یہ معاشرہ زندگی کی سوچ کو موت کی سوچ پہ حاوی نہیں کرتا یہ ایک جیتا جاگتا قبرستان ہی رہے گا جس میں موت کے علاوہ کچھ بھی نہیں بکے گا اور یہ پستی سے مزید پستی کی طرف گامزن رہے گا۔ جس دن یہاں موت سے زیادہ زندگی کا ذکر ہونا شروع ہوا اس دن یہ معاشرہ واقعی زندہ رہنے کے قابل ہو جائے گا۔ ہمیں جلد یا بدیر یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ ایک اچھے معاشرے کی طرح اسی زندگی کو مثبت بنانے کی کوششوں میں اپنی ساری توانائی لگانی ہے یا پھر موت، موت کرتے اپنی اس مختصر سی زندگی کو جہنم سے بھی بدتر بنائے رکھنا ہے۔

Facebook Comments HS