کیا آپ کسی نفسیاتی یا سماجی بحران کا شکار ہیں؟

(رضوانہ شیخ کا خط)
ڈاکٹر خالد سہیل صاحب،
تسلیمات
آپ سے کافی دنوں کے بعد رابطہ ہوا ہے۔ دراصل کچھ مصروفیت ایسی ہے کہ لکھنے اور پڑھنے کے لیے وقت نکالنا مشکل ہو رہا ہے۔ آج کل وقت کی کمی میرے لیے بھی پریشانی کا باعث ہے۔ آپ سے رابطے کا مقصد دراصل اپنے اور ہم سب کے قارئین کے لیے رہنمائی لینا ہے۔
ہم سب کو زندگی میں کئی بار ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب بہت کم وقت میں کوئی کام انجام دینا ہو۔ اور اگر وہ کام بروقت مکمل نہ ہوا تو کیا ہو گا، یہ سوال ہمیں اور زیادہ پریشان کر دیتا ہے۔ بعض دفعہ زندگی کا کوئی ایسا نجی معاملہ ہوتا ہے کہ ہم کسی کو بتا بھی نہیں سکتے اور سب کچھ اپنی ہی ذات پر جھیلنا پڑتا ہے یعنی ایسے معاملات جہاں عزت داؤ پر لگی ہو اور لوگوں کو پتا چل جانے کی صورت میں ہماری بہت زیادہ بدنامی کا خدشہ ہو۔ یہ صورتِ حال ہر کسی کے لیے قابلِ برداشت نہیں ہوتی کیونکہ ہمارے معاشرے میں لوگ کسی کے مسئلے کو سمجھنے کی بجائے الٹا اسی کو قصوروار قرار دینے لگتے ہیں۔ اسی وجہ سے لوگ اپنے معاملات کو اپنی ذات تک محدود رکھنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ کوئی مدد کی پیشکش کرے تو بھی لوگ مدد لینے سے انکار کر دیتے ہیں کہ یہ میرے بارے میں کیا سوچے گا/گی۔ دوسری اہم بات، ہمارے ہاں رازداری کی اہمیت سے واقف لوگ نہ ہونے کے برابر ہیں۔ کسی کا مسئلہ معلوم ہو جائے تو جا کر دوسروں سے ڈسکس کرنے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنی پریشانیاں کسی کو بتانا ہی نہیں چاہتے۔
کچھ لوگ تو ایسے میں ہمت ہار جاتے یا خدانخواستہ بیمار پڑ جاتے ہیں۔ ذہنی دباؤ اور پریشانیاں آج کل امراضِ قلب کی ایک بڑی وجہ ہیں۔
آُپ ایک نفسیات دان کی حیثیت سے ہم سب کی راہنمائی فرمائیے کہ زندگی کی چھوٹی بڑی پریشانیوں سے کیسے نمٹا جائے، بالخصوص جب ہم کسی کو بتانے کی پوزیشن میں نہ ہوں اور ہماری پرائیویسی متاثر ہونے کا خدشہ ہو۔
آپ سے جو مسئلہ بیان کیا ہے، اس سلسلے میں ایک واقعے کی مثال پیش کیے دیتی ہوں جو میرے اپنے شناسا لوگوں کے ساتھ ہوا ہے :
ایک دوست نے اپنی پسند سے شادی کی۔ گھر والوں نے اس کی بیوی کو قبول نہ کیا جیسا عموماً ہمارے ہاں ہوتا ہے کیونکہ یہاں پسند کی شادی کو معیوب سمجھا جاتا ہے۔ اس نے گھر کی پریشانیوں سے بچنے اور بیوی کے ساتھ خوشگوار طریقے سے زندگی گزارنے کی غرض سے اپنا گھر چھوڑ دیا اور ایک گھر کرائے پر لے لیا۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ مالک مکان نے انہیں چند ہفتوں میں کرائے کا مکان خالی کرنے کا نوٹس تھما دیا ہے۔ مالک مکان نے دراصل مکان فروخت کر دیا ہے اور اسے خالی کرنے کے لیے نئے مالک سے چند ہفتوں کی مہلت لی ہے۔ اب جو میرا دوست وہاں ایک پورشن میں رہ رہا ہے، اس کے لیے تھوڑے ہی عرصے میں نیا مکان تلاش کرنا اور پھر وہاں منتقل ہونا مشکل ہے۔
بعض لوگوں نے واپس اسے والدین کے گھر چلے جانے کا مشورہ دیا ہے۔ لیکن وہ نہیں جانا چاہتا کیونکہ وہاں واپس جانے کی صورت میں ظاہر ہے خاندان اور رشتے داروں کے طعنے سننے کو ملیں گے۔ ایک دو نئے مکانات جو اس نے دیکھے ہیں، ان کا کرایہ زیادہ ہے۔ اب ایک مخصوص مدت میں نیا مکان تلاش کرنا، وہاں تمام سامان کے ساتھ منتقل ہونا اور زیادہ کرایہ ادا کرنا ایسے مسائل ہیں جو اس کے اعصاب اور دل و دماغ پر سوار ہیں۔ اس نے اس مسئلے کا ذکر اپنے گھر میں بھی نہیں کیا۔ وہ شدید پریشان ہے اور تاحال کوئی آسان حل نظر نہیں آ رہا۔
چونکہ ہمارے ہاں ایسے مسائل سے نمٹنے کی کوئی نفسیاتی یا ذہنی تعلیم و تربیت نہیں دی جاتی تو لوگوں کو پتا نہیں ہوتا کہ کیا کرنا ہے۔ کئی لوگ تو ہمت ہار جاتے ہیں اور بیمار ہو کر ڈاکٹر کے پاس جا پہنچتے ہیں۔ لیکن ڈاکٹر بھی صرف دوا دے سکتے ہیں، مسائل تو اس انسان کو خود ہی حل کرنا ہوتے ہیں۔ تو میرا سوال یہ ہے کہ ایسی کسی بھی صورتِ حال میں ہمیں خود کو پرسکون اور ہوش و حواس برقرار رکھنے کے لیے کیا نفسیاتی طریقے اختیار کرنے چاہئیں؟ اور شدید ذہنی دباؤ سے کیسے نمٹیں؟
آپ کی راہنمائی کی منتظر،
رضوانہ شیخ
……………………………
(ڈاکٹر خالد سہیل کا جواب)
محترمہ و معظمہ رضوانہ شیخ صاحبہ!
کافی عرصے کے بعد آپ کا خط موصول ہوا تو بہت اچھا لگا۔ میں جانتا ہوں کہ آپ زندگی کے نفسیاتی اور سماجی مسائل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچتی ہیں اور مشکل سوال پوچھتی ہیں جن کا اختصار سے جواب دینا مشکل ہوتا ہے لیکن میں جواب دینے کی کوشش کروں گا۔
آپ نے جس مسئلے کی طرف نشاندہی کی ہے اس کے پس پردہ چند اہم محرکات موجود ہیں۔
جو لوگ روایتی سوچ رکھتے ہیں اور روایتی طرز زندگی گزارتے ہیں انہیں اپنے روایتی خاندانوں کی مدد حاصل ہوتی ہے لیکن غیر روایتی سوچ اور طرز زندگی رکھنے والے لوگوں کی روایتی خاندان مدد نہیں کرتے۔
اس لیے غیر روایتی لوگوں کو زندگی کے اہم فیصلے کرتے وقت یہ سوچنا چاہیے کہ اگر وہ کسی بحران کا شکار ہوں تو ان کی مدد کون کرے گا۔ غیر روایتی لوگوں کو اس بات کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے کہ لوگ کیا کہیں گے۔
میری نگاہ میں انسان کی ESTEEM کے دو حصے ہیں۔ جو ایسٹیم انسان خود بناتا ہے میں اسے SELF ESTEEM کا نام دیتا ہوں اور جس ایسٹیم کا دوسروں پر انحصار ہو میں اسے OTHER ESTEEM کہہ کر پکارتا ہوں۔
غیر روایتی سوچ اور طرز زندگی رکھنے والے لوگوں کی کامیابی کے لیے انہیں نہ صرف بہت سی خود اعتمادی، خود خیالی اور خود انحصاری چاہیے بلکہ غیر روایتی دوستوں کا ایک حلقہ بھی چاہیے تا کہ وہ ان مدد کر سکیں
دوست آن باشد کی گیرد دست دوست
در پریشاں حالی و درماندگی
ہم نے کینیڈا میں ایسے ہی غیر روایتی دوستوں کا ایک حلقہ بنا رکھا ہے جنہیں ہم نے فیمیلی آف دی ہارٹ کا نام دیا ہے۔
پچھلے سال ہمارے دو دوستوں کو سٹروک ہوا اور ان کی دوستوں نے بہت مدد کی اور ان کی صحتیابی میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے لیے دل کے رشتے خون کے رشتوں کی طرح اہم ہیں۔
آپ نے جس محبت کرنے والے جوڑے کا ذکر کیا ہے بدقسمتی سے انہوں نے اپنے لیے دل والوں کا خاندان نہیں بنایا۔ ان کے ایسے دوست نہیں ہیں جو ان کی معاشی و سماجی مدد کر سکیں۔ جن کے پاس وہ چند ہفتوں یا مہینوں کے لیے رہ سکیں جب تک انہیں کوئی متبادل مناسب رہائش نہ مل جائے۔
انسان سماجی جانور ہیں ان کی صحتیابی اور خوشحالی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ہم خیال اور ہم مزاج لوگوں کی صحبت میں رہیں۔
میری اپنے تخلیقی ادبی اور غیر روایتی دوستوں کو یہی مشورہ ہے کہ وہ ان باتوں سے بے نیاز ہو جائیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔
اگر ان کا اپنا ضمیر صاف ہے تو انہیں کسی کی تنقید کی پرواہ نہیں ہونی چاہیے اور اگر وہ غیر روایتی دوستوں کا حلقہ بنا لیں تو پھر جب بھی انہیں مالی جذباتی یا سماجی مدد کی ضرورت ہوگی وہ دوست ان کی مدد کے لیے تیار ہوں گے۔
آپ کے مشکل سوال کا اختصار سے جواب دینے کی معذرت
مخلص
خالد سہیل

