ڈیپ سیک پر اتنی گہری نظر کیوں؟


ایک ڈیپ سیک سے دنیا میں اتنی ہلچل کیوں ہے؟ مصنوعی ذہانت کے میدان میں آج کل ایک ہی موضوع ہے۔ ڈیپ سیک۔ چینی کمپنی کا ایک ایسا چیٹ بوٹ جس نے دنیا کو حیرت میں ڈال رکھا ہے۔ لیکن اس حیرت کی اصل وجہ کیا ہے؟ دنیا بھر میں مشہور چیٹ بوٹ ”چیٹ جی پی ٹی“ اور اب ڈیپ سیک کے بعد بھی کئی جنریٹڈ چیٹ بوٹس لانچ ہوئے اور اب بھی ہو رہے ہیں تو پھر صرف صرف ڈیپ سیک ہی پر بات کیوں؟

ماہرین کا خیال ہے کہ اصل مسئلہ اس چیٹ بوٹ کی کار کردگی نہیں بلکہ اس کی ”کم لاگت میں زیادہ کار کردگی“ ہے۔ خود چیٹ جی پی ٹی کے مطابق اس چیٹ بوٹ کی تیاری میں تحقیق اور ترقی، کل کمپیوٹنگ، ڈیٹا جمع کرنے اور آپریٹنگ اخراجات کی مجموعی لاگت 4.6 ملین ڈالرز سے 10 ملین ڈالرز ہو سکتی ہے۔

یہ تو چیٹ جی پی ٹی کا کہنا ہے، لیکن ماہرین اس کی تیاری اور اس کے مختلف ماڈیولز کے بارے میں لاگت کو کئی گنا زیادہ بتاتے ہیں۔ جنوری کے آخری دنوں میں جب ڈیپ سیک عالمی توجہ کا مرکز بنا تو اس وقت کئی ماہرین نے جیٹ جی پی ٹی کی لاگت کے بارے میں یہ بھی کہا کہ اس چیٹ بوٹ کی تیاری میں آر اینڈ ڈی سیکٹر سمیت تمام لاگت 100 ملین ڈالرز تک تھی سو اس حوالے سے اگر کوئی درمیانی تخمینہ بھی لگایا جائے تو بھی وہ ڈیپ سیک کی تیاری سے کئی گنا زیادہ بنتا ہے کیوں کہ ڈیپ سیک کی لاگت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ 5.58 ملین ڈالرز ہے۔ یہی وہ حیرت انگیز نکتہ ہے جس کے بارے میں ماہرین نے سب سے پہلے زیادہ گفتگو کی کیوں کہ علامتی سطح پر مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لئے اس کا ترقی یافتہ ممالک میں استعمال ضروری تو سمجھا جاتا ہے لیکن اصل مسئلہ اس کا تخمینہ ہے۔

دوسرا بیانیہ جو ڈیپ سیک کے حوالے بنایا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ اس طرح کے چیٹ بوٹس میں صارفین کا ڈیٹا کمپنی کے پاس محفوظ ہو جاتا ہے جسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈیپ سیک سے قبل کے تمام اور آئندہ آنے والے چیٹ بوٹس کیا اس صلاحیت سے محروم تھے یا ہوں گے؟ اس کا جواب یقیناً نہیں ہے۔ تو اگر ایسا نہیں، تو ڈیپ سیک کے علاوہ تمام چیٹ بوٹس کو معلومات دینا کیوں ایک ”سیف پراسیس“ ہے اور ڈیپ سیک کو معلومات دینا ”ان سیف“ کیسے؟

کچھ ممالک نے ڈیپ سیک کی مقبولیت کے بعد اسے روکنے کے لئے اس کی ڈاؤن لوڈنگ پر بھی پابندی لگائی اور یہ کہا کہ کمپنی نے سیکیورٹی کے حوالے سے تسلی بخش جواب نہیں دیا۔ لیکن سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اس سے قبل تمام چیٹ بوٹس نے یہ مرحلہ اسی طرح پار کیا یا تب سیکیورٹی کے نام پر سوالات کرنے والوں کی آنکھیں بند تھیں؟ سو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس طرح کا بیانیہ بنانے سے تحفظ پسندی کی سوچ واضح نظر آتی ہے جو کسی بھی طرح دنیا کے لئے درست نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی مستقبل ہے۔

ایک عام آدمی کی رائے یہی نظر آتی ہے کہ کسی ایک ملک کا سافٹ وئر محفوظ اور دوسرے کا غیر محفوظ ہونے کا بیانیہ محض ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنی بالا دستی کی کوشش ہو سکتی ہے اس کے سوا کچھ نہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ اگر معاملہ یہ ہی ہے تو صاف اور واضح کیوں نہیں؟

ان سب سوالوں کا جواب ایک ہی ہے۔ اور وہ جواب ہے ڈیپ سیک کی صارفین میں مقبولیت۔ اپنی لانچنگ سے لے کر اب تک جس انداز میں ڈیپ سیک کو عوامی مقبولیت حاصل ہوئی ہے اس سے یہی ظاہر ہو تا ہے کہ یہ ایک کامیاب پروگرام رہا اور اسی لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگلا مرحلہ اس سے آگے کا ہو گا۔ یہ بھی یاد رہے کہ مختلف ماہرین کا کہنا ہے کہ سال 2024 میں چین کی جانب سے آر اینڈ ڈی یعنی ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ سیکٹر میں تقریباً 500 بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری مستقبل میں بھی دنیا کو ایسی ہی حیرتوں میں مبتلا کر سکتی ہے۔

Facebook Comments HS