تعلیمی اداروں میں ہراسانی کے بڑھتے واقعات


پاکستانی تعلیمی اداروں میں طلبہ بالخصوص طالبات کو ہراساں کرنے کے بڑھتے ہوئے واقعات نے طلبہ، والدین، انتظامیہ اور پالیسی سازوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ ملک بھر میں مختلف یونیورسٹیوں، کالجوں اور اسکولوں میں جنسی ہراسانی، دھونس اور دیگر بدانتظامی کی مسلسل سامنے آنے والی خبروں کے نتیجے میں طلبہ، خاص طور پر طالبات کی حفاظت اور فلاح و بہبود کے بارے میں سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ حیران کن امر یہ ہے کہ اس طرح کے سکینڈلز ماضی میں بالعموم اسلام آباد، کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہروں میں وقوع پذیر ہوتے رہے ہیں جب کہ اس حوالے سے خیبر پختونخوا اپنے رجعت پسندانہ طرز بود و باش کی وجہ سے پردہ اخفاء میں رہا ہے لیکن اب جب سے ہمارے ہاں مخلوط تعلیم کا دور دورہ ہوا ہے اور اس پر مستزاد سوشل میڈیا نے اپنی کرامات دکھانے شروع کی ہیں تب سے خیبر پختونخوا کی جامعات اور درسگاہوں سے بھی جنسی ہراسانی کے واقعات رپورٹ ہونا شروع ہوئے ہیں جن میں گومل یونیورسٹی کے بعد گزشتہ دنوں مالاکنڈ یونیورسٹی میں پیش آنے والے واقعے کو بطور مثال پیش جا سکتا ہے۔

دراصل گزشتہ چند برسوں میں ملک بھر سے ہراسانی کے جو متعدد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں وہ تعلیمی اداروں میں ایک پریشان کن رجحان کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایک اہم عنصر جو رپورٹ شدہ کیسز میں اضافے کا باعث بنا ہے وہ سوشل میڈیا اور آگاہی مہمات کے ذریعے طلبہ میں بڑھتی ہوئی بیداری ہے۔ متاثرین اب زیادہ اعتماد کے ساتھ اپنی شکایات درج کرا رہے ہیں جس کی وجہ سے باضابطہ شکایات میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم اب بھی کئی کیسز رپورٹ نہ ہونے کے خدشات موجود ہیں کیونکہ متاثرین کو بدنامی اور ادارہ جاتی ردعمل کا خوف ہوتا ہے۔

ہراسانی کے ایشو پر بات کرتے ہوئے ہمیں ان اسباب کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے جو بڑھتے ہوئے ہراسانی کے کیسز کا باعث بن رہے ہیں۔ اس ضمن میں ہمیں جہاں طلباء اور اساتذہ کے درمیان تعلقات کی نوعیت کو سمجھنا ہو گا اور اس حوالے سے اساتذہ اور طلباء دونوں میں پائی جانے والی خامیوں اور کمزوریوں کو زیر بحث لانا ہو گا کیونکہ اس بات میں کوئی دو آرا نہیں ہیں کہ ہمارے ہاں ماضی میں اساتذہ اور طلباء کے درمیان موجود تعلق اور رشتے کو روحانی باپ سے تشبیہ دی جاتی تھی جس کے عملی مظاہرے ہماری تاریخ میں آج بھی روز روشن کی طرح عیاں ہیں لیکن جب سے استاد اور طالب علم کے درمیان یہ رشتہ کمزور ہوا ہے اور اساتذہ نے روحانی باپ کا کردار نبھانا چھوڑ دیا ہے جس کے کئی سماجی اسباب ہیں تو تب سے یہ مقدس رشتہ زوال کا شکار نظر آتا ہے۔ اسی طرح ماضی میں استاد تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کے دوہرے کردار کی ادائیگی کو بھی اپنا فرض منصبی سمجھتا تھا لیکن اب استاد اس بنیادی کردار کی وابستگی سے اپنے اپ کو سبکدوش کر چکا ہے جس کا اثر نوجوان نسل کی بے راہ روی اور جنسی ہراسانی جیسے واقعات کی شکل میں نمودار ہو رہا ہے۔

اسی طرح تعلیمی اداروں میں ویلنٹائن ڈے، اساتذہ اور طلباٗ کے برتھ ڈے، ویلکم اور فیئر ویل پارٹیوں اور ثقافتی تہواروں کے نام پر طلباء و طالبات اور اساتذہ کی مخلوط اور مکس تقریبات بھی آگے جا کر ہراسانی کے کیسز میں محرک یا جلتی پر تیل کا کام کر رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ مالاکنڈ یونیورسٹی میں ہراسانی کا جو حالیہ واقعہ پیش آیا ہے کیا یہ سب کچھ راتوں رات یا اچانک وقوع پذیر ہوا ہے ایسا ہرگز ممکن نہیں ہے یہ واقعہ تو انتہا اور آخری مرحلہ ہے اس سے قبل یقیناً کئی دیگر مراحل آئے ہوں گے جس میں مذکورہ استاد کے ساتھ ساتھ متذکرہ طالبہ کو بھی بغیر تحقیق کے یک طرفہ طور پر بے گناہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس ضمن میں ہمارا موجودہ جدید تعلیمی نظام بھی ایک اہم عامل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں حاضری و امتحانات، اسائنمنٹ اور ریسرچ سپروائزر کے طور پر استاد کے کردار اور اس کو حاصل اختیارات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کہنے میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہیے کہ جب آپ استاد کو یک طرفہ طور پر بغیر کسی چیک اور روک ٹوک کے یہ اختیارات دیں گے تو وہ لامحالہ ان کا ناجائز استعمال کرے گا جس کا نتیجہ ہراسانی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی صورت میں برآمد ہو گا لہٰذا ہمیں ہراسانی کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے گر ایک طرف اساتذہ اور طلباء کے کردار پر بات کرنی چاہیے تو دوسری جانب اس صورتحال سے ہمارے ناقص نظام تعلیم کو بھی بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہراسانی کے بڑھتے ہوئے واقعات طلبہ پر نفسیاتی، جذباتی اور تعلیمی طور پر شدید اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ متاثرین اکثر اضطراب، ڈپریشن اور کم خود اعتمادی کا شکار ہو جاتے ہیں جو ان کی تعلیمی کارکردگی اور کیریئر کے امکانات کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ مزید برآں، ہراسانی کا کلچر ایک زہریلا تعلیمی ماحول پیدا کرتا ہے جو خواتین کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے یا کیمپس کی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے روکتا ہے۔ ہراسانی کے ممکنہ خوف اور خطرات کے پیش نظر بعض اوقات انتہائی قابل اور ذہین بچے اور بچیاں یا تو پوری طرح اپنی تعلیم پر توجہ نہیں دے پاتے یا پھر اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومت، والدین، تعلیمی ادارے اور ہم سب بحیثیت معاشرہ کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس حوالے سے جہاں ہراسانی مخالف پالیسیوں کا سختی سے نفاذ اس جرم کے سدباب میں کردار ادا کر سکتا ہے وہاں یونیورسٹیوں اور کالجوں کو انسداد ہراسانی پالیسیوں کے حوالے سے طلباء اور طالبات نیز اساتذہ اور انتظامیہ میں شعور اور آگہی پیدا کر کے بھی مطلوبہ مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح محفوظ رپورٹنگ کے نظام کا قیام یقینی بناتے ہوئے اداروں کو گمنام شکایت کے طریقہ ہائے کار متعارف کرانے چاہئیں اور متاثرین کو نفسیاتی مدد فراہم کرنی چاہیے۔ طلبہ اور عملے کو ہراسانی کی شناخت اور اس کی روک تھام کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے باقاعدہ ورکشاپس، سیمینارز اور آگاہی مہمات کا انعقاد بھی ضروری ہے۔ نیز اداروں کو صنفی شمولیت پر مبنی پالیسیاں اپنانی چاہئیں اور فیصلہ سازی میں خواتین کی مساوی نمائندگی کو بھی ہر سطح پر یقینی بنانا چاہیے۔

یہ مسئلہ چونکہ ایک وبا کی صورت اختیار کر رہا ہے اس لیے متعلقہ حکومتوں کو بھی اس بحران سے نمٹنے میں کلیدی کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں موجودہ قوانین کو مضبوط بنانا اور تعلیمی اداروں میں ان کے نفاذ کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں کی نگرانی کے لیے ریگولیٹری باڈیز کے ذریعے کڑی نگرانی اور ان اداروں پر جرمانے عائد کرنے چاہئیں جو ہراسانی کی شکایات پر کارروائی میں ناکام رہتے ہیں۔ مزید یہ کہ متاثرین کو قانونی معاونت اور انتقامی کارروائی سے بچاؤ کی یقین دہانی کے ذریعے شکایات درج کرانے کی حوصلہ افزائی بھی اس مسئلے کی روک تھام میں کردار ادا کر سکتی ہے۔ حرفِ آخر یہ کہ اس سے پہلے کہ تعلیمی اداروں میں ہراسانی کے بڑھتے ہوئے واقعات ایک سنگین تر سماجی مسئلے کا رخ اختیار کر لیں اس کے تدارک کے لیے پالیسی میں اصلاحات، آگاہی مہمات اور قوانین کے سخت نفاذ پر مشتمل جامع حکمت عملی کا نفاذ نہ صرف وقت کی ضرورت ہے بلکہ ان اجتماعی کوششوں کے ذریعے ہی ہم اس پریشان کن مسئلے کا خاتمہ کر کے اپنی درس گاہوں کو علم اور ترقی کے محفوظ مراکز بھی بنا سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS