روحانی رشتوں میں ملبوس جنسی درندے


پاکستان میں چور وہی ہوتا ہے جو پکڑا جائے اور کیس کی اندراج سے پہلے مک مکا کر کے خود کو ’باعزت‘ چھڑا نہ سکے، ورنہ یقین کریں، اکثر لوگ سوشل میڈیا پر جن برائیوں کا ذکر کرتے ہیں، خود بھی انہی برائیوں میں پڑے ہوئے ہیں، بس موقع نہیں ملتا یا پکڑے نہیں گئے ہوتے ہیں۔ یونیورسٹی اور کالج کے کسی لیکچرار اور پروفیسر (میل فیمیل دونوں ) کے لئے یہ کیا کم ہے، کہ وہ قحط النساء پر کھڑی اس دقیانوسی اور منافق معاشرے میں رہتے ہوئے، زندگی سے بھرپور اور خوبصورت لوگوں کے درمیان موجود ہوتا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ درندہ ہو، شکار پر نکلے ہو اور آپ کے شاگرد آپ کی خوراک ہے۔

کالج اور یونیورسٹی جس دنیا سے یہاں وارد ہوئی ہے، وہاں بھی خوبصورت لڑکیاں اور لڑکے بڑی عمر کے اساتذہ کے ساتھ ڈیل کرتے ہیں، لیکن مہذب معاشرے، پیشہ ورانہ اخلاقیات پر کھڑے ہوتے ہیں۔ کوئی استاد اپنی سٹوڈنٹ کے ساتھ جنسی تعلق رکھنے یا دوران تعلیم، استاد شاگرد رہتے ہوئے، شادی کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا، اور اگر ایسا ہو جائے اور سامنے آ جائے، تو پھر مجرم کو اخلاقی اور مجرمانہ قوانین کا سامنا کرتے ہوئے، باقی عمر اپنے پیشے کے ساتھ غداری کے جرم میں سماجی کلنک سے داغدار سمجھا جاتا ہے۔

ہمارے ہاں اساتذہ میں بچہ باز ہوتے ہیں، اور ساری دنیا جانتی ہے، کہ مذکورہ استاد بچہ باز ہے، جس کو لبرل معاشرہ بھی اخلاقی مجرم اور سماجی طور پر ناقابلِ برداشت اور ناقابلِ قبول سمجھتا ہے، چہ جائیکہ اس کو کسی سکول میں بچوں کا نگران، نگہبان اور استاد بنایا جائے۔ لیکن اس سے ہمیں تکلیف تب ہوتی ہے جب اس کا شکار ہمارا اپنا بچہ بن جائے، جبکہ حقیقت میں وہ پہلے سے مانا ہوا جنسی جرائم پر تیار، خطرناک عادی مجرم ہوتا ہے۔

ہمارے ہاں اساتذہ کے ہاتھوں تعلیمی اداروں (مذہبی اور دنیاوی دونوں ) میں بچوں اور بچیوں کا مسلسل جنسی استحصال ہوتا رہتا ہے، جس میں ان کی جان تک چلی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں جنسی استحصال کے شکار ہونے والے کے کردار کو داغدار سمجھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے شکار خاموش رہتا ہے، اور درندہ آزاد اور مطمئن۔ پھر معلوم ہو جائے تو درندہ ہیرو اور شکار کے کردار میں سو کیڑے موجود ہوتے ہیں۔ ہم شدید قسم کے بے شرم لوگوں کے درمیان رہتے ہیں، جو اپنی ججمنٹل تربیت اور طبیعت کی وجہ سے درندے کے لئے بے گناہی کی توجیہات ڈھونڈتے ہیں، اور وہ اس لیے کہ ایسا کرنے والے خود اندر سے درندے جیسے ہوتے ہیں، بس پکڑے نہیں گئے ہوتے ہیں، ورنہ کوئی صحیح دماغ شخص کیوں شکار شدہ بچے یا بچی کی حمایت کی بجائے درندے کو اپنی عدالت میں یک طرفہ بری کرتا۔

جاپان میں تقریباً ہفتہ وار زلزلے آتے ہیں لیکن انہوں نے اپنے مکانات زلزلہ پروف بنا کر اپنا نقصان کم سے کم بنا دیا ہے، اسی طرح ہمارے دونوں طرح کے تعلیمی اداروں میں مسلسل بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کے واقعات ہوتے ہیں، لیکن ہم نے آج تک کوئی پینک بٹن تخلیق کیا ہے جس کو دبا کر معاشرے کو جگایا جائے، نہ کوئی دوسرا اجتماعی اقدام اختیار کیا ہے، جس کے گرد قوم اکٹھی ہو جائے، جو جنسی مجرم کو آئندہ شکار کرنے سے روکنے میں مددگار ثابت ہو جائے۔

مالاکنڈ یونیورسٹی میں بلیک میلنگ اور جنسی ہراسمنٹ کا واقعہ اپنی نوعیت کا کوئی انفرادی اور واحد واقعہ نہیں ہے، اس سے پہلے ایسے واقعات گومل یونیورسٹی، ہزارہ یونیورسٹی، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، پیپلز انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز نواب شاہ، اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور، قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت، کراچی یونیورسٹی، شہید محترمہ بینظیر بھٹو یونیورسٹی، بلوچستان یونیورسٹی میں بھی وقوع پذیر ہوچکے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق 62.2 فیصد طالبات کو تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسیت کا تجربہ ہوا ہے۔ ایف آئی اے کے ڈیٹا کے مطابق صرف اگست 2021 میں انہیں جنسی ہراسیت کی 6000 شکایات موصول ہوئیں، جن میں اکثر طالبات کی تھیں۔

یونیورسٹی لیول پر جنسی ہراسیت کا جو بھی وقوعہ سامنے آتا ہے تو ملزمان کے موبائل سے ہزاروں کی تعداد میں ویڈیوز اور نامناسب تصاویر ملنے کے الزامات سامنے آتے ہیں۔ جس سے یوں لگتا ہے کہ مذکورہ جنسی بلیک میلر نے اتنی بچیوں کا استحصال کیا ہو گا، لیکن یہ تصور غلط ہے۔ لگتا ہے کہ ملکی اور صوبائی سطح پر جنسی شکاریوں کے منظم گروہ سرگرم عمل ہیں، جو نہ صرف اپنے اپنے حلقہ اختیار میں طالبات کا جنسی استحصال کرتے رہتے ہیں، بلکہ آپس میں وٹس ایپ گروپ کے ذریعے منسلک بھی ہیں، جہاں پر وہ اس قسم کی ویڈیوز اور بیہودہ تصاویر شیئر کر کے اپنی مسخ شدہ جنسی خواہشات کی تسکین کرتے ہیں۔

ان گروہوں کو جانے انجانے میں وہ لوگ، سوشل میڈیا پر شور مچا کر، پروٹیکٹ کرتے اور حمایت کرتے ہیں، جو یا تو ان کے ساتھی ہوتے ہیں یا لڑکیوں کی تعلیم کے مخالفین اور یا عورت دشمن ہوتے ہیں۔ ایسے واقعات کے بعد جب دعویٰ کیا جاتا ہے کہ جنسی درندے کے پاس سے ہزاروں ویڈیوز اور تصاویر برآمد ہوئی ہیں، تو شور مچایا جاتا ہے کہ اتنی ہزار تو وہاں پر لڑکیاں نہیں پڑھتیں۔ جبکہ متعلقہ بیان میں ایسا کوئی دعویٰ ہوتا ہی نہیں کہ برآمدہ تصاویر اور ویڈیوز اس یونیورسٹی کی طالبات کی ہیں، اور ان سب کا استحصال کیا گیا ہے۔ ہزاروں ویڈیوز اور تصاویر کی برآمدگی کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ مذکورہ جنسی درندہ کس کردار کا مالک ہے اور کس ڈیوٹی پر لگایا گیا ہے؟

مالاکنڈ یونیورسٹی کے واقعے میں ملوث پروفیسر کے سوشل میڈیا پر موجود وکلائے صفائی گواہیاں پیش کرتے ہیں، کہ مذکورہ صاحب تو رشتہ مانگنے گیا تھا، جبکہ پیشہ ورانہ اخلاقیات اور ضابطوں کے تحت کوئی باکردار استاد اپنی شاگرد کا رشتہ مانگنے کا بالکل حقدار نہیں، ایسا کر کے وہ جرم کا ارتکاب کرتا ہے۔ یہی کچھ مذہبی روزگار کے مدارس میں بھی ہو رہا ہے، جس کی گواہی مفتی منیر شاکر ببانگ دہل دے رہا ہے، کہ مدارس کے مہتممین کی تمام دوسری اور تیسری بیویاں ان کی سابقہ شاگرد ہیں، جن کو وہ بچیاں، شادی سے پہلے اپنے روحانی باپ سمجھا کرتی تھیں۔

ہم اخلاقی طور بہت گر چکے ہیں، ماں کے پیروں تلے جنت، بیٹیاں سانجھی، اور استاد روحانی باپ جیسی باتیں ایک طرف ہم نے محض اپنے کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کے لئے خوبصورت ملمع کاری کی خاطر سجائی ہوئی ہیں، تو دوسری طرف حکومت کی پالیسیاں اور قوانین، ایسے بندے ہیں کہ جب کوئی با اختیار چاہے، استعمال کر کے پھینک دیں۔

یونیورسٹی اساتذہ اور ایڈمنسٹریشن کے پاس لامحدود اور نقصان دہ اختیارات موجود ہیں، جن کو وہ جب چاہے کسی سٹوڈنٹ کے مستقبل کو تاریک کرنے کے لئے استعمال کرے، اس پر توہین کا الزام لگا کر اپنے ساتھیوں کے ذریعے قتل کردے، خودکشی پر مجبور کر دے، تعلیمی ادارے سے نکال باہر کردے، اور دوسری طرف سٹوڈنٹس بغیر کسی تنظیم اور طلباء یونین کے، بھیڑ بکریوں کی طرح ان کے رحم و کرم پر ہیں۔

تمام اساتذہ جنسی درندے نہیں ہیں، ان میں اعلیٰ اخلاق، عظیم انسانی اقدار اور طلباء کی زندگی بنانے والے بھی ہیں، لیکن وہ شریف لوگ اس منظم مافیا کے سامنے اپنی عزت نفس اور نوکری بچائے پھرتے ہیں، کیونکہ مذکورہ لوگ ایک کلاس فور سے لے کر اعلٰی ترین عہدوں پر براجمان اور با اثر شخصیات تک رسائی اور اختیارات رکھتے ہیں، جو ایک دوسرے کو سپورٹ دیتے رہتے ہیں۔ ان میں کچھ اتنے با اختیار اور طاقتور ہیں، کہ ان کے خلاف شکایات موجود ہونے کے باوجود نہ صرف یہ کہ یہ اپنے عہدوں پر موجود ہیں، بلکہ یوں لگتا ہے کہ جس طرح یہ بیک وقت کئی با اختیار عہدوں پر فائز ہیں، پورے ملک میں ان کا کوئی متبادل ملنا ناممکن ہو گا۔

مثلاً ایک یونیورسٹی استاد جو اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، بیک وقت ایک ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ، ایک اور ڈیپارٹمنٹ کا ڈین، کیمپس کوآرڈینیٹر، یونیورسٹی سنڈیکیٹ کمیٹی کے رکن، فنانس کمیٹی کے رکن، امتحانی کمیٹی کے رکن، ایک ڈیپارٹمنٹ کے امتحانی سپرنٹنڈنٹ، اور نہ جانے اور کیا کچھ ہیں۔ اب ایک ایسے مختار کل اور نابغہ روزگار شخصیت، جن کے پاس داخلہ، رزلٹ، امتحان، ڈسپلن، ہاسٹل، فنانس، مطلب بچیوں کے سارے مسائل کا حل موجود ہو، اور جن پر کوئی پابندی اور قدغن نہ ہو، تو ایک انگریزی مقولے کے ترجمے کے مطابق، طاقت خرابی پیدا کرتی ہے اور بے لگام طاقت بے لگام خرابی پیدا کرتی ہے۔

ہم قومی طور پر انسانی اشاروں کی دوڑ میں سب سے پیچھے دھول میں پیر گھسیٹتے، کھانس رہے ہیں۔ خدارا جو موجود ہے، اسے تو بچانے کی کوشش کریں۔ کیونکہ جس منظم انداز میں یہ سب کیا جا رہا ہے، یہاں بھی والدین افغانستان کی قومی پالیسی اپنانے کو ترجیح دینے لگیں گے۔

Facebook Comments HS

شازار جیلانی

مصنف کا تعارف وجاہت مسعود کچھ یوں کرواتے ہیں: "الحمدللہ، خاکسار کو شازار جیلانی نام کے شخص سے تعارف نہیں۔ یہ کوئی درجہ اول کا فتنہ پرور انسان ہے جو پاکستان کے بچوں کو علم، سیاسی شعور اور سماجی آگہی جیسی برائیوں میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ یہ شخص چاہتا ہے کہ ہمارے ہونہار بچے عبدالغفار خان، حسین شہید سہروردی، غوث بخش بزنجو اور فیض احمد فیض جیسے افراد کو اچھا سمجھنے لگیں نیز ایوب خان، یحییٰ، ضیاالحق اور مشرف جیسے محسنین قوم کی عظمت سے انکار کریں۔ پڑھنے والے گواہ رہیں، میں نے سرعام شازار جیلانی نامی شخص کے گمراہ خیالات سے لاتعلقی کا اعلان کیا"۔

syed-shazar-jilani has 140 posts and counting.See all posts by syed-shazar-jilani