زندگی جہد مسلسل (حصہ اول)


میرا نام فہیم احمد خان یوسف زئی ہے میں اک مڈل کلاس گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں اور میری پہچان یہ ہے کہ چاہے جیسے بھی حالات ہوں میں معاشرہ میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔ آپ میں سے بہت سے لوگ ایسے ہوں گے جو میرے نام سے واقف ہوں گے اور کئی لوگ ایسے بھی ہوں گے جن کے لیے میرا نام بالکل نیا ہو گا۔ اس لیے سوچا آج اپنی 46 ویں سالگرہ پر کچھ اپنی ذات کے بارے لکھا جائے۔

میرے مطابق

زندگی جہد مسلسل کا نام ہے لیکن آج کی نسل نو جذباتی اور فوری نتائج چاہتی ہے۔ وہ منٹوں میں وہ سب کچھ حاصل کر لینا چاہتی ہے۔ لگژری اور پر آسائش زندگی کو اپنا مقصد حیات سمجھ بیٹھی ہے۔ غریب یا متوسط طبقے کے نوجوان امیر زادوں کے ٹھاٹ باٹ دیکھ کر احساس ِ کمتری میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ وہ بھی ایسی زندگی گزاریں کیوں کہ اچھی زندگی گزارنا اُن کا بھی حق ہے اس چکر میں وہ شارٹ کٹ راستہ اختیار کرتے ہیں، جس کے باعث بعض جرائم کی دنیا میں میں پھنس جاتے ہیں۔ اس لیے

شاید!
مجھے ابھی کچھ سال انتظار کرنا چاہیے تھا جب میرے پاس کامیابیوں کی ایک لمبی لسٹ ہوتی۔
جب میرے پاس کئی ایوارڈ ہوتے یا۔
جب وقت میری جوانی کو کھا جاتا۔

ہاں ایسا ہی ہوتا اگر مجھے اپنی زندگی پر یقین ہوتا لیکن زندگی نے کب کسی کے ساتھ وفا کی ہے؟ زندگی بے وفا ہے۔

مجھے اس کی بے وفائی سے ڈر لگتا ہے۔ کب کیسے اور کہاں پر ساتھ چھوڑ جائے کوئی پتہ نہیں۔ بس یہی وجہ ہے کہ میں نے اس طویل کالم کے ذریعے اپنی بائیو گرافی لکھنے کا فیصلہ کیا۔

میرا ماننا ہے کہ انسان تب ہی کامیاب ہو جاتا ہے جب وہ اپنے مقصد کا تعین کر لیتا ہے اور پھر بے خوف ہو کر اس مقصد کو پانے کی کوشش میں لگ جاتا ہے۔ بے مقصد زندگی گزارنے سے بامقصد زندگی تک کا سفر طے کر لینا ہی اصل کامیابی ہے۔ اور یہ سفر میں نے کیسے طے کیا یہی بتانے کے لئے آج اپنی 46 سالہ زندگی کی کہانی لکھنے کا ارادہ کیا ہے۔

یہ میری خوش قسمتی ہو گی کہ اگر آپ نے میری تحریر مکمل پڑھیں گے۔ اپنے ذہن میں یہ توقعات مت رکھیے گا کہ آپ کو ایک ایسی شخص کی کہانی پڑھنے کو ملے گی جو بہت ذہین اور غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک ہو گا۔ بلکہ یہ ایک عام سے شخص کی کہانی ہے۔ جو آپ ہی کی طرح ہے جس نے زندگی میں کئی غلطیاں کیں۔ لیکن ان غلطیوں کو اپنی کمزوری نہیں بنایا بلکہ ان سے سبق سیکھ کے آگے بڑھ گیا۔ اور سچ پوچھیں تو یہ میرے چاہنے والوں کی محبت اور اصرار ہے جس نے مجھے اپنی داستان لکھنے کے لیے قلم اٹھانے پر مجبور کیا۔ اسی محبت کو طاقت بناتے ہوئے اپنی یہ عام سی داستان آپ کے روبرو پیش کر رہا ہوں۔

میرے مطابق

کسی بھی انسان میں بنیادی طور پر دو قسم کی خصوصیات پائی جاتی ہیں : ایک تو وہ ہیں جو اسے براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملی ہیں۔ یہ غیر اکتسابی یا قدرتی صفات کہلاتی ہیں۔ دوسری وہ خصوصیات ہیں جنہیں انسان اپنے اندر یا تو خود پیدا کر سکتا ہے یا پھر اپنی قدرتی صفات میں کچھ تبدیلیاں پیدا کر کے انہیں حاصل کر سکتا ہے یا پھر یہ اس کے ماحول کی پیداوار ہوتی ہیں۔ یہ اکتسابی صفات کہلاتی ہیں۔ قدرتی صفات میں ہمارا رنگ، نسل، شکل و صورت، جسمانی ساخت، ذہنی صلاحیتیں، خاندان حسب نسب وغیرہ شامل ہیں۔ اکتسابی صفات میں انسان کی علمی سطح، اس کا پیشہ، اس کی فکر وغیرہ شامل ہیں۔

آج میں آپ کے سامنے اپنی اکتسابی صفات بیان کرو گا۔ یہ اپنے منہ میاں مٹھو بنے کی داستان نہیں ہے بلکہ حقیقت ہے اور ویسے بھی تعریف تو اللہ تعالی کو بھی پسند ہے اور اس نے خود اپنی تعریف بیان کی اور اپنے بندوں کو بھی اپنی تعریف کرنا سکھائی۔

میرا تعلق پنجاب کے سب سے زیادہ پسماندہ ضلع بھکر سے ہے بقول شاعر ذرا نم ہو تو یہ زمین بڑی زرخیز ہے، ضلع بھکر کی زمین نم بھی ہے اور زرخیز بھی، اپنی طبیعت میں نرمی میں نے یہاں سے پائی اور شخصیت میں وسعت تھر کے صحرا سے جبکہ سماجی رابطے کا وسیع نیٹ ورک دریائے سندھ جیسا ہے۔

میری پیدائش 3 فروری 1979 بروز ہفتہ، 5 ربی الاول 1399 ہجری کو اس وقت ہوئی جب چاند کا مرحلہ ایک موم کا کریسنٹ مرحلہ تھا۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں نئے چاند کے بعد چاند دوبارہ نظر آنا شروع ہوا۔ چاند کے چکر کے اس حصے میں، چاند سورج سے دور ہو جاتا ہے اور سورج کی روشنی سے چاند زیادہ سے زیادہ روشن ہوتا جاتا ہے۔ ان ہی لمحات میں میری پیدائش ہوئی اور جب صبح میں نے آنکھ کھولی تو اس وقت امام خمینی (رح) کے چاہنے والوں نے آپ کے دیدار کے لئے صبح کے آغاز سے ہی مدرسہ علوی کے اطراف کی تمام سڑکوں، گلی، کوچوں کو بھر دیا تھا۔ حضرت امام خمینی (رح) بھی پورے مدرسہ کے بھرنے ہونے پر حاضرین مجلس کے جذبات کی قدر دانی کی اور اس وقت حضرت امام (رح) نے مدرسہ علوی میں ایک مطبوعاتی انٹرویو میں ایران کے جدید اسلامی انقلاب کے میدان میں مطبوعات اور اہل قم کی ذمہ داریوں کی طرف اشارہ کیا۔

جاری ہے۔ اگلی قسط بہت جلد

Facebook Comments HS