ٹرمپ کی یک طرفہ سفارت کاری سے یورپ تنہا رہ جائے گا
امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کی طرف سے یوکرین پر جنگ شروع کرنے کا الزام سامنے آنے کے بعد یورپی ممالک میں ایک نئی بے چینی محسوس کی جا رہی ہے۔ البتہ سوموار کو پیرس میں ہونے والے یورپی لیڈروں کی ملاقات میں کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آ سکی تھی۔ اب بدھ کو یہ لیڈر ایک بار پھر یوکرین جنگ کے بارے میں امریکی پالیسی پر غور کریں گے۔
یوکرین کے علاوہ ڈنمارک اور پولینڈ جیسے ممالک یورپ کا دفاع مضبوط کرنے کے کسی منصوبے پر زور دے رہے ہیں لیکن جرمنی، فرانس اور برطانیہ ابھی تک امریکہ کے سحر میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے امریکہ کی نئی حکومت کے ساتھ معاملات طے کیے جا سکتے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے گزشتہ روز سعودی دارالحکومت ریاض میں روسی وزیر خارجہ کی سربراہی میں روسی وفد سے چار گھنٹے طویل مذاکرات کے بعد روس کے ساتھ یوکرین میں جنگ کے خاتمے اور دو طرفہ تعلقات کے بارے میں بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ ان مذاکرات کے بعد انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے کسی مرحلے پر یورپی ملکوں کو بھی ان میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ یہ بیان میونخ کی سکیورٹی کانفرنس میں ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی کیتھ کیلوگ کے اس انتباہ سے مختلف ہے کہ یوکرین جنگ کے خاتمہ کے لیے روس کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں یورپ کا کوئی کردار نہیں ہو گا۔
واشنگٹن سے مسلسل ملے جلے اشارے سامنے آرہے ہیں۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے معاونین کے بیانات سے یہی واضح ہو رہا ہے کہ امریکی حکومت روسی شرائط پر یوکرین جنگ ختم کرانے پر اصرار کر رہی ہے۔ ایک طرف یہ واضح کیا گیا ہے کہ یوکرین کو نیٹو کا رکن نہیں بنایا جاسکتا اور دوسری طرف یوکرین کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ اسے 2014 کی سرحدوں کی واپسی کا خواب دیکھنا ترک کر دینا چاہیے۔ اسی کے ساتھ نہ صرف یورپ کو امن مذاکرات میں نظر انداز کیا گیا ہے بلکہ یوکرین کی رائے لینے اور اسے مذاکرات میں شامل کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی گئی۔ اسی طرز عمل پر یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اس حیرت کا اظہار کیا کہ جنگ میں شامل دوسرے فریق کی مرضی کے بغیر کسی جنگ کے خاتمے کی شرائط کیسے طے ہو سکتی ہیں۔ گزشتہ چند روز میں انہوں نے اس حوالے سے شدید بے چینی کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ یوکرین کسی ایسے امن معاہدے کو نہیں مانے گا جس میں اس کی مرضی شامل نہ ہو۔ تاہم اگر یورپی ممالک فوری طور سے ٹرمپ کے ارادوں کو ناکام بنانے اور جنگ جاری رکھنے کے لیے یوکرین کی عسکری و مالی امداد کا کوئی منصوبہ سامنے لانے میں ناکام رہتے ہیں تو یوکرین کے لیے جنگ جاری رکھنے کا مقصد یہی ہو گا کہ وہ روسی افواج کو پورے ملک پر قبضہ کرنے کی دعوت دے۔ اس صورت میں یوکرینی حکومت کے لیے صدر ٹرمپ کا مطالبہ ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا۔
فلوریڈا میں منعقد ہونے والی پریس کانفرنس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بات پر شدید ناراض دکھائی دیے کہ یوکرین کے صدر مذاکرات میں شامل نہ ہونے پر پریشان و ناراض ہیں۔ اس کے جواب میں انہوں نے یوکرینی صدر پر شدید حملے کیے اور کہا کہ آپ کے پاس تین سال کا وقت تھا۔ یہ جنگ کسی ’ڈیل‘ کے ذریعے بہت پہلے ختم ہو سکتی تھی۔ یوکرینی صدر اس میں بری طرح ناکام رہے۔ انہیں یہ جنگ شروع ہی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ بعد میں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کو آمر قرار دیا اور کہا کہ انہیں امن معاہدے سے پہلے ملک میں انتخاب کرانا چاہیے۔ واضح رہے زیلنسلکی 2019 میں پانچ سال کے لیے صدر منتخب ہوئے تھے تاہم جنگ کی وجہ اسے اس وقت ملک میں مارشل لا نافذ ہے اور انتخابات نہیں کرائے جا سکتے۔ لیکن ٹرمپ اس صورت حال کو اب موجودہ حکومت کو غیر جمہوری قرار دینے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے یوکرین کو دیے جانے والے امریکی وسائل کا حوالہ بھی دیا اور یورپ کے مقابلے میں زیادہ مصارف برداشت کرنے اور ان وسائل کو ناروا طریقے سے استعمال کرنے کے دعوے کیے۔
حسب معمول ٹرمپ کی بیشتر باتیں خلاف واقعہ اور غلط ہیں۔ یوکرین پر روس نے حملہ کر کے جنگ شروع کی تھی، یہ جنگ یوکرین نے شروع نہیں کی تھی۔ یوکرین اور یورپی لیڈروں کا ہمیشہ موقف رہا ہے کہ روس، یوکرین سے فوجیں واپس بلا کر یہ جنگ کسی وقت بند کر سکتا ہے لیکن روس نے یوکرین کے بیس فیصد رقبے پر قبضہ کیا ہوا ہے اور وہ اسے کسی طور بھی چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہے۔ اس کی بجائے اب وہ یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ یوکرین کو کبھی بھی نیٹو کا رکن نہ بنایا جائے اور کسی امن معاہدے کے لیے نیٹو 2008 کے اس اعلان کو بھی واپس لے کہ یوکرین کو مستقبل میں کسی وقت نیٹو کا رکن بنایا جاسکتا ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگی لاروف نے گزشتہ روز ریاض میں امریکی وفد کے ساتھ بات چیت کے بعد واضح کیا کہ جنگ بندی کے بعد یوکرین میں نیٹو کی امن فوج قابل قبول نہیں ہوگی۔ ان کی یہ گفتگو برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹامر کے اس بیان کے تناظر میں سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ برطانیہ امن فوج بھیجنے کے لیے تیار ہے۔ یورپی مبصرین کی پریشانی یہ ہے کہ ٹرمپ یوکرین میں یک طرفہ طور سے جنگ بندی کا ایسا معاہدہ ’مسلط‘ کرنا چاہتے ہیں جو وہ روسی لیڈر کی شرائط پر طے کرنے والے ہیں۔ امریکی صدر نے اپنے آپشن واضح کر دیے ہیں لیکن یورپ ابھی تک اس کا جواب دینے میں کامیاب نہیں ہوا۔
ٹرمپ اگلے ہفتے کے دوران سعودی عرب میں روسی ہم منصب پوتن سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ اس ملاقات کے دوران یوکرین میں جنگ بند کرنے کے حوالے سے کوئی اہم پیش رفت بھی ممکن ہے۔ امریکہ، یوکرین جنگ بند کرا کے درحقیقت روس کے ساتھ تعلقات میں ڈرامائی تبدیلی لانے کا خواہش مند ہے۔ اس پالیسی کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ انہیں یورپ میں لڑی جانے والی اس جنگ میں امریکہ کا کوئی فائدہ دکھائی نہیں دیتا۔ منتخب ہونے سے پہلے ہی وہ اس جنگ کے خلاف باتیں کرتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ درحقیقت چین کو اپنا اصل مدمقابل سمجھتا ہے۔ اس کی خواہش ہے کہ یہ جنگ بند کرا کے اور روس کی سفارتی تنہائی ختم کر کے صدر پوتن کے ساتھ تعلقات بحال کیے جائیں تاکہ چین کی طرف اس کا جھکاؤ کم ہو سکے۔ امریکہ اگر روس کو چین کے خلاف براہ راست حلیف بنانے میں کامیاب نہ بھی ہو لیکن چین کی بجائے امریکی دوستی کا لالچ دے اسے کم از کم چین سے دور کرنے کا اہتمام ضرور کیا جاسکتا ہے۔ ٹرمپ اسی حکمت عملی پر اپنے یورپی حلیفوں سے تنازعہ مول لے رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی یوکرین حکمت عملی میں روس کے لب و لہجے میں بات کرنے سے یورپ کے متعدد دارالحکومتوں میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگی ہیں۔ یورپ خاص طور سے یوکرین جنگ کی وجہ سے اور اس سے پہلے نظریاتی اور سیاسی اختلافات کی وجہ سے روس کو ہمیشہ اپنی سلامتی کے لیے خطرہ محسوس کرتا رہا ہے۔ امریکہ نے ہمیشہ اس یورپی موقف میں اس کا ساتھ دیا ہے۔ البتہ ٹرمپ اب اس پالیسی کو تبدیل کر رہے ہیں جو یورپی لیڈروں کے لیے ایک نئی اور غیر متوقع صورت حال ہے۔ اس موقع پر اگر یورپ کے لیڈر اپنا دفاع خود کرنے اور امریکہ پر ہمہ قسم عسکری انحصار ختم کرنے کا واضح اعلان کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو انہیں مستقبل قریب میں مسلسل امریکہ کے ’احکامات‘ کا تابع رہنا پڑے گا اور مستقبل میں آنے والی کسی بھی امریکی حکومت کی مرضی کے مطابق چلنا ہو گا۔ دوسری طرف روسی جارحیت کا خطرہ بھی موجود رہے گا۔ امریکہ کی شہ پاکر روس کسی نہ کسی عذر پر کسی دوسرے یورپی ملک کا علاقہ ہڑپ کرنے کی کوشش ضرور کرے گا۔ کم از کم یورپ میں یہ خوف گہرا اور حقیقی ہے لیکن مختلف ملکوں کے لیڈر اس خوف کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی منصوبہ بنانے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والے فوجی اتحاد نیٹو کو درحقیقت یورپ کی حفاظت کے نقطہ نظر سے قائم کیا گیا تھا۔ یہ اتحاد اس وقت تک تو کسی پریشانی کے بغیر مضبوط و توانا رہا جب تک امریکہ یورپ کی حفاظت کے اصول کو مانتا رہا اور اس کے لیڈر یورپی اقدار کے ساتھ ہم آہنگی بھی محسوس کرتے رہے۔ لیکن ٹرمپ انتظامیہ یورپ کی بیشتر حکومتوں سے خوش نہیں ہے۔ وہ یورپ میں دائیں بازو کی انتہاپسند تحریکوں اور گروہوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ یورپ پہلے ہی سیاسی طور سے ان انتہاپسند نعروں کا مقابلہ کرنے میں مشکل محسوس کر رہا تھا لیکن ٹرمپ کی قیادت میں امریکی حکومت کے معاندانہ و جارحانہ طرز عمل کی وجہ سے یوں لگتا ہے کہ یورپ میں بھی لبرل روایات اور جمہوریت کے ساتھ وہی سلوک ہو گا جو امریکہ میں ٹرمپ کی کامیابی کی صورت میں دیکھنے میں آیا ہے۔
ابھی تو یوکرین جنگ پر تنازعہ کا آغاز ہوا ہے۔ ٹرمپ پوتن ملاقات کے بعد اس بارے میں تصویر کچھ واضح ہو سکے گی۔ اس دوران یورپی لیڈروں کو میڈیا اور سول سوسائٹی کے دباؤ کا سامنا رہے گا اور یہ مطالبہ کیا جائے گا کہ یورپ، دوست سے ’دشمن‘ بننے والے امریکہ کے ساتھ معاملات کرنے کے لیے وسیع تر اتفاق رائے پیدا کرے۔ البتہ یہ کام اتنا آسان نہیں ہو گا۔ متعدد یورپی حکومتیں پہلے ہی انتہاپسند عناصر کے زیر اثر ہیں یا کمزور لیڈر کوئی واضح موقف اختیار کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ تاہم یورپ اس وقت اپنی سلامتی اور معاشی مستقبل کے حوالے سے سنگین صورت حال کا سامنا کر رہا ہے۔
اس وقت یوکرین جنگ اور روس کے ساتھ معاملات زیر بحث ہیں لیکن اگر ٹرمپ چین دشمنی میں کسی طرح روس اور انڈیا کے ساتھ مل کر ایک نئے عالمی اتحاد کی داغ بیل رکھنے کا عندیہ دیتے ہیں تو ایک طرف یورپ غیر اہم اور بے وقعت ہو جائے گا تو دوسری طرف جنوبی ایشیا میں پاکستان جیسے ممالک کو دو کشتیوں میں پاؤں رکھنے کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ دیکھنا ہو گا کہ کیا یورپی لیڈر ٹرمپ کی پالیسی شفٹ کے سامنے بند بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا خود کو امریکہ سے اٹھنے والے سیاسی و سفارتی طوفان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں۔


