ہمیں مدین ہائیڈرو پاور پراجیکٹ نہیں بنانا
ہمیں مدین ہائیڈرو پاور پراجیکٹ نہیں بنانا، ہم نہیں چھوڑیں گے، ہم نہیں مانتے ایسی کسی بھی پروجیکٹ کو، کسی نے کوشش کی تو ہم بھر پور مزاحمت کریں گے۔ پیڈو شیڈو نامنظور
کیوں؟
کیونکہ اس سے ہمارے علاقے لوگ روزگار کا ستیاناس ہو گا۔
کیسے؟
اس سے یہاں ماحول، معیشت، زراعت، سیاحت یہاں تک کہ سیاست تک پر بھی گہری چوٹ لگے گی لہذا بس ہمیں نہیں بنانا ایسے پروجیکٹ کو اور ہمارے ساتھ تو پہلے سے درال ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی مثال موجود ہے۔ دیکھا نہیں آپ نے پانی کہاں گیا۔ بجلی کس کو ملی۔ ترقیاتی کام کدھر ہیں۔ ایسے لولی پاپ دے کر ہمیں پہلے گمراہ کیا گیا ہے۔ اب سمجھ گئے ہیں ہم۔
ہاں ٹھیک ہے! لیکن یہ درال جیسا پروجیکٹ نہیں ہے۔ دریائے سوات میں پانی کی بھی ایک خاص مقدار ہوگی۔ آپ کو روزگار بھی ملے گا۔ آپ کے علاقے میں پیسے آئیں گے۔ عمارتیں بنیں گیں۔ ٹھیکے اور کاروبار، مزے ہی مزے ہوں گے۔ اور تو اور ملک و قوم کا فائدہ ہو گا۔ آپ نہیں چاہتے کہ پاکستان کا فائدہ ہو؟ پاکستان میں بجلی ہوگی تو کارخانے لگیں گے۔ اور کارخانوں میں بجلی کا یونٹ سستا ہو گا تو مصنوعات سستے داموں بنیں گے۔ ہمیں بھی سستے داموں ملیں گے اور بیرونی مارکیٹ میں ہم چین جیسے بڑے ہاتھیوں کے ساتھ مقابلہ کر سکیں گے۔ ہماری برآمدات میں اضافہ ہو گا۔ زرمبادلہ کے ذخائر زیادہ ہوں گے۔ ترقی ہی ترقی ہوگی۔
ہیں؟ ایسا نہیں ہوتا!
ایسا ہی ہوتا ہے۔ بہت سے FDIs پاکستان میں سرمایہ کاری صرف اس لیے نہیں کرنا چاہتے کیونکہ یہاں متعلقہ انرجی نہیں ہے اور جو تھوڑی بہت ہے بھی وہ بہت مہنگی ہے۔ اگر بجلی بنے گے تو بہت سے سرمایہ کار آئیں گے۔ سرمایہ کاری سے ڈالرز اور کاروبار آئیں گے۔ ممالک اسی طرح تو ترقی کرتے ہیں۔
اگر آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مملکت ترقی کریں گا تو اس سے ہمارا فائدہ ہو گا۔ یہ جتنے فوائد آپ نے گن وائے یہ سارے ہماری جھولی میں آئیں گے۔ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔
کیسے؟
دیکھیں ’بحرین‘ میں ’مدین‘ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پیڈو بنا رہا ہے۔ پیڈو نے پہلے ہی بحرین میں درال ہائیڈرو پاور پراجیکٹ بنایا ہوا ہے۔ بننے سے پہلے پیڈو نے مقامی لوگوں کے ساتھ کالج، ہسپتال وغیرہ بنانے کے وعدے کیے تھے۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ پیڈو کے وعدوں کے ساتھ ساتھ درال کا پانی بھی غائب ہوا۔ ڈھیر سارا پانی صرف تب ہی چھوڑا گیا جب سیلاب آیا حالانکہ ہمارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا کہ خوڑ میں ایک خاص مقدار میں پانی چھوڑا جائے گا۔ پھر سیلاب میں ہم پانی کے حصہ دار رہیں لیکن شدید گرمی میں درال خشک پڑا ہوتا ہے۔
یہی نہیں تاریخ گواہ ہے ہر دریا کے پاس ایک خاص آبادی رہی ہے۔ پانی کے ذخائر قدیم آبادیوں کے مسکن رہے ہیں۔ چاہے مصر میں دریائے نیل ہو، بغداد میں فرات ہو، یورپ میں رائین ہو، یا چین میں یانگ ژی ہو۔ یہاں تک کہ پاکستان کی تین ہزار سال پہلے تہذیب وادی سندھ کی تہذیب بھی دریائے سندھ کے آس پاس آباد تھی۔ ہمارے آبا و اجداد بھی اسی دریا کی وجہ سے یہاں آباد ہوئے تھے۔ دریائے سوات کا نام ہندوؤں کے مذہبی مقدس کتاب رگ وید میں بھی آیا ہے۔ اور سوات کا لفظ اسی دریا کی وجہ سے پڑا ہے۔ اس دریا کے ساتھ مقامی آبادی کا ثقافتی رشتہ ہے۔
اگر آپ ان باتوں پر یقین نہیں رکھتے تو ملاحظہ ہو کہ مقامی آبادی کا روزگار ہمیشہ سے دریاؤں کہ ساتھ وابستہ رہا ہے۔ دریائے سوات کے آس پاس ماہی گاہیں ہیں، ماہی گیری ہوتی ہے۔ یہاں موجود ٹراؤٹ مچھلی نایاب اور مشہور ہے۔ اس دریا سے پورے سوات کی زمینوں میں آبپاشی کی جاتی ہے۔ اس دریا کی وجہ سے ماحول شدید گرمیوں میں سیاحوں کے لیے توجہ کا مرکز بنتا ہے۔ بے شمار لوگ تو صرف دریا کا صاف پانی دیکھنے آتے ہیں۔
دیکھے اس پراجیکٹ میں صرف پندرہ کلومیٹر پانی سرنگ کے ذریعے گزارہ جائے گا۔ آپ کیوں نہیں سمجھتے کہ باقی دریا تو سہی سلامت ہو گا۔
جی اسی پندرہ کلومیٹر میں ہزاروں لوگوں کا روزگار اس دریا سے منسلک ہے۔ اسی جگہ پر دریا کے پاس اربوں کی سرمایہ کاری ہوئی ہیں۔ ہوٹل، ریستوران اور دوسرے بہت سے سیاحتی مقامات بنے ہیں۔ صرف اس دریا کہ وجہ سے بنائے گئے ہیں۔ مقامی لوگ کہاں جائیں گے اگر آپ ان کے روزگار کا وسیلہ سرنگوں میں ڈال دیں؟
آپ کی مشینری کی وائبریشن، دھماکوں، اور سرنگ کی وجہ سے اس علاقے میں چشمے سوکھ جائیں گے۔ خاص کر درلوئی، آئین، پونکیا کی آبادی کے زراعت اور پینے کی پانی کا سارا دار و مدار ان چشموں پر ہے۔ پہاڑوں میں موجود چشموں کی رگوں میں تھوڑی سی بھی ڈسٹربنس ہوئی تو یہ چشمے ہمیشہ کے لیے سوکھ جائیں گے۔ مقامی آبادی کو مجبوراً اس پہاڑوں سے اتر کر ہجرت کرنا پڑے گا۔
دریا کے پاس ہوٹلوں میں سارا عملہ مقامی افراد پر مشتمل ہوتا ہے۔ مقامی ہوٹل بھی مقامی لوگوں نے بنائے ہیں۔ دریا سوکھ گیا تو ہوٹلوں کا کیا مستقبل ہو گا۔ یہاں تک کہ بحرین میں کوئی سیاح رکے گا بھی نہیں۔ اس سے بحرین میں خوردہ صنعت، ریستوران اور دوسرے بے شمار ہینڈی کرافٹس اور قدیم چیزوں کی دکانیں ویران پڑ جائیں گے۔
آپ سمجھ نہیں رہیں دریا نہیں سوکھے گا۔ دریا میں ایک خاص مقدار میں پانی چھوڑا جائے گا۔
یہی بات اسی پیڈو کے ادارے نے درال پروجیکٹ بننے کے وقت بھی کہی تھی۔ لیکن درال سوکھ گیا۔ درال پروجیکٹ صرف 36 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا ہے اور درال سوکھ گیا۔ آپ بتائے 207 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے بعد دریائے سوات میں کچھ بچے گا۔
اور رہی بات ملک و قوم کی تو ہم پاکستان کے ساتھ بہت پیار کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ترقی کرے۔ تاہم اس ترقی میں ہمارا حصہ ضرور ہونا چاہیے۔ 2010 کی سیلابوں سے تباہی شدہ انفراسٹرکچر اب تک اسی حالت میں ہے۔ تعلیم کا صرف نام ہی بچا ہے۔ استاد ہیں اور نہ ادارے۔ ترقیاتی کاموں کا دور تک کوئی نشان نہیں ہے۔ جنگلات ملکی خزانے میں جا رہے ہیں لیکن اب ہم سمجھتے ہیں کہ ریاست ہماری صحت، تعلیم اور روزگار جیسے بنیادی ضروریات پر بھی تھوڑا سوچے۔


