کیا ”ویاگرا“ کا جنسی تسکین کے ساتھ کوئی سمبندھ ہوتا ہے یا یہ محض سراب ہے؟

سیانے کہتے ہیں کہ ٹائمنگ سے زیادہ ”مینٹل اسٹیمنا“ یعنی ذہنی صلاحیت یا سکت زیادہ اہم ہوتی ہے، شکست یا ناکامی کا فزیکلی کوئی وجود نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک طرح کی ذہنی حالت یا کیفیت ہوتی ہے۔
آپ اس وقت شکست سے دوچار ہوتے ہیں جب آپ کا ذہن آپ کو اس طرح کا سگنل دیتا ہے، شکست یا فتح کا تعلق ذہن سے ہوتا ہے، جب آپ ذہنی طور پر شکست کو تسلیم کر لیتے ہیں تو تمام تر وسائل کے باوجود بھی آپ ہار جاتے ہیں۔
ذہنی صحت و صلاحیت مصنوعی تنفس سے نمو نہیں پاتی بلکہ صحت مندانہ ذہنی رویے اختیار کرنے سے نمو پاتی ہے، ایک کھلاڑی کا حقیقی جوہر اس کی جسمانی ایکسرسائز یا مشقت و ریاضت ہوتی ہے جو اسے میدان میں اترنے کے قابل بناتی ہے، جس کی ریاضت جتنی ہوتی ہے وہ اتنا ہی توانا اور فٹ رہتا ہے لیکن اگر کوئی اپنی جسمانی صحت و صلاحیت کو کئی گنا بڑھانے کے لیے میڈیسن، انجیکشن یا فوڈ سپلیمنٹس کا سہارا لینے لگتا ہے تو اسی دن سے اس کا زوال شروع ہو جاتا ہے۔
مصنوعی سہارا بیساکھیوں کی مانند ہوتا ہے جو انسان کو زیادہ دیر تک خود کے پاؤں پر مضبوطی سے کھڑا رہنے نہیں دیتا، میڈیسن یا پاور ٹانکس مضبوط سے مضبوط انسان کو بھی مصنوعی تنفس پر ڈال دیتے ہیں اور اس طرح کا انسان اعصابی جنگ تو ہارتا ہی ہے ذہنی جنگ بھی ہار جاتا ہے۔
جسم سے زیادہ ذہنی صحت ضروری ہوتی ہے، صحت مندانہ رویے انسان کو حقیقت پسند بناتے ہیں، اسی لیے کہا جاتا ہے کہ جنسی آسودگی کا تعلق ایک صحت مند ذہن اور حقیقت پسندانہ رویے سے ہوتا ہے، جتنا ذہن پر سکون اور شانتی میں ہو گا اسی قدر جنسی تسکین میسر ہوگی۔
سوال یہ ہے کہ لوگوں کی ایک کثیر تعداد جنسی عمل کے بارے میں اس قدر پرتشدد کیوں ہوتی ہے؟
اس طرح کی باتیں اکثر سننے کو کیوں ملتی ہیں کہ جیسے جنسی عمل نہ ہو بلکہ جنگ و جدل ہو جس میں ٹرافی ہر صورت میں مرد کو جیتنی ہے اور فتح کا تمغہ اپنے سینے پر سجانا ہی ہے ورنہ سب کچھ ختم ہو جائے گا، میچ بھلے یک طرفہ ہی ہو کیا فرق پڑتا ہے۔
حکماء کے جنسی دعوے تو خیر نوشتہ دیوار ہوتے ہیں لیکن اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہر دوسرا بندہ حکیم لقمان کی طرح نوجوانوں کو بتا رہا ہوتا ہے کہ بچپن کی غلط کاریوں یا ماسٹر بیشن کی وجہ سے تمہیں کشتے یا میڈیسن وغیرہ کھانی چاہیے ورنہ تم جنسی لڑائی نہیں لڑ سکتے۔
معاشرتی سیانے یا شکاری یہ کبھی نہیں بتائیں گے کہ معاشرتی پارسا بنے رہنے کے چکروں میں ہم نے بچوں کے تجسس کے گرد جھوٹ موٹ کی کہانیوں کی دیواریں کھڑی کی ہوئی ہیں کہ کہیں درست حقائق یا سچ جاننے کی وجہ سے ہمارے بچے خراب نہ ہوجائیں، روبوٹ بھلے بن جائیں کیا فرق پڑتا ہے؟
ان بڑوں کو کیا خبر کہ انہی بچوں کو نارمل سے حقائق پر پردہ پوشی کی نجانے کتنی قیمت چکانا پڑتی ہے، کتنے معاشرتی شکاریوں کے ہتھے چڑھنا پڑتا ہے، تجسس کے گرد اساطیری کہانیوں کے جال کو کاٹنے کے لیے کئی شکاری ان بچوں کا جنسی استحصال کرتے ہیں، ننگی تصاویر کے نشے میں مبتلا کرتے ہیں یا پورنوگرافک ویب سائٹ کا عادی بنا دیتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان کے ذہنوں میں سیکس یا شادی کے متعلق غلط قسم کے تصورات قائم ہو جاتے ہیں اور ایک طرح سے سیکس ایسے نارمل عمل کو وہ جنگ و جدل کی کی مہم سمجھنے لگتے ہیں۔
ان کے ذہنوں میں بچپن سے فکس ہو جاتا ہے کہ خاتون کے جسم کو جنسی طور پر فتح کرنے کے لیے ویاگرا یا جنسی ادویات کی ضرورت پڑتی ہے نا کہ ذہنی ہم آہنگی یا پیار کی، وہ اس حقیقت سے بے خبر ہوتے ہیں کہ سیکس ایک جنسی آرٹ ہوتا ہے جسے ایک آرٹسٹ ہی خوبصورت بنا سکتا ہے، پیار اور تسکین کو کس حد تک تادیر قائم رکھا جا سکتا ہے اس حقیقت کا گیان تو صرف محبت آشنا کو ہی ہوتا ہے، المیہ یہ ہے کہ ہمارا سماج محبت کے معاملے میں خاصا اناڑی واقع ہوا ہے اور ایک غیر حقیقت پسندانہ سا رویہ رکھتا ہے۔
منافق سماج میں نا تو دشمنی کا کوئی سلیقہ ہوتا ہے اور نا ہی محبت کے اظہار کا کوئی قرینہ۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم اپنے بچوں کی نارمل انداز میں تربیت کرنے کی بجائے انہیں زبردستی ایک ایسا نیک انسان بنانے کی کوشش کرتے ہیں جو ظاہری طور پر تو بھلے نمازی پرہیزی یا متقی ہو لیکن اس کی ذہنی سلیٹ یا ڈسک پر پورنوگرافک تصورات ہی چل رہے ہوتے ہیں۔
فطرت کے منہ زور جنسی جذبے فطری راستوں سے ہی بہلتے ہیں، دعا و مناجات و تسبیحات یا روحانی بندوبست سے ان فطری جذبوں کی شدت و حدت کم نہیں ہوتی بلکہ زبردستی کے پارسائی کے مکھوٹے کی وجہ سے ذہنی بیماریاں جنم لینے لگتی ہیں اور جنسی مکروہات سامنے آنے لگتی ہیں۔
جو چھوٹے بچوں یا بچیوں کا جنسی استحصال کرتے ہیں وہ بظاہر تو نیک اور صالح ہوتے ہیں لیکن جنس کے ہاتھوں مجبور ہو کر استحصالی راہوں کے اسیر ہو جاتے ہیں، وہ جنسی تمیز سے ماورا ہو جاتے ہیں، انہیں اپنی ہوس مٹانے کے لیے صرف ”سوراخ“ کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہ بظاہر وہی نارمل سرگرمیاں ہوتی ہیں جو سماج کے بڑوں کی چھپن چھپائی کی وجہ سے بدصورتی میں ڈھلنے لگتی ہیں اور نوجوان غلط ڈائریکشن یا غلط فہمیوں کے انبار کی وجہ سے سیکس ایسے نارمل عمل کو بھی ویاگرا یا حکیمی نسخوں کی نذر کر دیتے ہیں اور اپنی جوانی کو ایک سراب کی سی کیفیت میں بسر کرنے لگتے ہیں۔
جنسی عمل کو پرتاثیر بنانے کے چکروں میں الٹی سیدھی دواؤں کی وجہ سے کئی طرح کی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔
جب سیکس پر بات کرنا جرم ٹھہرے تو کس کو خبر ہوگی کہ جنسی عمل تو ایک مائنڈ گیم ہوتی ہے، اس عمل کا عضو تناسل کے چھوٹے یا بڑے ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا بلکہ اس کا تعلق تو پیار و محبت کی ایک مثالی سی کیمسٹری کے ساتھ ہوتا ہے۔
پیار و محبت پُرسکون ماحول کا متقاضی ہوتا ہے، یہ ایک ایسے ماحول میں اپنی پوری آب و تاب سے خوبصورتی کے رنگ بکھیرتا ہے جہاں مداخلت کا شائبہ تک نہ ہو، جہاں دو اجسام کے بیچ ہوا کا بھی گزر نہ ہو اور اس قسم کا ماحول وہیں پنپ سکتا ہے جہاں انفرادیت کا بول بالا ہو، جہاں بندھن کو دو انسانوں کے بیچ کا انتہائی نجی معاملہ سمجھا جاتا ہو۔
جہاں شادی یا رفاقت کا مقصد محض بچے پیدا کرنا نہ ہو بلکہ محبت و پیار اور جنسی تسکین کو پورے تقاضوں کے ساتھ اولیت و احترام حاصل ہو۔
تصوراتی قسم کی جنسی کہانیاں یا من گھڑت ٹائپ جنسی شعبدہ بازیوں کے قصے منافق اور بناوٹی سماج کا شاخسانہ ہوتے ہیں، جو معاشرے نارمل ہوتے ہیں وہاں جبر و شرم نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی، وہاں بچوں کو نارمل انداز میں انسانی جسم سے جڑے ہوئے مسائل پر تعلیمی پس منظر میں رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔

