جیسا بوؤ گے ویسا کاٹو گے


آغا خان یا اسماعیلی فرقہ بنیادی طور پر مسلمانوں میں گروہ یا فرقہ بندی کی مسلمہ دلیل ہے۔ آپ سنی اور شیعہ علماء کو جزوقتی حالات یا مخصوص مقاصد کے دوران دیکھیں تو مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہتے ملیں گے کہ ہمارے بیچ میں 90 فیصد مشترکات ہیں جبکہ بعض کے مطابق 95 فیصد اور بعض 99 فیصد مشترکات پر پہنچ جاتے ہیں۔ اس بات کو یہیں رکھیں اور آگے بڑھیں۔ موجودہ وقت میں مسلمانوں کے 2 بڑے گروہ ہیں اہلسنت (اکثر فقہ حنفی) اور اہل تشیع (فقہ جعفریہ) ۔

ان دونوں گروہوں کے اختلافات کم و بیش 14 سو سال پرانے ہیں۔ سنی حضرات چار خلفاء راشدین کے بعد کچھ بادشاہوں اور جنگجووں کو ہیرو سمجھتے ہیں جبکہ اہل تشیع کا نظم 12 آئمہ کرام تک رہا ہے۔ اس سے آگے وقتی مفادات، اقتدار کی جنگ، مفادات کے حصول کے لئے لڑائیاں زیادہ ہیں لیکن مکتبہ اسماعیلیہ کو دیکھیں روز اول کا اختلاف بخیر و عافیت اب تک موجود ہیں۔ ان حضرات کا سلسلہ امامت و خلافت کا معاملہ ہو یا امام اسماعیل کے بیٹے اور بھائی میں امامت کا اختلاف ہو ان کے پاس غیر متزلزل روایت موجود ہے۔ فاطمی خلیفہ مستنصر باللہ کے دور میں خود اسماعیلیہ فرقے کے اندر دو گروہ بن گئے اور امام نزار کی قیادت و بیعت میں یہ الگ ہو گئے اور یہ سلسلہ پرنس رحیم تک جاری و ساری ہے۔ امام نزار کے دور میں الگ ہونے والے بوہری جماعت کے لوگ بھی اگرچہ موجود ہیں تاہم اجتماعی امور میں کوئی کردار نظر نہیں آ رہا ہے۔

14 سو سال کے اختلافات کو کندھے میں رکھ کر الگ ہونے اس سلسلے کے 49 ویں امام کی رحلت کچھ دن قبل ہو گئی۔ اگر اختلافی عینک سے ہی دیکھا جائے تو موجودہ اسماعیلی نظم کے قریب ترین فرقہ بوہرہ بھی شاید ”کفر اور اسلام“ کی تلوار سے ہی دیکھتا ہو گا اور سینکڑوں پابندیاں ہوں گی لیکن اس اختلافی حقیقت کے علمبردار کی رحلت کے مناظر کچھ اور تھے۔

دنیا بھر کے جماعت خانوں میں ہر مکتبہ فکر کے لوگ تعزیت و تسلیت کے لئے پہنچ گئے۔ یہاں تک نزاری فرقے سے الگ ہونے والے بوہرہ جماعت کے سرکردگان بھی اٹھے اور وارث امامت کے پاس پہنچ گئے۔ گلگت میں جماعت خانے کا دروازہ کھلا تھا اور بین المسلکی سرگرمی جتنی ان چند دنوں میں وقوع پذیر ہوئی اتنی شاید گلگت بلتستان کی پوری تاریخ میں نہیں ہوئی ہوگی۔ اور یہ صورتحال دنیا کے ان تمام علاقوں میں دیکھنے کو ملی ہے جہاں جہاں مسلمان بصورت دیگر مختلف مسالک کی صورت میں رہ رہے ہیں۔

یہ دو متضاد امور ایک ساتھ کیسے مل گئے کہ آپس میں زیادہ مشترکات کا دعویٰ کرنے والے آج تک ایک دوسرے کی دل آزاری کرنے کو عار محسوس نہیں کرتے ہیں اور حال ہی میں گلگت بلتستان میں دونوں کمیونٹیز کی جانب سے 2 الگ الگ مقدمات انہی معاملات پہ درج ہوچکے ہیں جبکہ جس بندے کی ذات فرقہ بندی اور گروہ بندی کا مجسمہ ہے اس کی رحلت پر یوں ایک ہو گئے جیسے واقعی کوئی اپنا گزر گیا ہو۔

سال 2022 میں ہزہائی نس پرنس کریم آغا خان کی امامت پر کے 60 سالہ جشن کے مناسبت سے تقاریب کا اہتمام کر کے 25 ممالک میں جماعت خانوں کو کھول دیا گیا۔ اس سرگرمی کا بنیادی مقصد پرنس کریم آغا خان کی کے ویژن کو سامنے لانا تھا جسے چار حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ ان چار پہلوؤں میں زندگی کی امید، ہم آہنگی کا قیام، قدرتی ماحول کی بہتری اور مکالمے کا فروغ شامل ہے۔ مکالمے کا فروغ اور تکثیریت بظاہر دو الفاظ ہیں لیکن عملی زندگی میں یہ فلسفہ دو انتہاؤں کو آپس میں جوڑے رکھنے کا کردار سرانجام دیتا ہے۔

اگر اختلاف کی بنیاد پر لاتعلقی کا سلسلہ رواں ہوتا تو دنیا میں آج کسی کا شاید نہ کوئی رشتہ دار ہوتا نہ ہی کوئی ہم خیال ملتا۔ تکثیریت کے ویژن نے ایک الگ تھلگ گروہ کے سردار و امام کی رحلت کو پوری دنیا کے مسلمانوں پر تقریباً ایک سا اثر چھوڑ دیا۔ یہ سلسلہ یہاں نہیں رکا بلکہ ان کے جانشین نے بھی ان کا علم اٹھانے کے عزم کا اظہار کیا اور پہلے پیغام میں انہی الفاظ میں دہرا دیا۔

پرنس رحیم آغا خان کا جانشینی کے بعد پہلا پیغام تھا کہ ”دنیا مشکل حالات سے گزر رہی ہے، جو کچھ عرصے تک ایسے رہنے کا امکان ہے۔ جماعت کو چاہیے کہ نئی زبانیں اور ہنر سیکھیں تاکہ مشکل وقت کا مقابلہ کر سکیں۔ اچھی تعلیم حاصل کریں، کریٹکل تھنکنگ کی عادت اپنائیں اور اپنے مستقبل کے لیے اچھے فیصلے کریں۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور فوسل فیول پر انحصار کم کریں۔ جن ممالک میں رہتے ہیں اُن کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں اور engaged citizenship کا اصول اپنائیں۔ معذور افراد اور بزرگ عمر کے افراد کا خاص خیال رکھیں اور انھیں اپنے ساتھ شامل کریں۔ ایک خاندان میں مختلف عقائد رکھنے والے افراد کے عقائد کا احترام کریں اور انھیں مناسب مقام دیں۔ جماعت خانوں کو عبادت کے ساتھ ملنے جلنے کے مراکز بنائیں، جہاں بچے اور بزرگوں کے رابطے ممکن ہوں اور مختلف سرگرمیاں ہوں۔ اپنے دین اور دنیا میں برابری پیدا کریں اور ایک کے لیے دوسرے کو ترک نہ کریں۔“

اپنی زندگی سے ہی تکثیریت کو فروغ دینے کا نتیجہ تھا کہ مستنصر باللہ کے دور میں میں الگ گروپ بننے والے بھی دروازے پر گئے اور تعزیت کی۔ امام اسماعیل اور موسیٰ کاظم کے اختلاف کی بنیاد پر 14 سو سال کا سفر کرنے والوں نے بھی حاضری دی اور پھر امامت کے اس تصور سے بالکل انکار کرنے والوں کے زبان پر بھی نیک کلمات تھے۔ اس کے برعکس جن میں نسبتاً اختلاف کا عنصر کم پایا جا رہا ہے ان میں سماجی سطح پر بھی فتوے بازی کا رجحان ہے اور معاشرے کے کسی بھی پہلو میں رائے کا احترام نہیں پایا جاتا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ ”جیسا بوؤ گے ویسا کاٹو گے“

Facebook Comments HS