پرما کی اٹھارہویں سالگِرہ پہ فینی کے محبت بھرے خطوط (سلسلہ وار 5 )
ہم حالات کا رونا روتے ہیں مگر یہ حالات پیدا کس نے کیے ہیں ان حالات کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔ ہماری سوچ اور رویے نے سماج کو ایسا بنا دیا ہے۔ کیونکہ ہم بیٹی اور بیٹے کے لے الگ نظریہ رکھتے ہیں ہم بیٹیوں سے امید کرتے ہیں کہ وہ اچھی لڑکی بن کر رہیں مگر ہم اپنے بیٹوں کو اچھا لڑکا بننے نہیں دیتے اس میں قصور سراسر والدین کا اور پھر سماج کا ہے۔
ہم اپنے سماج میں بچی اور بچے کی پیدائش سے ہی ان میں فرق کرتے ہیں۔ لڑکی کے لئے اور رنگ ہیں اور لڑکے کے لئے اور، دونوں کے کھلونے الگ ہیں، بیٹیوں کو گڑیا اور کچن سیٹ دو اور بیٹے کو جہاز بندوق اور ٹرک دلاؤ، بچوں کو کم عمری سے ذہن نشین کرا دو کہ ان کا عملی زندگی میں کیا کردار ہو گا۔
بیٹے کو ہم بہادر اور طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں جب کے بیٹی کے لیے یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ ایسی مثالی شخصیت رکھتی ہو کہ گھر کو جنت بنا کر رکھ سکے گھر اور سماج دونوں کو مثالی بنانا صرف لڑکی کی ذمہ داری کیوں ہے؟ گھر اور سماج کو مثالی بنانا دونوں کی ذمہ داری ہے اور ہونا چاہیے۔
جب بچے روتے ہیں تو ہم لڑکوں کو یہ کہہ کر چپ کروا دیتے ہیں کہ تم لڑکے ہو لڑکے نہیں روتے اور پھر جب بڑے ہو کر وہ اپنے گھر اور باہر روتی ہوئی بہن، بیٹی، بیوی، ماں اور عورت کو دیکھتے ہیں تو ان کو کچھ زیادہ فرق نہیں پڑتا وہ اس کو کمزوری کی علامت سمجھتے ہیں اور یہ نہیں محسوس کر پاتے کہ رونا کمزوری کی علامت نہیں بلکہ تکلیف کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے۔
ہم سب کو سماج سے شکایت ہے مگر شکایت کرنے سے پہلے ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ سماج دراصل ہم سب ہیں اگر آج سماج غیر محفوظ ہے تو اس میں قصور ہم سب کا ہے۔ ہم بیٹی کو تو اچھی لڑکی بنانا چاہتے ہیں مگر بیٹا باہر جا کر ایک اچھا لڑکا ہے یا نہیں اس پر ہماری کوئی توجہ نہیں ہے۔
لڑکیوں کے لئے روک ٹوک ہے پابندی ہے مگر بیٹے سے کوئی سوال نہیں کیا جاتا۔ ہمیں اپنے گھر سے آغاز کرنا ہو گا مجھے یاد ہے امی نے کبھی ہم بہن بھائیوں میں فرق نہیں کیا میرا چھوٹا بھائی اتوار کو ناشتے کے برتن دھوتا تھا اس لئے کہ باقی سارا ہفتہ میں اور میری بہن کام کرتے تھے وہ امی کی سالگرہ کے دن ان کے لئے ناشتہ بناتا تھا اور ایسا کرنے میں اسے کبھی بھی سبکی کا احساس نہیں ہوا۔
فرجاد گھر کے کاموں میں میرا ہاتھ بٹاتا ہے وہ ہمارے لیے اور گھر آئے مہمانوں کے لیے چائے بناتا ہے اور جب اس کا دل چاہے تو بڑے شوق سے سالسا اور چکن ونگ بناتا ہے اپنے کپڑے استری کر لیتا ہے ایسا اس لئے ہے کہ ہم نے دونوں بچوں کو آنے والے وقت کے لیے تیار کیا ہے جس میں لڑکی لڑکے کی بھید بھاؤ معنی نہیں رکھتے۔
پرما اور فرجاد اور آج کی نسل ہمارا آنے والا کل ہے ان کو ایک ایسی دنیا بنانے دیں جہاں یہ خواب دیکھیں اور ان خوابوں کو جی سکیں۔ جس دنیا میں جنس کی بنیاد پہ کوئی فرق نہ ہو۔ ایک محفوظ اور صحت مند سماج اس وقت ہی بن سکتا ہے جہاں بیٹی اور بیٹے کو بہتر انسان بنانے پہ توجہ ہو اور جہاں اچھا سماج بنانا صرف بیٹی کی ذمہ داری نہ ہو۔


