مریم نواز، جنرل اقبال، راجہ گدھ اور غریب طبقہ
دو تین روز قبل بہاولپور شہر کے پوش علاقہ سیٹلائیٹ ٹاؤن کی مرکزی سڑک حسینی چوک تا بہاری کالونی پہ ڈپٹی کمشنر نے پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ کروڑوں روپے مالیت کے بنگلوں کے سامنے سرکاری جگہ پہ قائم کی گئی تجاوزات کے خلاف آپریشن شروع کیا۔ بنگلہ اگر دس مرلہ یا ایک کنال کا تھا تو سامنے گزرتی مرکزی سڑک کے اردگرد کی جگہ جو کہ سو فٹ چوڑی ہے اس کے دونوں اطراف بنگلہ مالکان نے چاردیواری اور بڑے گیٹ لگا کر اسے اپنے گھر کا حصّہ بنا لیا تھا اور یہ جگہ آٹھ دس فٹ تک محدود ہو کر رہ گئی تھی۔
آپریشن ختم ہو گیا۔ سرکاری انتظامیہ چلی گئی۔ میں وہاں سے گزر رہا تھا، لوگ اپنے گھروں کے سامنے گرائی گئی دیواروں کے ملبے کے پاس کھڑے باتیں کر رہے تھے۔ ایک صاحب بول رہے تھے ”مریم نواز کے اندر کون سی روح آ گئی ہے؟ جنرل ضیاء کا مارشل لا ء لگا تو جنرل اقبال نے کھڑی مونچھوں والے ایک فوجی صوبیدار کو سیٹلائیٹ ٹاؤن بھیجا جس نے اسی سڑک پہ کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ اپنے گھروں کے سامنے سرکاری جگہوں پر سے چاردیواری اور گیٹ ہٹا لو ورنہ سخت ایکشن کے لیے تیار ہو جاؤ، تمہیں چوبیس گھنٹے دے رہا ہوں بس“ ۔ مزید بولے ”جنرل اقبال والے آپریشن کے اتنے سالوں بعد آج پھر یہاں دیواریں اور گیٹ گرا دیے گئے، یہ مریم نواز نہیں جنرل اقبال ہے“ ۔
راقم فیس بک پہ ادبی بحثیں پڑھتا رہتا ہے۔ بانو قدسیہ کے ناول راجہ گدھ پہ فریقین اکثر متنازعہ بحث کرتے ہیں۔ ایک گروہ بانو قدسیہ پہ اس ناول کی وجہ سے تنقید کرتا ہے۔ وہ اسے سرے سے ناول تسلیم کرنے پہ تیار ہی نہیں۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ راجہ گدھ اگر بہت بڑا ناول نہیں تھا تو اب تک لوگ اسے پڑھے کیوں جا رہے ہیں؟ کوئی بات تو اس ناول میں ہے کہ دہائیوں کے گزر جانے کے باوجود یہ مسلسل زیرِ بحث ہے۔
احباب! بادی النظر میں دیکھیں تو پاکستانی پنجاب میں جاری اینٹی تجاوزات آپریشن پہ عوام بھی دو حصّوں میں تقسیم ہوئے پڑے ہیں۔ عوام کا ایک حصّہ کہہ رہا ہے کہ اس آپریشن سے غریبوں کے گھر گرائے جا رہے ہیں۔ دوسرا طبقہ کہتا ہے کہ غریبوں نے تو سرکاری جگہ پہ کچی آبادیاں آباد کی ہوئی ہیں لیکن انتہائی دولتمندوں نے بھی اہم سڑکوں کے کنارے سرکاری جگہوں پہ قبضے کر کے بنگلے، مارکیٹیں اور دکانیں بنا کر لوٹ مار مچائی ہوئی ہے ساتھ ساتھ ٹریفک کو بری طرح سے متاثر کیا ہوا ہے۔ یعنی ایک طبقہ اینٹی تجاوزات آپریشن کے حق میں ہے تو دوسرا مخالفت کر رہا ہے۔
اکبر شیخ اکبر حکومت کو تجویز دیتا ہے کہ اگر آپ ایسے علاقوں میں اینٹی تجاوزات آپریشن کرتے ہیں جہاں انتہائی غریب طبقہ کچے پکے گھر بنا کر بیٹھا ہے تو بہتر ہے پہلے انھیں متبادل رہائش دے دیں۔ بات دراصل یہ ہے کہ انڈیا نے تو تقسیم کے فوراً بعد بار بار زرعی اصلاحات کر کے جاگیرداری نظام کو ختم کر دیا تھا لیکن پاکستان میں اس نظام کو ختم کرنے کی بجائے بحال رکھا گیا۔ دیہات اور گاؤں میں زرعی زمین کا بڑا مالک جاگیردار اور بڑا زمیندار ہوتا ہے۔ دیہات میں رہنے والے غریبوں کی اکثریت کے پاس اپنا ذاتی گھر نہیں ہوتا بلکہ وہ جاگیرداروں اور زمینداروں کی ملکیت گاؤں میں کچے گھروں میں رہنے پہ مجبور ہوتے ہیں۔
اب چونکہ جدید زرعی مشینری آ جانے سے ان غریبوں کو زمینداروں کے کھیتوں میں کام کرنے کا موقع نہیں مل رہا تو انڈیا، پاکستان، بنگلہ دیش اور جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک میں غرباء کروڑوں کی تعداد میں دیہات سے شہر کی طرف روزی روٹی کمانے کے لیے ہجرت کر رہے ہیں اور یہ ہجرت رکنے میں نہیں آ رہی۔ ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو نے دیہات میں بڑے پیمانہ پہ مفت پانچ مرلہ اسکیم متعارف کرائی تھی جس سے وہاں غریب طبقہ کے ایک حصّہ کو ذاتی گھر بنانے کے لیے جگہ مل گئی لیکن بھٹو صاحب کو پھانسی دے دیے جانے کے بعد یہ اسکیم جاری نہ رہ سکی۔
آپ امیروں کے بنگلوں کے سامنے سرکاری جگہوں پہ، سڑک کنارے سرکاری جگہوں پہ اور بازاروں میں قائم کی گئی تجاوزات کے خلاف آپریشن کرتے ہیں تو عوام اسے قطعاً بُرا نہیں سمجھ رہے لیکن جب غریب بے گھر ہوتے ہیں تو عوام کے اندر اضطراب پیدا ہوتا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ یہ زیادتی ہو رہی ہے۔ اس حوالے سے سرکاری تھنک ٹینکس کام کریں اور اس مسئلہ کا کوئی حل نکالیں۔
ویسے تو لوگ زمین کے لالچ میں اس قدر پاگل ہو جاتے ہیں کہ خونی رشتوں کی پہچان ہی نہیں رہتی۔ بیس فروری 2025 کو راقم نے بہاول پور پریس کلب میں ایک عمر رسیدہ عورت کی پریس کانفرنس اٹینڈ کی۔ اس کی آنکھوں میں مسلسل آنسو تھے۔ اس نے صحافیوں کو رجسٹری انتقال شدہ پلاٹ کے قانونی کاغذات دکھائے جو اس رہائشی پلاٹ کے تھے جس کی وہ قانونی مالک تھی۔ عدالت نے بھی اس کے حق میں فیصلہ دیا تاہم اس کے سگے بھائیوں اور ان کی اولاد نے اس کے پلاٹ پہ قبضہ کر کے وہاں تعمیرات شروع کر دیں۔ بڑھیا کے بقول اس کی اولاد کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور جب وہ علاقہ کے تھانہ میں تحفظ اور انصاف کے لیے گئی تو ایس ایچ اونے بات سننے کی بجائے اسے تھانہ سے باہر نکال دیا۔
برصغیر کے لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ زمین پہ قبضے اور زیادہ سے زیادہ جائیدادیں بنانے کی خواہش ان کے جینز میں صدیوں سے ایک جنون کی طرح چلی آ رہی ہے۔ ان کی بڑی تعداد زمین، جائیداد اور دولت کے ساتھ عشق کرتے ہیں اور ان کے حصول کے لیے ہر ناجائز حربے کو جائز سمجھتے ہیں چاہے دوسرے کا قتل ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ کیا سائنسدان کوئی ایسی ویکسین نہیں بنا سکتے جس کے لگانے کے بعد لوگوں کے اندر پاگل پن کی حدوں کو چھوتا ہوا لالچ پن ختم ہو جائے۔


