ہم جہاں تھے وہیں کھڑے رہ گئے
ہمارے ذہنوں کو نہ جانے کیوں یہ سوال شدت سے مضطرب نہیں کرتا کہ پچھلی ایک دہائی کے دوران ہم اپنے دوست ملکوں سے اتنے دور کیوں ہو گئے ہیں؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے سے ہم کتراتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ ایسا کرنے سے آشکار ہونے والی حقیقت ہمارے لیے انتہائی تکلیف دہ ہو گی۔
ہم ہمیشہ کی طرح، اپنے دوستوں کی محبت کا دم آج بھی بھرتے ہیں، دیدہ و دل فرش راہ کیے ان کے منتظر رہتے ہیں، کون سا حکم ہے جس کی تعمیل میں کوتاہی ہوئی؟ پہلے بن کہے نوازشوں کی بارش تھی، اب بار بار کہنے پر کرم کی نظر ہوتی ہے۔ ہم سے آخر ایسی کیا خطا ہوئی کہ رشتوں میں پہلے جیسی گرم جوشی نہ رہی؟
جذباتی خود کلامی کی اس کیفیت سے نکل کر معروضی انداز سے غور کریں تو معلوم ہو گا کہ ہمارے دوست بدلے ہیں نہ انہوں نے ہم سے تعلق قطع کیا ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ عالمی ارتقائی عمل میں جب نئے حالات سے ہم آہنگ ہونے کا مرحلہ آیا تو ہمارے دوست ملکوں نے وقت ضائع نہیں کیا اور اپنے اندر تبدیلی لانے کا عمل شروع کر دیا۔ ان کے برعکس، ہم تذبذب کا شکار رہے، کوئی فیصلہ نہ کر سکے اور وقت ہمارے دوستوں کو ساتھ لے کر آگے بڑھ گیا۔ اس تناظر میں ہم دور نہیں جاتے بلکہ اپنے آس پاس کے چند دوست ملکوں کا جائزہ لیتے ہیں۔
سعودی عرب سے ہمارا انتہائی گہرا دینی رشتہ ہے، ہر مشکل میں اس نے ہماری مدد کی اور آج بھی تعلق نبھانے کی رسم ادا کرنے کی کوششں کرتا ہے۔ تیل کی بے پناہ دولت سے مالا مال اس ملک کو بہ خوبی علم ہے اس کے پاس موجود خام تیل کے ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور عالمی حدت میں اضافہ سنگین خطرہ بن گیا ہے لہٰذا کرہ ارض پر زندگی کو بچانے کے لیے تیل و گیس کا استعمال بتدریج ختم ہو جائے گا اور ماحول دوست توانائی اس کا متبادل بن جائے گی۔ سعودی عرب نے یہ تلخ حقیقت جان لی کہ مستقبل میں صرف تیل اور گیس کی آمدنی پر وہ اپنی موجودہ حیثیت برقرار نہیں رکھ سکے گا۔ اب اس کے پاس پیٹرول سے کمائے ڈالروں کی متنوع شعبوں میں سرمایہ کاری کے سوا کوئی اور راستہ نہیں تھا۔ اس ادراک کے بعد اس نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر خود کو بدلنے کا ایسا حیرت انگیز عمل شروع کر دیا جس پر دنیا چند لمحوں کے لیے سکتے میں آ گئی۔
سعودی ولی عہد، شہزادہ محمد بن سلمان نے چند برسوں میں اپنے ملک کی کایا پلٹ دی۔ انہوں نے انتہائی دور رس اصلاحات نافذ کیں، خواتین کو پہلے سے کہیں زیادہ حقوق دیے، انہیں معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل کیا، قدامت پرستی ترک کی اور عرب کے ثقافتی و تاریخی ورثے کو ترقی پسند اور جدید انداز میں اجاگر کیا جس سے سعودی عرب تجارت اور سیاحت کے لیے پرکشش ملک بن گیا۔
اپنے ملک کی معاشی ترقی چونکہ سعودی ولی عہد کی اولین ترجیح ہے لہٰذا انہوں نے نظریاتی، مسلکی اور سرد جنگ دور کی تلخیوں کو ختم کرنے کا دانش مندانہ فیصلہ کیا۔ امریکہ سے دوستانہ تعلقات برقرار رکھنے کے ساتھ چین و روس سے قربتیں بڑھائیں اور یہ جان لیا کہ اس وقت ہندوستان، سرمایہ کاری کے لیے بہترین ملک ہے، جہاں قوت خرید رکھنے والے کروڑوں صارفین کے علاوہ اعلیٰ مہارت کی حامل پیشہ ور افرادی قوت، بنیادی انفرا اسٹرکچر اور مشترکہ سرمایہ کاری کے لیے بہت بڑا کارپوریٹ سیکٹر بھی موجود ہے۔ انہوں نے ہندوستان کی خواہش کا انتظار نہیں کیا بلکہ خود پہل کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے تعلقات کو تیزی سے گہری دوستی میں بدل دیا۔ ولی عہد محمد بن سلمان نے 2019 میں ہندوستان کا پہلا دورہ کیا، ہندوستانی وزیر اعظم نے پروٹوکول کے تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہوائی اڈے پر جا کر ان کا استقبال کیا۔ اس دورے میں سعودی ولی عہد نے دس کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدوں پر دستخط کیے۔ سعودی ولی عہد نے 2023 میں ہندوستان کا دوسرا دورہ کیا۔ نریندر مودی نے 2016 میں سعودی عرب کا پہلا دو روزہ دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر انہیں سعودی عرب کا سب سے بڑا سول اعزاز ’شاہ عبدالعزیز ایوارڈ‘ عطا کیا گیا۔ ان دوروں کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان اسٹراٹیجک تعلقات قائم ہو گئے، فوجی سربراہوں کی جانب سے دو طرفہ دورے کیے گئے، مشترکہ فوجی مشقوں کا آغاز ہوا اور فوجی تعلقات کو اگلی سطح پر لے جانے کے لیے، دفاعی تعاون کی کمیٹی قائم کی گئی۔ سعودی عرب، ہندوستان کا چوتھا بڑا تجارتی پارٹنر ہے، دونوں ملکوں کے درمیان 43 ارب سے زیادہ کی تجارت ہوتی ہے اور اس وقت سعودی عرب کی جانب سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔
سعودی عرب نے اپنی خارجہ پالیسی میں بھی بنیادی تبدیلیاں کی ہیں، ایران اور اسرائیل سے کشیدگی بہت کم ہو چکی ہے، کشمیر کے حوالے سے بھی اس کا موقف بدلا ہے جسے اب وہ پاکستان اور ہندوستان کا دو طرفہ مسئلہ سمجھتا ہے۔ سعودی عرب نے اپنے ملک کے داخلی نظام اور بین الاقوامی تعلقات میں جو غیرمعمولی تبدیلیاں کی ہیں کیا چند برس قبل تک اس کا تصور ممکن تھا؟
ہمارا دوسرا اہم دوست ملک متحدہ عرب امارات ہے (یو اے ای) جس نے کمال تیز رفتاری سے عالمی حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کا مظاہرہ کیا ہے۔ یو اے ای کا وفاق برطانیہ کے جانے کے بعد 1971 میں وجود میں آیا تھا، یہ وہی سال تھا جب پاکستان دو ٹکڑے ہوا تھا۔ صرف نصف صدی پہلے، یو اے ای نے صفر سے ترقی کا آغاز کیا اور آج وہ عالمی تجارت اور سیاحت کا پرکشش مرکز بن چکا ہے۔ ترقی کے جدید ترین ترقی پیمانوں کے حوالے سے یورپ کا شاید کوئی ملک دبئی کا ہم پلہ ہو گا۔ یو اے ای کی آبادی ایک کروڑ دس لاکھ جب کہ 2024 میں یہاں کا دورہ کرنے والوں کی تعداد ایک کروڑ ستاسی لاکھ تھی۔ اس کی جی ڈی پی 500 ارب ڈالر سے زیادہ اور 24 کروڑ کے ہمارے ملک کی جی ڈی پی 374 ارب ڈالر ہے۔
متحدہ عرب امارات بین الاقوامی تعلقات میں مکمل غیر جانبداری کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، وہ تمام تنازعات کے پرامن حل کا حامی ہے اور معاشی ترقی اس کی پہلی ترجیح ہے۔ اس پالیسی کے تحت اس نے اسرائیل کے ساتھ 2020 میں سفارتی رشتے قائم کیے اور اس سے آگے بڑھ کر 2022 میں اسرائیل سے آزاد تجارتی معاہدہ بھی کر لیا، اب ان کے شہری دونوں ملکوں کے درمیان ویزا کے بغیر آزادانہ سفر کر سکتے ہیں۔ یو اے ای نے بھی سعودی عرب کی طرح اپنی بین الاقوامی تجارت میں تیل پر انحصار کم کرنے کی حکمت عملی اپنائی جس کے تحت وہ تجارت اور سرمایہ کاری کی نئی منڈیاں تلاش کر رہا ہے۔ یو اے ای بڑی تیزی سے ابھرتی ہوئی ہندوستانی مارکیٹ میں داخل ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں دونوں ملکوں کی دو طرفہ تجارت 83 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے جسے دو سال میں 100 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف طے کیا گیا ہے۔ یو اے ای نے بھی ہندوستانی وزیر اعظم کو اپنے ملک کا اعلیٰ ترین سول اعزاز ’آرڈر آف زید‘ دیا ہے۔ ابوظہبی میں مغربی ایشیاء کا سب سے بڑا مندر تعمیر کرنے کی سہولت دے کر یو اے ای نے دنیا کو پیغام دیا ہے کہ وہ مذہبی امتیاز کے بغیر تمام مذاہب کا احترام کرتا ہے اور اس کے دروازے ہر ملک کے لیے کھلے ہیں۔
اکیسویں صدی کی جدید دنیا کا ایک کمال یہ بھی ہے کہ آبادی اور رقبے میں ایک بہت چھوٹا ملک بھی اپنے وسائل اور جغرافیائی محل وقوع کے دانش مندانہ استعمال سے عالمی سطح پر اپنی ساکھ اور حیثیت منوا سکتا ہے۔ قطر اس کی ایک روشن مثال ہے۔ قطر کا رقبہ صرف 4400 مربع میل اور آبادی 30 لاکھ سے کچھ زیادہ ہے۔ پیچیدہ مسلح تنازعات، شورش اور خانہ جنگیوں میں ملوث تمام اسٹیٹ اور نان اسٹیٹ فریق، ثالثی کے لیے قطر پر اعتبار کرتے ہیں۔ افغان جنگ میں پاکستان نے فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کیا لیکن امریکہ اور طالبان کے درمیان ثالثی قطر نے کی۔ اسی طرح حماس، اسرائیل تنازع میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے مذاکرات میں بھی قطر اہم ثالث تھا۔ ثالثی میں سہولت کی غرض سے اس نے دوحہ میں طالبان اور حماس کے دفاتر قائم کیے۔ بین الاقوامی ساکھ میں اضافے سے قطر کو تجارتی اور سیاسی طور پر بہت فائدہ ہوا۔ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے کچھ دنوں پہلے ہندوستان کا دورہ کیا جہاں حسب توقع ان کا شان دار استقبال کیا گیا۔ اس دورے میں تجارت کو دو گنا بڑھانے، دس ارب ڈالر کی فوری سرمایہ کاری اور اسٹراٹیجک تعلقات قائم کرنے کے اہم فیصلے کیے گئے۔
قطر گلف تعاون کونسل کا وہ پانچواں ملک ہے جس نے ہندوستان سے اسٹریٹجک رشتے استوار کیے ہیں۔ قطر نے ماضی قریب میں پاکستان کو نہایت کم قیمت پر ایل این جی کی فراہمی کا معاہدہ کیا تھا جسے حکومت کی تبدیلی کے بعد سیاسی مخالفین کو بدنام کرنے کے لیے ایک اسکینڈل بنا دیا گیا۔ اس طرز عمل سے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات پر منفی اثر پڑا جو تلافی کی سر توڑ کوششوں کے باوجود اب بھی باقی ہے۔ قطر کے بعد اومان بھی نئے عالمی حالات کے مطابق اپنی پالیسیاں تشکیل دے رہا ہے۔
ہمارا پڑوسی اور قریبی دوست، چین اپنے اندر تبدیلی لانے کی بے مثال صلاحیت رکھتا ہے۔ اس نے کم ترین وقت میں خود کو دنیا کی دوسری سب سے بڑی معاشی اور فوجی طاقت بنا کر اس صلاحیت کو ثابت کر دیا ہے جس کی تفصیل کے لیے الگ مضمون درکار ہے۔
یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ہمارے دوست ملکوں نے بروقت دنیا کے ارتقائی عمل کی سمت کا درست اندازہ لگا لیا اور خطرات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنا رخ اس سمت کی جانب موڑ دیا۔ ہم نے اپنے دوستوں کے اس دانش مندانہ طرز عمل کی پیروی نہ کی لہٰذا وہ شاندار مستقبل کے نئے سفر پر روانہ ہو گئے اور ہم جہاں تھے وہیں کھڑے رہ گئے۔ اس وقت ہم، جمود، عالمی تنہائی اور معاشی زوال کی خطرناک صورت حال سے دوچار ہیں۔ ہمیں جلد یا بدیر کٹر نظریاتی اور سیاسی جکڑ بندیوں کو توڑ کر اس سمت جانا ہی ہو گا جہاں دنیا اور ہمارے دوست ملک جا رہے ہیں۔ عالمی تنہائی کے صحرا میں بے سمت بھٹکنے سے بہتر ہے کہ تاخیر کی قیمت چکا کر کے یہ مشکل کام کر لیا جائے۔



اگر کسی لکھنے والے کی تحریر میں مجھے سیاسی عصبیت یا مذہبی نظر آنے لگے تو میں اسے عمومی طور پر پڑھنا چھوڑدیتا ہوں۔ عرفان صدیقی شاند ار اردو لکھتے تھے مگر عرصہ ہوا ان کی تحریریں پڑھنا چھوڑدی ہیں وجہ وہی کہ وہ اپنی ن لیگ کی عقیدت میں کچھ بھی لکھ ڈالتے تھے۔
بدقسمتی سے آپ کی تحریروں میں بھی کہیں کہیں ایک مخصوص پارٹی کے خلاف لڑھکن دیکھی تو اپ کی تحریر پڑھنا بھی چھوڑدی تھی۔
کل یکایک آپ کی تحریر کھول گئی اور پڑھ بھی لی۔
عمومی طور پر آپ نے جو کچھ لکھا درست ہے لیکن ایک بات ایسی لکھ ڈالی جو بادی النظر میں اسی لڑھکن کی طرف اشارہ ہے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ بات آپ کے علم میں نہ ہو اس لئے آپ کو آگاہ کرنا میری ذمہ داری ہے۔
–
آپ نے لکھا :
قطر نے ماضی قریب میں پاکستان کو نہایت کم قیمت پر ایل این جی کی فراہمی کا معاہدہ کیا تھا جسے حکومت کی تبدیلی کے بعد سیاسی مخالفین کو بدنام کرنے کے لیے ایک اسکینڈل بنا دیا گیا۔ اس طرز عمل سے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات پر منفی اثر پڑا جو تلافی کی سر توڑ کوششوں کے باوجود اب بھی باقی ہے۔
–
میں پہلے تو اگاہ کردوں کہ نہ میرا تعلق عمران خان کے مداحین میں ہے نہ ان سے نفرت کرنے والوں میں۔ ان کے دور کی حماقتوں اور اچھی باتوں دونوں کو میں اسی جگہ رکھتا ہوں جہاں رکھنا چاہئے۔
–
جہاں تک قطر کی بات ہے سچ تو یہ ہے ہر پاکستانی کو ایل این جی کے معاہدے پر قطر سے شکایت ہونی چاہئے۔
–
قطر نے نواز شریف دور 2013 – 2018 میں پاکستان کو ایل این جی فراہم کرنے کا معاہدہ کیا تھا جو سب کے علم میں ہے شاہد خاقان ان دنوں وزیر پٹرولیم تھے۔ بقول آپ کے پاکستانی عوام یا مخالفین نے اس معاہدے کو اسکینڈل بناکر پیش کیا۔ وجہ ظاہر ہے اس لئے تھی کیوں کہ معاہدے کے لئے کیا ریٹ طے ہوئے تھے اس سے قوم لاعلم تھی۔ کیا آپ کے خیال میں عوام کو اس کے بارے میں معلوم نہیں ہونا چاہئے تھا ؟ کیا یہ آُپ اور میرے ٹیکس کی خرید نہیں تھی مزید یہ کہ اس خریداری کی قیمت ہماری جیبوں اور پاکستان میں بننے والی ہر چیز میں شامل ہوتی ہے۔/
–
اس وقت بہانہ یہ بنایا گیا کہ یہ معاہدہ دو بھائیوں کے درمیان ہوا ہے اور اگر ہم نے یہ ریٹ دنیا کو بتائے تو پاکستان اور شطر کے تعلقات خراب ہونے کے امکان ہیں؟
سوال یہ ہے کہ کیا یہ قطریوں کی طرف سے پاکستان کو بخشیش یا خیرات تھی کہ دینے والے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ کا علم نہیں ہونا چاہئے تھا؟
–
بہرحال بقول آپ کے لوگ شور مچاتے رہے اور ایل این جی پاکستان آتی رہی۔
–
ویسے یادرہے ایل این جی قیمت کے معاہدے اس وقت برطانوی خام تیل برینٹ کے تناسب سے ہوتے ہیں جسے سلوپ کہا جاتا ہے۔ کئی سال بعد پاکستانیوں کو پتہ چلا کہ پاکستان قطر سے 13،37 (تیرہ اعشاریہ سینتیس) فی صد سلوپ کے حساب سے ایل این جی خرید رہا ہے۔ یعنی اگر برینٹ 100 ڈالر بیرل ہو تو پاکستان 13 اعشاریہ 37 ڈالر کے حساب سے ادائیگی کرے گا۔ چلیں ٹھیک ہے۔
–
کیا آپ کے علم میں ہے کہ 2016 اور 2017 کے آس پاس جب اصل میں یہ ڈیل نواز شریف کے قطر میں موجود مقامی فرنٹ مین سیف الرحمن کی کمپنی کی معرفت ہورہی تھی اس وقت جاپان اور دوسرے ممالک ساڑھے گیارہ سے بارہ فی صد سلوپ کے حساب سے ادائیگی کررہے تھے۔ اور پاکستان کے معاہدے کے فورا بعد بنگلہ دیش نے قطر سے ایل این جی کی ڈیل کی جو پاکستان سے بارہ سے پندرہ فی صد سستی تھی۔ قطر ہمارا اچھا بھائی تھا کہ ہمیں اس نے چونا لگادیا۔
اگر پاکستان ساڑھے گیارہ کے حساب سے معاہدہ کرتا تو سولہ فی صد کم ادائیگی کرنی ہوتی اور اگر اس وقت مارکیٹ کی زیادہ سے زیادہ قیمت 12 فی صد پر کرتے تو 11 فی صد کم ادائیگی کرنی پڑتی۔ اب آپ خود اندازہ لگالیں کہ پاکستانی غریب عوام 15 سال تک 13 اعشاریہ 37 کے حساب سے 15 سال تک کس کا اضافی رقم دے کر پیٹ بھر رہے ہیں اور بھریں گے۔
–
عمران خان کی حکومت سے پاکستانیوں کو جتنی نفرت ہو ان کی مرضی مگر 2021 میں اسد عمر نے اس وقت پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے قطر سے اضافی ایل این جی کا براہ راست معاہدہ کیا جو حیران کن طور پر مارکیٹ سے بھی سستا تھا جس کے لئے پاکستانی عوام کو قطر اور خان صاحب کی حکومت کا شکرگزر ہونا چاہئے یہ معاہدہ حیران کن طور پر 10 اعشاریہ 2 فی صد کے حساب سے ہوا یعنی نواز شریف کے معاہدے سے سیدھا سیدھا تیس فی صد سستا !
–
اب دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان قطر کو لگ بھگ ہر مہینے پہلے پانچ ٹینکر کی ادائیگی 13 ع 37 فی صد کے حساب سے کرتا ہے اور اس کے بعد باقی عمران خان کے معاہدے کے تحت محض دس ع 2 فی صد کے حساب سے۔
تازہ خریداری کا حساب اوگرا کی ویب سائٹ پر یہاں سے چیک کیا جاسکتا ہے۔
اوگرا کی ویب سائٹ لکھ کرنیچے دیا گیا ڈاکومنٹ گوگل کرلیں۔
determination_of_re_gasified_liquefied_natural_gas_rlng_weighted_average_sale_provisional_price_for_the_month_of_february_2025_dated_13_02_2025.pdf
اب آپ سوچ سکتے ہیں کہ قطری خط کے ڈانڈے کہاں اور کیوں جاکر ملتے ہیں ؟ اور سیف الرحمن کی بیٹی کی شادی کیوں شریف خاندان میں ہوئی تھی !
–
بادی النظر میں کک بیک کے ساتھ یہ ایل این جی کی ڈیل خود قطر کے لئے باعث شرمندگی ہے اور شاید اسی گناہ بے لذت کے کفارے کے طور پر انہوں نے دوسرا سستا معاہدہ کرکے حساب برابر کرنے کی کوشش کی (معمولی نقصان کے ساتھ)۔
پاکستانیوں کو یاد رکھنا چاہئے جب کبھی کوئی حکومت یہ کہے کہ لین دین کا کوئی معاہدہ اس لئے نہیں بتایا جاسکتا کیوں کہ دو ممالک کے تعلقات خراب ہونگے تو سمجھ جائیں دال میں کالا نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی ہے۔ مجھے اپنی زندگی کے یہ معاہدے تو کم از کم یاد ہیں۔
–
کوٹیکنا معاہدہ۔
ڈائیوو اسلام آباد لاہور موٹر وے کا معاہدہ۔
آئی پی پی معاہدے شروع کے لگ بھگ سارے۔
آر پی پی بالخصوص ترکی کے کارکے کے ساتھ معاہدہ
–
سی پیک کے متعدد معاہدے جن میں سڑکیں، مختلف میٹرو اور اورنج ٹرین قابل ذکر ہیں
اور ہاں قطر سے ایل این جی خریداری کا 2017 کا معاہدہ۔
–
میں اس میں اضافہ کردوں کہ جاپان چین اور بنگلہ دیش کا فاصلہ پاکستان سے زیادہ ہے تو ان کی ترسیل کی قیمت ملاکر سلوپ پاکستان سے مزید اور زیادہ ہونا چاہئے تھا جبکہ ہم نے قریب ہوتے بھی مہنگا معاہدہ کیا۔
ظاہر ہے قطر ہو یا چین یا کوریا کی ڈائیوو یا ترکی کی کارکے۔۔۔۔جب اپنے ہی کٹ مانگ رہے ہوں تو ان کی بلا سے۔
۔
اس تحریر کی پاکستان کے تناظر میں سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ سعودیہ، امارات،قطر ساتھ اردن اور اومان کو بھی شامل کرلیں۔۔۔جیسے ممالک میں خاندانی بادشاہت موجود ہے کیا بقول آپ کے محمد بن سلمان جیسا طرم خان اگر پاکستان کا سربراہ ہوتا تو کیا اسی طرح پاکستان میں تبدیلی لے آتا۔ ظاہر ہے نہیں۔
محمد بن سلمان کی جگہ میں لکھاری یا عمران خان ولی عہد ہوتے تو فیصلہ سازی کونسا مشکل کام ہے۔
اسی طرح ان ممالک میں نہ پاکستان جیسی سیاسی پارٹیاں ہیں اور نہ مذہبی جماعتیں جو حکومت کو بلیک میل کرسکیں۔ ان ممالک میں قانون اور انصاف کا نظام بھی وہ نہیں جو پاکستان میں ہے۔ جہاں کسی جج اور اسکی فیملی کی جائیداد پر لگ بھگ سوال نہیں اٹھایا جاسکتا۔ جہاں مشہور ہے کہ اچھا وکیل کرنے سے بہتر ہے اچھا جج کرلو۔
پاکستان میں نہ تو بادشاہت ہے نہ اچھا نظام انصاف اور نہ عوام کا خیال رکھنے والی سیاسی پارٹیاں۔ یہاں سیاستداں جن میں موجودہ وزیراعظم بھی شامل ہیں۔ الیکشن فارم میں ذریعہ معاش سیاست لکھتے ہیں۔
بہتر یہی ہے کہ ملک میں مارشل لاء ہی لگا رہے کم از کم ہمیں علم تو ہوگا کہ غلط کام پر کوسنا کس کو ہے۔ یہ اور بات کہ ان ادوار میں نلکے میں پانی پیٹ میں روٹی ہسپتال میں بستر اسکول میں تعلیم۔ عدالت سے انصاف ۔۔۔تار میں بجلی اور چولہے میں گیس بہ آسانی مل جاتی ہے بس بھونکنے پر پابندی ہوتی ہے۔ جو ہمیں منظور نہیں ہوتی۔
جب حکمرانوں کے اپنے محل اور جائیدادیں دوسرے ممالک میں ہوں تو کونسی خارجہ پالیسی۔
2016 کے آس پاس ہمیں امارات اور سعودیہ نے یمن کے حوثیوں کے خلاف فوج بھیجنے کو کہا مگر ہم ایران کے ڈر سے دبکے رہے اور ایک عرصے تک پھر اس کا خمیازہ بھگتتے رہے۔